Ads Top

Massom Si Larki By Sabahat Khan Episode No. 28 || 28 معصوم_سی_لڑکی از صباحت_خان قسط نمبر

Massom Si Larki
 By
 Sabahat Khan 

  معصوم_سی_لڑکی
 از
 صباحت_خان 

Massom Si Larki  By  Sabahat Khan     معصوم_سی_لڑکی  از  صباحت_خان

#معصوم_سی_لڑکی

#صباحت_خان✏

#قسط28
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اس ناول کے تمام جملہ حقوق #کریزی_فینس_اوف_ناول ویب کے پاس محفوظ ہیں اس ناول کو کہیں بھی پیج ,گروپ ,ویب سائٹ اور بلاگ پر پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے بصورت دیگر کاپی پیسٹ کرنے والے کے خلاف #کریزی_ویب ہر طرح کی چارہ جوئی کرنے کا حق رکھتی ہے
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حیدر گھر کے اندر داخل ہوا تو سامنے ہی خالد حسن اخبار پڑھ رہے تھے السلام علیکم انکل حیدر نے ان کو دیکھتے ہی سلام کیا،
وعلیکم السلام بیٹا کیسے ہو بہت دن بعد دیکھا تمہیں خالد حسن نے مسکراتے ہوئے اسے گلے لگایا،انکل میں کہاں جاؤ گا بس کام سے گیا تھا اور کل ہی آیا ہوں وہاں سے اور آج آپ لوگوں سے ملنے آگیا حیدر نے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا اس کی نظرے پورے گھر میں گھوم رہی تھی،
انکل پھوپھو کہا ہیں حیدر نے ان سے آمنہ بیگم کے بارے میں پوچھا بیٹا آپ کی پھوپھو تو کچن میں ہیں انہوں نے آمنہ بیگم کو آواز دی،
جی آئی آمنہ بیگم نے آساز دی کچن سے باہر آکر انہوں نے حیدر کے سر پر پیار کیا بیٹا بہت دن بعد نظر آئے، پھوپھو کام سے گیا ہوا تھا اور آپ نے کیا بنایا ہے خوشبو آرہی ہے حیدر نے کچن کی طرف دیکھتے ہوئے لمبا سانس لیا آمنہ بیگم مسکرا دی،
میں نے بہت کچھ بنایا ہے ابھی مل کے کھانا کھائے گے آمنہ بیگم کے کہنے پر حیدر نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا اس کی نظرے اپنی پری کو ڈھونڈ رہی تھی جو آمنہ بیگم سے چھپی ہوئی نہیں تھی،
بیٹا آپ جاؤ مشعل سے مل بھی لو اور اسے کھانا کھانے کے لیے نیچے لے آؤ آمنہ بیگم نے اس کی مشکل آسان کردی خالد حسن مسکرا کر واپس اخبار پڑھنے لگے تھے،حیدر نے ہاں میں سر ہلایا اور اس کے روم کی طرف چلا گیا،
کرسی پر بیٹھی وہ کچھ کام کر رہی تھی جب دروازا بجا یس کم ان مشعل نے کام میں مگن کہا اس کے اندازے سے مما ہوگی جو اسے کھانا کھانے کے لیے بلانے آئی ہوگی،
مما یار میں بعد میں کھا لوں گی میرا کل بہت ضروری پریزینٹیشن ہے مجھے اس کی تیاری کرنی ہے مشعل کی دروازے کی طرف پیٹھ تھی اس لیے آنے والے شخص کو وہ دیکھ نہیں سکی،
میری کچھ مدد چاہیے تو بندہ حاضر ہے حیدر کی آواز پر مشعل کے ہاتھ سے پین نیچے گر گیا اس نے جھک کے پین اٹھایا اور آرام سے موڑی سامنے ہی وہ کھڑا مسکرا رہا تھا،
آپ!!! جی ہاں اس بار کھڑکی سے نہیں دروازے سے آیا ہوں حیدر بول کے بیڈ کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا مشعل آرام سے چل کر اس کے پاس آئی مطلب آپ کیسے آئے اس نے نیچے نظرے کیے سوال کیا،
میں چل کر آیا میری پھوپھو کا گھر ہے جب دل کرے گا آؤ گا کیوں تمہیں میرا آنا اچھا نہیں لگا کیا حیدر بولتے ہی کھڑا ہوگیا،
