ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر Novel Snipper by Riaz Aqiz Koahler Episode 61
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
Novel Snipper
by
Riaz Aqiz Kohler
Episode 61
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
61 قسط نمبر
سنائپر
قسط نمبر61
ریاض عاقب کوہلر
”چلیں ۔“الیگزینڈر جینی سے مستفسر ہوا ۔
جینی نے پر خیال لہجے میں کہا ۔”سر!.... میرا خیال ہے اس آدمی کو مجھے خود سنبھالنا ہوگا ۔“
”ہاں ،اپنے دونوں آدمیوں کی نگرانی کر لینا ۔اگر صحیح سوال جواب نہیں کرتے تو آپ پوچھ گچھ کر لینا ۔“
”آپ سمجھے نہیں سر!....میرا مطلب ہے پہلے ہمیں کرس کارٹر صاحب کی بازیابی کا بندوبست کرنا پڑے گا ۔“
الیگزینڈر بے پروائی سے بولا ۔”جب دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کی بابت معلوم ہو جائے گا تو کرس کارٹر بھی بازیاب ہو جائے گا ۔“
جینیفر نے منھ بنایا۔”پہلے پکڑے جانے والے دہشت گرد سے ہم نے کیا اگلوا لیا ہے جو اس سے تمام ٹھکانوں کی بابت معلوم ہو جائے گا ۔“
”تم کیا چاہتی ہو ؟“الیگزینڈر نے مفاہمتی انداز میں پوچھا ۔
وہ جلدی سے بولی ۔”سر ،کرس کارٹر کو آزاد کرانا ضروری ہے ۔“
”ہاں مگر اس کے لیے بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے ،یہ نہ ہو اسے آزاد کراتے ہوئے کوئی اور نقصان کرا بیٹھو ۔“
جینیفر اعتماد سے بولی ۔”میں سنبھال لوں گی سر ۔“
”ویسے پہلے کوشش کر لو اگر کچھ معلوم ہو سکتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ پھر کرس کارٹر کی واپسی کا کچھ کریں گے ۔“الیگزینڈر نے حتمی فیصلہ سنادیا ۔ان دونوں کی بات چیت سے مجھے اندازہ ہورہا تھا کہ الیگزینڈر کی نظر میں میں انگلش سے نا بلد تھا ۔اسی وجہ سے وہ یوں آزادی سے بات چیت کر رہا تھا ۔البتہ جینیفر کی بات اور تھی ۔
”ٹھیک ہے سر !“جینیفر نے اثبات میں سر ہلایااور وہ رخصت ہو گیا ۔
”تم دونوں بھی جاﺅ ۔“جینیفر نے دونوں مقامی افراد کو وہاں سے نکلنے کا اشارہ کیا ۔
ان کے جاتے ہی اس نے سب سے پہلے میری بندشیں کھولیں اور پھر ایک کرسی گھسیٹ کر میرے سامنے بیٹھ گئی ۔
”تو میرا اندازہ ٹھیک تھا ،اس دن تم ہی تھے ۔“بغیر کسی تمہید کے وہ مطلب کی بات پر آگئی ۔
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا ۔”تم نے کیسے اندازہ لگایا ۔“
”اتنے فاصلے سے سر میں گولی مارنا کسی عام آدمی کا کام نہیں ہو سکتا ۔“
”پھر بھی میں افغانستان میں موجود نہیں تھا ،اگرکوئی اور ہوتا تو یقینا تم ماری جاتیں ۔“
”صحیح کہہ رہے ہو ،مگر کیا کروں کہ اتنے فاصلے سے یوں صفائی سے فائر کرنے والا تمھارے علاوہ ایک نک سٹیورٹ ہی دیکھا ہے اور نک تو ہمارا اتحادی ہے ۔“
”یہ کون ذات شریف ہے ؟“میں نے انجان بن کر پوچھا ۔حالاں کہ اس کے بارے مجھے کمانڈر اسلام سے معلوم ہوا تھا ۔
”برطانوی فوج کا ایک سپاہی ہے ،اس کی ساتھی لورا براﺅن بھی اچھی نشانہ باز ہے ۔“
”اچھا اب میرے ساتھ کیا کرنا ہے ؟“
وہ شرارتی لہجے میں بولی ۔”تمھارے ساتھ کیا کر سکتی ہوں سوائے محبت کرنے کے ؟“
”بکواس نہ کرو ۔اور میں نے کہا تھا کہ واپس امریکہ چلی جاﺅ ،اس دن بڑی مشکل سے تمھیں بچایا تھا ۔“
”بس دو تین ماہ میں واپس چلی جاﺅں گی ،ملنے آﺅ گے نا ؟“
”ملنے آنا تو شاید مشکل ہو البتہ اپنا فون نمبر بتا دو کال کرلیا کروں گاوہ بھی پلوشہ سے پوچھ کر ۔“ آخری فقرہ میں نے مسکراتے ہوئے ادا کیا تھا ۔
”کہاں ہے وہ آفت کی پرکالہ۔“جینیفر بھی مسکرا دی تھی ۔
”وہ بھی افغانستان آئی ہوئی ہے ۔“
”سچ ،کہاں ہے ؟“اس نے اشتیاق سے پوچھا ۔
میں صاف گوئی سے بولا ۔”یہ تو مجھے بھی معلوم نہیں ۔“
”کیا مطلب ؟“اس کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
جواباََ میں نے اپنی گرفتاری اور ثبوتوں کی تلاش وغیرہ کی ساری کہانی اجمالاََ دہرا دی ۔
وہ کہنے لگی ۔”تمھیں مجھ سے رابطہ کرنا چاہیے تھا ۔“
”کیسے رابطہ کرتا ۔اور معاف کرنا تم رابطہ کرنے کی کوشش میں تو اس حالت میں پہنچا ہوں ۔“
”یہ کون سی رابطہ کرنے کی کوشش تھی ۔“اس نے منھ بنایا۔”ہمارے آدمیوں کو قتل کرنا اور انھیں اغواءکرانا مجھے تلاش کرنے کے زمرے میں آتا ہے ۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔”تو تم لوگوں نے پاکستان میں کوئی کسر چھوڑی ہے ۔“
”جانتے ہو،البرٹ بروک اور کرنل کولن فیلڈ دونوں اس دن تمھاری گولی کا نشانہ بن گئے تھے۔“
”وہ دونوں میرے مجرم بھی تو تھے ۔“
”بہ ہرحال اس دن حملہ کرنے والوں کو بہت کوشش سے ڈھونڈا جا رہا ہے ۔گو پہلے تو مجھے اندازہ تھا کہ گولی چلانے والے آپ ہیں ،جو بعد میں یقین میں تبدیل ہو گیا تھا لیکن میں نے کسی کو ہلکا سا اشارہ بھی نہ دیا ۔باقی جیسن سمتھ کی جان بچا تے ہوئے میں نے حماقت کا ثبوت دیا تھا ،لیکن اس حماقت کی بدولت بعد میں میرا یقین پختہ ہو گیا تھا کہ فائر کرنے والے واقعی تمھی ہو ۔“
میں نے پوچھا ۔”جیسن کے ساتھ تمھارا کیا تعلق ہے ؟“
”استاد ہے میرا ۔اور اتنی ہمت میں اس لیے کر پائی تھی کہ کولن فیلڈ کے سر میں لگنے والی گولی نے میری سوچوں کو تمھاری جانب موڑ دیا تھا ۔اس کے بعد جب دوسرے افراد کو بھی سر ہی میں گولی لگنا شروع ہوئی تو مجھے معلوم ہو گیا کہ ہو نہ ہوفائر کرنے والا ذی ہے ۔“
”اچھا اب میرے بارے کیا سوچا ہے ۔“
”سوچنا کیا ہے ،ابھی جاﺅ اور کرس کارٹر کو رہا کر دو ۔“
میں ہنسا ۔”تو تم مجھے یونھی جانے دو گی ۔“
”شک ہے کیا ؟“
”نہیں ،مگر اس طرح تم سے باز پرس ہو سکتی ہے ۔“
”نہیں آپ کے بدلے ہمیں کرس کارٹر مل جائے گا نا ۔اور بالفرض وہ آپ کے قبضے میں نہ ہوتا تو میں تب بھی آپ کو چھوڑ دیتی ۔“
”واپس امریکہ کب جا رہی ہو ؟“
”کہا تو ہے دو تین ماہ میں چلی جاﺅں گی ۔“
میں نے پوچھا ۔”البرٹ بروک تو رہا نہیں ،کیا میری بے گناہی کے ثبوت بھی اس کے ساتھ ضائع ہو گئے ہیں۔“
اس نے معنی خیز مسکراہٹ سے پوچھا ۔”اگر تمھیں وہ ثبوت میں لا دوں تو کیا انعام ملے گا ۔“
”کیا انعام چاہیے ۔“
”مجھ سے شادی کر لو ۔“
”پاکستانی ایجنسیوں کے ہاتھوں شاید بچ جاﺅں لیکن پلوشہ مجھے قتل کرنے امریکہ تک بھی پہنچ جائے گی ۔“
اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے پوچھا ۔”اتنا ڈرتے ہو اس سے ۔“
”کیا نہیں ڈرنا چاہیے ؟“
”پیلاوشہ کی ذمہ داری میں لیتی ہوں ۔“
میں زچ ہوتے ہوئے بولا ۔”جینی !....تنگ نہ کیا کرو ۔“
”اچھا میں کوشش کروں گی ،وعدہ نہیں کر سکتی میرا نمبر یاد کر لو ۔“اس نے ایک نمبر دہرا تے ہوئے کہا ۔ ”اس پر رابطہ کر کے معلوم کر لینا امریکہ واپسی سے پہلے تمھارا کام کر جاﺅں گی ۔“
اس کا نمبر ذہن نشین کرتے ہوئے میں نے اپنا نمبر دہراتے ہوئے کہا ۔”اپنا امریکہ کارابطہ نمبر بھی بتا دو ۔“
میرا نمبر اپنے سیل فون میں محفوظ کرکے وہ اپنا نمبر بتاتے ہوئے مسکرائی ۔”ابھی تک تمھاری یاداشت ویسی ہی ہے ۔“
اس کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے میں مطلب کی بات پر آیا ۔”میں احمد کو بھی ساتھ لے کر جاﺅں گا ۔“
”کون احمد ؟“اس نے حیرانی سے پوچھا ۔
”ہمارا جو آدمی آپ کے پاس قید ہے ۔“
اس نے سنجیدگی سے پوچھا ۔”ضروری ہے کیا ؟“
”ہاں ،کیونکہ یہاں میری حیثیت مہمان کی سی ہے ،میں بس اپنی بے گناہی کے ثبوت ہی حاصل کرنے آیا ہوں پھر واپس چلا جاﺅں گا ۔اور اب اگر میں وہاں جا کر کرس کارٹر کی رہائی کی بات کروں گا تو یقینا اچھا نہیں لگے گا ۔“
”اس کا مطلب ہے جلد سے جلد وہ ثبوت تمھارے حوالے کرکے جان چھڑانا بہتر رہے گا ۔“
میں نے معنی خیز لہجے میں پوچھا ۔”مجھ سے جان چھڑانا چاہتی ہو۔“
”ہاں ۔“اس نے اثبات میں سر ہلایا۔”سچ کہوں تو اپنے لیے شوہر دیکھنا شروع کر دیا ہے ۔“
”کس وقت جانا ہو گا ۔“
اس نے کہا ۔”بھوک لگی ہو تو ناشتا منگوا دیتی ہوں ۔“
میں نے نفی میں سر ہلا دیا ۔
چلو ،مگر آنکھیں باندھنا پڑیں گی ۔“
میں ہنسا ۔”مجھ پر اعتبار نہیں ہے ۔“
”ہاں ۔“اس نے صاف گوئی سے اقرار کیا ۔”اس بارے اعتبار نہیں کر سکتی ۔میں جانتی ہوں تمھارے سب سے بڑے دشمن امریکی ہیں ۔“
”تم بھی تو امریکی ہو ۔“
اس نے قہقہہ لگایا ۔”میں تو تمھیں پیاری ہوں نا ۔اور جب بھی پیلاوشہ سے ملاقات ہوئی اسے ضرور بتاﺅں گی کہ تم نے کس طرح میری جان بخشی کی ۔“
”اچھا بتا دینا یار ،فی الحال تو چلیں ناں ۔“
”ٹھیک ہے ۔“وہ سر ہلاتے ہوئے کھڑی ہو گئی ۔تھوڑی دیر بعد ہم گاڑی میں بیٹھے ہم ایک مخصوص سمت میں روانہ تھے ۔احمد بھی ساتھ تھا ۔احمد اور میرے سر پر جینفر کے کہنے پر کالا کپڑا چڑھا دیا تھا اور ہمارے ہاتھ پشت پر بندھے تھے ۔ایک غیر معروف ہوٹل کے سامنے گاڑی روک کر اس نے میرے سر سے کپڑا اتارا اور کہا ۔”اپنے آدمیوں کو کہوکرس کارٹر کو یہاں لے آئیں ۔“
میں نے نفی میں سر ہلایا۔”نہیں ،میں خود جا کر اسے لے آﺅں گا ۔“
”ٹھیک ہے ،میں یہیں بیٹھ کر تمھارا انتظار کروں گی ۔“بغیر کسی تکرار کے وہ اپنے ساتھ موجود تین مسلح مقامی محافظوں کو نیچے اترنے کا اشارہ کرتے ہوئے نیچے اتر گئی ۔
احمد کو کافی زیادہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔وہ عقبی نشست پر ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا۔اسے مخاطب کیے بغیر میں نے گاڑی آگے بڑھائی اور موبائل فون نکال کر کمانڈر بسم اللہ کو کال کرنے لگا ۔پہلی ہی گھنٹی پر کال وصول کر لی گئی تھی ۔
”جی ۔“اس نے محتاط لہجے میں پوچھا۔
”ذیشان بات کر رہا ہوں ۔“میں نے فوراََ اپنا تعارف کرایا ۔
اس نے بے صبری سے پوچھا ۔”آپ کہاں ہیں ؟“
”میں احمد کے گھر کی طرف جا رہا ہوں ،احمد بھی میرے ساتھ ہے ۔آپ یوں کریں کہ کرس کارٹر کو ایک گاڑی میں بٹھا کر وہیں لے آئیں باقی باتیں بعد میں ہوں گی ۔“
”میں سمجھا نہیں ۔“
”سمجھانے کا وقت بھی نہیں ہے ،فی الحال جو کہا ہے وہ کریں ۔“
”کہیں یہ سب ....“
میں نے قطع کلامی کرتے ہوئے کہا ۔”نہیں میں کسی دباﺅ یا مجبوری کی بنا پر نہیں کہہ رہا ہے ۔ مختصراََ اتنا جان لیں کہ احمد کے بدلے کرس کارٹر کو واپس کرنا ہے ۔“
”ٹھیک ہے ۔“مزید بحث سے گریز کرتے ہوئے اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
احمد کا مکان میں نے دیکھا ہوا تھا ۔وہاں پہنچ کر ہمیں چند منٹ انتظار کرنا پڑا تھا ۔مکان کو تالا لگا ہوا تھا ہم گاڑی ہی میں بیٹھے رہے ۔
”شمسہ کہاں ہے ؟“گاڑی میں چھائی خاموشی کو احمد کی نحیف آواز نے توڑا ۔
”کون شمسہ؟“میں نے حیرانی سے پوچھا اور پھر ایک خیال کے تحت کہا ۔”شاید ہماری بھابی کا نام شمسہ ہے ۔“
کچھ کہے بغیر اس نے آہستہ سے سر ہلادیا ۔
”وہ محفوظ ہے ۔“میں نے اسے تسلی دی ۔
بسم اللہ جان کے آدمیوں کے پہنچتے ہی میں نے احمد ان کے حوالے کیا وہ کرس کارٹر کی آنکھیں بند کر کے لائے تھے ۔اسے اپنی گاڑی میں منتقل کر کے میں نے انھیں جانے کا کہا اور خود مطلوبہ ہوٹل کی جانب روانہ ہو گیا ۔ہوٹل کے قریب پہنچتے ہی میں نے سے کال کر کے باہر بلا لیا تھا وہ بڑی شدت سے میری منتظر تھی ۔کرس کارٹر کو دیکھتے ہی اس نے میرا شکریہ ادا کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
اس نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔”کیا تمھیں واپس چھوڑکے آنا پڑے گا ۔“
”شکریہ ،تم جاﺅ ۔“
”موقع ملتے ہی میں خود رابطہ کروں گی ،تمھیں کال کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔“جاتے ہوئے وہ مجھے سمجھانا نہیں بھولی تھی ۔
اس کے جاتے ہی میں نے ٹیکسی پکڑی اور اپنے خفیہ ٹھکانے کے قریب ایک مناسب مقام پر اتر ااور احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہاں پہنچ گیا ۔تمام بے صبری سے میرے منتظر تھے ۔احمد کے لیے انھوں نے ایک ڈاکٹر کو بلالیا تھا جو اس کی مرہم پٹی کر رہا تھا ۔میری آمد کے ساتھ حیدر نے بسم اللہ جان کو کال کر کے موبائل فون میری جانب بڑھا دیا ۔
سلام و دعا کے بعد وہ تفصیل پوچھنے لگا ۔
”وہی لڑکی مل گئی تھی یار !مجھے رہا کرنے کا اسے یہی بہانہ مناسب لگا کے میرے بدلے کرس کارٹر کو طلب کر لے ۔میں نے اپنی رہائی کے ساتھ احمد کا بھی مطالبہ کر دیا ۔“
”آپ کا کام تو درمیان ہی میں رہ گیا ۔“
”کوئی بات نہیں ،اللہ پاک کوئی اور سبب بنا دے گا ۔“
اس نے پوچھا ۔”مطلب دوبارہ سے پوری محنت کرو گے ۔“
”فی الحال تو آرام کروں گا چند دن بعد ہی کچھ سوچوں گا ۔“میں نے جینی کی آفر کا ذکر مناسب نہیں سمجھا تھا ۔
”تو پھر یہاں آجاﺅ۔“
میں نے گول مول انداز میں کہا ۔”جب آنا ہو گا بتا دوں گا ۔“اور اس نے الوداعی کلمات کہتے ہوئے رابطہ منقطع کر دیا ۔میں وہیں ٹھہر کر جینی کے جواب کا انتظار کرنا چاہتا تھا ۔مجھے قوی امید تھی کہ وہ کچھ نہ کچھ کر لے گی ۔
احمد اور میں اسی خفیہ کمرے میں رہنے لگے ۔تیسرے دن احمد کی بیوی بھی وہیں آگئی تھی اور اس کی آمد کے ساتھ احمد اور اس کی بیوی کے حوالے ایک علاحدہ کمرہ کر دیا گیا تھا ۔اپنی آمد کے دوسرے دن وہ احمد کو ساتھ لے کر میرا شکریہ ادا کرنے بھی آئی تھی ۔اسے معلوم ہو گیا تھا کہ احمد کی جان میری ہی وجہ سے بچی تھی ۔
شب و روز کافی بے کیفی سے گزر رہے تھے ۔مجھے پاکستان سے آئے ہوئے بھی کئی ماہ گزر گئے تھے اور ابھی تک میں کسی واضح کامیابی کے نزدیک نہیں پہنچا تھا ۔اب تو لے دے کے جینی ہی کی امید باقی تھی ۔کئی بار میرا گھر کال کرنے کو جی چاہا مگر پھر یہ سوچ کر رک گیا کہ انھوں نے پلوشہ کے بارے پریشانی ظاہر کرنا تھی جس کا کوئی جواب میرے پاس نہیں تھا ۔مگریہ سوچ مجھے زیادہ دیر نہ روک سکی ۔ اگلے دن میں نے ابو جان کے نمبر پر کال کر دی ۔
”یار !خود تو پہلے بھی نظر نہیں آتے تھے اس بار تو ہماری بیٹی کو بھی غائب کر دیا ہے ۔“سلام و دعا کے بعد ابو جان کے شکوے شروع ہو گئے ۔
”تو کہاں ہے وہ آپ کے پاس ہی تو چھوڑ گیا تھا ۔“میں الٹا ان سے استفسار کرنے لگا ۔
”اپنے بھائی کے ساتھ وزیرستان گئی تھی بیٹا ،اس کے بعد پتا نہیں چلا ۔“
میں نے انھیں تسلی دیتے ہوئے کہا ۔”اچھا میں وزیرستان جانے کی کوشش کرتا ہوں شاید مل جائے ۔“
”اتنی دیر تو نہیں ہونا چاہیے تھی بیٹا،گلناز بہن بھی بہت پریشان ہے اور تمھاری پھوپھو نے تو رو رو کر برا حال کر لیا ہے ۔“
”اسے کچھ نہیں ہوتا ابوجان وہ لڑکی کم اور لڑکا زیادہ ہے ۔“
ابوجان نے امید بھرے لہجے میں کہا ۔”وزیرستان جانے سے پہلے گھر کا ایک چکر لگا لیتے ۔“
”کوشش کروں گا ابوجان ،مگر مشکل نظر آرہا ہے ۔“میں نے گول مول جواب دیا ۔
”اچھا اپنی پھوپھو جان سے بات کرو۔“ابو جان نے موبائل فون پھوپھوجان کو پکڑا دیا ۔ وہ پلوشہ کے متعلق بہت پریشان تھیں ،انھیں تسلی دے کر میں نے پلوشہ کی ماں گل ناز سے بھی بات کی ،چونکہ ابوجان اور پھوپھو پشتو نہیں جانتے تھے اس لیے وہ بے فکری سے پلوشہ کے بارے محو گفتگو ہو گئی ۔
”بیٹا!.... میں نے اسے منع کیا تھا ،مگر وہ میری کوئی بات ہی نہیں مان رہی تھی ۔اس کا کہنا تھا کہ تمھیں اس کی مدد کی ضرورت ہے اور وہ گھر میں نہیں بیٹھ سکتی ۔تمھاری وجہ سے مجھے بھی زور دینا مناسب نہ لگا ،آخر تمھارے بھی تو ہم پر اتنے احسان ہیں ۔“
”ماں جی اپنوں کا حق ہوتا ہے احسان نہیں ہوا کرتا ۔باقی فکر نہ کریں میں افغانستان ہی میں ہوں اور ایک چھوٹا سا کام کر کے اسے ڈھونڈنا شروع کر دوں گا ۔“انھیں تسلی دے کر میں نے چند منٹ مزید گپ شپ کی اور رابطہ منقطع کر دیا ۔
گھر والوں کی خیریت جان کر مجھے کافی تسلی ملی تھی لیکن اس کے ساتھ پلوشہ کے بارے میں زیادہ فکر مند ہو گیا تھا ۔اس کا کوئی اتا پتا معلوم نہیں ہورہا تھا ۔کمانڈر عبدالحق کو میں نے پہلے سے پلوشہ کے بارے بتایا ہوا تھا کہ مجاہدین سے اس کے بارے معلوم کرتا رہے اور وہ گاہے گاہے معلوم کرتا بھی رہا تھا ، مگر اس کی کوئی خبر نہیں ملی تھی ۔گلگارے نے مجھے مشورہ دیا تھا کہ جہاں میں البرٹ بروک وغیرہ کو ڈھونڈوں گا وہیں پلوشہ بھی مجھے مل جائے گی کہ وہ بھی انھی کو تلاش کر رہی ہو گی ،مگر وہ یہاں کہیں بھی دکھائی نہیں دی تھی ۔اگر اس نے امریکنوںکے خلاف کوئی کام کیا ہوتا تو جینی کو کچھ نہ کچھ سن گن ضرور ہوتی مگر اس نے بھی پلوشہ کے بارے استفسار کر کے گویا لاعلمی ظاہر کر دی تھی ۔
اتنا عرصہ اس سے جدا رہنے کے بعد کبھی کبھی تو یوں محسوس ہونے لگتا کہ وہ میری زندگی میں آئی ہی نہیں اور میں ایک لمبا سپنا دیکھ کر بیدار ہو گیا ہوں ۔پلوشہ کی ہنستی مسکراتی صورت ہر وقت نظروں میں رہنے کے باوجود لگتا تھا کہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے ۔ایسی کوئی لڑکی پیدا ہو ہی نہیں سکتی ۔اس کے متعلق مختلف قسم کے اندیشے بھی میرے دل میں سرسراتے رہتے ۔اس کی صلاحیتوں پر بھروسا ہونے کے باوجود میرا دل لرزتا رہتا تھا کہ کہیں وہ کسی ایسی مشکل میں نہ پھنس جائے جس سے نکلنا اس کے لیے ممکن نہ ہو اور اس وقت تو میں بھی اس کی مدد کے لیے موجود نہ ہوتا ۔گوسردار خان ایک مخلص اور غیرت مند دوست تھا۔ پلوشہ کا وہ ہرممکن خیال کرتا مگر مجھے یہ سوچ بھی تسلی نہیں دیتی تھی ۔
٭٭٭
دن بھر میں اس مختصر مکان ہی میں گھومتا رہتا ۔کبھی احمد کے ساتھ گپ شپ کرتا اور کبھی یونھی صحن میں چکراتا رہتا ۔وہاں سے باہر جانے کی ضرورت مجھے کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی ۔اس دن میں احمد کے ساتھ بیٹھا رات کا کھانا کھا رہا تھا جب کمانڈر عبدالحق کی کال موصول ہوئی ۔
سلام و دعا کے بعد عبدالحق کہنے لگا ۔”ایک خوش خبری ہے آپ کے لیے ۔“
میں نے جوش بھرے لہجے میں پوچھا ۔”کیا پلوشہ کا پتا چل گیا ؟“
”ان شاءاللہ وہ بھی لگ جائے گا ،لیکن فی الحال ایک اہم امریکن ہاتھ لگا ہے ،اب ہم آپ کی بے گناہی کے ثبوتو ں کا سودا کر سکتے ہیں ۔“
میں نے دلچسپی سے پوچھا ۔”بھلا وہ کیسے ؟“
”کل ایک قافلے پر گھات لگائی ہے اسی میں یہ ہاتھ لگا ہے ۔“
”مگر یوں ایک دم ،اچانک....“
” یہاں آجاﺅ نا پھر گپ شپ کرتے ہیں ۔“
”ٹھیک ہے ۔“کہتے ہوئے میں نے رابطہ منقطع کر دیا ۔احمد بھی ہماری گفتگو کی طرف متوجہ تھا پوچھنے لگا ....
”کیا پلوشہ مل گئی ہے ؟“
”نہیں کوئی امریکن ہاتھ لگا ہے اور اب مجھے وہیں جانا ہو گا ۔“
اس نے پوچھا ۔”اس وقت ؟“
”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
احمد نے حیدر کو کال کر کے گاڑی منگوا لی ۔میں احمد سے الوداعی ملاقات کر کے وہاں سے نکل آیا ۔حیدر اور اس کے ساتھ دو افراد میرے ساتھ جانے کے لیے تیار تھے ۔
گھنٹے ڈیڑھ کے بعد ہم بغیر کسی رکاوٹ کے مخصوص ٹھکانے پر پہنچ گئے تھے ۔کمانڈر بسم اللہ جان اور عبدالحق بڑے تپاک سے مجھے ملے ۔ان سے جو تفصیل معلوم ہوئی اس کے مطابق گزشتا کل انھیں امریکن قافلے کی آمد کے بارے معلوم ہوا اور وہ ایمرجنسی میں کارروائی کر گزرے ۔ امریکنز نے گاڑیاں بھگانا شروع کر دیں افراتفرای میںایک گاڑی سڑک سے لڑھک کر الٹی ہو گئی ۔باقی گاڑیوں والے اس کے لیے رکے نہیں تھے ۔امریکیوں کی بد قسمتی کہ قافلے کی حفاظت کے لیے ساتھ ہیلی کاپٹربھی موجود نہیں تھا پس جب تک انھیں کچھ سمجھ آتا مجاہدین نے الٹی ہوئی گاڑی سے چار آدمیوں کو نکال لیا تھا ۔ان میں دو محافظ، ایک ڈرائیور اور ایک آفیسر تھا ۔معلوم یہ ہوا کہ کابل سے امریکنز کے غزنی کیمپ کے لیے ایک کمانڈنگ ٓفیسر آرہا تھا جو کیمپ تک پہنچنے سے پہلے مجاہدین کے ہتھے چڑھ گیا تھا ۔یہ دوپہر کا واقعہ تھا اور اب تو رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی ۔میں نے مذخورہ آدمی سے ملنے کا کام صبح پر ٹالا اور آرام کے لیے لیٹ گیا ۔کمانڈر بسم اللہ جان کے جانے کے بعد بھی عبدالحق اور میں کافی دیر گپ شپ کرتے رہے ۔میں پلوشہ اور سردار کے غائب ہوجانے کے بارے تشویش کا اظہار کرتا رہا ۔اس نے اپنے طور پر تو مجھے تسلی دینے کی کوشش کی مگر میں بچہ نہیں تھا جو ان تسلیوں سے بہل جاتا ۔میری چھٹی حس بار بار کسی بڑی مصیبت کا اعلان کرنے لگتی ۔ کوئی دلیل اور تسلی اس ضمن میں فائدہ نہیں دے رہی تھی ۔عبدالحق سے میں نے جینیفر کی بات اور اس کے مدد کرنے کا ذکر بھی کیا تھا ۔
”آپ کے لیے تو کافی مدد گار ثابت ہوئی ہے ۔“عبدالحق نے دبے لفظوں میں اس کی تعریف کی تھی۔
٭٭٭
صبح ناشتے کے بعد میں کمانڈر عبدالحق کے ساتھ قیدی کو دیکھنے چل پڑا ۔اپنے چہروں پر ہم نے مفلر لپیٹ لیے تھے ،کیونکہ اس آفیسر کو ہم نے سودے میں استعمال کر کے واپس بھیجنا تھا اور ایسے کسی آدمی کے سامنے اصل شکل میں جانا مناسب نہیں تھا ۔وہاں ایک بہت بڑی حیرت میری منتظر تھی ۔قیدی کو دیکھتے ہی میں اچھل پڑا تھا ۔وہ میجر جیمس میتھونی تھا ۔وہ میرا استاد تھا ۔ایک قابل اور ذہین شخص کو یوں کرسی پر بندھا دیکھ کر مجھے دکھ ہوا ۔اس سے میں نے کافی کچھ سیکھا تھا ۔ہمیں اندر داخل ہوتا دیکھ کر وہ ہماری طرف متوجہ ہو گیا تھا ۔اسے پہچانتے ہی میں تیر کی طرح اس کی طرف بڑھا اور اگلے ہی لمحے میں اس کی بندشیں کھول رہا تھا ۔کمانڈر عبدالحق کو میرا جوش دیکھ کر حیرانی ہوئی تھی ،لیکن اس نے مجھے ٹوکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔اتنا تو وہ بھی جانتا تھا کہ میں وہ کام کسی خاص مقصد ہی سے کر رہا تھا ۔خود میجر جیمس میتھونی بھی حیرت زدہ رہ گیا ۔اس کی بندشیں کھول کر میں اس کے سامنے آیا اور اپنے چہرے سے مفلر اتار دیا ۔
”ذیشن !....“اس کی حیرت دگنی ہو گئی تھی ۔
”جی سر !“میرے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔بے ساختہ اٹھتے ہوئے وہ مجھ سے لپٹ گیا ۔
اس سے معانقہ کر کے میں کمانڈر عبدالحق کو مخاطب ہوا ۔”یہ میرا استاد ہے ،اسے کسی بہتر کمرے میں منتقل کرنا پڑے گا ۔“
”اپنے کمرے میں لے چلتے ہیں ۔“کمانڈر عبدالحق نے فوراََ مشورہ دیا ۔اور میں اپنے استاد کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے کی طرف چل پڑا ۔تھوڑی دیر بعد ہم آمنے سامنے بیٹھے تھے ۔عبدالحق چاے وغیرہ کا بندوبست کرنے نکل گیا تھا ۔
”آپ بھی دہشت گردوں کے ساتھ مل گئے ہو ۔“جیمس میتھونی نے چھوٹتے ہی پوچھا تھا ۔
”میرا خیال ہے دہشت گرد کون ہے اس بارے بحث رہنے دیتے ہیں سر !“
وہ خفیف ہوتا ہوا بولا ۔”معذرت خواہ ہوں ۔“
”ایسا کہہ کر مجھے شرمندہ کر رہے ہیں ،آپ میرے استاد ہیں ۔“
وہ ہنسا ۔”اب تو آپ کی قید میں ہوں ۔“
”آپ قیدی نہیں ہیں ،جب چاہیں آپ کو چھوڑ دیا جائے گا ۔“
”اتنی مہربانی کس لیے ؟“
”یہ مہربانی نہیں ہے ۔“
”آپ تو پاکستان آرمی میں تھے اور جہاں تک میری معلومات ہے پاکستان آرمی افغانستان میں کسی قسم کی کارروائی میں ملوث نہیں ہے ۔“
”ٹھیک کہا سر ،میں یہاں اپنے کسی کام سے آیا ہوں ۔“
”اپنا کام ،مطلب وہی جہاد وغیرہ کا شوق ؟“اس کے لہجے میں ہلکا سا طنز شامل تھا ۔
”جہاد کا شوق تو ہے سر ،مگر پاکستان آرمی کا کوئی سپاہی صرف اسی جہاد میں شامل ہوسکتا ہے جس کی اجازت آرمی کی طرف سے ملی ہو ۔“
”پھر ....“اس نے حیرانی ظاہر کی ۔
اب طنز کی باری میری تھی ۔”اس کے پیچھے بھی آپ لوگوں کی مہربانی شامل ہے ۔“
”بھلا وہ کیسے ؟“اس نے کچھ جاننے کی کوشش کی ۔
جواباََ میں نے اس کے سامنے البرٹ بروک اور کرنل کولن فیلڈ کی ساری کارروائیاں دہر ا دیں جو کہ انھوں نے مجھے بلیک میل کرنے کی خاطر کی تھیں ۔
میری بات کے اختتام پر وہ پوچھنے لگا ۔”اور ان کے قتل میں یہی وجہ کارفرما تھی ۔“
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سر ہلایا۔”یہاں پر میں اکیلا آیا تھا اور مجھے کچھ مددگاروں کی ضرورت تھی ۔یقینا دنیا میں لے دے کے اصول پر کام چلتا ہے پس مجھے مجاہدین کی مدد کرنا پڑی۔“
”یقینا اتنی دور سے آپ ہی انھیں نشانہ بنا سکتے تھے ۔جب مجھ تک کرنل کولن فیلڈ اور دوسرے آفیسرز کے قتل کی بات پہنچی میرا پہلا خیال تمھاری طرف گیا تھا ،لیکن پھر یہ خیال آیا کہ پاکستان آرمی کا کوئی سپاہی افغانستان میں کیسے آسکتا ہے ۔“
میں نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا ۔”کیوں البرٹ بروک اور کرنل کولن فیلڈ کی کارروائی سے آپ بے خبر تھے ۔“
”مجھے کرنل کولن فیلڈ کے قتل کے بعد ہی امریکہ سے بلایا گیا ہے ۔اور مجھے نہیں معلوم کہ انھوں نے کیوں اتنا غلط کام کیا ،کسی کو مجبور نہیں کرنا چاہیے ۔“
”میرے دماغ میں تو یہی خیال تھا کہ شاید آپ ہی نے البرٹ بروک کو میرے بارے مطلع کیا ہو۔“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔”اسے کرنل سکاٹ ڈیوڈ یا کرنل جولی روز ویلٹ سے پتا چلا ہو گا ۔“
”ہونہہ!....تو آپ اب کرنل ہیں ۔“
اس نے تصحیح کی ۔”لیفٹیننٹ کرنل ۔“
”جانتے ہیں سر ،آپ کو پکڑنے کی وجہ ، میری بے گناہی کے ثبوتوں کا حصول ہے ۔“
وہ ہنسا ۔”تو گویا اب میرا سودا کیا جائے گا ۔“
”سودا کیا جانا تھا ،لیکن اب تو بغیر کسی معاہدے کے آپ کو رہا کروں گا ۔“
”کیا باقی آپ کی بات مان لیں گے ۔“
”ماننا پڑے گی ،جب ان کا مقصد میری بے گناہی کے ثبوتوں کا حصول تھا تو پھر آپ کے بارے فیصلہ کرنا میرا حق ہے ۔
اس نے ممنونیت سے کہا ۔”شکریہ ذیشن !“
اسی وقت کمانڈر عبدالحق چاے کے ساتھ کچھ کھانے کے لوازمات لے آیا۔
جیمس نے کہا ۔”ویسے میں ناشتا کر چکا تھا ۔“
میں نے کہا ۔”ہم بھی ۔“
کمانڈر عبدالحق چاے کے برتن چھوڑ کر باہر نکل گیا تھا ۔یقینا وہ ہمیں تنہائی میں گپ شپ کا موقع دینا چاہتا تھا ۔یوں بھی وہ انگریزی نہیں جانتا تھا کہ ہماری بات چیت اس کے پلے پڑتی ۔
جیمس کو اپنے بستر پر لٹا کر میں عبدالحق کے بستر پر لیٹ گیا اوردائیں بائیں کی باتیں کرنے لگے ۔تھوڑی دیر بعد ہی اس کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں ۔اسے سونے کے لیے چھوڑ کر میں باہر نکل آیا ۔اسے میں نے بتا دیا تھا کہ رات کو اسے واپس چھوڑ آﺅں گا ۔
کمانڈر بسم اللہ جان کو کمانڈر عبدالحق ساری بات بتا چکا تھا ،اس نے کسی قسم کے استفسار کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
٭٭٭
رات کاکھانا کھا کر ہم جانے کے لیے تیار تھے ۔جانے سے پہلے میں نے جینی کو رابطہ کرنے کا میسج کر دیا تھا ۔خفیہ ٹھکانے سے نکلنے سے پہلے ہم نے کرنل جیمس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی ۔رستے ہی میں جینی کی کال آگئی تھی ۔میرے ہیلو کرتے ہی وہ بولی ۔
”ذی!....تمھیں بتایا تھا کہ خود سے رابطہ نہ کرنا ۔“
میں ہنسا ۔”مجبوری تھی یار !“
”ذی ہم پر بہت کڑا وقت آیاہوا ہے ،ایک آفیسر کل سے دہشت گردوں کے قبضے میں ہے ، اسے ڈھونڈنے کے لیے کوئی لائحہ عمل سوچا جا رہا ہے ۔“
میں ہنسا ۔”ویسے امریکہ سے بڑا دہشت گرد کون ہو سکتا ہے ۔“
”مذاق کا وقت نہیں ہے ذی ۔“یہ کہتے ہوئے اسے کوئی بات یاد آئی اور وہ پوچھنے لگی۔ ”جانتے ہو وہ ہے کون؟“
”میں مذاق نہیں کر رہا ۔اور مجھے کیسے معلوم ہو سکتا ہے اس کے بارے ۔“
”ذی تمھیں اپنا استاد جیمس میتھونی تو یاد ہو گا ۔“
”استاد بھی کبھی بھولتے ہیں ،ہمارا مذہب تو استادوں کی تکریم کی اتنی ہدایت کرتا ہے جو تم لوگ سوچ بھی نہیں سکتے ۔“
اس نے ایک دم اشتیاق سے پوچھا۔”کیا تم اس معاملے میں ہماری کوئی مدد کر سکتے ہو ؟“
”اگر میرا جواب ہاں میں ہو اور میں انھیں با حفاظت لے بھی آﺅں تو کیا انعام دو گی ۔“
اس نے قہقہہ لگایا ۔”کیا انعام لو گے ،میں تو کب کی سراپا انعام بنی پھر رہی ہوں تم خود ہی انکار پر مائل ہو ۔“
”بکواس کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دینا ۔“
وہ سنجیدہ ہوتے ہوئے بولی ۔”اچھا سچ بتاﺅ ،کچھ کر سکتے ہو ۔“
”جس ہوٹل کے سامنے آخری ملاقات ہوئی تھی وہاں کتنی دیر میں کتنی پہنچ سکتی ہو ۔“
وہ صاف گوئی سے بولی ۔”موجود ہ حالات میں تو بالکل نہیں آسکتی ۔“
”اگر میں کہوں میں جیمس صاحب کو گھنٹے تک وہیں لا رہا ہوں پھر ؟“
”ذی !....میں رابطہ منقطع کر رہی ہوں ۔“اس نے میری بات کو مذاق سے زیادہ اہمیت نہیں دی تھی ۔
”اچھا یہ لو بات کرو ۔“میں نے ساتھ بیٹھے جیمس کو موبائل پکڑا دیا ۔”سر!.... جینی سے بات کریں ۔“
جیمس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔”ہیلو گڈ گرل ۔“
”سر !....“اس نے اتنے زور سے کہا تھا کہ میرے کانوں تک اس کی آواز پہنچی تھی ۔
”میری آنکھوں پر پٹی بندھی ہے اور میں اس وقت مسٹر ذیشن کے ساتھ ہوں ۔وہ مجھے کہیں چھوڑنے جا رہے ہیں ۔“
جانے اس نے جواب میں کیا کہا تھا کہ جیمس نے موبائل میری جانب بڑھا دیا ۔
موبائل کان سے لگاتے ہی میں نے پوچھا ۔”یقین آیا ۔“
وہ وارفتگی سے بولی ۔”ذی !....آئی لو یو ،میں بس آدھے گھنٹے میں وہاں پہنچ رہی ہوں ۔“
”کوشش کرنا کہ اکیلی آنا ۔“
”ٹھیک ہے ۔“کہہ کر اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
غزنی شہر کے مضافات میں پہنچتے ہی میں نے کرنل جیمس کی آنکھوں پر سے پٹی کھول دی ۔ میں اپنے ساتھ بس ڈرائیور ہی کو ہی لایا تھا ۔
ہوٹل کے سامنے ہی ہمیں جینیفر بڑی بے صبری سے منتظر ملی گاڑی کے رکتے ہی وہ آگے بڑھی اور میرے اترتے ہی مجھ سے لپٹ گئی ۔
”ذی !....بہت بہت شکریہ ۔“
میں نے اسے خود سے علاحدہ کرتے ہوئے کہا ۔”یہ نیو یارک نہیں ہے محترمہ۔“
وہ برا منائے بغیر کرنل جیمس میتھونی کی طرف بڑھ گئی ۔
”کیسی ہو آفیسر ۔“جیمس نے اس سے پر تپاک مصافحہ کرتے ہوئے پوچھا ۔
وہ مسکرائی ۔”عمدہ سر ۔“
”اچھا میں چلوں گا ۔“میں ان کی گفتگو میں مخل ہوا ۔
”ٹھیک ہے ۔“جیمس نے مجھ سے الوداعی مصافحہ کیا ۔جینی دوبارہ زبردستی گلے ملی اور وہ دونوں اپنی کار میں بیٹھ گئے ۔میں نے ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کیا ۔تھوڑی دور آتے ہی وہ مجھے مخاطب ہوا ۔
”رات یہیں شہید خان کے گھر گزار لیتے ہیں ،صبح نکل چلیں گے ۔“
شہید خان کا گھر وہی خفیہ ٹھکانہ تھا جہاں احمد بھی ٹھہرا ہوا تھا ۔
”ٹھیک ہے وہیں چلو ۔“میں نے اثبات میں سر ہلا کر کمانڈر بسم اللہ جان کو کال کر کے وہاں رکنے کا بتانے لگا ۔
صبح بھی احمد کے اصرار پر ہم نے واپس لوٹنے کا پروگرام اگلے دن کے لیے موّخر کر دیا تھا ۔ رات گئے مجھے جینی کی کال ملی ۔میری ہیلو کے جواب میں وہ خوشی سے چہکتے ہوئے بولی ۔
”ذی ،تمھاری بے گناہی کے سارے ثبوت میں نے حاصل کر لیے ہیں ۔“
”کیا ....؟“میرا دل خوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا ۔
جاری ہے
by
Riaz Aqiz Kohler
Episode 61
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
61 قسط نمبر
سنائپر
قسط نمبر61
ریاض عاقب کوہلر
”چلیں ۔“الیگزینڈر جینی سے مستفسر ہوا ۔
جینی نے پر خیال لہجے میں کہا ۔”سر!.... میرا خیال ہے اس آدمی کو مجھے خود سنبھالنا ہوگا ۔“
”ہاں ،اپنے دونوں آدمیوں کی نگرانی کر لینا ۔اگر صحیح سوال جواب نہیں کرتے تو آپ پوچھ گچھ کر لینا ۔“
”آپ سمجھے نہیں سر!....میرا مطلب ہے پہلے ہمیں کرس کارٹر صاحب کی بازیابی کا بندوبست کرنا پڑے گا ۔“
الیگزینڈر بے پروائی سے بولا ۔”جب دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کی بابت معلوم ہو جائے گا تو کرس کارٹر بھی بازیاب ہو جائے گا ۔“
جینیفر نے منھ بنایا۔”پہلے پکڑے جانے والے دہشت گرد سے ہم نے کیا اگلوا لیا ہے جو اس سے تمام ٹھکانوں کی بابت معلوم ہو جائے گا ۔“
”تم کیا چاہتی ہو ؟“الیگزینڈر نے مفاہمتی انداز میں پوچھا ۔
وہ جلدی سے بولی ۔”سر ،کرس کارٹر کو آزاد کرانا ضروری ہے ۔“
”ہاں مگر اس کے لیے بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے ،یہ نہ ہو اسے آزاد کراتے ہوئے کوئی اور نقصان کرا بیٹھو ۔“
جینیفر اعتماد سے بولی ۔”میں سنبھال لوں گی سر ۔“
”ویسے پہلے کوشش کر لو اگر کچھ معلوم ہو سکتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ پھر کرس کارٹر کی واپسی کا کچھ کریں گے ۔“الیگزینڈر نے حتمی فیصلہ سنادیا ۔ان دونوں کی بات چیت سے مجھے اندازہ ہورہا تھا کہ الیگزینڈر کی نظر میں میں انگلش سے نا بلد تھا ۔اسی وجہ سے وہ یوں آزادی سے بات چیت کر رہا تھا ۔البتہ جینیفر کی بات اور تھی ۔
”ٹھیک ہے سر !“جینیفر نے اثبات میں سر ہلایااور وہ رخصت ہو گیا ۔
”تم دونوں بھی جاﺅ ۔“جینیفر نے دونوں مقامی افراد کو وہاں سے نکلنے کا اشارہ کیا ۔
ان کے جاتے ہی اس نے سب سے پہلے میری بندشیں کھولیں اور پھر ایک کرسی گھسیٹ کر میرے سامنے بیٹھ گئی ۔
”تو میرا اندازہ ٹھیک تھا ،اس دن تم ہی تھے ۔“بغیر کسی تمہید کے وہ مطلب کی بات پر آگئی ۔
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا ۔”تم نے کیسے اندازہ لگایا ۔“
”اتنے فاصلے سے سر میں گولی مارنا کسی عام آدمی کا کام نہیں ہو سکتا ۔“
”پھر بھی میں افغانستان میں موجود نہیں تھا ،اگرکوئی اور ہوتا تو یقینا تم ماری جاتیں ۔“
”صحیح کہہ رہے ہو ،مگر کیا کروں کہ اتنے فاصلے سے یوں صفائی سے فائر کرنے والا تمھارے علاوہ ایک نک سٹیورٹ ہی دیکھا ہے اور نک تو ہمارا اتحادی ہے ۔“
”یہ کون ذات شریف ہے ؟“میں نے انجان بن کر پوچھا ۔حالاں کہ اس کے بارے مجھے کمانڈر اسلام سے معلوم ہوا تھا ۔
”برطانوی فوج کا ایک سپاہی ہے ،اس کی ساتھی لورا براﺅن بھی اچھی نشانہ باز ہے ۔“
”اچھا اب میرے ساتھ کیا کرنا ہے ؟“
وہ شرارتی لہجے میں بولی ۔”تمھارے ساتھ کیا کر سکتی ہوں سوائے محبت کرنے کے ؟“
”بکواس نہ کرو ۔اور میں نے کہا تھا کہ واپس امریکہ چلی جاﺅ ،اس دن بڑی مشکل سے تمھیں بچایا تھا ۔“
”بس دو تین ماہ میں واپس چلی جاﺅں گی ،ملنے آﺅ گے نا ؟“
”ملنے آنا تو شاید مشکل ہو البتہ اپنا فون نمبر بتا دو کال کرلیا کروں گاوہ بھی پلوشہ سے پوچھ کر ۔“ آخری فقرہ میں نے مسکراتے ہوئے ادا کیا تھا ۔
”کہاں ہے وہ آفت کی پرکالہ۔“جینیفر بھی مسکرا دی تھی ۔
”وہ بھی افغانستان آئی ہوئی ہے ۔“
”سچ ،کہاں ہے ؟“اس نے اشتیاق سے پوچھا ۔
میں صاف گوئی سے بولا ۔”یہ تو مجھے بھی معلوم نہیں ۔“
”کیا مطلب ؟“اس کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
جواباََ میں نے اپنی گرفتاری اور ثبوتوں کی تلاش وغیرہ کی ساری کہانی اجمالاََ دہرا دی ۔
وہ کہنے لگی ۔”تمھیں مجھ سے رابطہ کرنا چاہیے تھا ۔“
”کیسے رابطہ کرتا ۔اور معاف کرنا تم رابطہ کرنے کی کوشش میں تو اس حالت میں پہنچا ہوں ۔“
”یہ کون سی رابطہ کرنے کی کوشش تھی ۔“اس نے منھ بنایا۔”ہمارے آدمیوں کو قتل کرنا اور انھیں اغواءکرانا مجھے تلاش کرنے کے زمرے میں آتا ہے ۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔”تو تم لوگوں نے پاکستان میں کوئی کسر چھوڑی ہے ۔“
”جانتے ہو،البرٹ بروک اور کرنل کولن فیلڈ دونوں اس دن تمھاری گولی کا نشانہ بن گئے تھے۔“
”وہ دونوں میرے مجرم بھی تو تھے ۔“
”بہ ہرحال اس دن حملہ کرنے والوں کو بہت کوشش سے ڈھونڈا جا رہا ہے ۔گو پہلے تو مجھے اندازہ تھا کہ گولی چلانے والے آپ ہیں ،جو بعد میں یقین میں تبدیل ہو گیا تھا لیکن میں نے کسی کو ہلکا سا اشارہ بھی نہ دیا ۔باقی جیسن سمتھ کی جان بچا تے ہوئے میں نے حماقت کا ثبوت دیا تھا ،لیکن اس حماقت کی بدولت بعد میں میرا یقین پختہ ہو گیا تھا کہ فائر کرنے والے واقعی تمھی ہو ۔“
میں نے پوچھا ۔”جیسن کے ساتھ تمھارا کیا تعلق ہے ؟“
”استاد ہے میرا ۔اور اتنی ہمت میں اس لیے کر پائی تھی کہ کولن فیلڈ کے سر میں لگنے والی گولی نے میری سوچوں کو تمھاری جانب موڑ دیا تھا ۔اس کے بعد جب دوسرے افراد کو بھی سر ہی میں گولی لگنا شروع ہوئی تو مجھے معلوم ہو گیا کہ ہو نہ ہوفائر کرنے والا ذی ہے ۔“
”اچھا اب میرے بارے کیا سوچا ہے ۔“
”سوچنا کیا ہے ،ابھی جاﺅ اور کرس کارٹر کو رہا کر دو ۔“
میں ہنسا ۔”تو تم مجھے یونھی جانے دو گی ۔“
”شک ہے کیا ؟“
”نہیں ،مگر اس طرح تم سے باز پرس ہو سکتی ہے ۔“
”نہیں آپ کے بدلے ہمیں کرس کارٹر مل جائے گا نا ۔اور بالفرض وہ آپ کے قبضے میں نہ ہوتا تو میں تب بھی آپ کو چھوڑ دیتی ۔“
”واپس امریکہ کب جا رہی ہو ؟“
”کہا تو ہے دو تین ماہ میں چلی جاﺅں گی ۔“
میں نے پوچھا ۔”البرٹ بروک تو رہا نہیں ،کیا میری بے گناہی کے ثبوت بھی اس کے ساتھ ضائع ہو گئے ہیں۔“
اس نے معنی خیز مسکراہٹ سے پوچھا ۔”اگر تمھیں وہ ثبوت میں لا دوں تو کیا انعام ملے گا ۔“
”کیا انعام چاہیے ۔“
”مجھ سے شادی کر لو ۔“
”پاکستانی ایجنسیوں کے ہاتھوں شاید بچ جاﺅں لیکن پلوشہ مجھے قتل کرنے امریکہ تک بھی پہنچ جائے گی ۔“
اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے پوچھا ۔”اتنا ڈرتے ہو اس سے ۔“
”کیا نہیں ڈرنا چاہیے ؟“
”پیلاوشہ کی ذمہ داری میں لیتی ہوں ۔“
میں زچ ہوتے ہوئے بولا ۔”جینی !....تنگ نہ کیا کرو ۔“
”اچھا میں کوشش کروں گی ،وعدہ نہیں کر سکتی میرا نمبر یاد کر لو ۔“اس نے ایک نمبر دہرا تے ہوئے کہا ۔ ”اس پر رابطہ کر کے معلوم کر لینا امریکہ واپسی سے پہلے تمھارا کام کر جاﺅں گی ۔“
اس کا نمبر ذہن نشین کرتے ہوئے میں نے اپنا نمبر دہراتے ہوئے کہا ۔”اپنا امریکہ کارابطہ نمبر بھی بتا دو ۔“
میرا نمبر اپنے سیل فون میں محفوظ کرکے وہ اپنا نمبر بتاتے ہوئے مسکرائی ۔”ابھی تک تمھاری یاداشت ویسی ہی ہے ۔“
اس کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے میں مطلب کی بات پر آیا ۔”میں احمد کو بھی ساتھ لے کر جاﺅں گا ۔“
”کون احمد ؟“اس نے حیرانی سے پوچھا ۔
”ہمارا جو آدمی آپ کے پاس قید ہے ۔“
اس نے سنجیدگی سے پوچھا ۔”ضروری ہے کیا ؟“
”ہاں ،کیونکہ یہاں میری حیثیت مہمان کی سی ہے ،میں بس اپنی بے گناہی کے ثبوت ہی حاصل کرنے آیا ہوں پھر واپس چلا جاﺅں گا ۔اور اب اگر میں وہاں جا کر کرس کارٹر کی رہائی کی بات کروں گا تو یقینا اچھا نہیں لگے گا ۔“
”اس کا مطلب ہے جلد سے جلد وہ ثبوت تمھارے حوالے کرکے جان چھڑانا بہتر رہے گا ۔“
میں نے معنی خیز لہجے میں پوچھا ۔”مجھ سے جان چھڑانا چاہتی ہو۔“
”ہاں ۔“اس نے اثبات میں سر ہلایا۔”سچ کہوں تو اپنے لیے شوہر دیکھنا شروع کر دیا ہے ۔“
”کس وقت جانا ہو گا ۔“
اس نے کہا ۔”بھوک لگی ہو تو ناشتا منگوا دیتی ہوں ۔“
میں نے نفی میں سر ہلا دیا ۔
چلو ،مگر آنکھیں باندھنا پڑیں گی ۔“
میں ہنسا ۔”مجھ پر اعتبار نہیں ہے ۔“
”ہاں ۔“اس نے صاف گوئی سے اقرار کیا ۔”اس بارے اعتبار نہیں کر سکتی ۔میں جانتی ہوں تمھارے سب سے بڑے دشمن امریکی ہیں ۔“
”تم بھی تو امریکی ہو ۔“
اس نے قہقہہ لگایا ۔”میں تو تمھیں پیاری ہوں نا ۔اور جب بھی پیلاوشہ سے ملاقات ہوئی اسے ضرور بتاﺅں گی کہ تم نے کس طرح میری جان بخشی کی ۔“
”اچھا بتا دینا یار ،فی الحال تو چلیں ناں ۔“
”ٹھیک ہے ۔“وہ سر ہلاتے ہوئے کھڑی ہو گئی ۔تھوڑی دیر بعد ہم گاڑی میں بیٹھے ہم ایک مخصوص سمت میں روانہ تھے ۔احمد بھی ساتھ تھا ۔احمد اور میرے سر پر جینفر کے کہنے پر کالا کپڑا چڑھا دیا تھا اور ہمارے ہاتھ پشت پر بندھے تھے ۔ایک غیر معروف ہوٹل کے سامنے گاڑی روک کر اس نے میرے سر سے کپڑا اتارا اور کہا ۔”اپنے آدمیوں کو کہوکرس کارٹر کو یہاں لے آئیں ۔“
میں نے نفی میں سر ہلایا۔”نہیں ،میں خود جا کر اسے لے آﺅں گا ۔“
”ٹھیک ہے ،میں یہیں بیٹھ کر تمھارا انتظار کروں گی ۔“بغیر کسی تکرار کے وہ اپنے ساتھ موجود تین مسلح مقامی محافظوں کو نیچے اترنے کا اشارہ کرتے ہوئے نیچے اتر گئی ۔
احمد کو کافی زیادہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔وہ عقبی نشست پر ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا۔اسے مخاطب کیے بغیر میں نے گاڑی آگے بڑھائی اور موبائل فون نکال کر کمانڈر بسم اللہ کو کال کرنے لگا ۔پہلی ہی گھنٹی پر کال وصول کر لی گئی تھی ۔
”جی ۔“اس نے محتاط لہجے میں پوچھا۔
”ذیشان بات کر رہا ہوں ۔“میں نے فوراََ اپنا تعارف کرایا ۔
اس نے بے صبری سے پوچھا ۔”آپ کہاں ہیں ؟“
”میں احمد کے گھر کی طرف جا رہا ہوں ،احمد بھی میرے ساتھ ہے ۔آپ یوں کریں کہ کرس کارٹر کو ایک گاڑی میں بٹھا کر وہیں لے آئیں باقی باتیں بعد میں ہوں گی ۔“
”میں سمجھا نہیں ۔“
”سمجھانے کا وقت بھی نہیں ہے ،فی الحال جو کہا ہے وہ کریں ۔“
”کہیں یہ سب ....“
میں نے قطع کلامی کرتے ہوئے کہا ۔”نہیں میں کسی دباﺅ یا مجبوری کی بنا پر نہیں کہہ رہا ہے ۔ مختصراََ اتنا جان لیں کہ احمد کے بدلے کرس کارٹر کو واپس کرنا ہے ۔“
”ٹھیک ہے ۔“مزید بحث سے گریز کرتے ہوئے اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
احمد کا مکان میں نے دیکھا ہوا تھا ۔وہاں پہنچ کر ہمیں چند منٹ انتظار کرنا پڑا تھا ۔مکان کو تالا لگا ہوا تھا ہم گاڑی ہی میں بیٹھے رہے ۔
”شمسہ کہاں ہے ؟“گاڑی میں چھائی خاموشی کو احمد کی نحیف آواز نے توڑا ۔
”کون شمسہ؟“میں نے حیرانی سے پوچھا اور پھر ایک خیال کے تحت کہا ۔”شاید ہماری بھابی کا نام شمسہ ہے ۔“
کچھ کہے بغیر اس نے آہستہ سے سر ہلادیا ۔
”وہ محفوظ ہے ۔“میں نے اسے تسلی دی ۔
بسم اللہ جان کے آدمیوں کے پہنچتے ہی میں نے احمد ان کے حوالے کیا وہ کرس کارٹر کی آنکھیں بند کر کے لائے تھے ۔اسے اپنی گاڑی میں منتقل کر کے میں نے انھیں جانے کا کہا اور خود مطلوبہ ہوٹل کی جانب روانہ ہو گیا ۔ہوٹل کے قریب پہنچتے ہی میں نے سے کال کر کے باہر بلا لیا تھا وہ بڑی شدت سے میری منتظر تھی ۔کرس کارٹر کو دیکھتے ہی اس نے میرا شکریہ ادا کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
اس نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔”کیا تمھیں واپس چھوڑکے آنا پڑے گا ۔“
”شکریہ ،تم جاﺅ ۔“
”موقع ملتے ہی میں خود رابطہ کروں گی ،تمھیں کال کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔“جاتے ہوئے وہ مجھے سمجھانا نہیں بھولی تھی ۔
اس کے جاتے ہی میں نے ٹیکسی پکڑی اور اپنے خفیہ ٹھکانے کے قریب ایک مناسب مقام پر اتر ااور احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہاں پہنچ گیا ۔تمام بے صبری سے میرے منتظر تھے ۔احمد کے لیے انھوں نے ایک ڈاکٹر کو بلالیا تھا جو اس کی مرہم پٹی کر رہا تھا ۔میری آمد کے ساتھ حیدر نے بسم اللہ جان کو کال کر کے موبائل فون میری جانب بڑھا دیا ۔
سلام و دعا کے بعد وہ تفصیل پوچھنے لگا ۔
”وہی لڑکی مل گئی تھی یار !مجھے رہا کرنے کا اسے یہی بہانہ مناسب لگا کے میرے بدلے کرس کارٹر کو طلب کر لے ۔میں نے اپنی رہائی کے ساتھ احمد کا بھی مطالبہ کر دیا ۔“
”آپ کا کام تو درمیان ہی میں رہ گیا ۔“
”کوئی بات نہیں ،اللہ پاک کوئی اور سبب بنا دے گا ۔“
اس نے پوچھا ۔”مطلب دوبارہ سے پوری محنت کرو گے ۔“
”فی الحال تو آرام کروں گا چند دن بعد ہی کچھ سوچوں گا ۔“میں نے جینی کی آفر کا ذکر مناسب نہیں سمجھا تھا ۔
”تو پھر یہاں آجاﺅ۔“
میں نے گول مول انداز میں کہا ۔”جب آنا ہو گا بتا دوں گا ۔“اور اس نے الوداعی کلمات کہتے ہوئے رابطہ منقطع کر دیا ۔میں وہیں ٹھہر کر جینی کے جواب کا انتظار کرنا چاہتا تھا ۔مجھے قوی امید تھی کہ وہ کچھ نہ کچھ کر لے گی ۔
احمد اور میں اسی خفیہ کمرے میں رہنے لگے ۔تیسرے دن احمد کی بیوی بھی وہیں آگئی تھی اور اس کی آمد کے ساتھ احمد اور اس کی بیوی کے حوالے ایک علاحدہ کمرہ کر دیا گیا تھا ۔اپنی آمد کے دوسرے دن وہ احمد کو ساتھ لے کر میرا شکریہ ادا کرنے بھی آئی تھی ۔اسے معلوم ہو گیا تھا کہ احمد کی جان میری ہی وجہ سے بچی تھی ۔
شب و روز کافی بے کیفی سے گزر رہے تھے ۔مجھے پاکستان سے آئے ہوئے بھی کئی ماہ گزر گئے تھے اور ابھی تک میں کسی واضح کامیابی کے نزدیک نہیں پہنچا تھا ۔اب تو لے دے کے جینی ہی کی امید باقی تھی ۔کئی بار میرا گھر کال کرنے کو جی چاہا مگر پھر یہ سوچ کر رک گیا کہ انھوں نے پلوشہ کے بارے پریشانی ظاہر کرنا تھی جس کا کوئی جواب میرے پاس نہیں تھا ۔مگریہ سوچ مجھے زیادہ دیر نہ روک سکی ۔ اگلے دن میں نے ابو جان کے نمبر پر کال کر دی ۔
”یار !خود تو پہلے بھی نظر نہیں آتے تھے اس بار تو ہماری بیٹی کو بھی غائب کر دیا ہے ۔“سلام و دعا کے بعد ابو جان کے شکوے شروع ہو گئے ۔
”تو کہاں ہے وہ آپ کے پاس ہی تو چھوڑ گیا تھا ۔“میں الٹا ان سے استفسار کرنے لگا ۔
”اپنے بھائی کے ساتھ وزیرستان گئی تھی بیٹا ،اس کے بعد پتا نہیں چلا ۔“
میں نے انھیں تسلی دیتے ہوئے کہا ۔”اچھا میں وزیرستان جانے کی کوشش کرتا ہوں شاید مل جائے ۔“
”اتنی دیر تو نہیں ہونا چاہیے تھی بیٹا،گلناز بہن بھی بہت پریشان ہے اور تمھاری پھوپھو نے تو رو رو کر برا حال کر لیا ہے ۔“
”اسے کچھ نہیں ہوتا ابوجان وہ لڑکی کم اور لڑکا زیادہ ہے ۔“
ابوجان نے امید بھرے لہجے میں کہا ۔”وزیرستان جانے سے پہلے گھر کا ایک چکر لگا لیتے ۔“
”کوشش کروں گا ابوجان ،مگر مشکل نظر آرہا ہے ۔“میں نے گول مول جواب دیا ۔
”اچھا اپنی پھوپھو جان سے بات کرو۔“ابو جان نے موبائل فون پھوپھوجان کو پکڑا دیا ۔ وہ پلوشہ کے متعلق بہت پریشان تھیں ،انھیں تسلی دے کر میں نے پلوشہ کی ماں گل ناز سے بھی بات کی ،چونکہ ابوجان اور پھوپھو پشتو نہیں جانتے تھے اس لیے وہ بے فکری سے پلوشہ کے بارے محو گفتگو ہو گئی ۔
”بیٹا!.... میں نے اسے منع کیا تھا ،مگر وہ میری کوئی بات ہی نہیں مان رہی تھی ۔اس کا کہنا تھا کہ تمھیں اس کی مدد کی ضرورت ہے اور وہ گھر میں نہیں بیٹھ سکتی ۔تمھاری وجہ سے مجھے بھی زور دینا مناسب نہ لگا ،آخر تمھارے بھی تو ہم پر اتنے احسان ہیں ۔“
”ماں جی اپنوں کا حق ہوتا ہے احسان نہیں ہوا کرتا ۔باقی فکر نہ کریں میں افغانستان ہی میں ہوں اور ایک چھوٹا سا کام کر کے اسے ڈھونڈنا شروع کر دوں گا ۔“انھیں تسلی دے کر میں نے چند منٹ مزید گپ شپ کی اور رابطہ منقطع کر دیا ۔
گھر والوں کی خیریت جان کر مجھے کافی تسلی ملی تھی لیکن اس کے ساتھ پلوشہ کے بارے میں زیادہ فکر مند ہو گیا تھا ۔اس کا کوئی اتا پتا معلوم نہیں ہورہا تھا ۔کمانڈر عبدالحق کو میں نے پہلے سے پلوشہ کے بارے بتایا ہوا تھا کہ مجاہدین سے اس کے بارے معلوم کرتا رہے اور وہ گاہے گاہے معلوم کرتا بھی رہا تھا ، مگر اس کی کوئی خبر نہیں ملی تھی ۔گلگارے نے مجھے مشورہ دیا تھا کہ جہاں میں البرٹ بروک وغیرہ کو ڈھونڈوں گا وہیں پلوشہ بھی مجھے مل جائے گی کہ وہ بھی انھی کو تلاش کر رہی ہو گی ،مگر وہ یہاں کہیں بھی دکھائی نہیں دی تھی ۔اگر اس نے امریکنوںکے خلاف کوئی کام کیا ہوتا تو جینی کو کچھ نہ کچھ سن گن ضرور ہوتی مگر اس نے بھی پلوشہ کے بارے استفسار کر کے گویا لاعلمی ظاہر کر دی تھی ۔
اتنا عرصہ اس سے جدا رہنے کے بعد کبھی کبھی تو یوں محسوس ہونے لگتا کہ وہ میری زندگی میں آئی ہی نہیں اور میں ایک لمبا سپنا دیکھ کر بیدار ہو گیا ہوں ۔پلوشہ کی ہنستی مسکراتی صورت ہر وقت نظروں میں رہنے کے باوجود لگتا تھا کہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے ۔ایسی کوئی لڑکی پیدا ہو ہی نہیں سکتی ۔اس کے متعلق مختلف قسم کے اندیشے بھی میرے دل میں سرسراتے رہتے ۔اس کی صلاحیتوں پر بھروسا ہونے کے باوجود میرا دل لرزتا رہتا تھا کہ کہیں وہ کسی ایسی مشکل میں نہ پھنس جائے جس سے نکلنا اس کے لیے ممکن نہ ہو اور اس وقت تو میں بھی اس کی مدد کے لیے موجود نہ ہوتا ۔گوسردار خان ایک مخلص اور غیرت مند دوست تھا۔ پلوشہ کا وہ ہرممکن خیال کرتا مگر مجھے یہ سوچ بھی تسلی نہیں دیتی تھی ۔
٭٭٭
دن بھر میں اس مختصر مکان ہی میں گھومتا رہتا ۔کبھی احمد کے ساتھ گپ شپ کرتا اور کبھی یونھی صحن میں چکراتا رہتا ۔وہاں سے باہر جانے کی ضرورت مجھے کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی ۔اس دن میں احمد کے ساتھ بیٹھا رات کا کھانا کھا رہا تھا جب کمانڈر عبدالحق کی کال موصول ہوئی ۔
سلام و دعا کے بعد عبدالحق کہنے لگا ۔”ایک خوش خبری ہے آپ کے لیے ۔“
میں نے جوش بھرے لہجے میں پوچھا ۔”کیا پلوشہ کا پتا چل گیا ؟“
”ان شاءاللہ وہ بھی لگ جائے گا ،لیکن فی الحال ایک اہم امریکن ہاتھ لگا ہے ،اب ہم آپ کی بے گناہی کے ثبوتو ں کا سودا کر سکتے ہیں ۔“
میں نے دلچسپی سے پوچھا ۔”بھلا وہ کیسے ؟“
”کل ایک قافلے پر گھات لگائی ہے اسی میں یہ ہاتھ لگا ہے ۔“
”مگر یوں ایک دم ،اچانک....“
” یہاں آجاﺅ نا پھر گپ شپ کرتے ہیں ۔“
”ٹھیک ہے ۔“کہتے ہوئے میں نے رابطہ منقطع کر دیا ۔احمد بھی ہماری گفتگو کی طرف متوجہ تھا پوچھنے لگا ....
”کیا پلوشہ مل گئی ہے ؟“
”نہیں کوئی امریکن ہاتھ لگا ہے اور اب مجھے وہیں جانا ہو گا ۔“
اس نے پوچھا ۔”اس وقت ؟“
”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
احمد نے حیدر کو کال کر کے گاڑی منگوا لی ۔میں احمد سے الوداعی ملاقات کر کے وہاں سے نکل آیا ۔حیدر اور اس کے ساتھ دو افراد میرے ساتھ جانے کے لیے تیار تھے ۔
گھنٹے ڈیڑھ کے بعد ہم بغیر کسی رکاوٹ کے مخصوص ٹھکانے پر پہنچ گئے تھے ۔کمانڈر بسم اللہ جان اور عبدالحق بڑے تپاک سے مجھے ملے ۔ان سے جو تفصیل معلوم ہوئی اس کے مطابق گزشتا کل انھیں امریکن قافلے کی آمد کے بارے معلوم ہوا اور وہ ایمرجنسی میں کارروائی کر گزرے ۔ امریکنز نے گاڑیاں بھگانا شروع کر دیں افراتفرای میںایک گاڑی سڑک سے لڑھک کر الٹی ہو گئی ۔باقی گاڑیوں والے اس کے لیے رکے نہیں تھے ۔امریکیوں کی بد قسمتی کہ قافلے کی حفاظت کے لیے ساتھ ہیلی کاپٹربھی موجود نہیں تھا پس جب تک انھیں کچھ سمجھ آتا مجاہدین نے الٹی ہوئی گاڑی سے چار آدمیوں کو نکال لیا تھا ۔ان میں دو محافظ، ایک ڈرائیور اور ایک آفیسر تھا ۔معلوم یہ ہوا کہ کابل سے امریکنز کے غزنی کیمپ کے لیے ایک کمانڈنگ ٓفیسر آرہا تھا جو کیمپ تک پہنچنے سے پہلے مجاہدین کے ہتھے چڑھ گیا تھا ۔یہ دوپہر کا واقعہ تھا اور اب تو رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی ۔میں نے مذخورہ آدمی سے ملنے کا کام صبح پر ٹالا اور آرام کے لیے لیٹ گیا ۔کمانڈر بسم اللہ جان کے جانے کے بعد بھی عبدالحق اور میں کافی دیر گپ شپ کرتے رہے ۔میں پلوشہ اور سردار کے غائب ہوجانے کے بارے تشویش کا اظہار کرتا رہا ۔اس نے اپنے طور پر تو مجھے تسلی دینے کی کوشش کی مگر میں بچہ نہیں تھا جو ان تسلیوں سے بہل جاتا ۔میری چھٹی حس بار بار کسی بڑی مصیبت کا اعلان کرنے لگتی ۔ کوئی دلیل اور تسلی اس ضمن میں فائدہ نہیں دے رہی تھی ۔عبدالحق سے میں نے جینیفر کی بات اور اس کے مدد کرنے کا ذکر بھی کیا تھا ۔
”آپ کے لیے تو کافی مدد گار ثابت ہوئی ہے ۔“عبدالحق نے دبے لفظوں میں اس کی تعریف کی تھی۔
٭٭٭
صبح ناشتے کے بعد میں کمانڈر عبدالحق کے ساتھ قیدی کو دیکھنے چل پڑا ۔اپنے چہروں پر ہم نے مفلر لپیٹ لیے تھے ،کیونکہ اس آفیسر کو ہم نے سودے میں استعمال کر کے واپس بھیجنا تھا اور ایسے کسی آدمی کے سامنے اصل شکل میں جانا مناسب نہیں تھا ۔وہاں ایک بہت بڑی حیرت میری منتظر تھی ۔قیدی کو دیکھتے ہی میں اچھل پڑا تھا ۔وہ میجر جیمس میتھونی تھا ۔وہ میرا استاد تھا ۔ایک قابل اور ذہین شخص کو یوں کرسی پر بندھا دیکھ کر مجھے دکھ ہوا ۔اس سے میں نے کافی کچھ سیکھا تھا ۔ہمیں اندر داخل ہوتا دیکھ کر وہ ہماری طرف متوجہ ہو گیا تھا ۔اسے پہچانتے ہی میں تیر کی طرح اس کی طرف بڑھا اور اگلے ہی لمحے میں اس کی بندشیں کھول رہا تھا ۔کمانڈر عبدالحق کو میرا جوش دیکھ کر حیرانی ہوئی تھی ،لیکن اس نے مجھے ٹوکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔اتنا تو وہ بھی جانتا تھا کہ میں وہ کام کسی خاص مقصد ہی سے کر رہا تھا ۔خود میجر جیمس میتھونی بھی حیرت زدہ رہ گیا ۔اس کی بندشیں کھول کر میں اس کے سامنے آیا اور اپنے چہرے سے مفلر اتار دیا ۔
”ذیشن !....“اس کی حیرت دگنی ہو گئی تھی ۔
”جی سر !“میرے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔بے ساختہ اٹھتے ہوئے وہ مجھ سے لپٹ گیا ۔
اس سے معانقہ کر کے میں کمانڈر عبدالحق کو مخاطب ہوا ۔”یہ میرا استاد ہے ،اسے کسی بہتر کمرے میں منتقل کرنا پڑے گا ۔“
”اپنے کمرے میں لے چلتے ہیں ۔“کمانڈر عبدالحق نے فوراََ مشورہ دیا ۔اور میں اپنے استاد کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے کی طرف چل پڑا ۔تھوڑی دیر بعد ہم آمنے سامنے بیٹھے تھے ۔عبدالحق چاے وغیرہ کا بندوبست کرنے نکل گیا تھا ۔
”آپ بھی دہشت گردوں کے ساتھ مل گئے ہو ۔“جیمس میتھونی نے چھوٹتے ہی پوچھا تھا ۔
”میرا خیال ہے دہشت گرد کون ہے اس بارے بحث رہنے دیتے ہیں سر !“
وہ خفیف ہوتا ہوا بولا ۔”معذرت خواہ ہوں ۔“
”ایسا کہہ کر مجھے شرمندہ کر رہے ہیں ،آپ میرے استاد ہیں ۔“
وہ ہنسا ۔”اب تو آپ کی قید میں ہوں ۔“
”آپ قیدی نہیں ہیں ،جب چاہیں آپ کو چھوڑ دیا جائے گا ۔“
”اتنی مہربانی کس لیے ؟“
”یہ مہربانی نہیں ہے ۔“
”آپ تو پاکستان آرمی میں تھے اور جہاں تک میری معلومات ہے پاکستان آرمی افغانستان میں کسی قسم کی کارروائی میں ملوث نہیں ہے ۔“
”ٹھیک کہا سر ،میں یہاں اپنے کسی کام سے آیا ہوں ۔“
”اپنا کام ،مطلب وہی جہاد وغیرہ کا شوق ؟“اس کے لہجے میں ہلکا سا طنز شامل تھا ۔
”جہاد کا شوق تو ہے سر ،مگر پاکستان آرمی کا کوئی سپاہی صرف اسی جہاد میں شامل ہوسکتا ہے جس کی اجازت آرمی کی طرف سے ملی ہو ۔“
”پھر ....“اس نے حیرانی ظاہر کی ۔
اب طنز کی باری میری تھی ۔”اس کے پیچھے بھی آپ لوگوں کی مہربانی شامل ہے ۔“
”بھلا وہ کیسے ؟“اس نے کچھ جاننے کی کوشش کی ۔
جواباََ میں نے اس کے سامنے البرٹ بروک اور کرنل کولن فیلڈ کی ساری کارروائیاں دہر ا دیں جو کہ انھوں نے مجھے بلیک میل کرنے کی خاطر کی تھیں ۔
میری بات کے اختتام پر وہ پوچھنے لگا ۔”اور ان کے قتل میں یہی وجہ کارفرما تھی ۔“
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سر ہلایا۔”یہاں پر میں اکیلا آیا تھا اور مجھے کچھ مددگاروں کی ضرورت تھی ۔یقینا دنیا میں لے دے کے اصول پر کام چلتا ہے پس مجھے مجاہدین کی مدد کرنا پڑی۔“
”یقینا اتنی دور سے آپ ہی انھیں نشانہ بنا سکتے تھے ۔جب مجھ تک کرنل کولن فیلڈ اور دوسرے آفیسرز کے قتل کی بات پہنچی میرا پہلا خیال تمھاری طرف گیا تھا ،لیکن پھر یہ خیال آیا کہ پاکستان آرمی کا کوئی سپاہی افغانستان میں کیسے آسکتا ہے ۔“
میں نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا ۔”کیوں البرٹ بروک اور کرنل کولن فیلڈ کی کارروائی سے آپ بے خبر تھے ۔“
”مجھے کرنل کولن فیلڈ کے قتل کے بعد ہی امریکہ سے بلایا گیا ہے ۔اور مجھے نہیں معلوم کہ انھوں نے کیوں اتنا غلط کام کیا ،کسی کو مجبور نہیں کرنا چاہیے ۔“
”میرے دماغ میں تو یہی خیال تھا کہ شاید آپ ہی نے البرٹ بروک کو میرے بارے مطلع کیا ہو۔“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔”اسے کرنل سکاٹ ڈیوڈ یا کرنل جولی روز ویلٹ سے پتا چلا ہو گا ۔“
”ہونہہ!....تو آپ اب کرنل ہیں ۔“
اس نے تصحیح کی ۔”لیفٹیننٹ کرنل ۔“
”جانتے ہیں سر ،آپ کو پکڑنے کی وجہ ، میری بے گناہی کے ثبوتوں کا حصول ہے ۔“
وہ ہنسا ۔”تو گویا اب میرا سودا کیا جائے گا ۔“
”سودا کیا جانا تھا ،لیکن اب تو بغیر کسی معاہدے کے آپ کو رہا کروں گا ۔“
”کیا باقی آپ کی بات مان لیں گے ۔“
”ماننا پڑے گی ،جب ان کا مقصد میری بے گناہی کے ثبوتوں کا حصول تھا تو پھر آپ کے بارے فیصلہ کرنا میرا حق ہے ۔
اس نے ممنونیت سے کہا ۔”شکریہ ذیشن !“
اسی وقت کمانڈر عبدالحق چاے کے ساتھ کچھ کھانے کے لوازمات لے آیا۔
جیمس نے کہا ۔”ویسے میں ناشتا کر چکا تھا ۔“
میں نے کہا ۔”ہم بھی ۔“
کمانڈر عبدالحق چاے کے برتن چھوڑ کر باہر نکل گیا تھا ۔یقینا وہ ہمیں تنہائی میں گپ شپ کا موقع دینا چاہتا تھا ۔یوں بھی وہ انگریزی نہیں جانتا تھا کہ ہماری بات چیت اس کے پلے پڑتی ۔
جیمس کو اپنے بستر پر لٹا کر میں عبدالحق کے بستر پر لیٹ گیا اوردائیں بائیں کی باتیں کرنے لگے ۔تھوڑی دیر بعد ہی اس کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں ۔اسے سونے کے لیے چھوڑ کر میں باہر نکل آیا ۔اسے میں نے بتا دیا تھا کہ رات کو اسے واپس چھوڑ آﺅں گا ۔
کمانڈر بسم اللہ جان کو کمانڈر عبدالحق ساری بات بتا چکا تھا ،اس نے کسی قسم کے استفسار کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
٭٭٭
رات کاکھانا کھا کر ہم جانے کے لیے تیار تھے ۔جانے سے پہلے میں نے جینی کو رابطہ کرنے کا میسج کر دیا تھا ۔خفیہ ٹھکانے سے نکلنے سے پہلے ہم نے کرنل جیمس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی ۔رستے ہی میں جینی کی کال آگئی تھی ۔میرے ہیلو کرتے ہی وہ بولی ۔
”ذی!....تمھیں بتایا تھا کہ خود سے رابطہ نہ کرنا ۔“
میں ہنسا ۔”مجبوری تھی یار !“
”ذی ہم پر بہت کڑا وقت آیاہوا ہے ،ایک آفیسر کل سے دہشت گردوں کے قبضے میں ہے ، اسے ڈھونڈنے کے لیے کوئی لائحہ عمل سوچا جا رہا ہے ۔“
میں ہنسا ۔”ویسے امریکہ سے بڑا دہشت گرد کون ہو سکتا ہے ۔“
”مذاق کا وقت نہیں ہے ذی ۔“یہ کہتے ہوئے اسے کوئی بات یاد آئی اور وہ پوچھنے لگی۔ ”جانتے ہو وہ ہے کون؟“
”میں مذاق نہیں کر رہا ۔اور مجھے کیسے معلوم ہو سکتا ہے اس کے بارے ۔“
”ذی تمھیں اپنا استاد جیمس میتھونی تو یاد ہو گا ۔“
”استاد بھی کبھی بھولتے ہیں ،ہمارا مذہب تو استادوں کی تکریم کی اتنی ہدایت کرتا ہے جو تم لوگ سوچ بھی نہیں سکتے ۔“
اس نے ایک دم اشتیاق سے پوچھا۔”کیا تم اس معاملے میں ہماری کوئی مدد کر سکتے ہو ؟“
”اگر میرا جواب ہاں میں ہو اور میں انھیں با حفاظت لے بھی آﺅں تو کیا انعام دو گی ۔“
اس نے قہقہہ لگایا ۔”کیا انعام لو گے ،میں تو کب کی سراپا انعام بنی پھر رہی ہوں تم خود ہی انکار پر مائل ہو ۔“
”بکواس کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دینا ۔“
وہ سنجیدہ ہوتے ہوئے بولی ۔”اچھا سچ بتاﺅ ،کچھ کر سکتے ہو ۔“
”جس ہوٹل کے سامنے آخری ملاقات ہوئی تھی وہاں کتنی دیر میں کتنی پہنچ سکتی ہو ۔“
وہ صاف گوئی سے بولی ۔”موجود ہ حالات میں تو بالکل نہیں آسکتی ۔“
”اگر میں کہوں میں جیمس صاحب کو گھنٹے تک وہیں لا رہا ہوں پھر ؟“
”ذی !....میں رابطہ منقطع کر رہی ہوں ۔“اس نے میری بات کو مذاق سے زیادہ اہمیت نہیں دی تھی ۔
”اچھا یہ لو بات کرو ۔“میں نے ساتھ بیٹھے جیمس کو موبائل پکڑا دیا ۔”سر!.... جینی سے بات کریں ۔“
جیمس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔”ہیلو گڈ گرل ۔“
”سر !....“اس نے اتنے زور سے کہا تھا کہ میرے کانوں تک اس کی آواز پہنچی تھی ۔
”میری آنکھوں پر پٹی بندھی ہے اور میں اس وقت مسٹر ذیشن کے ساتھ ہوں ۔وہ مجھے کہیں چھوڑنے جا رہے ہیں ۔“
جانے اس نے جواب میں کیا کہا تھا کہ جیمس نے موبائل میری جانب بڑھا دیا ۔
موبائل کان سے لگاتے ہی میں نے پوچھا ۔”یقین آیا ۔“
وہ وارفتگی سے بولی ۔”ذی !....آئی لو یو ،میں بس آدھے گھنٹے میں وہاں پہنچ رہی ہوں ۔“
”کوشش کرنا کہ اکیلی آنا ۔“
”ٹھیک ہے ۔“کہہ کر اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
غزنی شہر کے مضافات میں پہنچتے ہی میں نے کرنل جیمس کی آنکھوں پر سے پٹی کھول دی ۔ میں اپنے ساتھ بس ڈرائیور ہی کو ہی لایا تھا ۔
ہوٹل کے سامنے ہی ہمیں جینیفر بڑی بے صبری سے منتظر ملی گاڑی کے رکتے ہی وہ آگے بڑھی اور میرے اترتے ہی مجھ سے لپٹ گئی ۔
”ذی !....بہت بہت شکریہ ۔“
میں نے اسے خود سے علاحدہ کرتے ہوئے کہا ۔”یہ نیو یارک نہیں ہے محترمہ۔“
وہ برا منائے بغیر کرنل جیمس میتھونی کی طرف بڑھ گئی ۔
”کیسی ہو آفیسر ۔“جیمس نے اس سے پر تپاک مصافحہ کرتے ہوئے پوچھا ۔
وہ مسکرائی ۔”عمدہ سر ۔“
”اچھا میں چلوں گا ۔“میں ان کی گفتگو میں مخل ہوا ۔
”ٹھیک ہے ۔“جیمس نے مجھ سے الوداعی مصافحہ کیا ۔جینی دوبارہ زبردستی گلے ملی اور وہ دونوں اپنی کار میں بیٹھ گئے ۔میں نے ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کیا ۔تھوڑی دور آتے ہی وہ مجھے مخاطب ہوا ۔
”رات یہیں شہید خان کے گھر گزار لیتے ہیں ،صبح نکل چلیں گے ۔“
شہید خان کا گھر وہی خفیہ ٹھکانہ تھا جہاں احمد بھی ٹھہرا ہوا تھا ۔
”ٹھیک ہے وہیں چلو ۔“میں نے اثبات میں سر ہلا کر کمانڈر بسم اللہ جان کو کال کر کے وہاں رکنے کا بتانے لگا ۔
صبح بھی احمد کے اصرار پر ہم نے واپس لوٹنے کا پروگرام اگلے دن کے لیے موّخر کر دیا تھا ۔ رات گئے مجھے جینی کی کال ملی ۔میری ہیلو کے جواب میں وہ خوشی سے چہکتے ہوئے بولی ۔
”ذی ،تمھاری بے گناہی کے سارے ثبوت میں نے حاصل کر لیے ہیں ۔“
”کیا ....؟“میرا دل خوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا ۔
جاری ہے

No comments: