Tyry Rabty Myri Her Dawa By Mahmal Noor Episode 03 || تیرے رابطے میری ہر دوا از مہمل نور قسط نمبر 03
Tyry Rabty Myri Her Dawa
By
Mahmal Noor
تیرے رابطے میری ہر دوا
از
مہمل نور
#تیرے_رابطے_میری_ہردوا
#از_مہمل_نور
#episode_3
ہائے لیڈیز۔۔۔کیسی ہیں سب ۔۔
ہیلو ہینڈسم ۔۔۔ہم بلکل ٹھیک تم سناؤں کیسے
ہو کل کہا تھے نظر ہی نہیں آئے یونی میں ۔۔۔
میں بھی ٹھیک۔۔۔۔ کل لیٹ آیا تھا اور پھر
جلدی چلا گیا ۔۔بس اسلیے نظر نہیں آیا۔۔۔
ہاں کل میں نے حنان سے پوچھا تھا پر اس نے
سہی سے کچھ بتایا ہی نہیں اور کلاس میں چلا گیا ۔۔۔سارہ منہ بنا کر بولی ۔۔۔
یار ہنی سے نہیں پوچھنا تھا تم مجھے ڈائریکٹ
میسج کر دیتی ۔۔۔
میں نے تو کال بھی کی تھی پر تم نے اٹینڈ ہی
نہیں کی ۔۔۔اس بار حنا بولی ۔۔۔
اوو ہاں اس وقت میں سو رہا تھا ۔۔۔
تم جاگ بھی رہے ہو تو کیا فرق پڑتا ہے تم نے
کونسا جواب دینا ہوتا ہے ۔۔۔مریم طنز کرتے ہوئے بولی ۔۔۔
ہاں یار اس بات سے تو میں بھی اتفاق کرتا
ہوں مریم ۔۔یہ جناب صرف یہی بات کرتے ہیں ورنہ گھر میں تو یہ میری کال نہیں اٹھاتا
اور اگر میں حنان سے کال کر کے پوچھوں تو وہ کہے گا بھائی سو رہے ہیں ۔۔۔عدن چیڑ
کر بولا ۔۔۔
اچھا اچھا بس کر دو یار اتنا ہینڈسم بندا تم
لوگوں سے بات کرتا ہے یہ کیا کم ہے ۔۔۔؟؟
اور یہ بات وہ غلط بھی نہیں کر رہا
تھا۔۔اسکا گورا رنگ۔۔بھوری آنکھیں جس میں ہر وقت خوشی کے رنگ نظر آتے تھے ۔۔درازقد
۔۔خوبصورت بال جیسے وہ ہر وقت جل کی مدد سے سیٹ کیے رکھتا تھااوراسکی آستین چڑھانے
کی عادت۔۔ جس پر لڑکیاں مرتی تھی ۔۔۔وہ واقعی میں بہت ہینڈ سم تھا ۔۔۔
جی جی بلکل ۔۔آپکا یہ احسان ہم نہیں بھولے
گئے ۔۔۔سارہ ہنستے ہوۓ بولی ۔۔
اچھا حیدر اس سے ملو ۔۔یہ آج اسپیشل تم سے
ملنے آئی ہے ۔۔۔مریم اپنے ساتھ بیٹھی لڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی ۔۔۔
ارے واہ ۔۔۔یہ تو بہت خوشی کی بات ہے
۔۔۔حیدر اسے دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔
یار یہ تم سے دوستی کرنا چاہتی ہے ۔۔۔
اچھا دوستی سے مجھے اپنے دادا مرحوم کی ایک
بات یاد آگئی سوچا آپ لوگوں کو بھی بتاؤ۔۔۔حیدر بظاہر سنجیدگی سے بولا۔۔۔
ہاں ہاں ضرور ۔۔سارہ چہک کر بولی ۔۔
ایک دفع میں نے اپنے دادا سے پوچھا کہ دادا
آپ جوانی میں کن لڑکیوں سے دوستی کرنا پسند کرتے تھے۔۔ تو انہوں نے کہا مجھے صرف