نہیں ایسی بات نہیں ہے مشعل نے اپنا ایک قدم پیچھے لیتے ہوئے کہا،مطلب تمہیں میرا آنا بہت اچھا لگا حیدر نے اپنی پری کو دیکھا جو گھبرا رہی تھی،نہیں میں نے ایسے کب کہا مشعل نے حیدر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
مطلب تمہیں بلکل اچھا نہیں لگا میرا آنا ٹھیک ہے میں یہاں سے چلا جاتا ہوں حیدر بولتے ہی موڑ گیا،
آپ کا آنا تو مجھے اچھا لگے گا برا کیوں لگے گا بے ساختہ مشعل کے منہ سے نکلا حیدر کے قدم وہی رک گئے،اس نے پلٹ کر اپنی پری کو دیکھا جو اب نظرے جھکائے اپنے ہونٹ چبانے میں مصروف تھی،
تمہیں لینے آیا ہوں میرے ساتھ چلو گی حیدر کی بات پر مشعل نے اسے دیکھا ابھی مطلب ایسے آپ نے تو کہا تھا دھوم دھام سے پھر آپ ایسے کیوں لینے آگئے مشعل نے گھبرا کر جو منہ میں آیا سب کہہ دیا،
ہاہاہا حیدر نے بے ساختہ قہقہہ لگایا میں نے کب کہا میں رخصتی لینے آیا ہوں حیدر کی بات پر مشعل نے دانتوں میں اپنے ہونٹ دبا لیے اف مشعل کچھ بھی بولتی ہے دل میں اس نے خود کو ملامت کیا،میں تو تمہیں باہر آئس کریم کھلانے کے لیے لے جانا چاہتا تھا حیدر نے اس کی طرف قدم بڑھا،
اچھا وہ میں مشعل نے یہاں وہاں دیکھا وہ حیدر کے سامنے اپنی زبان کی وجہ سے اچھی خاصی کنفیوژ ہو گئی تھی،حیدر نے ایک دم اس کا ہاتھ پکڑ کے اپنے پاس کھینچا وہ اس چیز کے لیے بلکل تیار نہیں تھی مشعل کا سر حیدر کے سینے سے لگا،
حیدر نے اسے اپنے حسار میں لیا ویسے اگر مسسز حیدر چاہے تو ابھی رخصتی ہو سکتی ہے وہ اس کے کان کے قریب گھمبیر آواز میں سرگوشی کرنے لگا مشعل کا چھوٹا سا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا،
حیدر بیٹا آجاؤ کھانا لگ گیا آمنہ بیگم کی آواز پر مشعل جلدی سے دور ہوئی بغیر حیدر کی طرف دیکھے وہ دروازا کھول کر باہر چلی گئی اس کے گال بلکل سرخ ہو رہے تھے حیدر بھی اس کے پیچھے باہر آگیا،
خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا کھانے کے بعد چائے کا دور چلا حیدر ٹانگ پر ٹانگ رکھے خالد حسن سے باتوں میں مصروف تھا اور وقفے وقفے سے چائے کے گھونٹ بھر رہا تھا مشعل نے اسے دیکھا تو دیکھتی گئی اس وقت وہ حیدر وہ کہی سے نہیں لگ رہا تھا جو روم میں،مشعل نے اپنا سر جھٹکا،
 حیدر نے مشعل کو دیکھا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی مشعل نے جلدی سے اپنی نظرے پھیر لی حیدر واپس باتوں میں لگ گیا وہ باتوں کے دوران خالد حسن سے رخصتی کی بھی بات کر چکا تھا بس حیا کے آنے کی کوئی سیٹنگ ہو جائے پھر رخصتی ہونی تھی آمنہ بیگم اور خالد حسن کو جلدی رخصتی پر کوئی عتراض نہیں تھا،
 پھر چکر لگاؤ گا حیدر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا جاؤ بیٹا حیدر کو باہر تک چھوڑ دو آمنہ بیگم کے کہنے پر مشعل سر ہلا کر حیدر کے ساتھ باہر آگئی،
اچھا اپنا خیال رکھنا حیدر نے مشعل کو پیار سے دیکھ کر کہا اس کا دل پتا نہیں کیوں عجیب ہو رہا تھا وہ اس کے سامنے تھی بلکل ٹھیک تھی پھر ایسا کیوں یہ بات وہ سمجھنے سے قاصر تھا آج بھی وہ صرف اسے دیکھنے آیا تھا،
حیدر نے اس کے ماتھے پر پیار کی مہر ثبت کی خدا حافظ گاڑی میں بیٹھ کر حیدر نے اسے ہاتھ ہلایا اور گاڑی آگے لے گیا مشعل نے مسکرا کر گاڑی کو جب تک دیکھا جب تک وہ اسکی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوئی،
**************
بلال اٹھ کے باہر آیا تو اس کی نظر ڈائنگ ٹیبل پر گئی دعا اپنے ہاتھ سے سارا کو ناشتہ کروا رہی تھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور سارا مسلسل کچھ نا کچھ بول رہی تھی،
کیا ہو رہا ہے بھئی بلال بولتا ہوا سارا کے پاس والی کرسی پر بیٹھ گیا،بھیا میں آپی کو بتا رہی تھی کے میں نے یہاں کتنا مزا کیا،بلال نے ایک نظر دعا کو دیکھا جو نیچے چہرہ کیے بیٹھی تھی پر اس نے پہلی بار اس لثرکی کے چہرے پر سکون دیکھا تھا،
مما میرا بھی ناشتا لے آئے مجھے ڈیوٹی پر جانا ہے بلال کی آواز پر صائمہ بیگم کچن سے باہر آئی تم اٹھو گے تو تمہیں ناشتا دوں گی نا صائمہ بیگم نے اس کے سامنے ناشتا رکھا،
یہ مس میوٹ بھی کچھ کرتی ہے یا آپ ہی اکیلی سب کام کرتی ہیں بلال نے دعا کو دیکھتے ہوئے کہا جو ابھی کچن کی طرف گئی تھی،
تم تو آدھا دن گزار کر اٹھے ہو وہ بچی تو صبح سے کاموں میں لگی ہے ابھی میں نے اسے بیٹھایا کے خود بھی ناشتا کرلے اور سارا کو بھی کروا دے ورنہ اس نے صبح سے مجھے اٹھنے نہیں دیا سب کام خود ہی کر رہی اور میں تو حیران ہوں اتنے کم ٹائم میں اتنے سارے کام اس نے کیسے کر لیے___اف مما بس بھی کرو آپ تو دعا نعامہ کے کر بیٹھ گئی بلال نے صائمہ بیگم۔کو بیچ میں ٹوکا ورنہ ان کا کیا بھروسہ ابھی دعا کی اور تعاریف کرنے بیٹھ جاتی،
دعا کچن میں چائے بنا دہی تھی جب بلال اندر آیا سر پر دوپٹہ لیے لائٹ پرپل کلر کی فروک پہنے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی بلال اسے کچھ دیر دیکھتا رہا پھر اس کے پاس آیا اب تک نہیں بنی چائے اپنے کان کے اتنی پاس بلال کی آواز سن کر وہ ڈر کر ایک دم موڑی اس کے بال بلال کی شرٹ کے بٹن میں پھس گئے،
دعا کے چہرے پر درد کے آثار آگئے __سوری!!!بلال نے اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر کہا اور اس کے بال آزاد کروانے لگا پر بہت برے تریقے سے بال اس بٹن میں پھس گئے تھے دعا کے چہرے پر درد کے آثار تھے بلال نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا پھر ایک جھٹکے سے اپنا بٹن توڑ دیا جس سے دعا کے بال آزاد ہوگئے،
دعا جلدی سے پیچھے ہوئی اور اس کی طرف دیکھا پھر شرٹ کی طرف جس کا بٹن ٹوٹ چکا تھا،اب چائے لے کر روم میں آؤ اور میرا بٹن جوڑو مجھے پہلے ہی دیر ہو رہی ہے پتا نہیں کیا کرتی رہتی ہو کوئی کام سہی سے نہیں ہوتا بلال بولتا ہوا باہر چلا گیا جب کے اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی،  
دعا جلدی جلدی اپنا کام ختم کرکے چائے لے کر روم میں آئی،چائے یہاں رکھ دو اور یہ بٹن جوڑو بلال کی آواز پر دعا نے چائے رکھ کے سوئی دھاگا لیا اور ہاتھ آگے کیا جس کا مطلب تھا شرٹ دو
ایسے ہی لگا دو بٹن میرے پاس ٹائم نہیں ہے حیدر میرا ویٹ کر رہا ہے بلال نے اتنا سریس کہا کے ناچار اسے بلال کے پاس آنا پڑا دعا آرام سے بٹن لگانے لگی پر اس وجہ سے وہ بلال کے بہت قریب آگئی تھی بلال کی نظروں سے اس کے ہاتھ کپکپانے لگے،
بلال کی نظرے اس کے چہرے سے ہٹ نہیں رہی تھی یہ لڑکی اس کے دل میں گھر کرنے لگی تھی بلال اس کے چہرے کے ایک ایک نقوش کو غور سے دیکھ رہا تھا جس سے دعا کے ہاتھ اور زیادہ کپکپا رہے تھے،
آااا، پاگل لڑکی بلال نے اسے گھورا دعا جلدی سے پیچھے ہوگئی گھبراہٹ میں وہ اسے سوئی چوبا چکی تھی،تمہارا دھیان کہاں ہے بلال نے بس اتنا ہی کہا تھا کے دعا کی آنکھوں میں آنسوں آگئے بلال نے حیرت سے اسے دیکھا اس نے تو اس لڑکی کو ابھی ڈانٹا بھی نہیں تھا،
کیا ہوا تمہیں بلال اس کی طرف بڑھا دعا نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے گالوں پر رکھ لیے اس کی آنکھوں میں اب خوف تھا اس لگا بلال اسے مارے گا اس نے غلطی کی تھی اور ایسی غلطی کی وہ بہت سی سزا پہلے پا چکی تھی،
بلال نے پاس آکر اس کا ایک ہاتھ پکڑا دعا نے جلدی سے دوسرے ہاتھ سے اپنا کان پکڑ لیا اس سے پہلے بلال اسے مارے وہ بلال سے سوری کرنا چاہتی تھی، 
بلال کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اس نے ہونٹ دبا کر اپنی ہنسی کو روکا تم نے جو کام کیا ہے اس پر ایک تھپڑ تو لگے گا تم کتنا بھی دور ہو جاؤ سزا تو ملے گی بلال نے اس کا وہ ہاتھ پکڑ کے اسے اپنے پاس کیا،
دعا نے ایک نظر بلال کو دیکھا خوف سے اس کے ہاتھ کانپ رہے اس کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے بلال نے ایک دم ہاتھ ہوا میں بلند کیا دعا نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لی، 
بلال کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اس نے آگے بڑھ کر دعا کے گال پر اپنے پیار کی مہر ثبت کی اور فوراً باہر چلا گیا دعا نے ایک دم آنکھیں کھولی روم خالی تھا اس نے حیرت سے اپنے گال پر ہاتھ رکھا یہ خواب تھا یا واقعی جو ہوا سچ تھا 
***************
کچھ معلوم ہوا اس آدمی کے بارے میں حیدر نے چئیر پر بیٹھے احمد کی طرف دیکھا اب کیا کچھ معلوم ہوگا اس آدمی کی ڈیڈ بوڈی ملی ہے گولیا لگی ہے اب زاہر ہے اس کے پیچھے جو بھی ہے اس نے اس آدمی کو مار دیا احمد نے حیدر کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا،
ایک یہی آدمی تھا جس کے ذریعے ہم اس کے مالک تک پہنچ سکتے تھے اب اسے کیسے ڈھونڈے گے حیدر کے ماتھے پر بل آگئے اس بم کی تو ہر جگہ انفارمیشن بھیج دی ہے کہی بھی اس بم کو لے جانا آسان نہیں ہے جو بھی اس بم کو لے کر آئے گا آسانی سے پکڑا جائے گا احمد کی بات پر حیدر نے ہاں میں سر ہلایا،
  احمد اور حیدر باتوں میں مصروف تھے جب دروازا نوک ہؤا یس کم ان حیدر کی آواز پر صمد اندر آیا آتے ہی اس نی سیلوٹ مارا سر ایک بہت اہم انفارمیشن ملی ہے صمد کی بات پر حیدر اور احمد نے اس کی طرف دیکھا،
سر ہم نے مشن میں جن سب دہشتگردوں کو مارا تھا ان سب کو سیل فون میں ایک نمبر سیف تھا مالک کے نام سے پر سر ان میں سے ایک آدمی کے موبائل میں وہی نمبر آر کے ایچ (RKH) کے نام سے سیف تھا صمد کی بات پر حیدر کے ماتھے پر اور بل آگئے اب آر کے ایچ کا کیا مطلب ہے احمد نے حیدر کی طرف دیکھا،
تم نے یہ پتا کیا یہ نمبر کس کے نام پر ہے حیدر نے صمد سے سوال کیا،سر وہ تو نہیں معلوم ہو سکا یہ نمبر جب بھی ٹرائے کیا ہر بار اوف اور یہ کسی ایسے بندے کے نام پر ہے جسے مرے ہوئے بھی کافی سال ہوگئے صمد کی بات پر حیدر نے اسے دیکھا،
لیکن پھر بھی میں ایک کام کی انفارمیشن لایا ہوں بلال نے دھڑام سے دروازا کھولا اور اندر آکر چئیر کھینچ کر اس پر بیٹھ گیا،میجر بلال آپ کو کتنی بار بتاؤ کے کسی سینئر کے آفس میں کس طرح آتے ہیں حیدر نے دانتوں کو بھینچ کر اپنے غصے کو قابو کیا دوستی یاری اپنی جگہ پر وہ یہاں ایک سینئر آفیسر تھا،
اچھا اچھا بلال نے کھڑے ہوکر سیلوٹ مارا اور واپس بیٹھ گیا حیدر نے اسے ان نظروں سے دیکھا جیسے اس کا کچھ نہیں ہو سکتا،اب تم لوگ کام کی بات سنو بلال نے حیدر کو اگنور کر کے باقی دونوں کو دیکھا،
اوئے تو کیوں کھڑا ہے آجا بیٹھ جا بلال نے صمد کو اپنے برابر میں رکھی چئیر پر بیٹھنے کا اشارہ کیا صمد نے حیدر کو دیکھا جو بلال کو گھور رہا تھا،
نہیں سر میں ٹھیک ہوں صمد کو اس وقت حیدر سے ڈر لگ رہا تھا اسے چھوڑ تو یہ یوں ہی کرتا ہے اپنا یار ہے کچھ نہیں بولے گا بلال نے ہاتھ پکڑ کر اسے بھی بیٹھا لیا صمد نے حیدر کی طرف دیکھا حیدر نے اسے اشارے سے آرام سے بیٹھنے کو کہا،
بس میں نے کہا تھا نا کچھ نہیں کہے گا بلال نے مسکراتے ہوئے کہا حیدر نے اسے غصے سے دیکھا اب کام کی بات بھی بتا دے کیا انفارمیشن لایا ہے جب سے فالتو بول رہا ہے حیدر کے غصے سے کہنے پر اس نے منہ بنایا،
یہ نمبر__ جو کے ان کا مالک ہے وہ تو ایسے بندے کے نام ہے جو مر چکا ہے پر ___بلال نے احمد کی طرف دیکا__ پر کیا آگے بھی بول احمد کو اس کا بیچ میں رکنا بہت برا لگا،
پر یہ کے جس پر اس مالک کی سم نکلی ہوئی ہے اسی کارڈ پر ایک اور سم نکالی گئی تھی اور تمہیں معلوم ہے وہ سم کس کی تھی__ بلال نے حیدر کی طرف دیکھ کے سوال کیا تو سیدھی طرح سب بتائے گا یا مار کھائے گا اب حیدر کی برداشت ختم ہوگئی تھی،
بتاتا ہوں ڈرا تو نہیں ___بلال نے اس کی طرف دیکھ کر ڈرنے کی ایکٹنگ کی __وہ سم سعد کی تھی جسے ہم نے بچوں کو بچاتے وقت مارا تھا اس کا نمبر اور اس مالک کا نمبر ایک ہی کارڈ پر ایشو کیا گیا ہے بلال کی بات پر ایک دم حیدر سیدھا ہوا،
مطلب راجا صاحب حیدر نے غصے سے دانت بھینچ لیے___جی ہاں راجا صاحب ہی ہے ان کا مالک اور کوئی نہیں اور اس نے یہ بم ہمارے لیے بنوایا تھا پر اس کی قسمت اچھی نہیں تھی اس لیے ہم لوگوں نے اس کا مشن فیل کر دیا اور ان سب کو بھی مار دیا بم اگر اب بھی اس کے پاس ہے تو بھی خطرے کی بات نہیں ہے وہ بم کو لے کر باہر بھی نکلے گا تو پکڑا جائے گا ہر طرف سخت سیکیورٹی ہے بلال نے کہتے ہوئے حیدر اور پھر احمد کی طرف دیکھا،
یہ راجا صاحب ایک بار تو بچ گیا تھا پر اب نہیں بچے گا اس کو بھی اس کے بیٹے کے پاس بھیجنا ہے حیدر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا اسے اب تک یہ آدمی نہیں بھولا تھا وہ جلد سے جلد اس آدمی کو پکڑنا چاہتا تھا جس کا نام بھی ان سب کو معلوم نہیں تھا،
آر کے ایچ کا کیا مطلب ہوسکتا ہے احمد نے بھی کھڑے ہوکر حیدر کی طرف دیکھا،جو بھی مطلب ہوگا ہم جلد ہی معلوم کر لے گے بلال نے ان کے پاس آتے ہوئے کہا ویسے میجر بلال حیدر نے کھڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے بلال کو مخاطب کیا،
جی جی سر بلال بھی مسکراتے ہوئے اس کی پیچھے آیا،میجر بلال آپ کی شرٹ پر داغ لگ رہا ہے جا کے چینج کر لو اس سے پہلے کے پورا کیمپس دیکھ لے حیدر نے اپنی ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا بلال کی طرف اس کی پیٹھ تھی،اذ
میری شرٹ پر داغ بلال نے اپنی شرٹ کو دیکھا احمد اور صمد نے بھی اس کی طرف دیکھا کندھے کر پاس لپسٹک کا نشان تھا شاید جب کچن میں دعا اس سے ٹکرائی تھی جب لگا تھا،
بلال نے نظر اٹھا کے احمد کو دیکھا جس نے اپنی ہنسی کو دبایا ہوا تھا پھر اس نے حیدر کی طرف دیکھا جو پیٹھ موڑے کھڑا تھا پھر اس نے صمد کو دیکھا جو نیچے نظرے کیے مسکرا رہا تھا بلال سر کھجاتا ہوا احمد کو دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا اور باہر بھاگ گیا،
ہاہاہاہا اس کے جاتے ہی احمد اور صمد کا قہقہہ بلند ہوا حیدر بھی زیادہ دیر اپنی ہنسی پر کنٹرول نہیں کر سکا ہاہاہا حیدر نے ان کی طرف دیکھ کر قہقہہ لگایا ہنسی کنٹرول کرنے کے چکر میں اس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا
اف حیدر کی تیز نظرے اچھے خاصے بندے کو شرمندہ کروا دیا مس میوٹ تمہیں تو الله پوچھے گا بلال اپنے کندھے پر ہاتھ رکھے رکھے روم کی طرف جا رہا تھا وہ لوگ جب یہاں رکتے تھے تو ان لوگوں کے لیے یہاں روم موجود تھے جہاں ان کی ضرورت کا ہر سامان موجود تھا،
*****************  
روہان لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہا تھا جب حیا کوفی لے کر اندر آئی ابھی شام کا ٹائم تھا انہیں رات کو پارٹی میں جانا تھا پر اس نے اب تک روہان سے بات نہیں کی تھی اصل میں تو اسے روہان سے پارٹی کی بات کرتے ہوئے ڈر لگ رہا تھا،
کوفی!!! حیا نے سائڈ ٹیبل پر کوفی رکھی لٹل گرل یار تم کیوں گئی کچن میں ابھی تمہاری طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے روہان نے کام میں مصروف ایک نظر اس پر ڈھال کر کہا جب سے حیا کے ساتھ وہ ایکسیڈنٹ ہوا روہان آفس کم ہی جاتا تھا جس کی وجہ سے اس کا بہت سا کام جما ہو گیا اب حیا بہتر تھی پھر بھی وہ اسے اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا اس لیے آفس کا کام گھر پر کر رہا تھا،
اس نے روہان کی طرف دیکھا اور اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے کھیلنے لگی،روہان نے ایک چور نظر اس پر ڈھالی پھر لیپ ٹاپ بند کیا اور ہاتھ پکڑ کے اسے اپنے پاس بیٹھایا حیا نے حیرت سے روہان کو دیکھا ابھی تو اتنے مصروف تھے اب سب کام بند کر دیا،
روہان نے اس کی گود میں سر رکھا اور آنکھیں بند کر لی حیا کا ہاتھ اب بھی اس کے ہاتھ میں تھا حیا نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا بلاشبہ وہ بہت ہینڈسم تھا اس کی پلکیں بہت گھنی تھی حیا نے اپنے دوسرے ہاتھ سے ان پلکوں کو چھوا روہان کے لب دھیرے سے مسکرائے،
حیا نے جلدی سے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا روہان نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا جو اب ایسے یہاں نظرے جھکائے بیٹھی تھی جیسے بہت بڑی غلطی کی ہو، لٹل گرل تمہارا ہی ہوں صرف تمہارا روہان نے اس کا ہاتھ واپس آنکھوں پر رکھ کے اتنے پیار سے گھمبیر آواز میں کہا حیا کا چھوٹا سا دل تیز دھڑکنے لگا،
اچھا بتاؤ کیا کہنا چاہتی ہو روہان نے اس کی طرف دیکھ کر اچانک کہا حیا نے اسے حیرت سے دیکھا آپ کو کیسے پتا میں کچھ کہنا چاہتی ہوں حیا کی بات پر روہان پھر سے مسکرانے لگا،
اس بات کا جواب تو مجھے خود نہیں پتا سوئٹ ہارٹ روہان نے حیا کے بال پیار سے اس کے کان کے پیچھے کیے،بولو میں سن رہا ہوں روہان نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا حیا کی تو نظرے ہی نہیں اٹھ رہی تھی
وہ آج رات یونیورسٹی میں پارٹی ہے اور حیا نے اتنا بول کے روہان کی طرف دیکھا جو غور سے اسے سن رہا تھا،اور تم جانا چاہتی ہوں روہان کا چہرہ ایک دم سریس ہو گیا،
اس نے حیا کی گود سے سر اٹھایا اور اس کے پاس بیٹھا لٹل گرل میں تمہیں خود سے دور کیسے کر دوں جو سب ہوا اسکے بعد تو میں تمہیں کہیں جانے نہیں دے سکتا میں جانتا ہوں یہاں پارٹی وغیرہ عام سی بات ہے سوئٹ ہارٹ بٹ یو ار مائے لائف اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے وہ بہت پیار سے بول رہا تھا،
میں اکیلی نہیں جاؤ گی یہ کارڈ حیا نے سائڈ ٹیبل کی ڈرو میں سے کارڈ نکال کر روہان کے ہاتھ میں دیا جس پر ان دونوں کا نام تھا،
   روہان نے کارڈ کو دیکھا پھر حیا کو پر سوئٹ ہارٹ یار پارٹی پتا نہیں کیسی ہو میں تمہیں لوگوں کے سامنے ایسے نہیں لے جا سکتا روہان نے کارڈ کو سائڈ میں رکھتے ہوئے کہا،
جی کوئی بات نہیں اجازت تو اسے بھیا بھی کبھی نہیں دیتے تھے ایسے کہی جانے کی پر اس نے سوچا کیری میری نے اتنا فورس کیا ہے تو ایک بار روہان سے پوچھ لوں گی اگر انہوں نے منا کیا تو نہیں جاؤ گی حیا نے آرام سے کہہ کر واپس کارڈ ڈرو میں رکھا اور کوفی اٹھا کے روہان کو دی،
یار تم کیسی بیوی ہو کوئی ضد ہی نہیں کی روہان نے منہ بنا کر کہا اسے لگا وہ اس سے ضد کرے گی لڑے گی منائے گی پر یہاں تو اس کی بیوی آرام سے سب مان لیتی ہے،ضد کیوں کرتی آپ نے منا کیا ہے تو کچھ سوچ کر ہی منا کیا ہوگا حیا نے اتنی سمجھداری سے جواب دیا کے روہان مسکرائے بغیر نہیں رہ سکا،
ٹائم سے تیار ہو جانا ٹھیک ہے حیا خالی کپ لے کر جانے لگی تو اس کے کانوں میں روہان کی آواز آئی اس نے پلٹ کر دیکھا روہان لیپ ٹاپ پر مصروف تھا،جی ٹھیک ہے حیا نے مسکرا کر کہا اور روم سے باہر چلی گئی۔

*┄┅════❁🌹♥🌹❁════┅┄*

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.