Ads Top

Bhagora By Riaz Aqib Kohler Episode No. 01 || بھگوڑا مصنف ریاض عاقب کوہلرقسط نمبر01

Bhagora
By
Riaz Aqib Kohler
بھگوڑا
 مصنف
ریاض عاقب کوہلر

Bhagora By Riaz Aqib Kohler بھگوڑا  مصنف ریاض عاقب کوہلر

بھگوڑا
مصنف ؛ ریاض عاقب کوہلر
 (قسط نمبر 1)
(بہنوں کے لیے عداوت کے بعد ایک اور معاشرتی ناول شروع کروں گا مگر اس کے ساتھ میں اپنا پہلا ناول جو بہت مقبول ہوا وہ آج ہی سے پیش کر رہا ہوں۔۔۔گو یہ ایکشن ناول ہے مگر اس کے ساتھ رومانوی ٹچ بھی ہے۔ )
”یار!....مجھ سے تویہ نوکری نہیں ہونے والی۔ ٹریننگ کی شروعات ہے اورابھی سے میرے گھٹنوں کے بال بیرنگ جواب دے گئے ہیں۔ سارے جسم میں درد کی لہریں یوں اٹھ رہی ہیں جیسے کسی نے ڈنڈوں سے پٹائی کی ہو یا پھر ایک سو چارڈگری کا بخار ہو۔ آرام کے لیے یہ نہیں چھوڑتے ،چوبیس گھنٹوں میں چار گھنٹے بھی تو نیند کے لیے نہیں ملتے ۔اور کھانے کی صورتِ حال ملاحظہ ہو۔“ امجد نے ایک ثابت بینگن اُٹھا کر میری آنکھوں کے سامنے لہرایا۔ ” کبھی سنا ہے کہ انڈے اور بینگن یکجا پکائے جاتے ہوں اور بینگنوں کو کاٹا بھی نہ جاتا ہو ؟‘ ‘
”یہ ٹریننگ ہے بھائی۔ اس میں کھانے کی حالت بھی یہ ہو گی۔“ میں نے اپنے سامنے رکھی پلیٹ کی طرف اشارہ کیا۔”اور ہمیں جسمانی طور پر مضبوط کرنے کے لیے مشکل قسم کی مشقیں بھی کرائی جائیں گی۔ آخر ہم فوجی بننے آئے ہیں سکول ماسٹر نہیں، ملک کا دفاع کرنا ہے ہم نے ،کرسیوں پر بیٹھ کر چاے نہیں ڈکارنی؟“
”مخاطب تو تمیز سے کر سکتے ہیںنا....؟“
”تمیز ہی سے کرتے ہیں۔ اور آرڈر دینے کے لیے عاجزانہ لہجہ اختیار نہیں کیا جاتا۔ اگر ایک انسٹرکٹر یوں حکم دے کہ ،بھائی جان پلیز دوڑ کر اس دیوار کو ہاتھ لگا آﺅ۔ تو میرا نہیں خیال کہ ہم پیدل بھی چلے جائیں۔“
”چھوڑو اس بحث کو اور کھانا کھاﺅ، وقت کم ہے ابھی تک لباس بھی بدلی کرنا ہے۔“ ظفر نے ہمیں ٹوکا۔
”آپ اپنا مشورہ اپنے پاس رکھیں۔“ امجد نے اسے جھڑکا۔
”بھاڑ میں جاﺅ تم لوگ ،میں تو گیا پندرہ منٹ رہ گئے ہیں فالن سے ۔“(ٹریننگ کے لیے فوجیوں کو جمع کرنا) یہ کہہ کرظفر اپنے کمرے کی طرف چل دیا اور ہم بھی اس کے پیچھے ہی ہو لیے کہ وقت واقعی کم تھا۔سیٹی کسی بھی وقت بج سکتی تھی(فوجیوں کو اکٹھا کرنے کے لیے زور سے سیٹی بجائی جاتی ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ تمام اکٹھے ہو جائیں) ۔
ہم نے وردی اتار کر جلدی سے خاکی نیکر اور سفید بنیاں پہنی۔ (آج کل ٹریننگ سنٹروں میں نیکر بنیان کی بجائے ٹریک سوٹ استعمال ہونے لگے ہیں)۔ابھی ہم بوٹوں کے تسمے باندھ ہی رہے تھے کہ سیٹی زوردار آواز میںبجنے لگی ۔ہم سب دوڑ کر گراﺅنڈ میں پہنچ گئے۔ اگلے40منٹ میں ہم کبھی دوڑتے ،کبھی ڈڈ و چال( مینڈک کی طرح پھدکنا) کبھی لانگ اپ (ٹانگیں اوپر دیوار کے ساتھ اور سرنیچے) تو کبھی فرنٹ رول (قلابازیوں کے ساتھ آگے کی طرف حرکت کرنا) کرتے نظر آئے۔ چالیس منٹ کے اختتام پر ایک مرتبہ پھر سیٹی بجی اور ہم دوبارہ اکٹھے ہو گئے۔ مختلف ٹیمیں بنائی گئیں اور ہر ریکروٹ (انڈر ٹریننگ سپاہی) کو اس کی پسندیدہ گیم کھیلنے کے لیے بھیج دیا گیا۔
 ٹریننگ سنٹر میں ہر قسم کے گراﺅنڈز بلکہ جمنازیم تک موجود تھا۔ یہ پیر یڈڈیڑھ گھنٹے پر مشتمل تھا اس کے اختتام پر تمام کو اکٹھا کر کے رات کے لیے آرڈرز سنائے گئے اور پھر ہم گروپوں کی شکل میں اپنی بیرک میں واپس آگئے۔ رات کو کھانا کھانے کے بعد ایک پیریڈ ستارہ شناسی کے متعلق ہوتا تھا کہ کس طرح ہم ستاروں کے ذریعے اپنی سمت سیدھی رکھ سکیں گے۔ 
بہ قول امجد ۔
”یہ سالے خود حرکت میں رہتے ہیں ہمیں کیا سمت دکھلائیں گے؟“
صبح کو اذان سے پہلے اٹھتے اور کمروں کی صفائی بھی خود ہی کرتے کہ یہ بھی ٹریننگ کا حصہ تھا۔ سات بجے پہلا پیریڈ شروع ہو جاتا جو PT(فزیکل ٹریننگ) کا ہوتا اس کے بعد نقشہ بینی (Map Reading)شروع ہو جاتی۔ دوپیریڈ اس کے ہوتے اور اس کے بعد سنگین لڑائی جس سے امجد کو حددرجہ چڑ تھی۔ 
”یار!.... اتنا ایمونیشن ہے کہ کمرے بھرے پڑے ہیں پھر بھی ہمیں خالی رایفل سے لڑنا سکھا رہے ہیں۔ ان کا مقصد اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ہم بھگوڑے ہو جائیں۔“
 ”جس دن سے ٹریننگ شروع ہوئی ہے تم یہی شور مچار ہے ہو کہ نوکری نہیں کرنی ،بھاگ جاﺅں گا۔درخواست دے دوں گا، اب چلے بھی جاﺅ تاکہ ہم تو آرام سے نوکری کر سکیں۔“ ظفر نے امجد کو چھیڑا ۔
”یار میں توچلا جاتا آپ لوگوں کے لیے رکا ہوا ہوں، تاکہ آپ کو ساتھ لے کر جاﺅں۔“
”ام تومارے سات جائے گی یا اپنے گر؟“ عقل خان نے امجد کو ٹوکا
”خان صاحب آپ کا نہیں ، میں ان کے متعلق کہہ رہا تھا۔“ امجد نے ہماری جانب اشارہ کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ عقل خان میں مذاق کو سمجھنے اور برداشت کرنے کی اتنی بھی اہلیت نہیں تھی جتنی مرچ میں مٹھاس یا پھر لسی میں کا لک ہوتی ہے۔
”اچا اچا پر ٹیک اے “(اچھا اچھا پھر ٹھیک ہے)عقل خان نے اپنا بڑا سا سر اثبات میں ہلا دیا ۔
l l l
18ہفتوں کی ٹریننگ کے اختتام پر ہمیں مڈل بریک (ٹریننگ کے درمیان ایک ہفتے کی چھٹی) ملی واپسی پر امجد ایک دن لیٹ تھا۔ سزا کے طور پر رات کی ٹریننگ کے بعد وہ ایکسٹرا ڈرل کیاکرتا۔ اس ڈرل میں اس کے ہمراہ لیٹ آنے والے کچھ اور لڑکے بھی تھے ۔ اس ایکسٹر ڈرل سے ایک ہفتے کے بعدہی ان کی خلاصی ہو سکی تھی۔
”میرے باپ کی توبہ اگر آئندہ چھٹی سے لیٹ آیا۔“ ایکسٹرا ڈرل سے جان چھوٹنے پر امجدنے کانوں کو ہاتھ لگائے۔
”تو وقت سے آﺅ گے؟“ راشد نے ہنس کر پوچھا۔
”نہیں بھئی واپس ہی نہیں آﺅں گا۔“
”تمھارا یہ جھوٹ ہم شروع دن سے سنتے آرہے ہیں ۔“ ظفر نے چڑتے ہوئے کہا۔”اورمیرا خیال ہے ٹریننگ کے اختتام تک سننا پڑے گا ؟“
”تومیرے اس جھوٹ سے تمھیں کیا تکلیف ہے؟“
”صرف مجھے نہیں تمام کو تکلیف ہوتی ہے، تمھاری انھی باتوں کی بدولت تین چار لڑکے بھگوڑے ہو گئے ہیں؟“
”میری باتوں کی وجہ سے نہیں۔ بلکہ ان کے برتاﺅ کی وجہ سے بھاگے ہیں۔“ امجد کا اشارہ ہم سے چند گز دور بیٹھے ہوئے انسٹر کڑز کی طرف تھا۔
 ”بتادوں ان کو ؟“ ظفر نے مذاقاََ انسٹرکٹر کی طرف رخ کیا۔ پھر اس سے پہلے کہ امجد اس کی منت سماجت کرتا زور سے سیٹی بجی جو واضح طور پر بریک کے ختم ہونے کا اعلان تھا۔ 
اگلے چھے ہفتے فائر کی ٹریننگ تھی۔ اس کے بعد جنگی چالوں کے چھے ہفتے اور آخر میں چار ہفتے پر یڈ کی تیاری کے تھے جسے پاسنگ آﺅٹ پریڈ کہتے ہیں۔ آخر وہ دن بھی آگیا جب ہم سنٹر سے وداع ہو کر یونٹوں میں جانے کے لیے تیار ہو گئے۔ خوش قسمتی سے میں اور امجد ایک ہی یونٹ میں پوسٹ ہوئے تھے۔ جس وقت ہم موومنٹ آرڈر لے رہے تھے اس وقت وہاں پر موجود ایک آفیسر نے مجھے اور امجد کو سنٹر کی باکسنگ ٹیم کے لیے روک لیا اور اس طرح ہم چھے ماہ بعد یونٹ جا سکے۔
l l l
یونٹ میں ہم نے بہ مشکل دو ماہ گزار ے ہوں گے کہ ایک دن حکم ملانئے آنے والے تمام کے تمام پریڈ گراﺅنڈ میں جمع ہو جائیں۔وہاں پر ہمیں دوسری یونٹوں کے ینگ سولجر بھی نظر آئے۔ ہم اپنی اپنی یونٹ کی ترتیب کے ساتھ کھڑے ہوگئے ۔اسی اثناءمیں ہم سے مختلف وردی والے چار بندے وہاںپہنچ گئے۔
”یہ کس فوج سے تعلق رکھتے ہیں ؟“ میرے لہجے میں حیرت تھی ۔
”ان کا تعلق ایس ایس جی سے ہے ۔“امجدنے جواب دیا ۔
”ایس ایس جی....؟“ 
”ہاں ! ایس ایس جی، مطلب سپیشل سروس گروپ ۔“امجد نے وضاحت کی۔”انھیں کمانڈوز بھی کہتے ہیں۔“ 
”ان کی آمد کا مقصد ؟“
”تمھیں پتا نہیں ہے....؟“ امجد نے حیرانی سے پوچھا اور پھر میرا سرنفی میں ہلتے دیکھ کرمعلومات جھاڑنے لگا ۔
 ”یہ ہر سال آتے ہیں اور آرمی کی یونٹوں سے کمانڈو سروس کے خواہش مند افراد کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ ان کے ہاں نئے سرے سے ٹریننگ کرنا پڑتی ہے۔ٹریننگ پاس کرنے والوں کو یہ اپنے پاس رکھ لیتے ہیں ،ناکام ہونے والے واپس آجاتے ہیں۔“ امجد کی بات بہ مشکل ختم ہی ہوئی تھی کہ کمانڈو ز کا سینئر اپنا اور کمانڈو سروس کا تعارف کرانے لگا ۔وہ صوبیدار تھا۔اس نے کمانڈور سروس کے اتنے فوائد اور خصوصیات گنوائیں کہ میں نے بے ساختہ کہنے لگا۔
”امجد! کیا خیال ہے ؟ اپنا نام لکھوانہ لیں ؟۔“
”صرف نام لکھوانے سے یہ سہولتیں میسر نہیں آنے والی حضرت ! ٹریننگ بھی کرنا پڑے گی؟“
”ٹریننگ بھی کر لیں گے۔“ میں مصر ہوا ۔
 ”تم ضرور مرواﺅ گے‘ ‘۔ اس کا لہجہ رو دینے والا تھا۔ مگر جس وقت کمانڈو صوبیدار نے اعلان کیا کہ خواہش مند افراد آگے آجائیں تو آگے نکلنے والوں میں امجد بھی میرے ساتھ شامل تھا۔ تمام کے ضروری کوائف نوٹ کئے گئے۔
 ”آپ تمام لوگوں کے نام کمانڈو ٹریننگ میں شمولیت کے لیٹرز اسی ماہ جاری کر دیئے جائیں گے اکتوبر میں باقاعدہ ٹریننگ شروع ہو گی ۔“ یہ کہہ کر کمانڈوز اپنی جیپ میں بیٹھ کروہاں سے رخصت ہو گئے اور ہم بھی یونٹ سدھارے۔
 ستمبر کے آخری ہفتے میں امجداورمیرے نام کمانڈو ٹریننگ کا لیٹر آگیا اور ہم اپنی یونٹ( جو کہ اس وقت گوجرانوالہ اسٹیشن پر تھی) سے چراٹ( نوشہرہ) آگئے۔ ہمارا ٹریننگ کیمپ جلوزئی میں لگایا گیا۔ جمعرات کو ہم جلوزئی کیمپ پہنچے اور ہفتے سے ٹریننگ شروع ہو گئی۔ پہلے مرحلے میں ہمیں 40کلو میٹر پیدل چلنا پڑ گیا شام کے آٹھ بجے ہماری روانگی ہوئی اور صبح کے ساڑھے چار بج چکے تھے جب ہم واپس ہوئے۔
”یار جانو اگر یہ شروعات ہے تو اس کے بعد یہ کیا کریں گے ہمارے ساتھ۔“ امجد کے منہ میں یہ الفاظ تھے کہ ٹریننگ آفیسر کی گونج دار آواز سنائی دی۔
”تمام لوگ آرام کریں،ناشتا کریں اور اگر سونا ہے تو بے شک سو جائیں۔ ٹھیک پونے پانچ بجے دوبارہ فالن ہو گی ساڑھے چار میل ٹیسٹ کے لیے۔“ اور امجد کا چہرہ جو آرام کی بات سن کر 200واٹ کے بلب کی طرح چمکنے لگا تھا، بات کے ختم ہوتے وقت لوڈشیڈنگ کی زد میں آگیاتھا۔
”ساری رات چلنے کے بعد اتنا زیادہ ریسٹ۔“وہ منہ بسور کر بولا۔”سنا ہے تم نے، پورے پندرہ منٹ کا ریسٹ ہے ۔وہ بھی صرف آٹھ گھنٹے مسلسل چلنے کے بعد۔واہ بھئی میں تو چلا واپس یونٹ۔“
”بے وقوف مت بنو۔“ میں نے اسے جھڑکا۔ ”اگر چہ ٹریننگ مشکل ہے مگر بعد میں سہولیات بھی تو زیادہ ہیں۔“
”ٹریننگ کو مشکل کہنا تو کسر نفسی ہے حضور کی۔ وگرنہ اس کو آسانی سے ناممکن کہا جا سکتا ہے۔اور جہا ں تک تعلق ہے سہولیات کا تو ،سہولیات کے لیے زندہ رہے تو ان سے فائدہ اٹھائیں گے نا؟“
”امجد تجھے شکوہ شکایت کے علاوہ بھی کچھ آتا ہے۔ اگر ٹریننگ کرنا ہے تو کرو، نہیں تو شوق سے واپس یونٹ چلے جاﺅ، مجھے ڈی مورال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔“
”جانو ! تم تو خفا ہونے لگے یار میں تو یونھی....“
”کیا یونھی....؟“ میں نے قطع کلامی کی۔
”حقیقت بیا ن کر رہا تھا۔“ نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے اس کی بات پر ہنسی آگئی۔
 ہم دونوں جرابیں تبدیل کر کے وہاں پر پہنچ گئے، جہاں سے ساڑھے چار میل کا آغاز ہونا تھا۔ بلکہ ختم ہونے کی جگہ بھی یہی تھی کہ ہم نے سوا دو میل جا کر وہاں پر پہلے سے موجود انسٹرکٹرز سے ٹوکن لے کر واپس اسی جگہ پہنچنا تھا۔
کمانڈو ٹریننگ کے شروع ہوتے ہی تمام سٹوڈنٹس کو جوڑیوں میں حرکت کرنا پڑتی اس کو عرف عام میں بڈی سٹسم کہا جاتاہے۔ ساتھی کے چناﺅ پر انسٹر کٹر کی طرف سے کوئی قدغن نہیں تھی اس لیے میں اور امجد وہاں بھی اکٹھے ہی رہے۔ ساری رات کی بے آرامی اور تھکن کی وجہ سے گو یہ ساڑھے چار میل کافی مشکل لگے لیکن اتنے نہیں کہ ہمیں کمانڈو بننے سے متنفر کر سکتے۔ حالانکہ 300بندوں نے دوڑنے سے انکار کر دیا تھا ۔ کمانڈو ٹریننگ میں چونکہ ہر شخص کی مرضی کا گہرا دخل تھا اس لیے ان لوگوں کو ٹریننگ سے علیحدہ کر دیا گیا۔ باقی کا دن آرام سے گزار اگلی صبح فزیکل ٹیسٹ تھا۔ آرمی کی نسبت ان کا ٹیسٹ کافی مشکل تھا۔ لیکن اتفاق سے ہم دونوں جسمانی لحاظ سے فٹ تھے اس لیے ہمیں یہ ٹیسٹ پاس کرتے ہوئے کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔وقت گزرتا رہا، ہر آنے والا دن پہلے سے سخت ثابت ہوا۔ آئے روز بڑھتی سختی کااندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ٹریننگ کی ابتدا میں سٹوڈنٹس کی تعداد2500تھی جو ایک ماہ بعد 1200رہ گئی تھی۔ مزید کچھ ٹریننگ گزرنے کے بعد ہمیں پٹھو(Pack) بھی پہننا پڑ گیا اور وہ بھاگ دوڑ جو ہم بغیر پٹھو کے کرتے اب پٹھو پہن کر کرنا پڑتی۔
”ایک بات بتاﺅں جانو۔“ امجد نے حسب عادت مجھے مختصر نام سے پکارااس وقت ہم فائر کرنے کے لیے اپنی باری کاانتظار کر رہے تھے۔
”بولیں بھئی ماجے صاحب آپ کو کون روک سکتا ہے۔“میں بھی اسی کے انداز میں بولاتھا۔
”یار مجھے بیسک (Basic) ٹریننگ کے انسٹرکٹر بہت یاد آتے ہیں بلکہ بہت پیارے بھی لگنے لگے ہیں۔ان قصائیوں کے مقابلے میں وہ فرشتہ رحمت تھے ۔“
”ٹریننگ کی سختی اور مشکلات کے علاوہ بھی تجھے کچھ سوجھتاہے۔“ میں بہ مشکل اپنی ہنسی ضبط کرتاہوا بولا۔ کیونکہ اگر میں ہنس پڑتا تو انسٹرکٹرزکے پیچھے اس نے لطائف کا پٹارہ کھول لینا تھا۔ 
”ہاں کیوں نہیں۔“ وہ جلدی سے بولا۔ ”چھٹی کے بارے ، ٹریننگ کے ختم ہونے بارے اور اپنی شادی کے بارے ہر وقت فکر مند رہتا ہوں۔“
”چھٹی بھی جلد مل جائے گی۔ ٹریننگ بھی عنقریب اختتام پذیر ہونے والی ہے البتہ تمھاری شادی ذرا مشکل ہے کہ بہ قول تمھارے،تمھاری ساس بھی اب تک پیدا نہیں ہوئی۔“
اور واقعی اگلے ہفتے ہم دو دنوں کے لیے گھر جارہے تھے۔ فوجی اصطلاح میں اسے نائیٹ پاس کہتے ہیں۔ امجد کا ارادہ بھی یہی تھا کہ وہ یہ دو دن میرے گھر گزارے ۔ کیونکہ اس کا گھر کراچی میں تھا اور نوشہرہ سے کراچی دودن میں پہنچنا تو ممکن تھا ۔جا کے واپس آنا بلا شک و شبہ ناممکن تھا۔ امجد کا آبائی گاﺅں مانسہرہ سے تھوڑا سا آگے ہے۔ اس کا والد تلاشِ معاش کے لیے اپنے پورے خاندان کے ساتھ کراچی جا بسا تھا ۔ اس کا خاندان امجد کے والدین، تین بہنوں اور امجد پر مشتمل تھا۔ امجد اپنی تمام بہنوں سے بڑا تھا۔ اس کے برعکس میرا خاندان کافی وسیع تھا۔ میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ مجھ سے بڑی ایک بہن اور تین بھائی تھے سب سے بڑے کا نام حاکم جان، اس سے چھوٹا احمد جان اس کے بعد محمد جان اور ان تینوں سے چھوٹی جمیلہ آپا تھی۔ ابو جان اچھے خاصے زمیندار تھے تینوں بھائی اپنی زمینیں ہی کاشت کرتے اس کے علاوہ آمدن کااور کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ زمینوں سے اتنا کچھ مل جاتا تھا کہ ہمیں نوکری وغیرہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ میں فقط اپنی خاندانی روایت کی وجہ سے فوج میں بھرتی ہوا تھا ،کیونکہ ہمارے خاندان میں پُرکھوں سے یہ دستور چلا آرہا تھا کہ خاندان کا ایک نہ ایک بندہ ضرور فوج میں شامل ہو اور اپنے گھر میں یہ قرعہ ¿ میرے نام نکلا تھا۔ دادا جان کے د و بیٹے تھے ہاشم جان یعنی میرے ابو جان اور فاضل جان یعنی چچا۔چچا فاضل خود بھی آرمی سے حوالدار رٹیایرڈ ہوا تھا۔ اس کے بیٹے ابھی کم عمر تھے اور سکول پڑھ رہے تھے۔ دو بیٹیاں البتہ جوان تھیں، شازیہ اور سعدیہ۔ جس میں شازیہ کی شادی محمد جان اور سعد یہ کی میرے ساتھ ہو چکی تھی۔ جمیلہ باجی کی شادی ماموں زاد اسلم بھائی سے ہوئی تھی۔ اسی طرح بڑے بھائی حاکم اور احمد دونوں کی شادیاں ماموں ہی کی طرف یعنی اسلم کی بہنوں سے ہوئی تھیں۔ ہم تمام بہن بھائیوں کی اپنی اولادیں بھی تھیں میں خود ایک چاند سے بیٹے کا باپ تھا جس کا نام عدنان تھا۔
 ”جانو تمھارا والد اچھا خاصا زمیندار ہے۔ تمھیں فوج کی نوکری کرنے کی کیا ضرورت ہے؟“ گاڑی سے اُتر کر ہم دونوں پیدل گھر کی طرف جارہے تھے کہ امجد مستفسر ہوا۔ بس سٹاپ سے ہمارا گاﺅں چند کلو میٹر دور تھا۔بس اڈے پر ٹانگے وغیرہ کھڑے تھے لیکن ہم دونوں نے پیدل چلنے کو تر جیح دی۔
”یار ماجے!.... پہلے بھی تمھیں کئی مرتبہ یہ بات بتا چکا ہوں کہ فوج کے اندر بھرتی ہونا میری خاندانی روایت ہے۔“
”خاندان میںتمھی ایک مردہو ؟۔“
”نہیں، لیکن پڑھا لکھا صرف میں ہوں۔ باقی تینوں کو بچپن ہی سے کاشت کاری کا شوق تھااور ابھی تک اسی میں جتے ہیں۔“
 ”میرا خیال ہے سکول سے بھی وہ اسی لیے بھاگے اور کاشت کاری میں دلچسپی لی تاکہ بھرتی ہونا نہ پڑ جائے ۔“امجد حسب عادت دور کی کوڑی لایا۔
”اگر میں کہوں کہ تم گدھے ہو تو اس میں ذرا بھی مبالغہ نہ ہو گا۔ صرف دُم کی کمی ہے ۔ سینگ اس کے بھی نہیں ہوتے۔“
”اس میں گدھے پن کی کیا بات ہے ؟سامنے کی بات ہے تمھارے بھائی چار سے تین ہونا چاہتے ہیں ۔اس لیے خاندانی روایت کا جھانسا دے کر تمھیں فوج میں بھرتی کروا دیا۔“
 ”تم کو ن سا واپڈا میں ہو؟“ میں جھلا کر بولا۔
”میں تو غربت کے ہاتھوں مجبور ہوں ورنہ کب کا بھگوڑا ہوچکا ہوتا۔“
”اچھا اب اپنی چونچ بند رکھو۔ بھائی جان آرہے ہیں۔“ میں نے دور سے حاکم بھائی کو اپنی سمت آتے دیکھ کر کہا۔
”مجھے نظر آرہا ہے۔ زیادہ شوخ ہونے کی ضرورت نہیں۔“ امجد چونکہ پہلے بھی میرے گھر آچکا تھا اس لیے انھیں پہچانتا تھا۔
 دو دن ہم نے خوب انجوائے کیا۔ امجد شکار کا بہت شوقین تھا۔ بارہ بور بندوق لے کر ہم سارا دن پرندوں کے پیچھے بھاگتے رہے۔
 ”عدنان کو دیکھ کر تو میرا بھی جی کرتا ہے کہ جلد از جلد شادی کر لوں؟“ امجد میرے بیٹے عدنان کو اپنے ساتھ لپٹا کر بولا۔
”اتنے لمبے بندے کو کس نے بیٹی دینی ہے۔“ میں نے اس کے لمبے قد کی طرف اشارہ کیا۔
 ”تم سے تو انچ ادھ انچ کم ہی ہو گا؟ تمھیںاگر مل گئی ہے تو کوئی ہمارے لیے بھی دیدہ و دل فرشِ راہ کیے بیٹھی ہو گی؟“
”ماجے صاحب!.... میرے تو چچا کی بیٹی ہے ۔“
” ہم بھی ڈھونڈ لیں گے کوئی چچا ۔“وہ فلسفیانہ لہجے میں بولا۔
”اچھا یار!....ڈھونڈلینا۔ فی الحال تو کھانے کا بندوبست کرتے ہیں۔“ میں عدنان کو اس کے ہاتھوں سے لے کر زنانے کی طرف بڑھ گیا۔
اگلے دن ہم سو یرے ہی گھر سے نکل پڑے تاکہ وقت سے اپنی جگہ پہنچ سکیں۔ دو ہفتوں کے بعد ہم نے منگلا ڈیم پر تیراکی کی ٹریننگ کے لیے جانا تھا۔ میں تو خیر بچپن سے تیرا ک تھا امجد البتہ تیرائی نہیںجانتا تھااور اس وجہ سے خوفزدہ بھی تھا۔ 
”یار اتنی سردی میں تیرا کی ؟۔“وہ رو دینے والے لہجے میں بولا۔
”فروری میں کون سی سردی ہوتی ہے ؟ ۔“ میں نے حسب ِ عادت اسے چڑایا۔ ”یہ کوئی جنوری تو نہیں ہے۔ اور یوں بھی کمانڈو بننے کے لیے سردی گرمی نہیں دیکھی جاتی اگر موسم کے اثرات ٹریننگ میں مانع ہو جائیں تو کل کلاں جنگ کے میدان میں یہ سہولیات کون مہیا کرے گا؟“
”کل کی کل دیکھی جائے گی تم آج کے بارے سوچو، ایک کلو میٹر مسلسل تیرناہے۔ ہم کوئی مچھلی یا بطخ تو ہیں نہیں؟“
”بگلے تو ہونا....؟‘ ‘
” یہ میں وقت آنے پرپوچھوں گا بگلا بھگت صاحب؟“ وہ جل کر بولا اور میں مسکرا پڑا۔
ٹریننگ کے باقی مراحل کی طرح یہ مرحلہ بھی گز رگیا اور پھر وہ وقت بھی آ گیا جس میں ہمیں پیراشوٹ کے ذریے جہاز سے جمپ لگانا تھا۔ اس کے بعد لانگ مارچ جو 50کلو میٹر پر مشتمل ہوتی ہے۔ مع سازو سامان کے کرنا پڑتی ہے اور پھر سب سے آخری مرحلہ سکیم کا تھا جس میں ایک ہفتا اپنے بندوبست پر ہمیں جنگل میں گزارنا تھا۔
 جس دن ہم جمپ کے لیے جہاز میں سوار ہوئے تو ہماری تعداد صرف120رہ گئی تھی، حالانکہ ٹریننگ کی ابتدا میں ہم 2500کے قریب تھے۔
 ”اگر کوئی چھلانگ نہ لگائے تو؟“ امجد نے جہاز میں سوار ہوتے وقت سر گوشی کی۔
”وہ خود نیچے پھینک دیں گے۔“ میں اطمینان سے بولا۔
اس نے منہ بنا کہا”کبھی تسلی نہیں دینا؟بس ڈراتے رہنا ہے ۔“
لیکن میں اسے جواب دیئے بغیر آنے والے مشکل وقت کے متعلق سوچنے لگ گیا۔ بہ ہر حال یہ مشکل وقت بھی بیت گیا اور جتنا اس سے ڈرے ہوئے تھے اتنا ہی انجوائے کیا۔ ٹریننگ کے خاتمے پر ہمیں چھٹی ملی۔ واپسی پر ہم مکمل کمانڈوتھے اور ہماری چھاتی پرکمانڈوز کی شناخت کمانڈو ونگ لگ چکا تھا۔
l l l
”نئی بات سنی ہے؟“ ہم میس میں بیٹھے شام کا کھانا کھا رہے تھے کہ امجد بوٹی کے ساتھ زور آزمائی کرتے ہوئے مجھے مخاطب ہو ا۔
 ”سناﺅ، نہیں سنی تو اب سن لوں گا۔“
”تو سنو۔“ امجد نے لمبی ڈکار کے ساتھ کھانے کے اختتا م کا اعلان کرتے ہوئے کہا۔ ”صبح سے جوڈو کراٹے کا کورس شروع ہے۔“
”ہاں مجھے پتا ہے۔“ میں اطمینان سے بولا۔ ”کمانڈو کی پوری سروس ہی کورسوں پر مشتمل ہے اور ہماری تو ابھی شروعات ہے۔“
”مارے گئے۔“ امجد ماتھے پر ہاتھ مار کر بولا اور میں ہنس پڑا۔
وقت گزرنے کا پتا ہی نہ چلا ہم دونوں نے تین سال کمانڈو کی سروس میں گزار دیے اس دوران ہم مختلف پیشہ ورانہ کورس کر کے اپنی قابلت کا لوہا منوا چکے تھے۔
l l l
 میں دس دنوں کی چھٹی پر تھا اورابو جان کے کمرے میں بیٹھا ان کے پاﺅں دبا رہا تھا۔ چچا جان بھی ادھر ہی موجود تھے اور ابو جان کے ساتھ زمینوں کی بابت کچھ گفتگو کر رہے تھے۔
چچا جان اور ہم ابھی تک ایک ہی حویلی میں رہائش پذیر تھے۔ چچا جان، ابوجان کو بالکل اپنے باپ کی طرح سمجھتے تھے اسی طرح ہم بہن بھائیوں کے ساتھ بھی ان کا رویہ بہت پر شفقت تھا۔ البتہ ہماری غلطیوں پر ٹوکنا یا کوئی مناسب سزا دینے کا کام بھی چچا جان ہی کوسرانجام دینا پڑتاتھا۔
”پُتر ! پانی تو پلا دو ؟“ دورانِ گفتگو چچا جان مجھے مخاطب ہوئے اور میں سر ہلا کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ چچا جان چونکہ تازہ پانی کو پسند کرتے تھے اس لیے میں گلاس اٹھا کر نلکے کی سمت بڑھ گیا۔ پانی کاگلاس بھر کر لوٹنے ہی لگا تھا کہ میں نے بھائی محمد جان کو تیز قدموں سے چچا فاضل کے کمرے کی طرف بڑھتے دیکھا۔
”چچا ،ابو کے پاس بیٹھے ہیں۔“ میں نے اسے آواز دی۔ اور وہ سر ہلا کر ابو کے کمرے کی طرف مڑ گیا۔ میں بھی جلدی سے اس کے پیچھے کمرے میں پہنچ گیا۔ مجھے لگ رہا تھا کہ بھائی کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آگیا ہے۔ میں جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا مجھے محمد جان کی تیز آواز سنائی دی جس نے میرے اندیشوں کی تصدیق کر دی تھی۔
 ”چچا آج پھر چودھریوں کے مویشی ہماری فصل میں گھس گئے تھے۔ میں نے اکبر خان سے شکایت کی تو وہ الٹا میرے گلے پڑ گیا۔ کہہ رہا تھا۔ ”جاﺅ تم رپٹ لکھوا دو،یا کچھ اور کر سکتے ہو تو کر لو ؟“
”د یکھا بھائی جان!“ چچا ،محمد جان کو جواب دینے کے بجائے ابو جان سے مخاطب ہوئے۔ ”میں اسی زمین کی بات کر رہا تھا۔ اس سے پہلے بھی انور خان کے مویشی وقتاً فوقتاً ہماری فصل کا بیڑہ غرق کرتے رہتے ہیں۔ یہ چکر سات آٹھ مہینوں سے چل رہا ہے ۔پہلے پہل تو میں نے نظر انداز کر دیا اور بجائے اس کے کہ اس کے بیٹے احتیاط سے کام لیتے وہ بالکل بے پروا ہو گئے ۔پھر میں نے انور خان سے شکایت کی لیکن وہ ہنس کر ٹال گیا۔ کہہ رہا تھا بھئی تمھاری زمین چاروں طرف سے ہماری زمین میں گھری ہوئی ہے یہ ہمیں بیچ دو اور اس کے بدلے جنگل کی زمین لے لو، مگر میرے سختی سے انکار کر دینے پر بولا چلو ہم احتیاط کریں گے۔ ابھی اس بات کو دو دن نہیں گزرے آج پھر یہ واقعہ ہو گیا ۔“
 ”ہوں۔“ ابو جان لمبی سانس لے کرایک لحظہ کے لیے سوچ میں پڑ گئے اور میں نے اس اثناءمیں آگے بڑھ کر چچا کو پانی پیش کر دیا۔
 ”فاضل ! چند دن مزید دیکھو پھر کچھ کرتے ہیں۔“ 
 ”ابو جان آٹھ مہینے سے تو دیکھ رہے ہیں۔“ بھائی محمد جان پست آواز میں بولا لیکن صاف نظر آرہا تھا کہ اس نے بڑی مشکل سے اپنے غصے کو کنٹرول کیا ہوا ہے، لیکن یہ صرف اس کی نہیں ہم تمام بھائیوں کی عادت تھی کہ ہم ابو جان سے دب کر بات کرتے تھے۔ چچا فاضل سے البتہ ہم ہر قسم کی گفتگو کر لیتے تھے۔”اب تو انھوں نے ہمیں بزدل سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ پچھلے ہفتے ہماری ایک گاے غلطی سے ان کے کھیت میں چلی گئی تھی۔ انھوں نے اتنی پٹائی کی کہ اس کی پیٹھ پر نشان پڑے گئے اور تو اور آج اکبر خان کہہ رہا تھا کہ یہ زمین سیدھے طریقے سے ہمارے حوالے کر دو۔ ورنہ لینے کے اور طریقے بھی ہمیں آتے ہیں۔“
 ”خیر ہے پُتر!.... چند دن صبر کرلو۔“ ابو جان اسی طرح ٹھنڈے لہجے میں بولے۔ ”ان کے لینے کے طریقے بھی دیکھ لیتے ہیں۔ اس کے بعد دینے کے طریقے ان کو دکھائیں گے۔“
 محمد جان ۔ ”جی ابوجان!“ کہہ کر کمرے سے نکل گیا۔ میں بھی اس کے پیچھے باہر آگیا۔ 
 ”بھائی محمد جان !آپ نے اسے کہا کچھ نہیں۔“ جب ہم ابو کے کمرے سے تھوڑا دور آگئے تو میں نے بھائی سے کہا تاکہ ابوجان یا چچا فاضل نہ سن سکےں ۔” بس اس کی تڑیاں سن کر چچا سے شکایت کرنے چلے آئے۔“
 ”وہ اکیلا کہاں تھا فوجی صاحب !دو مسٹنڈے، وہ بے غیرت پہلوان جو زندگی میں بھی کبھی کشتی نہیں جیتے وہ بھی اس کے ہمراہ تھے اور میں اکیلا تھا۔ دوسری بات ہے چچا فاضل نے بھی منع کیا ہے کہ کبھی جھگڑا شروع نہیں کرنا۔“
 ”ابھی تک وہ وہیں ہوں گے؟“ میں نے استفسار کیا۔
 ”تو اور کیا؟ شام تک وہیں پھرتے رہتے ہیں ایک ڈیرہ بنایا ہوا ہے جہاں گرمیوں میں بھنگ اور سردیوں میں چرس کا دور چلتا ہے۔“
 ”چلو پھر انھی کی طرف چلتے ہیں۔“ میں بیرونی دروازے کا رخ کرتے ہوئے بولا۔
 ”یار فوجی!.... ابو کو پتا چل گیا تو خفا ہوں گے۔“ محمد جان نے مجھے روکنے کی واجبی سی کوشش کی۔
 ”ابو جان کو پتا نہیں چلے گا۔ ہم کون سا ہتھیار لے جارہے ہیں ؟“
  ”چلو پھر، جو اﷲ نے چاہا۔“اس نے میر ے ہمراہ قدم بڑھا دئےے۔
چودھری انور خان ہمارے گاﺅں کا سب سے بڑا زمیندار تھا۔ اس کے دو بیٹے اکبر خان ، اعظم خان اور ان دونوں سے چھوٹی ایک بیٹی شہلا تھی۔ دونوں بھائی کنوارے ،پرلے درجے کے بدتمیز اور جھگڑالو تھے۔ ان کی بہن کے متعلق سنا تھا کہ شہر میں اپنے ماموں کے پاس رہتے ہوئے ایم بی بی ایس کر رہی ہے۔ چودھری انور خان ایک دفعہ ناظم بھی منتخب ہو چکا تھا اور اپنے آپ کو بڑی توپ شئے سمجھتا تھا۔اس کے بیٹے اس سے بھی چند قدم آگے تھے۔ بھرتی سے پہلے بھی چونکہ میں زیادہ تر پڑھائی لکھائی میں مشغول رہا اور بھرتی ہونے کے بعد پردیسی ہو گیا اس لیے چودھری اوراس کے خاندان کے متعلق میری معلومات واجبی سی تھیں۔ محمد جان بھائی ان کے متعلق کافی معلومات رکھتا تھا جو زمینوں تک پہنچتے ہوئے وہ میرے گوش گزار کر چکا تھا۔
”اس وقت وہ ان درختوں کے جھنڈ میں بیٹھے ہیں۔“ جیسے ہی چودھری انور کا ڈیرہ نظر آیا محمد جان نے انگلی سے درختوں کے جھنڈ کی طرف اشارہ کیا ۔ دورہی سے چارپائی پر بیٹھے ہوئے تین بندے نظر آرہے تھے۔ تینوں کا رخ ہماری سمت ہی تھا، لیکن ہمارے قریب پہنچنے پر بھی انھوں نے اٹھنے کی زحمت گوارانہ کی۔
” کرم شاہ آج تو اپنے ڈیرے پر سرکار نظر آرہی ہے۔ ”اکبر خان نے اپنے ساتھ موجود دونوں چیلوں میں سے کسی ایک سے مخاطب ہوا۔
 ”جی چودھری جی!“ وہ دونوں یک زبان بولے اس لیے میں کرم شاہ کو نہ پہچان سکا کہ وہ کون ذات شریف ہے ۔
”ان تینوں میں اکبر کون ہے؟۔“میں نے سلام کہنے کے بجائے محمد جان بھائی سے پوچھا ۔ حالانکہ اکبر خان چہرے بشرے اور لباس سے واضح طور پرپہچانا جارہا تھا۔ لیکن میرا مقصد چونکہ اکبر خان کی بے عزتی کرنا تھا اس لیے میں نے اسے چودھری اکبر خان کی بجائے صرف اکبر کہا۔
 ”میں ہوں چودھری اکبر خان فوجی صاحب!“ اکبر خان چارپائی پرسے اچھل کر کھڑا ہوگیا۔ اس کے اٹھتے ہی دونوں پہلوان بھی جلدی سے کھڑے ہو گئے۔
اکبر خان ڈیل ڈول میں امجد کے مشابہہ تھا البتہ ٹریننگ نے امجد کی باڈی کو مضبوط اور سخت کر دیا تھا اس کے برعکس اکبر خان کی باڈی سے نرمی جھلک رہی تھی۔
”اگر اپنے آپ کو چودھری کہنے سے بندہ چودھری بن جاتا ہے تو پھر تو آرمی میں موجود سارے نائی اور میراثی بھی چودھری ہیں، کیونکہ وہ بھی اپنے آپ کو وہاںچودھری ہی کہتے ہیں۔“
”زبان سنبھال کر بات کرو۔“ وہ غصے سے چیخ کر بولا۔اور میں جان بوجھ کر قہقہہ لگا کر ہنس پڑا میری ہنسی نے جلتی پر تیل کا کام کیاتھا۔
”تیری تو ....“ وہ غصے سے باﺅلا ہو کر میری سمت دوڑا لیکن ابھی مجھ سے دو تین فٹ دور ہی تھا کہ میری باہنی ٹانگ حرکت میں آئی اور چھاتی پر لگنے والی ضرب سے وہ اچھل کر چارپائی پر جاپڑا۔
”اسے سنبھالو بھائی۔“ محمد جان کو یہ کہتے ہی میں دونوں پہلوانوں کی طرف متوجہ ہوا۔
 ”اپنے حریف کا کمزور پہلو اور اپنے مطلوبہ نتائج مدنظر رکھو، طاقت کے بجائے اپنی عقل پر بھروساکرو، پہل پن اپنے ہاتھ میں رکھو اور دشمن کے حملہ کرنے سے پہلے حملہ کر گزرو۔“ اپنے استاد صوبیدار مراد صاحب کی یہ باتیں میرے دماغ میں اس طرح گونج رہی تھیں۔ جیسے وہ سامنے کھڑے لیکچر دے رہے ہوں۔ میں اُڑتا ہو ا گیا اور اس سے پہلے کہ وہ دونوں پہلوان محمد جان یا میرے خلاف کوئی ایکشن لیتے ،ان کے سر پر جا پڑا۔ میرا مقصد چونکہ ان کو عاضی طور پر ناکارہ کرنا تھا اس لیے ایک کی ٹھوڑی پر میں نے دائروی مُکّا(Counter Punch) جڑ دیا ۔ وہ اسی جگہ گر گیاتھا۔ اسی اثناءمیں دوسر ے نے اپنے دونوں ہاتھ بڑھا کر مجھے گریبان سے پکڑا اور اپنی طرف کھینچا۔ میں چاہتا تو آسانی سے اپنا گریبان چھڑا سکتا تھا لیکن میں نے ایسی کوئی کوشش نہ کی ۔جیسے ہی اس نے مجھے اپنے قریب کیا میں نے بایاں گھٹنا اوپر اٹھا کر پوری قوت سے اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان دے مارا۔ وہ ”اوغ“ کی آواز سے نیچے جھکتا چلا گیا اور ٹھوڑی پر لگنے والی دوسری ضرب نے اسے بھی ہوش و خرد سے بیگانہ کر دیاتھا۔
محمد جان اور اکبر خان دونوں گتھم گتھا تھے۔ جس وقت میں دونوں سورماﺅں کو بیہوش کرکے ان کی طرف مڑا اس وقت محمد جان اسے نیچے گرا کے تابڑ توڑ مکے برسا رہا تھا نیچے سے اکبر خان بھی اس کوشش میں مصروف تھا۔
”بس بھائی جان چھوڑو اس نمونے کو۔“ میں نے محمد جان کو بازو سے پکڑ کر پیچھے کھینچا۔
”تھوڑا دل تو ٹھنڈا کرنے دیتے۔“ محمد جان پیچھے ہوتے ہوئے بولا۔میں بھائی کی بات کا جواب دیئے بغیر اکبر خان کی طرف بڑھا جو محمد جان کے پیچھے ہٹنے پر اٹھ کھڑا تھا۔
”چودھری صاحب!“ میں طنزیہ لہجے میں بولا۔ ”بھڑکیں مارنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ بندے کے اندر کچھ غیرت بھی ہونا چاہیے ۔“
”یہ .... یہ.... تجھے بہت مہنگا پڑے گا۔“ شرمندگی اور غصے کی شدت سے اس سے بات نہیں ہو رہی تھی۔ میرا ہاتھ گھوما اور چہرے پر لگنے والے زور دارتھپڑ سے وہ کولہوں کے بل پیچھے جا گرا ۔
”اس کے بعد اگر ہمارے کھیت میں تمھارے مویشی گھسے....؟“ میرا فقرہ ادھورا ہونے کے باوجود مکمل تھا۔ ”اور اب جاﺅ، جو کر سکتے ہو کر لینا ۔ رپورٹ درج کراتے ہو یا جرگہ بلاتے ہو۔“
اکبر خان آہستگی سے اٹھ کھڑا ہوا اور نفرت بھری نظروں سے مجھے گھورنے لگا لیکن اس نے کچھ کہنے سے گریز کیا۔ میں نے بھی چند لمحے اسے گھورنے کے بعد محمد جان سے کہا۔
 ”چلو بھائی فی الحال اتنا ہی کافی ہے“ ۔ اور محمد جان بغیر کچھ کہے میرے ساتھ چل پڑا۔ دونوں پہلوانوں نے ابھی تک اپنی جگہ سے ہلنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
 اگلا دن خاموشی سے گزر گیا اور اس کا مطلب....اس کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا کہ اکبر خان نے شرمندگی کی وجہ سے والد یا بھائی کو یہ بات بتانے سے گریز کیا تھا۔
 میں نے سارا دن محمد جان کے ساتھ زمینوں پر گزارا۔ اکبر خان بھی اپنی زمینوں پر پھرتا نظر آیا مگر آج وہ اکیلا تھا۔
 وہ گھر پر میری آخری رات تھی اور صبح میں نے واپس جانا تھا۔ پلک جھپکنے میں دس دن چھٹی گزرگئی تھی۔
”اپنا خیال رکھنا اور بھائی احمد جان کو بھی سارے واقعے سے آگاہ کر دینا۔“ گھر سے چلتے وقت میں نے محمد جان بھائی کو نصیحت کے انداز میں کہا۔
” فوجی صاحب!“ وہ مسکرا یا ”اب تم بڑے بھائی کو بھی نصیحتیں کروگے ؟“
 ”نصیحت نہیں مشورہ دے رہا ہوں۔“ جواباً میرے ہونٹوں پر بھی مسکرا ہٹ پھیل گئی تھی ۔
 اس سے ہاتھ ملا کر میںدروازے کی طرف بڑھ گیا۔ باقی گھروالوں سے میں نے پہلے ہی رخصت لے لی تھی۔
 حسب معمول میں کسی خاص واقعے کے بغیر یونٹ پہنچ گیا اور جاتے ہی اپنے سینئر کو Night Passکا بتا دیا۔
اس نے حیرانی سے پوچھا۔”ابھی تو پہنچے ہو بھئی؟“ 
”سر! گھر میں ایک مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے ؟“ میں نے مو ¿دبانہ لہجے میں جواب دیا۔
”ابھی جانا ہے....؟“ وہ مستفسر ہوا۔
”نہیں سر!....کل صبح نکلوں گا۔“
”ٹھیک ہے صبح ایس جے سی او(سینئر صوبیدار) کو بتا دوں گا پھر جیسے ان کی مرضی“ ۔ اور میں سر ہلا کر اپنے کمرے میں آگیا۔
”کیوں بھئی! نائیٹ پاس کا کیا چکر ہے، کیا ابھی تک عدنان کی ماں سے جی نہیں بھرا؟“ میرے کمرے میں داخل ہوتے ہی امجد چہکا۔
”نہیں یار! کوئی اور مسئلہ ہے۔“
 اور میرے چہرے پر چھائی سنجیدگی دیکھ کر امجد بھی سنجیدہ ہو گیا۔”خیر تو ہے نابھائی، مجھے بھی کچھ بتاﺅ ؟۔“
 میں نے سارا واقعہ اس کے گوش گزار کر دیا۔
”تمھارے علاقے میں چودھری کہاں سے آگئے؟“اس نے حیرانی سے پوچھا۔
” یار! ہم نے تو جب سے ہوش سنبھالا ہے انھیں اپنے گاو ¿ں ہی میں دیکھا ہے ۔محمد جان بھائی تو کہہ رہا تھا کہ ان کا اصل علاقہ گجرات ہے۔وہاں سے اکبر خان کا دادا ہجرت کر کے یہاں آن بسا، کیونکہ اس کا والد دوسری جنگِ عظیم میں لڑتے ہوئے مارا گیا تھا اور انگریز سرکار نے اس کے اکلوتے بیٹے (اکبر خان کے دادا) کو ایک مربع زمین ہمارے علاقے میں الاٹ کر دی تھی۔ اس کے بعد اکبر خان کے والد نے بذات خود بھی کافی زمین خریدی اور گاﺅں کا سب سے بڑا زمیندار بن گیا ۔“
”اچھا مٹی پاﺅ اور سو جاﺅ۔“ وہ اٹھتے ہوئے بولا۔ ”میں ذرا اپنے نائیٹ پاس کا بتا دوں۔“
” نائیٹ پاس؟“ میں حیرانی سے مستفسر ہوا۔
”ہاں نائیٹ پاس، تمھارے ساتھ جانا ہے۔“ اور میرے کچھ اور پوچھنے سے پہلے ہی وہ کمرے سے نکل گیا۔
اگلے روز صبح سویرے ہم دونوں نائیٹ پاس جارہے تھے۔ میں نے امجد کو روکنے کی بہت کوشش کی لیکن اس نے میری بات ماننے سے انکار کر دیاتھا۔
 ”دو دن کی روٹی نہیں کھلا سکتا کمینے !.... پیسے لے لینا کھانے کے ۔“ اور میں نے چپ سادھ لی ۔ 
بس سٹاپ پر اتر کر ہم دونوں حسب معمول پیدل چل پڑے ابھی ہم گھر سے کچھ دور ہی تھے کہ بھائی احمد جان بھاگتا ہوا گھرسے نکلا اس نے ہاتھ میں رایفل پکڑ ی ہوئی تھی۔
 ” کوئی گڑبڑ ہے۔“احمد جان کو بھاگتا دیکھ کر امجد نے کہا۔
”ابھی پتا چل جاتا ہے ۔“ میں اپنی رفتار کو تیز کرتے ہوئے بولا۔ اسی اثناءمیںاحمد جان بھائی نے ہمیں دیکھ لیا تھا اس لیے اس کا رخ ہماری سمت ہو گیا۔
 ”فوجی یار! چودھری انور خان کے ساتھ جھگڑا ہو گیا ہے چچا اور ابو جان بھی ادھر ہی گئے ہوئے ہیں۔ میں ہتھیار لینے آیا تھا۔“ قریب آتے ہی وہ بغیر ہمارے پوچھے بتانے لگا۔
”چلو ادھر ہی چلتے ہیں۔“ امجد نے کہا اور ہمارا رخ زمینوں کے جانب ہو گیا۔ راستے میں احمد جان بھائی نے ہمیں تفصیلات بتائیں جن کا لب لباب یہ تھا کہ صبح وہ اور محمد جان زمینوں پر گئے وہاں انور خان اس کے دونوں بیٹے اور ان کے بیٹوں کے دوست پہلے سے موجود تھے۔ جیسے ہی یہ پہنچے انور خان انھیں کہنے لگا کہ ہماری زمین کا وہ ٹکڑا جو ان کی زمین کے ساتھ ملا ہوا ہے ان کو بیچ دیا جائے اور اس کے بدلے ہم انور خان کی جنگل کی زمین لے لیں یا پھر رقم لے لیں۔ جواباً محمد جان نے کہا کہ اس کی (انور خان) جو زمین ہماری زمین کے ساتھ ملی ہوئی وہ ہمیں بیچ دو۔ محمد جان کی بات پر انور خان نے کہا کہ ہم چودھری لوگ اپنی زمین اور بیٹی کا سودا کبھی نہیں کرتے۔ اس پر محمد جان بولا تم چودھری ہو تو ہم بھی کوئی چوہڑے نہیں ہیں۔ اس طرح باتوںباتوں میں غصے ہو کر انور خان، محمد جان اور احمد جان کو گالیاں بکنے لگا۔ محمد جان نے جواباً گالیاں تو نہ بکیں کہ انور خان اس سے عمر میں بڑا تھا البتہ احمد جان کو بھیجا کہ چچا کو بلا لائے۔ وہ جب ادھر آیا تو ابو جان بھی ساتھ چلنے پر تیار ہو گئے۔ واپسی پر جب وہ آدھے راستے تک پہنچے تو احمد جان کو خیال آیا کہ رایفل بھی ساتھ لے لیناچاہیے تھی ۔وہ رایفل لینے کے لیے واپس گھر آگیا تھا۔
احمد جان کی بات ختم ہونے تک ہم زمینوں پر پہنچ چکے تھے۔
 فرلانگ بھر دورسے ہی ہمیں چچا فاضل کی گرج دار آواز سنائی دی۔
 ”انور خان! تم حد سے بڑھ رہے ہو ؟“
” حد سے نہیں بڑھ رہا؟ اصولی بات کر رہا ہوں۔“انور خان کی آواز بھی کافی بلند تھی ۔ 
”یہ کون سا اصول ہے ؟ “ چچا فاضل دھاڑے۔ ” زبردستی ہماری زمین خریدنے کی کوشش کو تم اصولی بات کہہ رہے ہو۔“
انور خان نے جواب دیا ۔”میں تمھارے کھیت کی منڈیر پر چاروں طرف پہرہ کھڑا نہیں کر سکتا۔ہمارے مویشی تھوڑا سا قریب آتے ہیںاور تم آسمان سر پر اٹھا لیتے ہو۔“
حاکم بھائی نے کہا۔ ”تمھارے مویشی تمھارے اپنے کھیت میں کیوں نہیں جاتے؟“ اس وقت تک ہم ان کے قریب پہنچ چکے تھے۔ انور خان کے ساتھ اس کے دونوں بیٹوں کے علاوہ چار بندے اور بھی کھڑے تھے۔ ہمارے پہنچتے ہی دونوں اطراف کے بندوں کی تعداد برابر ہو گئی تھی۔ چچا فاضل اور ابو جان ایک لمحہ ہماری جانب دیکھنے کے بعد دوبارہ انور خان کی طرف متوجہ ہو گئے۔ محمد جان کا چہرہ مجھے دیکھ کر کھل اٹھا تھا۔ اس کے برعکس اکبر خان اور اس کے دونوں ساتھی گھبرا گئے تھے۔
”جانو!.... اس کی مونچھیں دیکھ یار، جیسے بلی نے منہ میں چوہا پکڑ رکھا ہو۔“ انور خان کے چہرے پر نظر ڈالتے ہی امجد نے پھلجڑی چھوڑی۔ اس نے اپنی آواز آہستہ رکھی تھی لیکن اس کے باوجود وہاں پر موجود تمام افرادنے یہ بات سن لی تھی۔
”تمھاری یہ جرا ¿ت کہ ابو جان کے متعلق ایسی بات کہو۔“ اعظم خان غصے سے امجد کی طرف بڑھا۔ اس نے امجد کی ظاہری جسامت کو دیکھ کر غلط انداز لگایا تھا۔ اس کے باوجود کہ امجد اور اعظم قد میں برابرتھے، جسمانی لحاظ سے اعظم خان وزنی تھا اور اس سے پہلے کہ اسے کوئی روکتا وہ امجد کے قریب پہنچ چکا تھا، لیکن یہ قربت اسے مہنگی پڑی چھاتی پر لگنے والی ٹھوکرسے وہ اچھل کر پیچھے جا گرا تھا۔
”لڑو مت لڑ ومت۔“ ابو جان جو کافی دیر سے خاموش کھڑے تھے جلدی سے بولے، لیکن ابو کی نصیحت صرف ہمارے لیے کارگر ہو سکتی تھی غیروں کے لیے نہیں۔ اس لیے ان میں موجود دو نئے بندے امجد کی طرف بڑھے۔ نئے بندے میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اکبر خان اور اس کے ساتھ موجود دونوں پہلوان جن کا ٹاکرامیرے ساتھ ہوچکا تھا۔ انھوں نے اپنی جگہ سے حرکت کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
اس سے پہلے کہ وہ دونوں امجد کے قریب پہنچتے میں اپنی جگہ سے اچھلا اور ان دونوں پر جا پڑا۔ ایک کے پیٹ میں گھٹنا مارتے ہوئے میں نے دوسرے کی ٹھوڑی پر لیفٹ پنچ جڑ دیا۔ وہ دونوں بھی آرام سے اعظم کے ساتھ لیٹ گئے تھے۔ اس وقت اعظم کھڑا ہو کر سوچ میں پڑ گیاکہ حملہ کرے یا اپنے بھائی اکبر کے ساتھ آرام سے کھڑا ہو جائے۔ اس کی مشکل چچا فاضل اور بھائی حاکم نے آسان کر دی تھی کہ حاکم بھائی نے مجھے پکڑ لیا اور چچا فاضل نے امجد کو۔
”نہیں پُتر جھگڑا نہیں کرتے۔“ چچا فاصل مدبرانہ لہجے میں بولا۔ 
”چچا جھگڑا ہم نے نہیں انھوں شروع کیا ہے۔“ 
 اپنے بیٹے اور اس کے دوستوں کا حشر دیکھ کر انور خان نے چپ سادھ لی تھی۔
 ”انور خان اب تو تمھیں یقین آگیا نا کہ زمین تجھے نہیں مل سکتی؟“ ہمارے پیچھے ہٹ آنے پر ابو جان اسے مخاطب ہوئے۔
 ”ہاشم جان یہ تو وقت بتائے گا۔“ انور خان یہ کہہ کر اپنے بیٹوں کی طرف مڑا۔ ”چلو بیٹا چلتے ہیں۔“ اور وہ تمام ہمیں کینہ توز نظروں سے دیکھتے ہوئے وہاں سے رخصت ہو گئے۔
”چلو ہم بھی چلیں۔“ بھائی حاکم آہستہ سے بولا اور ہم تمام بھی واپس آگئے۔
”تم اتنی جلدی واپس کیسے آگئے ؟“ گھر پہنچتے ہی چچا فاضل مستفسرہوا۔
”وہ .... چچا.... امجد کا جی کررہا تھا، عدنان کے ساتھ ملنے کو۔“ میں نے بہانہ گھڑا۔ ”اس کو چھٹی ملی تو یہ کہہ رہا تھا کہ عدنان سے مل کر گھر جائے گا میں نے بھی ایک دن کی چھٹی لے لی تاکہ یہ اکیلا خوارنہ ہوتا رہے۔“ اور چچا سر ہلا تے ہوئے ابو جان کے ساتھ اس کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔ جبکہ ہم تمام بھائی امجد کے ساتھ بیٹھک میں بیٹھ گئے۔
”اب انور خان جرگہ بلائے گا؟“ بیٹھک میں بیٹھتے ہی امجدنے پوچھا۔
 ”انور خان کس چیز کا جرگہ بلائے گا؟“ حاکم بھائی کے لہجے میں حیرانی تھی ۔ ”جرگہ تو ہم بلوائیں گے کیونکہ جھگڑا کرنے میں پہل انور خان نے کی ہے۔“
”کب بلوائیں گے ؟“امجد نے دوبارہ سوال کیا۔
”میں پوچھتا ہوں چچا جان سے۔“ حاکم بھائی اٹھ کر چچا جان کے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
”چھٹی کتنے دنوں کی ملی ہے امجد بھائی؟“ محمد جان مستفسر ہوا۔
”چھٹی کو ن سی بھائی ،اسی مسئلے کے لیے نائیٹ پاس آئے تھے۔“
”خواہ مخواہ اتنی تکلیف کی۔“ محمد جان تکلف سے بولا۔ ”ہم موجود تو تھے۔“
”تکلیف کون سی میں تو صرف انور خان کے دیدار کے لیے آیا تھا۔“
”وہ بھی کوئی دیکھنے کی چیز ہے۔“ احمد جان ہنستے ہوئے بولا اور تمام اس کی بات پر ہنس پڑے۔
اگلا دن خاموشی سے گزرا۔بھائی حاکم نے بتایا کہ ”اگرا نورخان نے جرگہ نہ بلوایا تو اس سے اگلے دن ابو جان خود جرگہ بلوالیں گے۔“
لیکن اس دن انور خان کی طرف سے ایسی کوئی سرگرمی دیکھنے میں نہ آئی ۔اس سے اگلے دن ہماری واپسی تھی لیکن امجد نے اصرار کیا کہ جرگہ سن کر چلے جائیں گے۔
”یار ماجے !....لیٹ نہ ہو جائیں۔“ میں نے تشویش ظاہرکی۔
اس نے کہا ۔”پہنچ جائیں گے یار!.... پانچ چھے گھنٹوں کا توفاصلہ ہے۔“ اور میں خاموش ہو گیا۔
 شام کے وقت چچا فاضل گاﺅں کے سرکردہ افراد کو اپنا مسئلہ بتا کر جرگہ بٹھانے کے متعلق بتا چکا تھا۔ صبح10بجے کے قریب جرگہ شروع ہوا۔ انور خان اپنے دونوں بیٹوں اور دس بارہ حامیوں کو لے کر پونے دس بجے کے قریب جرگے کی جگہ پہنچ گیا تھا۔
 سب سے پہلے چچا فاضل نے جرگے کے ارکان کے سامنے اپنا مسئلہ اور نقطہ ¿ نظر واضح کیا۔اس کے بعد انور علی نے اپنا نقطہ نظر بتانے کے ساتھ ساتھ اس دن ہونے والی لڑائی کو بھی موضوع گفتگو بنایا کہ کس طرح ہم نے اس کے بیٹے اور بیٹے کے دوستوں کو زدو کوب کیا۔ اس کی کوشش یہی تھی کہ مسئلے کا سارا الزام ہم پر آئے۔ آخر میں اس نے خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے دعوا کیا کہ اس کامطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ ہاشم جان کی زمین ہتھیالے۔ بلکہ وہ تو چاہتا ہے کہ اس زمین کے بدلے ہاشم جان منہ مانگی رقم یا من پسند زمین لے سکتا ہے۔
دونوں طرف کے دلائل سن جرگے کے ارکان مخمصے میں پڑ گئے اور آخر میں فیصلہ ہوا کہ کل متعلقہ زمین دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔فریقین اپنے اپنے گھر وں کو چلے گئے۔
 ”اب کیا کریں ماجے ؟فیصلہ تو کل پر ٹل گیا۔“ 
”کوئی بات نہیں ایک دن لیٹ چلے جائیں گے۔“ 
”بڑی بے عزتی ہوگی یار!.... ایسا کرو تم چلے جاﺅ اور میری چھٹی کا بتا دینا۔“
”میں تو جانے والا نہیں البتہ تم جانا چاہو تو جا سکتے ہو۔“ وہ حتمی لہجے میں بولا اور میں نے حجت بازی کرنے کی بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دی۔
رات گئے تک میں امجد کے ساتھ گپ شپ کرتا رہا لیکن میرا دماغ اپنی جگہ پر حاضر نہیں تھا رہ رہ کر مجھے لیٹ ہو جانے کا خیال ستاتا رہا۔ مختلف قسم کے اندیشے میرے ذہن میں کلبلاتے رہے ۔ انور خان کے ساتھ جھگڑے کا بھی کوئی حل نہیں نکل رہا تھا۔ جاﺅں یا نا جاﺅں،اس نفی اثبات نے مجھے الجھن میں ڈال دیا تھا۔
“ امجد نے بے زاری سے کہا۔”جانو صاحب!....میں گندم کی بابت پوچھتا ہوں توتمھارا جواب چنے کے متعلق ہوتا ہے۔بکری کے استفسار پر بھینس کے متعلق بتاتے ہو۔یقینا تمھیں نیند آرہی ہے یا عدنان کی ماں یاد آرہی ہے، اس لیے تمھاری بڑی مہربانی ۔تم تشریف لے جاو ¿ اور مجھے بھی سونے دو۔“
میں خاموشی سے اٹھ کر سونے چلا آیا۔ سعدیہ نے بھی میری ذہنی حالت بھانپ لی کیونکہ اس کے ساتھ بھی میری گفتگو ہوں ہاں تک محدود رہی۔
 ”پریشان کیوں ہو؟“ وہ میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے پوچھنے لگی ۔
”پریشانی کیسی ؟“ میں نے اسے ٹالنے کی کوشش کی، لیکن وہ عورت کہاں جوٹل جائے۔ عورت نام ہی ایسی صنف کا ہے جو مرد کے دکھ درد کو سمجھے، اس کے زخموں پر پیار کا مرہم رکھے، اس کے ذہن سے بدگمانیوں اور اندیشوں کو رفع کرے، لیکن شرط یہ کہ وہ مر د سے محبت کرتی ہو اور میرے ساتھ سعدیہ کی محبت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی کہ وہ بچپن ہی سے مجھے ٹوٹ کر چاہتی تھی اور میں !.... مجھے تو اس کے بغیر زندگی گزارنا ہی محال لگتا تھا۔ میں نے اپنے سارے مسائل اور سارے اندیشے سعدیہ کو سونپ دیئے اور خود سو گیا۔
 رات دیر تک جاگنے کی وجہ سے صبح کی نماز بھی قضا ہو گئی تھی۔ بستر سے نکلنے کو جی ہی نہیں کررہا تھا۔ میں جانے کتنی دیر اور بستر میں پڑا رہتا کہ اچانک دروازہ کھٹکھٹا کر بھائی محمد جان کمرے میں داخل ہوا اور ۔ ”تمھیں ابو جان بلا رہے ہیں۔“ ۔ کہہ کرواپس مڑ گیا ۔
میں نے جلدی سے اٹھ کر ہاتھ منہ دھویا، صبح کی نماز تو یوں بھی نیند کی نذر ہو گئی تھی البتہ ابوجان کو دکھانے کے لیے میں نے سفید ٹوپی سر پر رکھتے ہوئے ان کے کمرے کے جانب چل دیا۔ دروازے کو انگلی سے بجا کر اپنی آمد کا اعلان کرتے ہوئے میں کمرے میں داخل ہوا۔جاری ہے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.