خوب صورت لڑکیوں سے دوستی کرنا پسند تھا ۔۔۔
اچھا تو کیسی خوب صورت لڑکیاں پسند تھی
تمہارے دادا کو ۔۔۔مریم نے تجسس سے پوچھا ۔۔۔
میں نے بھی یہی سوال کیا تھا تو کہنے لگے
۔۔مجھے تو ہر لڑکی ہی بہت خوبصورت لگتی تھی ۔۔۔
حیدر کی بات پر سب نے زور دار قہقہہ لگایا
۔۔۔
بھائی چلے ۔۔۔۔حنان اسکے پیچھے کھڑا بڑی
سنجیدگی سے اسکی بات سن رہا تھا جب اسکی بات مکمل ہوگئی تو حنان نے اسے آواز دی
۔۔۔
حیدر نے مڑ کر دیکھا تو حنان اسے گھور رہا
تھا ۔۔۔
ہاں چلو ۔۔۔کہتے ہوئے سب کی طرف متوجہ ہوا
۔۔چلے جی میں اب چلتا ہو صبح ملاقات ہوگی ۔۔۔
یار حیدر اور بھی بتاؤ نہ اپنے دادا کی
باتیں ۔۔سارہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
اس پہلے حیدر کچھ کہتا ۔۔حنان فوراً بولا
۔۔بھائی مجھے دیر ہو رہی ہے چلے جلدی ۔۔۔
ہاں ہاں چلو یار ۔۔۔حیدر بیزاری سے بولتے
ہوۓ اسکے ساتھ ہو لیا ۔۔۔
***********
کیسی جا رہی ہیں تم دونوں کی اسٹڈیز ۔۔۔جلال
صاحب نے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔۔
جی بابا میری اسٹڈیز بہت اچھی جا رہی
ہیں ۔۔۔
گڈ۔۔۔
اور تمہاری چشمان ۔۔؟؟تم کچھ پڑھتے
بھی ہو یا نہیں ۔۔۔؟؟
چشمان جو مزے سے کھانا کھا رہا تھا انکے
سوال پر چونکا۔۔۔
جی بابا میری بھی اچھی ہی جا رہی ہیں ۔۔۔
تم کہتے ہو تو مان لیتا ہوں ۔۔ویسے مجھے تم
پر یقین نہیں ہے ۔۔۔
بابا اب ایسے تو مت کہے آپکو پتا ہے میرا
رزلٹ ہر بار ہی بہت اچھا آتا ہے ۔۔۔وہ فخریہ انداز میں بولا ۔۔۔
اچھا اچھا ٹھیک ہے ۔۔لاسٹ ائیر ہے تمہارا
ریگولر یونیورسٹی جایا کرو اور وہ بھی جلدی اٹھ کر ۔۔
جی بابا۔۔۔حیدر ادب سے بولا
اور فریحہ میری چاۓ کمرے میں بھیج دینا
۔۔میرے سر میں درد ہے ۔۔۔
جی آپ چلے میں بھیجواتی ہو ۔۔۔
جلال صاحب کے جاتے ہی ہنی فریحہ کی طرف
متوجہ ہوا ۔۔۔
ماما ہمارے دادا کی وفات کب ہوئی تھی
۔۔؟؟بظاہر بڑی سنجیدگی سے پوچھا ۔۔۔
حیدر نے اسے گھورا ۔۔۔پر اسکی پرواہ ہی کس
کو تھی ۔۔۔
بیٹا تمہارے دادا چشمان کے پیدا ہونے کے ایک
سال بعد ہی ہمیں چھوڑ گئے تھے ۔۔پر خیر سے انہوں نے اپنے نام پر ہمارے چشمان کا
نام رکھاتھا ۔۔۔
جی جی ماما یہ تو آپ نے بتایا تھا کہ بھائی
کا نام دادا نے اپنے نام سے رکھا ہے ۔۔۔
ویسے ہنی بیٹا تمہیں آج اپنے دادا کی کیسے
یاد آگئی ۔۔۔؟؟
نہیں ماما بس آج کوئی اپنے دادا کی باتیں
اپنے دوستوں سے کر رہا تھا تو مجھے بھی اپنے دادا یاد آگئے ۔۔۔ہنی نے چشمان کو
دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا ۔۔۔
لو بہی ابا جی نے اسلیے تو اپنے نام سے
چشمان حیدر کا نام رکھا تھا تاکہ جب بھی انکی یاد آئے تو ہم اپنے چشمان کو دیکھ لے
۔۔۔فریحہ نے محبت سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
تمہاری باتیں ختم ہوگئی ہو تو میں آرام سے
کھانا کھا لو ۔۔۔حیدر نے چیڑ کر کہا۔۔۔
جی بھائی کھالے ۔۔۔ہنی ہنستے ہوئے بولا ۔۔وہ
جانتا تھا حیدر کو اس وقت اس پر بہت غصہ آرہا ہے ۔۔۔
********
عبیر کہا جا رہی ہوں ۔۔۔اسے اتنا تیار ہو کر
نکلتے دیکھ کر ثمرہ نے پوچھا۔۔۔
موم آج میری یونی فرینڈ کی برتھ ڈے پارٹی ہے
میں وہاں جا رہی ہوں بلکہ مجھے اپنا اے ٹی ایم کارڈ بھی دے مجھے اسکے لیے گفٹ لینا
ہے ۔۔۔عبیر مصروف انداز میں بولی ۔۔۔
عبیر ابھی تمہے یونیورسٹی میں ایڈمشن لیے
کچھ ماہ ہی ہوۓ ہیں۔۔اور تم اسکے لیے اتنا تیار ہو کر جا رہی ہوں ۔۔کونین تمہے اس
حلیے میں دیکھ لے گا تو نیا ہنگامہ کھڑا کرے گا۔۔۔جاؤ اپنے کمرے میں کہی نہیں جا
رہی تم ۔۔۔ثمرہ نے صاف مانا کر دیا ۔۔۔
موم اگر آپ کو مجھے پیسے نہیں دینے تو مت دے
پر میں آپکو بتا رہی تھی کہ میں جا رہی ہو وہ بھی صرف آپ کے پوچھنے پر ۔۔ورنہ شاید
یہ بھی نہیں بتا تی۔۔۔۔اور دوسری بات یہ کونین کے نام سے مجھے مت ڈرایا کرے ۔۔۔وہ
بھائی ہے بھائی ہی بن کر رہے باپ بننے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔کہتے ہوئے باہر کی جانب
مڑ گئی ۔۔۔
**********
بھائی ۔۔۔؟؟
جی فرمائے ۔۔۔چشمان لیٹتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
بھائی میرے روم کا اےسی نہیں چل رہا ۔۔۔کیا
آج میں آپ کے روم میں سو جاؤں۔۔۔؟؟ہنی نے معصومیت سے پوچھا ۔۔۔
نہیں بلکل بھی نہیں تم کیوں میرے روم میں سو
گئے جاؤ دادا کی اور باتیں کرو ماما سے۔۔۔۔چشمان غصے سے بولا۔۔۔
بھائی وہ تو بس میں ایسے ہی پوچھ رہا تھا
۔۔۔ہنی بظاہر شرمندگی سے کہا ۔۔۔
جو بھی تھا۔۔۔ تم میرے روم میں نہیں سو
سکتے۔۔۔چشمان نے صاف انکار کر دیا ۔۔۔
پلیز میں آپکا چھوٹا بھائی ہو ۔۔پلیز مان
جاۓ نہ ۔۔۔
ہنی ہمارے گھر میں اور بھی رومز ہیں تم وہاں
کیوں نہیں سو جاتے ۔۔۔
نہیں بھائی مجھے آج آپ کے ساتھ ہی سونا ہیں
۔۔۔ہنی نے محبت سے کہا ۔۔۔
لیکن تم صوفے پر سوگے۔۔ میں تمہے اپنے بیڈ
پر نہیں سونے دو گا ۔۔۔اگر منظور ہے تو سو جاؤں ۔۔۔
ٹھیک ہے سو جاؤں گا جہاں آپ کہہ رہے ہیں
۔۔۔ہنی منہ بنا کر بولا ۔۔
گڈ۔۔۔اور اب مجھ سے بات بھی مت کرنا مجھے
نیند آرہی ہے ۔۔۔کہتے ہوۓ کروٹ بدل کر لیٹ گیا ۔۔۔
بھائی ابھی صرف دس بجے ہیں اور آپ اتنی جلدی
سو رہے ہیں ۔۔۔؟؟
میں تمہاری طرح تھوڑی ہو۔۔ جو راتوں کو دو
دو بجے سوؤں ۔۔
میں اسلیے لیٹ سوتا ہوں کیونکہ مجھے پڑھنا
ہوتا ہے آپ کی طرح نہیں ۔۔۔
زیادہ باتیں مت کرو ورنہ کمرے سے نکال دو
گا۔۔۔حیدر اسے دیکھتے ہوۓ دھمکی دی ۔۔۔
اچھا اچھااب کچھ نہیں کہو گا ۔۔۔ بس لائٹ
بند کر کے سونے لگا ۔۔۔
ہنی کی بات پر حیدر ایک دم اٹھ بیٹھا
۔۔۔خبردار جو میرے روم کی لائٹ آف کی تو ۔۔۔
بھائی مجھے لائٹ ان میں نیند نہیں آتی ۔۔۔
تو جاؤ پھر اپنے روم میں مجھے لائٹ اف میں
نیند نہیں آتی ۔۔اسلیے اگر میرے ساتھ سونا ہے تو لائٹ ان میں ہی ۔۔۔
مجھے لگ رہا ہے آج میری ساری رات جاگ کر
گزرے گی ۔۔۔ہنی نے اداسی سے کہا ۔۔۔
اچھا اب ایسی بات بھی نہیں ہے میرے روم میں
بہت اچھی نیند آتی ہے ۔۔۔
بھائی ۔۔۔کچھ دیر بعد ہنی نے چشمان کو بلایا
۔۔۔
ہمم۔۔۔چشمان نیند میں بولا۔۔
ویسے آپ ہر لڑکی کو اتنا تنگ کرتے ہیں۔۔پھر
بھی ہر لڑکی آپ کے پیچھے پڑی رہتی ہے ۔۔؟؟ہنی نے حیرانگی سے پوچھا ۔۔۔
یار اصل میں ہماری کوئی بہن نہیں ہے نہ۔۔ تو
میرا بھی دل کرتا ہے کہ میں بھی اپنی بہن سے مزاق کرو اسے تنگ کرو اسلیے میں یونی
کی لڑکیوں سے باتیں کر لیتا ہوں انھے تنگ کرتا ہوں ۔۔۔چشمان بہت ہی سانجیدگی سے
بتا رہا تھا ۔۔۔
اور چشمان کے جواب پر تو ہنی کا منہ کھلا کا
کھلا رہ گیا ۔۔۔بھائی آپکو پتا بھی آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں اگر ان لڑکیوں کو پتا چل
گیا نہ تو وہ سب تو پاگل ہوجاۓ گی خاص طور پر سارہ ۔۔۔
ہاں پتا ہے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔۔ اور
سارہ کو تو سچ میں بہن ہی سمجھتا ہوں وہ الگ بات ہے میں نے اسے کبھی کہا نہیں
۔۔میں اسی وجہ سے کبھی فون پر ان سے بات نہیں کرتا کہ کہی وہ غلط نہ سمجھ بیٹھے
۔۔اور ویسے بھی اب میں تمہاری طرح سڑیل تو ہو نہیں جو کسی سے زیادہ بات نہ کرے
۔۔۔ہنی پر طنز کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
بھائی اب سو جاۓ یہ نہ ہو کل پھر آپ کی وجہ
سے لیٹ ہوجاؤں ۔۔۔ہنی نے فوراً بات بدلی ۔۔۔
ہاں ہاں سو رہا ہو پہلے ہی تمہاری وجہ سے
میری ادھی نیند اڑگئی ۔۔

No comments: