Ads Top

ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر Novel Snipper by Riaz Aqiz Koahler Episode 60

ﻧﺎﻭﻝ  سنائپر 

 از 

 ریاض_عاقب_کوہلر


Novel Snipper 
by 
Riaz Aqiz Kohler 
Episode 60
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر 
  از 
 ریاض_عاقب_کوہلر
60 قسط نمبر 
سنائپر
قسط نمبر 60
ریاض عاقب کوہلر
میں بری طرح پھنس گیا تھا ۔ان کی نظروں میں آئے بغیر میں ہوٹل سے نکل نہیں سکتا تھا ۔ البتہ یہ ممکن تھا کہ وہ صرف میری نگرانی کر رہے ہوتے اور میں باہر نکل کر انھیں جل دے کر بھاگ جاتا لیکن اس کے بعد کرس کارٹر میرے ہاتھ سے نکل جاتا ۔یقینا میرے غائب ہونے کے بعد وہ بھی منظر عام سے ہٹ جاتا بہتر یہی تھا کہ میں اسے یرغمال بنا کر ہوٹل سے اڑن چھو ہونے کی کوشش کرتا ۔ایک نتیجے پر پہنچ کر میں نے پستول کی نال پر سائیلنسر چڑھایا اورجسم پر چادر لپیٹ کر باہر نکل آیا ۔گیلری سنسان پڑی تھی۔ کمرہ نمبر بتیس اے تک میں دبے قدموں چلتا ہوا پہنچا ۔دائیں بائیں دیکھ کر میں نے گیلری کے خالی ہونے کا یقین کیا اور سائیلنسر کو لاک کے ساتھ لگا کر ٹریگر دبا دیا ۔
”ٹھک ۔“کی آواز ابھرتے ہی میں دروازے کو دھکیلتا ہوا اندر داخل ہوا ۔وہ دونوں ایسی حالت میں نہیں تھے کہ کمرے سے باہر ہونے والی۔” ٹھک ۔“انھیں متوجہ کر سکتی ۔یقینا کرس کارٹر کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں ایسی جرات کا مظاہرہ کروں گا ۔میرے آندھی و طوفان کی طرح اندر گھسنے پر وہ ہڑبڑا گئے تھے ۔لڑکی کے منھ سے سریلی چیخ برآمد ہوئی مگر اس وقت تک میں دروازہ بھیڑ چکا تھا ۔
”تولیہ لپیٹ لو ۔“میں نے ہکا بکا بیٹھی لڑکی کو اس کی بے لباسی کی طرف متوجہ کیا ۔
اس نے ہڑبڑاتے ہوئے تولیہ اٹھا کر لپیٹ لیا تھا ۔
”تم اسی طرح کھڑے ہو جاﺅ۔“کرس کارٹر کو میں انگریزی میں مخاطب ہوا تھا ۔
”یقینا تمھیں اپنی جان عزیز نہیں ہے ۔“کینہ توز نظروں سے مجھے گھورتے ہوئے وہ کھڑا ہو گیا تھا ۔
میں ہنسا ۔”یہ کسی صحافی کا لہجہ تو نہیں ہے ۔“
میری بات پر وہ ہونٹ بھینچ کر رہ گیا تھا ۔
اس کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے میں نے کہا ۔”گھوم جاﺅ ۔“وہ آہستہ سے گھوم گیا ۔
”اپنے ہاتھ پیچھے باندھ لو ۔“میں نے اگلا حکم دیا ۔یہ کہتے ہوئے میں اس کے قریب پہنچ گیا تھا ۔
ہاتھ پیچھے لاتے ہوئے وہ ایک دم میری طرف مڑکر پستول پر جھپٹا۔مجھے اس سے اسی قسم کی کارروائی کی توقع تھی ۔ پستول والا ہاتھ نیچے کرتے ہوئے میں نے پستول کو اس کی دست برد سے بچایا اس کے ساتھ ہی میرا بایاں مکا نیم دائرہ بناتا ہوا اس کی ٹھوڑی کی طرف بڑھا ۔اس کی سمجھ میں کچھ آنے سے پہلے حواس اس کا ساتھ چھوڑ گئے تھے ۔وہ لہراتا ہوا منھ کے بل نیچے گرگیا ۔اگر فرش پر دبیز قالین موجود نہ ہوتا تو یقینا اس کا تھوبڑا ٹیڑھا ہو گیا ہوتا ۔
”کھڑی ہو جاﺅ۔“میں نے پستول کی نال سے لڑکی کو اٹھنے کا اشارہ کیا ۔اسے میں پشتو میں مخاطب کر رہا تھا ۔
وہ لرزتی ہوئی کھڑی ہو گئی ۔ایسی لڑکیوں کی بزدلی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہوتی۔
”اس طرف۔“میں نے پستول کی نال سے اسے غسل خانے کی طرف چلنے کا اشارہ کیا ۔
”مم ....مجھے جانے دو میں کسی کو کچھ نہیں بتاﺅں گی ۔“وہ باقاعدہ کانپنے لگ گئی تھی ۔
”تعاون کرو گی تو یقینا جان بچ جائے گی ۔“
وہ پرجوش لہجے میں بولی ۔”میں ہر قسم کے تعاون پر تیار ہوں ۔“میری بات کا اس نے الٹا مطلب لیا تھا ۔
”ہر قسم کا تعاون چھوڑو ،بس تھوڑی دیر غسل خانے میں گزار لو ۔“اس کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے میں نے غسل کا دروازہ کھول کر اندر جھانکا اور مطمئن ہوتے ہوئے اسے اندر دھکیل دیا ۔
کرس کارٹر کسی بھی وقت ہوش میں آسکتا تھا ۔لڑکی سے بے فکر ہوتے ہی میں نے کرس کارٹر کی ٹائی اٹھا کر اس کے ہاتھ پشت پر باندھے تاکہ ہوش میں آنے پر وہ کوئی غلط حرکت نہ کر سکے اور لباس کی تلاشی لینے لگا ۔اس کا پرس اور موبائل فون میں نے اپنی جیب میں منتقل کر دیا ۔تکیے کے نیچے پڑے بریٹا نے مجھے خوش کر دیا تھا ۔گلاک کی طرح یہ بھی اعلا کوالٹی کا پستول تھا ۔جلدی جلدی باقی کمرے کی تلاشی لے کر میں کمانڈر بسم اللہ جان کو کال کرنے لگا ۔
”ہاں ذیشان !“کال وصول کرتے ہی اس نے بے صبری سے پوچھا ۔”کیا آپ کسی محفوظ ٹھکانے پر پہنچ چکے ہیں ؟“
”میں اسی کے کمرے میں ہوں اور اب اسے کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنا ہوگا۔“
”کیا مطلب۔“وہ حیرانی سے چیخ پڑا تھا ۔
میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ۔”مطلب یہ کہ میں نے اسے بے ہوش کر دیا ہے اور اسی سے احمد کے بارے بھی معلوم ہو جائے گا ۔“
”ہوٹل سے باہر کیسے نکالیں گے ؟“
”آپ دو تین ساتھیوں کو گاڑی دے کر ہوٹل کی جانب بھیجیں میں اسے باہر نکالنے کی سعی کرتا ہوں ۔“
”مطلب ٹاکرا ہو کر رہے گا ۔“اس نے خوش دلی سے قہقہہ لگایا ۔
”اس کے بغیر چارہ بھی نہیں ہے ۔“
”ٹھیک ہے ،میری کال کا انتظار کرنا ۔“اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔اسی اثناءمیں کرس کارٹر کسمساکر اٹھ بیٹھا تھا ۔
میں نے لڑکی کو غسل خانے سے باہر نکال کر کپڑے پہننے کو کہا ۔وہ ابھی تک سخت خوفزدہ تھی ۔ لرزتے کانپتے ہوئے اس نے کپڑے پہن لیے ۔
”اب اسے بھی پتلون پہنا دو ۔“میں کرس کارٹرکی طرف اشارہ کیا ۔
سر ہلاتے ہوئے وہ کرس کا انڈر ویئر اور پتلون اٹھا کر اس کی طرف بڑھ گئی ۔
کرس نے بے چوں و چراں پتلون پہن لی تھی ۔وہ بار بار منھ کھول کر اپنے جبڑے کو ہلا رہا تھا۔ یقینا میرے دائروی مکے نے اس کے جبڑے کو ہلا دیا تھا ۔
”یہ کوٹ بھی اسے اوڑھا دو ۔“میں نے گرم اوورکوٹ اس کی طرف بڑھایا۔وہ کوٹ کافی کھلا تھا ۔لڑکی نے اس کے کندھوں پر کوٹ ڈال کر سامنے سے بٹن بند کر دیے ۔اب محسوس ہی نہیں ہورہا تھا کہ اس کے ہاتھ پشت پر بندھے ہیں ۔
کرس کارٹر کے نزدیک جا کر میں نے پستول جیب میں ڈالااور کہا ۔
”اپنا منھ بند کرو۔“اسے معلوم ہو گیا تھا کہ میں کیا کرنے والا ہوں اس نے منھ بند کر لیا ۔میں نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اس کے جبڑوں کے دائیں بائیں رکھ کر اندر کی طرف ٹھوکر لگائی ۔اس کے جبڑوں کی ہڈیاں اپنے جوڑوں میں بیٹھ گئی تھیں ۔
”چلو ۔“انھیں آگے بڑھنے کا اشارہ کر کے میں اپنے کمرے میں لے آیا ۔خوش قسمتی سے گیلری اس وقت بھی خالی پڑی تھی ۔اگر کوئی موجود بھی ہوتا تب بھی اسے کچھ معلوم نہ ہو پاتا ۔
”بیٹھ جاﺅ ۔“اپنے کمرے داخل ہوتے ہی میں نے صوفے کی طرف اشارہ کیا ۔میں نے خود بیڈ پر نشست سنبھال لی تھی تھوڑی دیر بعد ہی کمانڈر بسم اللہ جان کی کال آنے لگی تھی ۔
”اسلام علیکم !“میں کال وصول کی ۔
”پانچ منٹ میں دو گاڑیاں ہوٹل کے سامنے پہنچ جائیں گی ۔ہر گاڑی میں تین آدمی سوار ہیں۔“
”ٹھیک ہے ہم بھی باہر آ رہے ہیں ۔“مختصراََ کہتے ہوئے میں نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
”انگلش سمجھتی ہو ؟“میں نے لڑکی سے پوچھا اور اس نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
”یہاں سے تم دونوں اکھٹے باہر نکلو گے۔لڑکی !....تم کرس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اس کے ساتھ چپک کر چلو گی ۔میں تم سے ایک قدم پیچھے چلوں گا ۔اگر ذرا بھی گڑ بڑ کی کوشش کی تو مسٹر کرس!....یادرکھنا وہ تمھاری زندگی کی آخری بے وقوفی ہو گی ۔استقبالیہ پر جا کر بتاﺅ گے کہ تم ایک دن کے لیے کہیں جا رہے ہو ۔ میں اپنے کمرے کی چابی استقبالین کو واپس کرکے اپنا حساب بے باق کروں گا۔اس دوران تم وہیں ٹھہر کر میرے منتظر رہو گے ۔میں جانتا ہوں کہ نیچے ہال میں تمھاراایک یا اس سے زیادہ ساتھی موجود ہیں ،مگر وہ عمر گھٹانے کے علاوہ تمھاری کوئی مدد نہیں کر سکتے ۔“
وہ ہونٹ بھینچے خاموش بیٹھا رہا ۔
”اب اٹھو اور چل پڑو،چہرے پر بھی ذرا خوش گواری لاﺅ ۔بالکل ویسا ہی موڈ جیسا میری آمد سے پہلے بنایا ہوا تھا ۔“یہ کہتے ہوئے میں اپنے جسم پر چادر لپیٹ لی تھی تاکہ پستول نظر نہ آئے ۔
سیڑھیاں اتر کر ہم ہال میں پہنچے ۔اتنی رات گزرنے کے بعد بھی ہال مکمل خالی نہیں ہوا تھا ۔اکا دکا میز پر اب بھی گاہک بیٹھے نظر آرہے تھے ۔میرے حکم کے مطابق وہ دونوں استقبالیہ کی طرف بڑھنے لگے میں ان کے قریب ہی چل رہا تھا ۔
”ہم کہیں جا رہے ہیں کل تک لوٹ آئیں گے اگر کوئی میرا پوچھنے آئے تو بتا دینا کہ کل شام تک واپس پہنچ جاﺅں گا ۔“کرس کارٹر نے رٹا رٹایا فقرہ دہراتے ہوئے کمرے کی چابی استقبالین کی طرف بڑھا دی ۔
”ٹھیک ہے سر ۔“استقبالین نے کاروباری مسکراہٹ چہرے پر بکھیری ۔
”میں کمرہ چھوڑ رہا ہوں ،بل بنادیں۔“استقبالین سے مخاطب ہوتے ہوئے بھی میرا رخ ان دونوں کی جانب تھا ۔وہ استقبالیہ کاﺅنٹر کے ساتھ کھڑے ہو کر ہال کا جائزہ لے رہے تھے ۔
استقبالین نے پوچھا ۔”سر کمرہ نمبر پلیز ۔“
کمرہ نمبر بتا کر میں نے کمرے کی چابی بھی اس کی جانب بڑھا دی ۔
حساب کتاب کر کے اس نے بل اور میرا پاسپورٹ میری جانب بڑھا دیا ۔بل ادا کر کے میں نے کہا ۔
”ایک منٹ ذرا رجسٹر دکھانا ۔“
”یہ لیں سر ۔“اس نے رجسٹر میری جانب گھمایا۔ایک نظر صفحے پر گھماتے ہوئے میں نے تیزی سے وہ صفحہ پھاڑ کر اپنے ساتھ رکھ لیا ۔
”کک....کیا ....“اس نے کچھ کہنا چاہا مگر پستول کی جھلک دیکھتے ہی خاموش ہو گیا تھا۔
اسی دوران ایک لمحے کے لیے میں کرس کارٹر سے غافل ہوا ۔اس نے کندھے سے لڑکی کو میری جانب دھکا دیا اور بیرونی دروازے کی طرف بھاگا ۔
لڑکی کو کو واپس دھکیل کر میں اس کے پیچھے بھاگ پڑا۔اسی وقت مختلف کونوں سے تین افراد کھڑے ہوئے ۔میں نے فوراََ گھٹنا نیچے ٹیک کر کرس کی پنڈلی پر فائر کر دیا ۔وہ بھاگ رہا تھا لیکن اس کا مجھ سے فاصلہ چند قدموں سے زیادہ نہیں تھا ۔گولی ضائع ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔
وہ اوندھے منھ نیچے گرا ۔تین آدمی پستول نکال کر ہماری طرف بڑھے تینوں مقامی ہی تھے۔ دائیں بائیں میزوں پر بیٹھے گاہکوں کو بھی گڑبڑ کا پتا چل گیا تھا ۔چند نسوانی چیخیں بلند ہوئیں ۔کوئی پولیس کو بلانے کا مشورہ دینے لگا ۔تین چار آدمی دروازوں کی طرف بھاگے کچھ کونوں میں سمٹ گئے تھے ۔
میں بھاگ کر کرس کے قریب پہنچا۔وہ کراہتے ہوئے اٹھ بیٹھا تھا ۔اس کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر میں نے زبردستی کھڑا کر دیا۔
اس کے ساتھی بھی قریب پہنچ گئے تھے ۔تینوں کے تیور خاصے بگڑے ہوئے تھے ۔
”اگر کسی نے ہوشیاری کی کوشش کی تو یہ جان سے جائے گا ۔“کرس کی کنپٹی سے پستول لگاتے ہوئے میں نے انھیں دھمکایا۔
”بچے گا تو بھی نہیں ۔“ ایک نے جوابی دھمکی دی ۔
صورت حال کافی بگڑ چکی تھی ۔اگر مزید وقت گزرتا تو پولیس بھی وہاں آجاتی ۔انھوں ایک خاص بے وقوفی کی تھی کہ وہ ایک جانب اکٹھے ہوگئے تھے۔اگر وہ میرے چاروں جانب کھڑے ہو گئے ہوتے تو میں زیادہ خطرے میں ہوتا ۔سرعت سے سوچتے ہوئے میں نے خطرہ مول لینے کا فیصلہ کیا ۔اور کرس کو اپنے سامنے ڈھال کی طرح پکڑتے ہوئے کہا ۔
”میرے تین گننے تک اگر تم لوگوں نے پستول نیچے نہ پھینکے تو یہ جان سے جائے گا۔ ایک....“
انھوں نے میرے گنتی شروع کرتے ہی ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور اسی لمحے میں کام کر گزرا ۔بغیر لمحہ ضائع کیے میں نے پستول سیدھا کیا اور ٹریگر کومسلسل دباتا گیا ۔تینوں کے ماتھے میں گولیاں لگی تھیں ۔اتنی تیزی سے پستول سے فائر کر کے کسی کے سر میں گولی مارنا ایک فن ہی تھا ۔مگر وہاں مجھے سراہنے کے بجائے تیز نسوانی چیخیں ابھرنا شروع ہو گئی تھیں ۔
”چلو ۔“میں نے کرس کو دھکیلا ۔
وہ کراہتے ،لنگڑاتے ہوئے آگے بڑھا ۔ہوٹل کے داخلی دروازے کے باہر کھڑے دو ہتھیار بردار دربان یقینا میرے لیے مسئلہ پیدا کردیتے ،مگر اسی وقت دروازے سے چار کلاشن کوفوں والے اندر گھسے ۔ ان میں سے دو کو میں پہچانتا تھا ۔وہ کمانڈر بسم اللہ جان کے ساتھی تھے ۔ایک نے دربانوں پر کلاشن کوف پکڑ کر انھیں ایک طرف ہونے کا اشارہ کیا ۔باقی تینوں میرے قریب آگئے ۔
”کیا حکم ہے ۔“
” وقت نہیں ہے اسے اٹھا کر لے جانا پڑے گا ۔“
اس نے سرہلاتے ہوئے کلاشن کوف ساتھی کے حوالے کی اور کرس کو کندھے پر اٹھا کر واپس مڑ گیا ۔ دروازے کے سامنے ہی دو ڈبل کیبن کھڑی تھیں ۔بیٹھتے ہوئے میں نے ایک آدمی کو احمد کی موٹر سائیکل کی چابی پکڑائی اور پارکنگ میں کھڑی موٹر سائیکل کی جانب اشارہ کر کے کہا۔
”آپ احمد بھائی کی موٹر سائیکل لے آئیں ۔“
وہ سر ہلاتا ہوا نیچے اتر گیا ۔دونوں ڈبل کیبن آگے پیچھے حرکت کرتے ہوئے آگے بڑھ گئیں ۔ میں چادر سے پٹی پھاڑ کرکرس کی پنڈلی سے باندھ دی تھی ورنہ زیادہ خون بہہ جانے سے اس کی جان کو بھی خطرہ ہو سکتا تھا ۔تیز ڈرائیونگ کرتے ہوئے ہم ہوٹل سے دور ہوتے گئے ۔میں کرس کے ہمراہ آگے والی گاڑی میں تھا ۔ تھوڑی دورآتے ہی دوسری گاڑی ہم سے علاحدہ ہو گئی تھی ۔پندرہ بیس منٹ کی ڈرائیونگ کے بعد ہم ایک درمیانے مکان کے سامنے رک گئے ۔ہارن سن کر ایک شخص نے باہر جھانکا اور گاڑی کو پہچانتے ہی دروازہ کھول دیا ۔
وہ ایک درمیانہ سا مکان تھا ۔گاڑی صحن میں کھڑی کر کے ہم نیچے اترے اور مکان میں موجود آدمی کی رہنمائی میں چلتے ہوئے ایک خفیہ کمرے میں پہنچے ۔گو وہ کمرہ دوسرے کمروں کے درمیان ہی میں تھا مگر اس انداز میں بنایا گیا تھا کہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ یہاں کمرہ موجود ہے ۔
اندر گھستے ہی ہم نے فی الفور کرس سے پوچھ گچھ شروع کر دی ۔
”احمد کہاں ہے ؟“میں نے پہلا سوال ہی اپنے گمشدہ ساتھی کے متعلق پوچھا تھا ۔
”کون احمد ۔“اس نے بے پروائی سے کہتے ہوئے خود کو نڈر ظاہر کرنا چاہا۔
”دیکھو مسٹر کرس !....احمد کے بارے تمھیں زبان تو کھولنا پڑے گی ۔آرام سے یا تکلیف برداشت کر کے ۔“
وہ اطمینان سے بولا ۔”اگر خواہ مخواہ تشدد کرنے کا شوق ہے تو آگے بڑھو ۔“
”آری مل جائے گی ۔“میں نے میزبان سے پوچھا ۔
”جی ۔“اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہ باہر نکل گیا ۔
اس کی واپسی تک میں نے اس کی پتلون کا پائنچہ موڑ کر زخمی پنڈلی کو ننگا کر دیا تھا ۔وہ ہونٹ بھینچے میری کارروائی دیکھتا رہا ۔دو تین منٹ بعد میزبان آری لیے نمودار ہوا ۔
”اس کی ٹانگ یہاں گھٹنے سے پکڑو۔“میں نے میزبان ہی کو کہا۔اور اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس کے گھٹنے کو مضبوطی سے پکڑ لیا ۔
”تت....تم کیا کر رہے ہو ۔“میرا اطمینان بھرا انداز اسے خوفزدہ کر گیا تھا ۔
”زخمی پنڈلی کا کاٹ کر علاحدہ کر دیتا ہوں ،یہ تو اب یوں بھی بے کار ہے ۔“یہ کہتے ہوئے میں نے زخم سے انچ بھر اوپر آری رکھی ۔
”ایک منٹ ....“وہ لرزتے ہوئے ایک پتا دہرانے لگا ۔
میں نے سوالیہ نظروں سے اپنے ساتھیوں کی جانب دیکھا اور انھوں نے اوپر نیچے سر ہلا کر سمجھ جانے کا اشارہ کر دیا ۔
”تیار ہو جاﺅ ۔“کرس کارٹر کو میزبان کے حوالے کر کے میں باقیوں کے ساتھ باہر نکل آیا ۔
انھوں نے کال کر کے دوسری گاڑی کو بھی بلا لیا تھا ۔رستے ہی میں ہمیں دوسری گاڑی نے مل جانا تھا ۔
”کیا ابھی جانا ضروری ہے ۔“بسم اللہ جان کے ایک ساتھی نے پوچھا جس کا نام مجھے بعد میں حیدر معلوم ہواتھا ۔
میں نے کہا ۔”ہاں دیر کرنے سے وہ اسے کسی دوسری جگہ بھی منتقل کر سکتے ہیں ۔“
”ہونہہ۔“حیدر نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔حیدر کے علاوہ میرے ساتھ شمال خان اور میر قلم خان بیٹھے ہوئے تھے ۔باقی افراد دوسری گاڑی میں تھے۔ایک چوک پر دوسری گاڑی ہماری منتظر کھڑی تھی ۔ہمارے آگے بڑھتے ہی وہ پیچھے پیچھے چل پڑے ۔
مطلوبہ مکان گنجان آبادی میں تھا ۔وہاں تک ہمیں آدھا گھنٹا لگا تھا ۔ایک چوک پر گاڑی روکتے ہوئے حیدر نے کہا ۔”سامنے پہلی گلی میں دوسرا مکان وہی ہے ۔“
”آپ لوگ یہیں رکو میں جائزہ لیتا ہوں ۔“میں نے نیچے اترنے کے لیے درواز کھولا ۔
”میں جاتا ہوں ۔“میر قلم نے اپنی خدمات پیش کیں ۔
”آپ بس تیاری حالت میں رہنا ۔“میں نے مفلر چہرے کے گرد لپیٹا اورنیچے اتر گیا ۔
”میں بھی ساتھ چلتا ہوں ۔“میر قلم بھی میرے ساتھ ہو لیا تھا ۔
رات ختم ہونے کو تھی ۔سڑکوں پر آمدو رفت نہ ہونے کے برابر تھی ۔دونوں گاڑیاں چوک سے تھوڑا آگے لا کر انھوں نے سڑک کے ایک جانب کھڑی کر دیں ۔میں اور میر قلم چہل قدمی کے انداز میں آگے بڑھنے لگے ۔گو نہ تو صبح کی نماز کا وقت ہوا تھا اور نہ مٹر گشت کا وقت تھا ۔ہماری حرکت شکوک کے دائرے میں آرہی تھی ۔لیکن ہم احتیاط کو نظر انداز کیے آگے بڑھتے گئے ۔گلی کے سامنے سے گزرتے ہوئے مجھے مطلوبہ گھر کے دروازے سے روشنی چھلکتی ہوئی نظر آئی ۔واضح نظر آرہا تھا کہ گھر دروازہ کھلا ہوا ہے ۔
”مجھے لگتا ہے وہ نکل گئے ہیں ۔“آگے جانے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے میں گلی میں مڑ گیا ۔
”صحیح کہہ رہے ہو ۔کھلے دروازے کو دیکھ کر تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ دشمن افراتفری میں بھاگ گئے ہیں ۔“میر قلم نے میری تائید میں سر ہلادیا ۔
مطلوبہ مکان کے سامنے پہنچتے ہی مجھے اپنا اندازہ صحیح ہوتا نظر آیا ۔نہ صرف داخلی دروازہ کھلا تھا بلکہ اندر کمروں کے دروازے بھی کھلے ہوئے نظر آرہے تھے ۔وہ روشنی کو جلتا اور دروازوں کو کھلا چھوڑ کر بھاگے تھے ۔
”میرا خیال ہے اندر چل کر جائزہ لے لیتے ہیں ۔“میرقلم نے مشورہ دیتے ہوئے آگے قدم بڑھا دیے ۔میں سر ہلاتا ہوا اس کے پیچھے ہو لیا ۔
مختصر صحن کے بعد برآمدہ نظر آرہاتھا جس کے بعد کمروں کے دروازے تھے ۔میر قلم مجھ سے دو قدم آگے تھا جونھی وہ برآمدے کے قریب پہنچا اچانک ہی مجھے اس کی گردن کے نیچے ایک سرخ نقطہ نظر آیا۔ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں مجھے خطرے کا احساس ہو گیا تھا ۔یقیناوہ لیزر پوائنٹ کا نشان تھا ۔کسی نے ہم پر نشانہ سادھا ہوا تھا ۔
”نیچے لیٹ جاﺅ ۔“خود کو زمین پر گراتے ہوئے میں چیخا ۔لیکن میر قلم کو دیر ہو گئی تھی ۔میرے الفاظ جب تک اس کی سمجھ میں آتے اس کی گردن میں گولی پیوست ہو گئی تھی ۔میری طرح وہ بھی اوندھے منھ ہی گرا تھا لیکن اس کے گرنے میں اس کی مرضی شامل نہیں تھی ۔
نیچے گرنے کے ساتھ میں ساکت نہیں ہوا تھا بلکہ زقند بھر کر میں نے برآمدے کے ستون کے ساتھ آڑ ڈھونڈ لی ۔انھوں نے مکان کے دروازے کھلے چھوڑ کر ہمارے لیے چارہ ڈالا تھا اور ہم بغیر سوچے سمجھے ان کی چال میں آگے تھے ۔گو اس مکان میں گھستے وقت میرے دماغ میں ہلکی سی کھٹک موجود تھی لیکن میں احتیاط نہیں برت سکا تھا ۔
ستون کی آڑ میں آکر میں نے جیب سے پستول نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا ،مگر فائر کرنے والے مخالف مکان کی چھت پر تھے اور پستول کی رینج سے دور تھے۔
میرے سامنے ایک کمرے کا دروازہ تھا ۔ستون کی آڑ میں بہ ہرحال تھوڑا بہت خطرہ موجود تھا۔چھت پر لیٹے فائرر نے مجھے نشانہ بنانے کے لیے چند اور فائر کیے تمام گولیاں ستون میں لگی تھیں ۔ اسی وقت کلاشن کوف کے فائر کی آواز میرے کانوں میں گونجی ۔ اندازے کے مطابق وہ میرے ساتھیوں کا جوابی فائر تھا ۔میرے لیے واپس درواے تک پہنچنا ممکن نہیں تھا ۔میں نے کمرے میں داخل ہونا مناسب سمجھا ۔اور کلاشن کوف کا دوسرابرسٹ فائر ہوتے ہی میں چھلانگ لگا کر کمرے میں داخل ہوا، مگر میری بدقسمتی کہ کمرہ خالی نہیں تھا ۔
”ہاتھ اوپر ۔“انگریزی میں پکارا گیا تھا ۔وہ دو نقاب پوش تھے ایک کے ہاتھ میں پستول تھا ۔ اس کے منھ سے الفاظ کی ادائی ہونے تک میں فائر کر چکا تھا .مجھے ہینڈز اپ کرانے کی حسرت دل میں لیے وہ سر میں گولی کھا کر مردہ چھپکلی کی طرح نیچے گرا،اس کا ساتھی زیادہ چست ثابت ہوا تھا ۔میرے دوبارہ ٹریگر دبانے سے پہلے اس نے بائیں پاﺅں پر گھومتے ہوئے اپنے دائیں پاﺅں سے میرے پستول والے ہاتھ کو نشانہ بنا لیا تھا ۔اس کی ٹھوکر سے پستول میرے ہاتھ سے نکل کر دور جا گرا تھا ۔اس کے بعد بھی اس کی حرکت رکی نہیں تھی ۔دوسرا پاﺅں زمین پر رکھتے ہوئے وہ دوبارہ گھوما اور اس کی دوسری ٹانگ میری چھاتی میں لگی ۔میں دیوار سے ٹکرا گیا تھا ۔اس کے حملوں میں بڑی تیزی تھی ۔میرے جوابی حملے سے پہلے سیدھے ہو کر اس نے اپنا گھٹنا میری ناف میں مارنے کے لیے اوپر اٹھایا ،لیکن اس وقت تک میں سنبھل چکا تھا ۔اس کا وار میں نے اپنے ہاتھوں پر سہا اس کے ساتھ ہی میں نے اپنے سر کی زوردار ٹکر اس کی چھاتی میں رسید کی اور فوراََ ہی مجھے پتا چلا کہ وہ مرد نہیں کوئی عورت تھی ۔میری ٹکر کھا کر وہ دو قدم پیچھے ہٹی اور ایک دم اپنے بائیں پاﺅں پر گھومی ۔اس کا دایاں پاﺅں میرے چہرے کی طرف بڑھا ۔
سر کو ذرا سا نیچے جھکاتے ہوئے میں نے اس کا وار خطا کیا ۔دایاں پاﺅں نیچے لگاتے ہوئے اس نے دوسرا پاﺅں اٹھا کر حملہ کرنا چاہا مگر اس سے پہلے ہی میری زبردست ٹھوکر اس کی پیٹھ پر پڑ چکی تھی ۔
وہ منھ کے بل نیچے گری لیکن اپنے ہاتھوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس نے چہرے کو زمین پر لگنے سے بچا لیا تھا ۔اور پھر اسی طرح پڑے رہنے کے بجائے وہ کروٹ تبدیل کرتی ہوئی میری اگلی ٹھوکر کی زد سے دور ہو گئی ۔دو تین کروٹیں لے کر وہ اچھل کر کھڑی ہو گئی ۔اس کے تیز حملے اور قدو قامت مجھے کسی شک میں مبتلا کر رہا تھا ۔شک دور کرنے کے لیے میں نے اگلے حملے سے پہلے چہرے پر لپٹا مفلر کھولا ۔وہ حملے کے لیے پر تول رہی تھی ،میرا چہرہ دیکھتے ہی ٹھٹک کر رک گئی ۔
”ذی تم ؟“میرے کانوں میں جینیفر کی سریلی آواز گونجی ۔میرا اندازہ ٹھیک نکلا تھا وہ جینی ہی تھی ۔میرے جواب دینے سے پہلے تین ہتھیار بردار اندر گھستے چلے آئے تھے ۔چاروں نے نقاب اوڑھے ہوئے تھے ۔
”ہاتھ اوپر ۔“ان میں سے ایک پشتو میں بولا تھا ۔
میں نے فوراََ ہاتھ اٹھا لیے ۔باہر اب تک فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا تھا ۔
”ٹریسی جانا ہوگا ۔“ایک دوسرا آدمی جینیفر کو انگریزی میں مخاطب ہوا تھا ۔اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ جینفر سے سینئر یا اس کا ہم رینک تھا ۔
”باہر والوں کو بھی اندر بلا لو اوردو آدمی چند منٹ تک یہیں کمرے کے اندر سے فائر کا جواب دیتے رہو ۔“اس کے ساتھ وہ بولا ۔”ایک آدمی اس کے ہاتھ باندھ دو ۔“
”جی سر !“ایک آدمی نے اثبات میں سر ہلادیا۔ جبکہ دوسرے نے اس کے اشارے پر میرے ہاتھ پشت پر باندھے اور میری تلاشی لے کر جیبوں میں موجود سامان نکال لیا ۔
مجھے حراست میں لے کر وہ کمرے میں موجود اندرونی دروازے کی طرف بڑھے ۔دوسرے کمرے کے کونے میں سیڑھیاں نیچے جا رہی تھیں ۔سیڑھیاں اتر کر ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس کی شمالی دیوار میں تنگ سی سرنگ نظر آرہی تھی ۔جینیفر آگے ہو گئی اس کے پیچھے میں تھا ۔میرے عقب میں باقی آرہے تھے ۔کافی طویل سرنگ تھی ۔اس کے اختتام پر سیڑھیاں اوپر جا رہی تھیں ۔ہم پہلے والے مکان سے قریباََ پانچ چھے مکان دور آگئے تھے ۔
اس دوران میرا دماغ اسی ادھیڑ بن میں مصروف رہا کہ کیا کرنا چاہیے ۔نہ جانے جینی میری کچھ مدد کر پاتی یا نہیں ۔آخر وہ خود امریکن سرکار کی ملازم ہی تو تھی اور جب اس سے ایک سینئر آدمی موجود تھا تو اس کا کیا بس چلتا ۔اگر وہ دھوکے سے مجھے فرار کر دیتی تب بھی اس پر بات تو آسکتی تھی ۔پہلی دفعہ میرا نام لینے کے بعد اس نے دوبارہ مجھے مخاطب کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔اور اس کا صاف مطلب یہی تھا کہ وہ میرے ساتھ شناسائی ظاہر نہیںکرنا چاہتی تھی ۔
دوسرے مکان کے صحن میں آتے ہی میرے کانوں میں ایک بار پھر فائر نگ کی آواز آنے لگی تھی ۔صحن میں دو گاڑیاں تیاری حالت میں کھڑی تھیں ۔میرے چہرے پر کالا کپڑا چڑھا کر انھوں نے ایک گاڑی کی عقبی نشست پر دھکیلااور اس مکان سے باہر نکل آئے ۔ان کی بات چیت سے یہی معلوم ہو رہا تھا کہ جینی اور دوسرا امریکن اسی گاڑی میں تھے ۔اس کا نام الیگزینڈر تھا اور وہ جینی سے سینئر لگ رہا تھا ۔ موضوعِ گفتگو مجاہدین کا خفیہ ٹھکانہ تلاش کرنے کی جستجو تھی ۔یقینا احمد سے انھیں کچھ معلوم نہیں ہو پایا تھا ۔
گاڑی آدھا پون گھنٹا چلتی رہی ۔رکنے پر ایک آدمی نے مجھے بازو سے پکڑ کر باہر گھسیٹ لیا ۔ 
تھوڑی دیر بعد میں ایک کرسی پر بندھا ہوا بیٹھا تھا ۔میرے سر پر چڑھا کپڑا انھوں نے اتار دیا تھا ۔الیگزینڈر نے مجھے باندھنے والوں کو کہا ۔
”مجھے غزنی میں موجود دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کی تفصیل چاہیے ۔اوت تفتیش کرتے ہوئے بس اتنا خیال کرنا کہ اسے مرنا نہیں چاہیے باقی ہاتھ پاﺅں کاٹتے ہو یا ناک کان اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ۔“
”فکر نہ کریں سر !“دونوں نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلادیا ۔جینی ٹریسی والکر کے روپ میں وہاں کھڑی مجھے گہری نظروں سے گھور رہی تھی ۔
جاری ہے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.