Ads Top

Tyry Rabty Myri Her Dawa By Mahmal Noor Episode 02 || تیرے رابطے میری ہر دوا از مہمل نور قسط نمبر 02

Tyry Rabty Myri Her Dawa
 By
Mahmal Noor
تیرے رابطے میری ہر دوا
 از
 مہمل نور


  Tyry Rabty Myri Her Dawa  By Mahmal Noor تیرے رابطے میری ہر دوا  از  مہمل نور

 #تیرے_رابطے_میری_ہردوا 
#از_مہمل_نور 
#episode_2
حیدر آج بہت لیٹ یونی آیا تھا۔۔ اسلیے وہ تیز رفتاری سے کلاس کی طرف جا رہا تھا۔۔۔
اسے پتا ہی نہیں چلا کب وہ اس سے ٹکرا گیا ۔۔۔
حیدر کے ایک دم ٹکرانے سے عبیر کی ساری کتابیں زمین بوس ہوگئی ۔۔۔
اور حیدر اسے بس دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔۔اور وہ اسے گھور تے ہوۓ ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔۔یہاں کسی فلم کا شوٹ چلا رہا ہے کیا ۔۔۔وہ ناگواری سے بولی ۔۔۔
حیدر اسکی آواز پے چونکا ۔۔
شوٹ ۔۔۔؟؟حیدر نے نا سمجھی سے پوچھا ۔۔
تم مجھ سے ٹکرائے جس سے میری کتابیں گری اور پھر تم مجھے ایسے دیکھ رہے ہوں ۔۔ جیسے کوئی لڑکا ایک خوب صورت لڑکی کو دیکھتا ہے ۔۔۔وہ غصے سے بولی ۔۔۔
اور اسکی بات پر حیدر نے زوردار قہقہہ لگایا ۔۔۔تم اور خوب صورت ۔۔محترمہ جتنے چھوٹے آپ نے کپڑے پہنے ہیں۔۔ اتنے میرے دادا کے گاؤں میں سردیوں میں بکریوں کو پہناتے ہیں ۔۔۔اور پھر سے اس پر ہنسے لگا ۔۔۔
تمہاری اتنی ہمت۔۔۔تم میرے بارے میں ایسے بولوں کہتے ہوئے فوراًاپنے بیگ میں کچھ ڈھونڈنے لگی ۔۔۔
میڈم ہمت کی بات مت کرے۔۔کل میرے دوست نے بھی یہی لفظ کہا تھا پھر اسکے سامنے ہی قتل کیا تھا میں نے ۔۔۔حیدر فخریہ انداز میں کہتے ہوئے چلا گیا ۔۔۔
اور حیدر کی بات پر اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ۔۔۔

********
میں تمہے کب سے آوازیں دے رہا ہو تم سن کیوں نہیں رہے تھے ۔۔۔عدن ہانپتے ہوۓ بولا ۔۔۔
اچھا کب دی آواز۔۔؟؟حیدر نے انجان بنتے ہوا کہا ۔۔۔
جب تم اس لڑکی سے کہہ رہے تھے کہ کل تم نے اپنے دوست کے کہنے پر قتل کیا ہیں ۔۔۔
اچھا وہ ۔۔۔حیدر یاد کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
ہاں وہی۔۔ویسے تم نے کس کے کہنے پر قتل کر دیا۔۔۔مجھے بھی تو پتا چلے ۔۔۔عدن نے سوالیہ نظروں سے حیدر کو دیکھا ۔۔۔
یار کل جب میں تمہارے گھر آیا تھا تو تمہارے کمرے میں ایک چھپکلی دیکھی تھی۔۔ تو تم نے کہا تھاکہ ہمت ہے تو مار کے دیکھاؤں۔۔ پھر میں نے اسکا قتل کیا تھاوہ بھی تمہارے سامنے۔۔۔یاد آیا کچھ ۔۔۔؟؟حیدر نےیاد دہانی کرائی۔۔۔
اور عدن اسکی بات پر قہقہہ لگا کر ہنسا۔۔
تم ہنس کیوں رہے ہوں ۔۔حیدر اسے گھورتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
یار تمہارا دماغ تو نہیں خراب ۔۔۔تم اسے یہ کہہ کر چلے گئے پر اس کی شکل دیکھنے والی تھی جیسے کاٹو تو خون ہی نہیں ۔۔۔
عدن کی بات پر حیدر نے بھی زور دار قہقہہ لگایا ۔۔۔اچھا اب چلو۔۔ آج پھر مجھے بہت دیر ہوگئی ہے ۔۔پہلے ہی دو لیکچر مس ہو چکے ہیں ۔۔۔
ہاں ہاں چلو ۔۔۔دونوں کلاس کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔

***********
ہنی کہا جا رہے ہوں ۔۔۔؟؟
کیا مطلب کہا جا رہا ہو اپنے دوست کے ساتھ جا رہاہوں وہ مجھے گھر ڈراپ کر دے گا۔۔۔
ہنی ناراض ہوں ۔۔؟؟حیدر نے محبت سے پوچھا ۔۔۔
آپکو کیا آپ آرام سے سوۓ جب دل کرے یونی آئے جب دل کرے یونی سے جاۓ میں آپکو تنگ نہیں کرو گا ۔۔۔حنان منہ بنا کر بولا ۔۔۔
یار سوری آیندہ ایسا نہیں ہوگا پکا میں جلدی اٹھو گا ۔۔ویسے بھی تمہارے بھائی کا لاسٹ ائیر ہے پھر تم ہی مالک ہو اس گاڑی کے ۔۔۔۔حیدر اسے گلے لگا کر بولا ۔۔۔
پھر میں آپ کی یہ گاڑی بیچ کر سپورٹس کار لو گا ۔۔۔
چلو ٹھیک ہے میری جان وہی لے لینا۔۔۔چلو اب گھر چلے یا سچ میں ہی نہیں جانا میرے ساتھ ۔۔۔حیدر نے اسے چھیڑا۔۔۔
گھر جاؤ گا پر آپ مجھے پہلے پیزا کھلائے۔۔۔
اچھا چلو کھلا دو گا ۔۔۔کل سے جلدی اٹھنا پڑے گا ۔۔ورنہ تو تم میری ساری پاکٹ منی کھا جایا کرو گئے ۔۔۔حیدر گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
آپ تو ہر بار ہی یہی کہتے ہیں ۔۔۔پر عمل نہیں کرتے ۔۔۔
اچھا اچھا اب زیادہ باتیں نہیں کروں ۔۔۔

*********
عبیر اوپر اپنے روم میں جارہی تھی کہ سامنے سے کونین آتا نظر آیا۔۔۔جو اسکو دیکھ کر وہی روک گیا۔۔۔ٹائٹ پینٹ چھوٹی سی شرٹ جس کے بازو نا ہونے کے برابر ۔۔۔تیز میک اپ۔۔کھولے بال۔۔ہاتھ میں خوبصورت سا بیگ۔۔پنسل ہیل ۔۔۔ایسا لگ رہا تھا وہ یونی سے نہیں بلکہ ریمپ پر موڈلنگ کر کے آ رہی ہے ۔۔۔
تم اس حلیے میں یونیورسٹی جاتی ہوں ۔۔۔؟؟کونین دھاڑا ۔۔۔
ہاں تو کیا ہے میرے حلیے کو ۔۔۔؟؟عبیر نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا ۔۔۔
تم مجھ سے پوچھ رہی ہوں کہ کیا ہے اس حلیے کو ۔۔۔تمہے کچھ شرم آتی ہے ۔۔۔
اووووو پلیز اب میرے پہنے ہوئے پر کوئی بھاشن مت دینے بیٹھ جانا۔۔ پہلے ہی میں بہت تھک چکی ہو۔۔۔کہتے ہوئے اپنے روم کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
اور کونین بس اسے بے بسی سے جاتے دیکھ رہا تھا۔۔۔

*********
موم کل آپ میرے ساتھ چل رہی ہیں چچی کے گھر ۔۔میری اور مشال کی شادی کی ڈیٹ فکس کرنے ۔۔۔کونین کا لہجہ سخت تھا ۔۔۔
میں کہی نہیں جا رہی سنا تم نے ۔۔۔میں اس لڑکی کو اپنے گھر کی بہو کبھی نہیں بناؤ گی ۔۔۔۔ثمرہ بھی غصے میں بول رہی تھی۔۔۔اور عبیر آرام سے سامنے بیٹھ کر ان دونوں کی باتوں کو انجوئے کر رہی تھی ۔۔۔
موم میں آپ سے کہہ رہا ہوں میں شادی کرو گا تو صرف مشال سے ورنہ کسی سے بھی نہیں ۔۔اور یہ رشتہ تو ڈایڈ کر کے گئے تھے ۔۔ تب آپکو بھی انکار نہیں تھا پر اب آپ ایسا کیوں کر رہی ہیں ۔۔۔وہ بے بسی سے بولا ۔۔۔۔
مجھے تو نا ہی رائمہ پسند ہے اور ناہی اسکی بیٹیاں۔۔اور اُس وقت میں اسلیے خاموش ہوگئی تھی کیونکہ تمہارے ڈایڈ میری ماننے کو تیار نہیں تھے ۔۔۔پر اب میں یہ ہونے نہیں دو گی سمجھے تم ۔۔۔
موم۔۔ مشال میں کیا کمی ہے جو وہ آپکو نہیں پسند ۔۔؟؟
کمی۔۔۔ تم پوچھ رہے ہو کے کیاکمی ہے۔۔۔۔اسکی ڈریسنگ دیکھی ہے۔۔۔اس سے اچھے کپڑے تو بشیرا کی بیٹی پہنتی ہے ۔۔۔ثمرہ کی بات پر عبیر نے ایک زور دار قہقہہ لگایا ۔۔۔
تو آپ کیا چاہتی ہےکہ وہ عبیر کی طرح ڈریسنگ کرے ۔۔۔جسے دیکھ کر مجھے شرم آجاتی ہے ۔۔۔وہ خود کو ڈھانپ کے رکھتی ہے موم ۔۔عبیر کی طرح اپنی نمائش نہیں کرتی ۔۔۔
کونین کی بات پر عبیر کے تن بدن میں آگ لگ گئی ۔۔۔تمہاری ہمت کسے ہوئی میرے بارے میں ایسی گھٹیا بات کرنے کی ۔۔۔میری لائف ہے میں جو پہنو جہاں جاؤ تمہے کیا مسلہ ہے ۔۔اور تم اس لڑکی کے لیے اپنی بہن کے بارے میں ایسے بات کر رہے ہوں ۔۔۔آیندہ اگر اپنی بات میں مجھے بیچ میں لائے تو اچھا نہیں ہوگا ۔۔۔
تم چپ کرو عبیر میں بات کر رہی ہونہ ۔۔۔
موم اب کوئی بات نہیں ہوگی۔۔بس اب آپ میری اور مشال کی شادی کی تیاری کرے ۔۔۔کہتاہوا باہر کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔
اور تم بھی سن لو میرے جیتے جی یہ کبھی نہیں ہوگا ثمرہ چیختے ہوۓ بولی ۔۔۔
موم آپ دیکھ رہی ہیں اپنے بیٹے کو۔۔۔اس مشال کے لیے اسنے میرے بارے میں کیا کہا ۔۔۔
اسکا قصور نہیں ہے مجھے لگتا ہے یہ وہاں جاتاہے ۔۔ اور وہی اسکو کچھ گھول کر پلاتی ہوگی ۔۔۔تم نہیں جانتی ایسی پینڈو عورتوں کو مرد کو قابو کرنے کے سو طریقے آتے ہیں انھے ۔۔پر میں ایسا ہونے نہیں دو گی ۔۔۔
حامد ملک اور حمدان ملک دو ہی بھائی تھے ۔۔۔حامد اور حمدان میں بہت زیادہ محبت تھی۔۔۔انکی اتفاق کی وجہ سے جلد ہی وہ بزنس دنیا کے جانے مانے نام بن گئے ۔۔اس دوران حامد کو اپنی سیکرٹری ثمرہ سے محبت ہوگئی۔۔اور کچھ عرصے بعد حامد نے ثمرہ سے شادی کر لی ۔۔۔جس میں دو بچے ہوۓ بڑا کونین ملک اور ایک بیٹی عبیر ملک ۔۔۔حمدان کی شادی اپنے گاؤں کی کزن رائمہ سے ہوئی کیونکہ حمدان اور رائمہ کی نکاح بچپن میں ہی انکے ابا نے اپنے بھائی کی بیٹی سے کروا دیا تھا۔۔اللّه نے انھے صرف دو ہی بیٹیاں عطا کی۔۔ بڑی مشال اور چھوٹی منال ۔۔حمدان اپنی بیٹیوں سے بہت محبت کرتے تھے ۔۔۔۔حامد نے چھوٹی سی عمر میں ہی مشال کا رشتہ حمدان سے مانگ لیا تھا۔۔اور حمدان نے بھی فوراً ہاں کر دی ۔۔۔پر بزنس ڈیل سے واپسی پر انکی کارکا ایکسیڈنٹ ہوگیا اور دونوں ہی موقع پر ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔۔۔ثمرہ پڑھی لکھی تھی۔۔ اور بہت تیز خاتون تھی اسلیے حامد کے جاتے ہی سارا بزنس سمبھال لیا ۔۔۔کچھ عرصہ تو رائمہ کو خرچہ دیا پھر وہ بھی بند کر دیا ۔۔۔اور رائمہ کو اسکے بھائی کے گھر بھیج دیا ۔۔۔لیکن جب کونین اپنی اسٹڈی مکمل کر کے کینیڈا سے واپس آیا تو سارا بزنس خود سمبھلا ۔۔اور پھر ثمرہ سے چوری رائمہ کو مہینہ کا خرچ خود دے کے آتا تھا ۔۔۔جس سے ثمرہ لا علم تھی ۔۔۔

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.