Ads Top

ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر Novel Snipper by Riaz Aqiz Koahler Episode 59

ﻧﺎﻭﻝ  سنائپر 

 از 

 ریاض_عاقب_کوہلر


Novel Snipper 
by 
Riaz Aqiz Kohler 
Episode 59
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر 
  از 
 ریاض_عاقب_کوہلر
59 قسط نمبر 
سنائپر
قسط نمبر 59
ریاض عاقب کوہلر
 کوشش کے باوجود میں ٹریگر نہیں دبا سکا تھا ۔میں نے رائفل کے بٹ پر ماتھا ٹیک دیا ۔
مجھے شش و پنج میں مبتلا دیکھ کر کمانڈر بسم اللہ جان ایک مرتبہ پھر بولا ۔”کیاسوچ رہے ہو اتنا وقت نہیں ہے ۔“
اسے جواب دیے بغیر میں نے ایک بار پھر کوشش کی لیکن میرے دل میں نہاں اس کی محبت مجھے ایسا کرنے سے روک رہی تھی ۔مجھ سے ملنے کی خاطر اس نے وہاں تک آنا گوارا کیا تھا اور اب میں کیسے اس کی جان لے لیتا ۔
”ذیشان بھائی اٹھو چلیں ۔“بسم اللہ جان زیادہ انتظار نہیں کر سکا تھا ۔مجھے کہتے ہی وہ اپنے ساتھیوں کو مخاطب ہوا ....”راکٹ فائر کر دو ۔“
جینیفر کو اس کے حال پر چھوڑ کر میں نے ایک سرسری نظر صوفوں کی قطار پر گھمائی ۔ایک کونے میں چھپے شخص کی کھوپڑی نظر آرہی تھی ۔
کاک شدہ گولی سے اسے چھپنے کی ضرورت سے بے نیاز کرتے ہوئے میں اٹھ گیا ۔کمانڈر بسم اللہ جان مجھ سے پہلے کھڑا ہوگیا تھا ۔
”ذیشان بھائی !....ان کا کافی نقصان ہو چکا ہے ،تھوڑی دیر تک وہ پوری قوت سے یہاں حملہ کر دیں گے ۔اور یقینا ہیلی کاپٹر کی وجہ سے ہمیں ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔“
میری سمجھ میں اس کا تیزی کرنا آگیا تھا ۔میں نے رائفل کو کھولے بغیر کندھے پر رکھا اور نیچے کی طرف دوڑ لگا دی ۔اس وقت تک بسم اللہ جان کے ساتھی راکٹ فائر کر چکے تھے ۔
دس منٹ میں میں نیچے پہنچ گیا تھا ۔بسم اللہ جان اور اس کے ساتھی بھی میرے قریب پہنچ چکے تھے ۔رائفل کو میں نے ڈبل کیبن کی عقبی نشست پر رکھا ۔بسم اللہ جان ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا تھا۔ گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے اس نے تیزی سے درختوں کے جھنڈ سے نکالی اور ایک مخصوص جانب بڑھتا گیا ۔ اس کے باقی ساتھی دوسری گاڑی میں بیٹھ کر ہمارے پیچھے ہی چل پڑے تھے ۔دو گاڑیاں اسلحے وغیرہ کی بھر کر وہ پہلے ہی وہاں سے بھیج چکے تھے ۔
کمانڈر بسم اللہ جان سیدھا چلتا رہا ۔وہ کچا رستا آگے جاکر ایک سڑک سے مل گیا تھا ۔وہاں پر اس کے ساتھی ہم سے مخالف سمت مڑ گئے ۔
”باقیوں نے اپنی سمت تبدیل کر لی ہے ۔“میں نے بسم اللہ جان کو مطلع کرنا مناسب سمجھا تھا۔
”انھوں نے ہمارے ساتھ نہیں جانا ۔“مجھے مطلع کرتے ہوئے اس نے جیب سے موبائل فون نکالا اور کسی کا نمبر ملانے لگا ۔رابطہ ہوتے ہی اس نے مختصراََ کہا ۔”ہم آرہے ہیں ۔“اور جواب سنے بغیر رابطہ منقطع کرتے ہوئے ڈرائیونگ کی طرف متوجہ ہوگیا ۔
چار پانچ کلو میٹر کے بعد اس نے گاڑی سڑک سے اتار کر پہاڑی کے دامن میں نظر آنے والے دو گھروں کی طرف موڑدی وہ سڑک سے چھے سات سو گز دور تھے ۔ان گھروں کے قریب گاڑی روکتے ہوئے وہ بولا ۔”رائفل اٹھا لو ۔“کلاشن کوف اس نے ہاتھ میں پکڑ لی تھی ۔
میں نے سر ہلاتے ہوئے عقبی نشست پر پڑی رینج ماسٹر اٹھا لی ۔گاڑی کو رکتے دیکھ کر ایک گھر سے درمیانی عمر کا ایک مردبھاگتے ہوئے باہر نکلا ۔ہم سے رسمی مصافحہ کرکے اس نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور گاڑی واپس سڑک کی جانب موڑ لی ۔
”چلو ۔“بسم اللہ جان نے مجھے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا ۔دروازے پر ایک بوڑھا بابا ہمیں منتظر نظر آیا ۔ دونوں سے معانقہ کر کے اس نے خوش آمدید کہا ۔اسی وقت بسم اللہ جان نے مجھے اس ٹیکری کی طرف متوجہ کیا جہاں دو ہیلی کاپٹر اڑتے نظر آرہے تھے ۔انھوں نے وہاں پہنچنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
گھر میں داخل ہوتے ہی میری نظر دو تین کم عمر بچوں پر پڑی جو صحن میں کھیل رہے تھے ۔ایک کمرے کے دروازے سے ایک جواں سال عورت کا چہرہ جھلک رہا تھا ،مجھے اپنی جانب متوجہ پا کر وہ چہرہ غائب ہو گیا ۔ہم بوڑھے کی معیت میں چلتے ہوئے ایک ایسے کمرے میں داخل ہوئے جو خوب سجا ہوا تھا۔ اندر داخل ہو کر وہ رکا نہیں بلکہ آگے بڑھتا گیا ۔کمرے سے ملحق غسل خانے میں گھس کر اس نے ہمارے اندر داخل ہونے کا انتظار کیا ۔جونھی ہم بھی اندر گھسے اس نے فوراََ دروازہ بند کردیا ۔غسل خانے کی چاروں دیواروں پر پلاسٹک کی زرد رنگ کی شیٹ لگی ہوئی تھی ۔دروازہ بند کر کے اس نے دروازے کے عقب میں آنے والی شیٹ کو ہٹایا اور دیوار کو دھکیلا تو وہ پیچھے ہٹتی چلی گئی دیوار ہٹتے ہی تنگ سا دروازہ نظر آیا۔ وہ بوڑھا اندر داخل ہو گیا اس کے پیچھے بسم اللہ جان اور سب سے آخر میں میں تھا ۔اس تنگ سی گیلری کا اختتام سیڑھیوں پر ہوا جو نیچے جا رہی تھیں ۔بارہ سیڑھیاں اتر کر ہم زیر زمین کمرے میں پہنچے کافی کھلا تہہ خانہ تھا ۔شمالی اور جنوبی دیواروں پر ٹنگے دو بلب تہہ خانے کو خوب روشن کیے ہوئے تھے ۔ چاروں دیواروں کے ساتھ ایک ایک چارپائی لگی ہوئی تھی جن پر صاف ستھری چادریں بچھی ہوئی تھیں ۔ دو چارپائیوں پر موٹی رضائیاں بھی رکھی ہوئی تھیں ۔شاید انھیں ہماری تعدادکے بارے بسم اللہ جان پہلے سے آگاہ کر چکا تھا ۔درمیان میں لکڑی کی ایک میز بھی نظر آرہی تھی جس پر ہاتھ سے کڑھائی کی ہوئی ایک سفید چارد بچھی تھی ۔
بوڑھے نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
میں نے رینج ماسٹر کو ایک چارپائی پر رکھا اور خود دوسری چارپائی پر نشست سنبھال لی ۔
ہمارے بیٹھتے ہی بوڑھے نے پوچھا ۔”چاے یا قہوہ۔“
”بہرام چچا !ہم نے ابھی تک کھانا نہیں کھایا۔“کمانڈر بسم اللہ جان نے کسی قسم کے تکلف کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
بہرام سر ہلاتا ہوا باہر نکل گیا ۔
”ذیشان بھائی بہت عمدہ ۔“بوڑھے بہرام کے باہر جاتے ہی بسم اللہ جان نے تحسین آمیز لہجے میں گفتگو کی ابتدا کی ۔
میں نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”بتایا تھا نا شاگرد بنانے کی پیش کش محدود مدت کے لیے ہے۔“
بسم اللہ جان نے ہنستے ہوئے کہا ۔”اب تو میں زبردستی شاگرد بنوں گا ۔“
میں نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا ۔”ویسے سچ تو یہ ہے کہ اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ کسی کو سکھا سکوں ۔“
”یہ قدرتی صلاحیت ہوتی ہے ذیشان بھائی ،ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ آپ کے سکھانے پر بھی ہم آپ کی طرح نشانہ باز نہیں بن سکتے ۔“
” ہم گاڑی پر یہاں سے دور بھی نکل سکتے تھے۔“میں نے صفائی سے موضوع تبدیل کیا۔
”بہت مشکل تھا ۔دیکھا نہیں تھا اس پوسٹ پر دو ہیلی کاپٹرپہنچ گئے تھے ۔اور اب تک کافی ساری گاڑیاں بھی پہنچ گئی ہوں گی ۔سڑکوں کی ناکا بندی بھی ہو گئی ہو گی ۔وہ سارے علاقے کا گھیراﺅ کرلیں گے ۔اس لیے جب تک ہماری تلاش کی سرگرمی مانند نہیں پڑتی ،ہمیں چند دن یہیں گزارنے پڑیں گے ۔“
میں نے پوچھا ۔”جو آدمی ہماری گاڑی لے گیا ہے اسے کوئی کچھ نہیں کہے گا ؟“
اس نے اطمینان بھرے انداز میں کہا ۔”نہیں اس کے کاغذات وغیرہ مکمل ہیں ،یہ گاڑی بھی اسی کے نام پر ہے ۔اس وقت اس نے ایک آدمی کو گھر سے اٹھا کر ائیر پورٹ پہنچانا ہے ۔اس پر کسی صورت کوئی بات نہیں آ سکتی ۔“
”یہ سب کچھ آپ نے پہلے سے طے کیا ہوا تھا ۔“
”پہلے ہی سے طے کرنا پڑتا ہے یار !“
”بہ قول آپ کے ہم یہاں چند دن رہیں گے،اس دوران کمانڈر عبدالحق واپس آگیا پھر ؟“
”اس کی آمد کی اطلاع ملتے ہی ہم نکل چلیں گے ۔ورنہ خواہ مخواہ خطرہ مول لینا مناسب معلوم نہیں ہوتا ۔“
”ٹھیک ہے ۔“میں نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلادیا ۔
”برا نہ مناﺅ تو ایک بات پوچھوں ؟“
”پوچھو ۔“میں اسے حیرانی سے گھورنے لگا ۔
”آپ نے اس لڑکی کو کیوں کچھ نہیں کہا ۔حالانکہ وہ آپ کے لیے نہایت آسان ہدف تھی ۔“ وہ میجرجینیفر ہنڈسلے کے بارے مستفسر تھا ۔اب میں اسے کیا بتاتا کہ وہ میرے لیے کیا تھی ۔
میں نے کہا ۔” آپ نے اس وقت مجھے اس پر گولی چلانے کی ترغیب بھی دی تھی ۔ویسے آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ میں نے اس پر نشانہ سادھا ہوا ہے ۔“
”آپ اتنی تیز رفتاری سے فائر کر رہے تھے اچانک ہی آپ رک گئے ۔اور دوربین میں مجھے بھی وہ لڑکی واضح نظر آرہی تھی ،کہ باقی لوگ چھپنے کے لیے بھاگتے پھر رہے ہیں اور وہ سینہ تانے کھڑی ہے ۔ کوئی وجہ تو تھی نا ۔اس وقت مجھے یہی لگا کہ آپ عورت سمجھ کر اس پر گولی نہیں چلا رہے ۔لیکن بعد میں سوچا تو معاملہ کچھ اور لگا ۔کیوں کہ کوئی امریکن عورت اتنی دلیر نہیں ہو سکتی جو یوں اکڑ کر ایک سنائپر کے سامنے کھڑی رہے جبکہ دائیں بائیں اس کے کئی ساتھیوں کی لاشیں بھی بکھری پڑی ہوں ۔ سب سے بڑھ کر ہماری جانب یوں دیکھ رہی تھی جیسے ہم اسے نظر آرہے ہوں ۔ “
چند لمحے سوچنے کے بعد میں نے کہا ۔”وہ میجر جینیفر ہنڈسلے ہے ۔میرے ساتھ اس نے سنائپر کورس کیا ہے اورافغانستان کے محاذ پر وہ مجھے ملنے کی خاطر ہی پہنچی ہے ۔“
”اسے کیا معلوم کہ آپ افغانستان میں ہیں اور یہ کہ ابھی فائر کرنے والے آپ ہی ہیں ۔اور آپ کو کیسے معلوم کہ وہ آپ کی خاطر یہاں پہنچی ہے ۔“وہ ایک ہی سانس میں کئی سوال کر گیا تھا ۔
”گزشتا کئی ماہ سے میں وزیرستان میں مصروف تھا اور یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ دہشت گردوں کا اصلی سرپرست امریکہ ہی ہے وہاں وزیرستان میں جس دہشت گرد سے میرا ٹکراﺅ ہوا وہ امریکنز کا خاص پرزہ تھا ۔اس کی اور اس کے جانشنین کی موت کے بعد مجھے ایک جرگے میں سامنے آنا پڑا ، وہیں سے میری تصویر امریکنز تک پہنچ گئی ۔چونکہ میں سال بھر پہلے ہی امریکہ سے سنائپر کورس کر کے آیا تھا اس لیے مجھے پہچاننے میں انھیں کوئی دقت نہ ہوئی ۔میجر جینیفر امریکہ کی خفیہ ایجنسی کی میجر ہے اور مجھ سے محبت کی دعوے دار بھی ۔پس مجھے امریکہ کے لیے کام کرنے پر راضی کرنے کے لیے وہ افغانستان آنے پر تیار ہو گئی ........“میں نے جینفر کے متعلق تمام ضروری باتیں کمانڈر بسم اللہ جان کے سامنے دہرا دیں ۔
میری بات کے اختتام پر اس نے پر خیال انداز میں سر ہلایا۔”تو وہ آپ کو ہمارے خلاف استعمال کرنا چاہ رہے تھے ۔“
”ہوں ۔“میں نے اثبات میں سرہلادیا ۔
”ویسے یہ بات اب تک بھی واضح نہیں ہوئی کہ اس میجر کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ فائر کرنے والے آپ ہیں ۔“
”جتنی دور سے انھیں نشانہ بنایا جا رہا تھا ،شاید جینی کے نزدیک اتنے فاصلے سے میں ہی کسی کو نشانہ بنا سکتا ہوں ۔“
”اب کی ہے کام کی بات ۔“وہ چہکا ۔”ویسے ایک حبشن سے عشق لڑانے کا خیال آپ کو کیسے آیا۔ اتنی دور سے بھی اس کی بدصورتی مجھ پر اثر ڈالے بغیر نہیں رہ سکی ۔“
یقینا طاقت ور دوربین سے جینیفر کے ٹریسی والکر کے روپ کی کالک اسے واضح ہو گئی تھی۔
میں نے سنجیدہ انداز میں کہا ۔”کمانڈر!.... اگر آپ نے اس کی اصل شکل دیکھ لی تو جو پہلا خیال آپ دماغ میں آئے گا وہ یہی ہو گا کہ اسے مسلمان کر کے نکاح پڑھاﺅں یا اہل کتاب سے نکاح پڑھوانے کی اجازت سے فائدہ اٹھایا جائے ۔“
”مذاق کر رہا تھا یار !“میری سنجیدگی کو اس نے غصے پر محمول کیا تھا ۔
”مگر میں مذاق نہیں کر رہا ،بلا شک و شبہ وہ ایسی ہی ہے ۔“اسی وقت بوڑھا بہرام خان کھانے کے برتن اٹھائے اندر داخل ہوا ۔اور ہم چپ ہو گئے ۔
ہمارے کھانا کھا نے کے دوران بہرام چاچا قہوہ بنا کر لے آیا تھا ۔قہوہ پی کر میں نے بہرام چاچا سے رائفل صاف کرنے کے لیے کپڑا مانگا اور رینج ماسٹر کو کھول کر صاف کرنے لگا ۔بسم اللہ جان آرام کرنے لیٹ گیا تھا ۔
٭٭٭
چند دن ہمیں وہیں گزارنے پڑ گئے تھے ۔اس دوران کمانڈر بسم اللہ جان موبائل فون پر بھی محتاط انداز میں گفتگو کیا کرتا تھا ۔شہر بھر میں مجاہدین کی تلاش میں کافی چھاپے مارے گئے مگر دشمنوں کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی ۔ان کا کافی نقصان ہوا تھا ۔نو آدمی بشمول ایک کرنل اور لیفٹیننٹ کرنل کے ہلاک ہوئے تھے اور ایک لیفٹیننٹ کرنل زخمی ہوا تھا ۔زخمی ہونے والا وہی تھا جسے میجر جینیفرہنڈسلے کی بدولت رعایت ملی تھی ۔مرنے والے قریباََ سارے آفیسر ہی تھے ۔ بس ایک افغانی فوجی غلطی سے مارا گیا تھا ۔وہ بھی اس وجہ سے کہ اس کا باقی جسم صوفے کے عقب میں چھپا تھا اور صرف اس کا سر آڑ سے باہر نظر آرہا تھا ۔مرنے والے سینئر کا نام جان مجھے ایک خوشگوار حیرت ہوئی تھی ۔وہ کرنل کولن فیلڈ تھا ۔یقینا وہ وزیررستان میں حلیہ تبدیل کر کے آیا تھا ۔یہ بھی ممکن تھا کہ وہاں پر اس کے بہروپ میں کوئی اور آیاہو اور اس کا صرف نام استعمال کیا گیا ہو ۔البرٹ بروک بھی مجھے کہیں نظر نہیں آیا تھا ۔شاید وہ بھی حلیہ تبدیل کر کے مجھے ملتا رہا تھا یا پھر وہ وہاں موجود ہی نہیں تھا ۔جینیفر تو ٹریسی والکر کے حلیے میں مجھے نظر آ گئی تھی ۔ اتنے فاصلے سے شکلیں بالکل واضح تو نظر نہیں آتیں لیکن جس کے ساتھ کچھ وقت بتایا جا چکا ہو اس کی پہچان مشکل نہیں ہوتی ۔شکل و صورت ،جسمانی خال و خد اور حرکات و سکنات بھی کسی آدمی کی پہچان میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں ۔ 
جینیفر کے معاملے میں میرے دل میں ایک اور دھڑکا بھی موجود تھا ۔اگر اس نے مجھے پہچان لیا تھا تو وہ یہ بات اپنے سینئرز کو بتاسکتی تھی ۔اوراتنے اہم آدمیوں کی اموات کے ذمہ دار کو یقینا وہ پہلی فرصت میں مروانا پسند کرتے ۔لیکن پھر اپنی جینی سے مجھے یہ بات بعید نظر آئی کہ وہ مجھے مروا دے گی ۔ اگر وہ سینہ تان کر میرے سامنے کھڑی ہو سکتی تھی تو مجھے بھی یہ حق حاصل تھا کہ وہ میرے خلاف کسی کارروائی کی ذمہ دار نہ بنتی ۔
اس کارروائی کے بعد کمانڈر بسم اللہ جان نے اپنے تمام ساتھیوں کو انڈر گراﺅنڈ ہو جانے کا حکم دے دیا تھا ۔خود میں اور وہ بھی ہفتہ بھر اسی تہہ خانے میں چھپے رہے ۔اس دوران بہرام چاچا اور اس کا بیٹا دلگیر خان ہماری ضروریات کا خیال رکھتے رہے ۔کمانڈر عبدالحق ابھی تک نہیں لوٹا تھا اس وجہ سے مجھے بھی کوئی جلدی نہیں تھی ۔
حالات کے تھوڑا سا سازگار ہوتے ہی ہم دلگیر خان کی گاڑی میں بیٹھے اپنے ٹھکانے کا رخ کر رہے تھے ۔رینج ماسٹر اور بسم اللہ جان کی کلاشن کوف دلگیر خان ایک دن پہلے بسم اللہ جان کے خفیہ اڈے تک پہنچا چکا تھا ۔اس وقت ہمارے پاس اپنی حفاظت کے لیے ایک ایک پستول موجود تھا ۔ ہم کسی مزاحمت کا سامنا کیے بغیر پہاڑوں میں چھپے خفیہ اڈے تک پہنچ گئے تھے ۔ہمیں پہاڑ کے دامن میں اتار کر دلگیر خان وہیں سے رخصت ہو گیا ۔ہم جب غار در غار ٹھکانے کے پاس پہنچے تو ہمیں پر جوش طریقے سے خوش آمدید کہا گیا ۔انھوں نے منصوبہ اتنا بڑا نہیں بنایا تھا جتنا کہ دشمن کا نقصان کرچکے تھے ۔ اور اس کارروائی کا روحِ رواں میں تھا ۔اس سے پہلے کمانڈر عبدالحق انھیں میری نشانہ بازی کے کافی واقعات سنا چکا تھا مگر حالیہ واقعہ کے تو وہ خود شاہد تھے ۔ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اتنی دور سے یوں کامیاب نشانہ بازی ممکن ہو پائے گی ۔
٭٭٭
عبدالحق کو گئے ہوئے تین ہفتے ہو گئے تھے ۔اس نے کچھ زیادہ ہی وقت لے لیا تھا ۔
 تیسرے ہفتے کے اختتام پر وہ لوٹ آیا ۔اس تک بھی میرے حالیہ کارنامے کی خبر پہنچ گئی تھی ۔ ملتے ساتھ اس نے میری پیٹھ تھپکتے ہوئے شاباش کہا تھا ۔وہ بھی کامیاب لوٹا تھا ۔رات کو آرام کے لیے لیٹتے وقت وہ تفصیل بتانے لگا ۔ہماری کارروائی کی تفصیلات وہ پہلے ہی باریک بینی سے کرید چکا تھا ۔مجھے ان تفصیلات کو جاننے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی کہ اس نے کس طرح میرے ویزے وغیرہ کا بندوبست کیا اور کیسے ایک کنسٹریکشن کمپنی میں جگہ پیدا کی ۔اس کا خیریت اور کامیابی سے لوٹ آنا ہی میرے لیے کافی تھا ۔ویزے کی ضمن میں خرچ ہونے والی رقم میں نے اس کے حوالے کر دی تھی ۔اب میرے پاس لے دے کے گلگارے بہن کی دی ہوئی رقم ہی باقی بچی تھی ۔اور غزنی جانے کے لیے مجھے پیسوں کی اچھی خاصی ضرورت پڑ سکتی تھی بہ ہر حال وہ بعد کا مسئلہ تھا اس بارے میں کچھ نہ کچھ کر ہی لیتا ،فی الحال مجھے آگے کا لائحہ عمل طے کرنا تھا ۔
جینیفر سے رابطے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی ورنہ مجھے اتنے پاپڑ بیلنے نہ پڑتے ۔مجھے اپنی بے وقوفی پر غصہ آنے لگا ،اگر آخری ملاقات میں میں نے اس سے رابطہ نمبر لے لیا ہوتا تو اتنا مسئلہ پیدا نہ ہوتا ۔
٭٭٭
اس کے ہوٹل میں داخل ہوتے ہی میں بھی اندر گھس گیا ۔اس سے دو میزیں چھوڑ کر مجھے خالی نشست مل گئی تھی ۔بیرے کو قہوہ لانے کا بتا کر میں بہ ظاہر سرسری نظر ہوٹل کے ہال میں دوڑانے لگا ۔ 
میں پچھلے ایک ہفتے سے غزنی میں موجود تھا ۔میری شناخت کے کاغذات پورے تھے ۔آتے وقت کمانڈر بسم اللہ جان نے چند ساتھیوں کے پتے دیے تھے ،جن سے میں ضرورت کی کوئی چیز بھی مانگ سکتا تھا ۔ کسی کے گھر میں پناہ لینے کے بجائے میں نے ایک سستے سے ہوٹل میں رہنا پسند کیا تھا ۔کیونکہ بغیر اشد ضرورت کے میں کسی کو تنگ کرنا یا خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔یہ دوسرا امریکن تھا جس کا میں تعاقب کر رہا تھا ۔اس سے پہلے میں ایک امریکن صحافی کے پیچھے تین دن تک پڑا رہا تھا مگروہ بندہ صاف نکلا ،اب یہ دوسرا تھا اور اس کی بھی کوئی مشکوک حرکت نظر نہیں آئی تھی ۔وہ سارا دن غزنی کے مضافات میں گھومتا،مختلف مقامات کی تصاویر لیتا، مقامی لوگوں سے ملاقات کرتا۔ یوں جیسے وہ کوئی خاص رپورٹ تیار کر رہا ہو۔ہتھیار کے نام پر میرے پاس ایک نائن ایم ایم پستول موجود تھا جو مجھے کمانڈر بسم اللہ جان سے ملا تھا ۔اس پستول سے فائر کر کے میں نے اس کے ٹھیک ہونے کی اچھی طرح تسلی کر لی تھی ۔
شام تک میں اسی صحافی کے تعاقب میں لگا رہا ۔اندھیرا چھانے پر میں اپنے ہوٹل میں لوٹ آیا تھا ۔چونکہ مسلسل ایک ہوٹل میں رہنا مجھے مشکوک کر سکتا تھا اس وجہ سے میں دوتین دن سے زیادہ کسی ہوٹل کو اپنا مسکن نہیں بناتا تھا ۔صبح میرا ارادہ کابل جانے کا بن رہا تھا کیونکہ غزنی میں مجھے اپنے مقصد کا حصول مشکل نظر آنے لگا تھا ۔
رات کا کھانا میں ہوٹل کے ہال ہی میں بیٹھ کرکھاتااور اس بہانے وہاں موجود لوگوں پر نظر بھی ڈال لیا کرتا ۔کھانا کھانے کے دوران ایک مقامی آدمی پر میری نظر پڑی ،اس نے چہرے پر مفلر کی طرح کالے رنگ کی چادر لپیٹی ہوئی تھی ۔داخلی دروازے پر کھڑے ہو کر اس نے ایک طائرانہ نگاہ ہال میں دوڑائی ۔اس کی نظر ایک لمحے کے لیے مجھ پر رکی اور پھر دائیں بائیں کا جائزہ لے کر وہ مجھ سے دو ٹیبل چھوڑ کر بیٹھ گیا ۔چال ڈھال سے وہ کچھ دیکھا بھالالگ رہا تھا، مگر میرے ذہن میں نہیں آرہا تھاکہ اسے کہاں دیکھا ہے ۔گو اس معاملے میں میری یاداشت بہت تیز ہے اور کوئی ایسا آدمی جس سے میرا ہلکا سا بھی واسطہ رہ چکا ہو مجھے بھولتا نہیںہے ،لیکن ذہن پر زور دینے کے باوجود مجھے یاد نہیں آسکا کہ اسے کہاں دیکھا ہے ۔شاید چہرے سے لپٹی ہوئی چادر کی وجہ سے میں اسے پہچان نہیں پا رہا تھا ۔کھانا کھا کر میں نے قہوہ پیا ،اس دوران اس نے بھی اپنے لیے قہوہ منگوالیا تھا ۔قہوہ پی کر بھی وہ وہیں بیٹھا رہا ۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کن اکھیوں سے مجھے ہی دیکھ رہا ہے ۔
جونھی میں نشست چھوڑ کر سیڑھیوں کی طرف بڑھا میں نے اسے بھی کاﺅنٹر کا رخ کرتے دیکھا۔ کمرے میں پہنچ کر میں نے چابی کے سوراخ سے آنکھ لگا دی ۔ اندازے کے مطابق تھوڑی دیر بعد ہی مجھے گیلری میں قدموں کی آہٹ سنائی دی جو میرے کمرے کے سامنے آکر رک گئی ۔چابی کے سوراخ سے بھی مجھے اسی کے کپڑوں کا رنگ نظر آرہا تھا ۔میں فوراََ دروازے سے ایک طرف ہوا کیونکہ مجھے شک تھا کہ وہ چابی کے سوراخ سے اندر جھانکنے کی کوشش کرے گا ۔مگر میرے اندازے کے بر عکس دروازے پر ہلکی سی ۔”ٹھک ٹھک ۔“ہوئی ۔
پستول ہاتھ میں تھام کر میں نے اسے چھپانے کے لیے جسم پر چادر لپیٹی اور ایک جھٹکے سے دروازہ کھول دیا ۔
”اسلام علیکم ذیشان بھائی !“اس نے چہرے سے کپڑا ہٹا دیا تھا ۔اب اسے پہچاننے میں مجھے کوئی دقت نہیں ہوئی تھی ۔اس کا نام تو میں نہیں جانتا تھا البتہ امریکی کیمپ پر حملے کے وقت وہ میرے ساتھ ہی تھا ۔
”آپ ۔“میں نے ایک طرف ہٹتے ہوئے اسے اندر آنے کا موقع دیا ۔اس کے اندر گھستے ہی میںنے دروازہ بند کر دیا ۔
”بیٹھو ۔“لکڑی کی پرانی سی کرسی کی طرف اشارہ کر کے میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
”شکریہ ۔“کہتے ہوئے وہ بیٹھ گیا ۔
”آپ کا نام مجھے نہیں آتا ۔“
”احمد ۔“
”تو احمد بھائی وہیںہال ہی میں مل لیتے ۔مجھے ایسے ہی ڈرا دیا ۔“
”میں نے سوچا آپ مجھے نہیں پہچان پائیں گے ۔اور اپنا تعارف کرانے کے لیے علاحدگی کی ضرورت تھی ۔“
”ہوٹل میں گھستے ہی میں نے آپ کو پہچان لیا تھا ۔بس چہرہ چھپا ہونے کی وجہ سے یاد نہیں آرہا تھا کہ کہاں دیکھا ہے ۔“
”آپ کا پتا مجھے کمانڈر سے معلوم ہوا ہے اور انھی نے مجھے آپ سے ملنے کا کہا ہے ۔“
میں نے پوچھا ۔”خیریت ۔“
”ہاں خیریت ہے ،ایک مشکوک شخص کے بارے اطلاع دینا تھی ۔“
”تو موبائل فون پر بتا دیتے ۔“ کمانڈر بسم اللہ جان نے ایک موبائل فون بھی میرے حوالے کیا تھا ۔
”مناسب یہی ہے کہ میں دور سے اس کی شکل آپ کو دکھا دوں ۔“
میں نے پوچھا ۔”ابھی جانا پڑے گا ۔“
”جی ۔“ اس نے اثبات میں سر ہلایا ۔
تھوڑی دیر بعد آگے پیچھے چلتے ہوئے ہم ہوٹل سے باہرنکل آئے ۔ہوٹل سے تھوڑی دور آتے ہی ہم اکٹھے ہو گئے تھے ۔مجھے ساتھ لیے وہ پیدل ہی ایک جانب روانہ ہو گیا ۔ امریکی کیمپ پر حملے کے بعد وہ چھپنے کے لیے شہر میں آگیا تھا ۔یہاں اس کا اپنا گھر موجود تھا ۔مجھے کمانڈربسم اللہ جان نے جن آدمیوں کے پتے دیے تھے ان میں ایک احمد بھی تھا لیکن یہاں آکر میں کسی سے بھی نہیں ملا تھا ۔اس کی گفتگو کا لب لباب یہی تھا کہ کمانڈر بسم اللہ جان کے دو مخبروں کی لاشیں ایک دن کے فرق کے ساتھ غزنی کے مضافات سے ملیں۔ مخبر عموماََ دونوں جانب سے ملے ہوتے ہیں اس لیے انھیں اپنا راز نہیں بتایا جاتا ۔ دونوں کو مارنے سے پہلے تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا ۔ان میں سے ایک کا تعلق افغان آرمی سے تھا۔ اور اس نے مرنے سے ایک دن پہلے کمانڈر بسم اللہ کے ساتھی بلال سے بات کرکے اپنے تعاقب کی بابت مطلع کیا تھا۔ہر مخبر کے سامنے ایک ہی آدمی کو سامنے لایا جاتا ہے جو اس مخبرسے رابطے میں رہتا ہے۔ اور اس فوجی کے ساتھ بلال کا رابطہ تھا ۔ وہ چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا۔بلال نے اسے چھٹی ختم کر کے واپس حاضر ہونے کا مشورہ دیا تھا، لیکن اگلے ہی دن شہر کے مضافات سے اس کی لاش ملی تھی۔بلال فوراََ زیر زمین ہو گیا، البتہ جانے سے پہلے اس نے فوجی کا تعاقب کرنے والے کی پہچان احمد کو کرا دی تھی ۔گزشتا روز ایک دوسرے مخبر کی لاش ملی ۔دوسرے نے بھی کئی بار مجاہدین کو کام کی خبریں پہنچائی تھیں ۔دوسرا ایک صحافی تھا ۔ کمانڈر بسم اللہ جان کو شک تھا کہ دونوں قتل ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں ۔اس نے احمد کو مجھ سے رابطہ کر کے مخبر کا تعاقب کرنے والے کی بابت بتانے کا کہا ۔اور اب احمد مجھے اسی مقصد سے وہاں لے جا رہا تھا ۔ مشکوک شخص کے ٹھکانے تک احمد تمام تفصیل دہرا چکا تھا ۔وہ غزنی کے بہترین ہوٹل میںقیام پذیر تھا ۔ رات اتنی نہیں بیتی تھی ۔ہوٹل کا ہال تقریباََ بھرا ہوا تھا ۔ہم بھی ایک کونے میں خالی میز کے گرد بیٹھ گئے ۔
”دوسری منزل کمرہ نمبر بتیس اے میں رہتا ہے ۔کرس کارٹر نام ہے ۔ شاید کھانے کے لیے نیچے ہال میں آ جائے۔“ دائیں بائیں نظریں دوڑاتے ہوئے اس نے دھیمے لہجے میں کہا ۔
میں نے پوچھا ۔”اگر میں نہ ہوتا تو آپ اس کے ساتھ کیا کرتے ۔“
”ایسے جاسوسوں کو ہم بھی معاف نہیں کرتے ۔“اسی وقت بیرہ ہمارے قریب آیا ۔
”دو کافی ۔“احمد نے اس کے دریافت کرنے سے پہلے بتا دیا اور وہ سرہلاتے ہوئے واپس مڑ گیا ۔احمد مجھے ہوٹل کے بارے ضروری باتیں بتانے لگا ۔کافی پی کر بھی ہم کافی دیربیٹھے رہے۔اور پھر ہم مایوس ہو کر اٹھنے ہی لگے تھے کہ احمد ایک دم میری طرف جھکا ۔
”وہ سفید سوٹ والا سیڑھیوں سے اتر کر آرہا ہے ۔“میں غیر محسوس انداز میں اس طرف متوجہ ہوا ۔گھٹے ہوئے مضبوط جسم اور لمبے قد والا ایک آدمی مجھے سیڑھیوں سے اترتا دکھائی دیا ۔ہال میں طائرانہ نظر دوڑا کروہ ایک خالی میز کی طرف بڑھ گیا ۔اس کے نشست سنبھالنے تک چاق و چوبند بیرہ اس کے قریب پہنچ گیا تھا ۔اس کے آرڈر دینے تک بدیسی لباس میں ملبوس ایک مقامی حسینہ سڑھیاں اترتی ہوئی اس کے قریب پہنچی اور بے تکلفی سے اس کے سامنے بیٹھ گئی ۔لڑکی کی پیٹھ ہماری جانب تھی ۔اس کے انداز سے واضح نظر آرہا تھا کہ وہ اس کے ساتھ ہی رہائش پذیر ہے ۔
”یہ کون ہے ۔“کن اکھیوں سے اسے گھورتے ہوئے میں احمد سے مستفسر ہوا ۔
”اس طرح کی کئی لڑکیاں یہاں مل جاتی ہیں بس جیب کا منھ کھولنا پڑتا ہے ۔“
”میرا خیال ہے چلنا چاہیے ۔“وہاں مزید بیٹھنا مجھے مناسب نہیں لگا تھا ۔
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے احمد نے بیرے کو قریب آنے کا اشارہ کیا ۔اور بل ادا کرکے ہم وہاں سے باہر نکل آئے ۔کرس کارٹر لڑکی سے محو گفتگو تھا لیکن اس کی آنکھیں کسی سرچ لائیٹ کی طرح چاروں طرف گھوم رہی تھیں ۔
ہوٹل سے نکلتے ہی میں نے کہا ۔”مجھے کچھ رقم چاہیے ۔“
”چلو ۔“وہ مجھے ساتھ لے کر ایک پلازے کی طرف بڑھ گیا ۔وہاں لگی اے ٹی ایم مشین سے مطلوبہ رقم نکال کر اس نے میرے حوالے کی اور ہم واپس مڑ آئے ۔
میرے ہوٹل کا رخ کرتے ہوئے اس نے پوچھا ۔”اب کیا ارادہ ہے ؟“
”صبح اس ہوٹل میں کمرہ لوں گا باقی لائحہ عمل بعد کا مسئلہ ہے ۔“
”اگر میرے لائق کوئی خدمت ہو تو ضرور بتانا ۔“اس نے پرخلوص لہجے میں آفر کی ۔
”موٹر سائیکل مل جاتی تو اس کے تعاقب میں آسانی رہتی ۔لازماََ اس کے پاس ذاتی یا کرائے کی گاڑی ہو گی ۔“
” ضرور ملے گی ۔مگر اتنی سردی میں موٹر سائیکل کی سواری کچھ مشکل ہوجاتی ہے ۔میں خود ٹیکسی میں آتا جاتا ہوں ۔“
”مجبوری ہے ، شاید بروقت ٹیکسی نہ مل پائے ۔“میں نے خیال ظاہر کیا ۔
”صحیح کہا ۔“اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔ہم ہوٹل کے قریب پہنچ چکے تھے ۔اس نے قریب سے گزرتی ہوئی ایک خالی ٹیکسی کو اشارہ کر کے روکا ۔اندر بیٹھتے ہی وہ اپنے گھر کا پتا بتانے لگا ۔وہ پتا پہلے سے میری یاداشت میں محفوظ تھا کہ بسم اللہ جان اس کا پتا میرے حوالے کر چکا تھا ۔البتہ میں نے وہاں جانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
گھر کے سامنے اتر کر اس نے ٹیکسی والے کو فارغ کیا اور اطلاعی گھنٹی کا بٹن دبا دیا ۔
میں نے پوچھا ۔”ساتھ کون رہتا ہے ۔“
وہ مسکرایا۔”تمھاری بھابی۔“اسی وقت اندر سے قدموں کی چاپ ابھری اور ایک نسوانی آواز نے پوچھا ۔”کون ؟“
اس نے جواب دیا ۔”احمد ،میرے ساتھ مہمان بھی ہے ۔“
دروازہ کھلتے ہی میری نظر ایک جواں سال خاتون پر پڑی جس نے مہمان کا سن کر چہرہ ڈھانپ لیا تھا صرف اس کی آنکھیں چادر کے عقب سے جھلک رہی تھیں ۔اس پر نظر پڑتے ہی میں نے سر جھکا لیا تھا۔وہ بھی دروازہ کھول کر پیچھے مڑ گئی ۔
”احمد بھائی !....چاے پانی کا تکلف نہ کرنا ۔“میں نے فوراََ اسے منع کیا ۔”بلکہ موٹر سائیکل باہر ہی لے آﺅ۔“
”ایک پیالی قہوہ ،سردی کے ساتھ مقابلہ کرنے میں مدد دے گا ۔“
”پھر کسی وقت سہی ۔“
”ٹھیک ہے ۔“مجھے وہیں رکنے کا اشارہ کر کے وہ اندر گھسا اورلمحہ بھر بعد موٹر سائیکل لیے باہر نکل آیا۔اس کے ہاتھوں میں چمڑے کے دستانے اور موٹر سائیکل کے سیفٹی گارڈ کے ساتھ لٹکا ہیلمٹ دیکھ کر میں نے سکھ کا سانس لیا تھ کہ سردی کے موسم میں بغیر دستانوں اور ہیلمٹ کے موٹر سائیکل چلاناایک عذاب ہی ہوتا ہے ۔ 
اس سے الوداعی مصافحہ کر کے میں واپس ہوٹل کی جانب بڑھ گیا ۔
وہ رات میں نے اسی ہوٹل میں گزاری ۔کابل جانے کا ارادہ میں نے ترک کر دیا تھا ۔نو دس بجے کے قریب ناشتا کر کے میں اپنا مختصر سامان اٹھا کر نکل آیا ۔دوسرا ہوٹل اتنی دور نہیں تھا کہ مجھے ٹیکسی وغیرہ کا تکلف کرنا پڑتا ۔پندرہ بیس منٹ میں میں وہاں پہنچ گیا تھا ۔ہوٹل کے ہال مجھے اکا دکا گاہک ہی نظر آئے ۔ ایسے ہوٹلوں کی رونق رات کے وقت دیکھنے والی ہوتی ہے ۔
استقبالیے پر جا کر میں نے کمرے کا پوچھا ۔نچلی منزل میں ایک کمرہ خالی تھا مگر میں نے دوسری منزل پر کمرہ لینا پسند کیا تھا۔
کمرے کی چابی میرے جانب بڑھاتے ہوئے استقبالین معنی خیز لہجے میں بولا ۔”سر اگر کوئی خاص خدمت درکار ہو تو بلا تکلف حکم کرنا ۔“
”ضرور۔“چابی پکڑتے ہوئے میں نے منھ بنایا ۔اس کی خاص خدمت سے میں ناواقف نہیں تھا ۔لیکن اس طرح کی غلیظ خدمتوں سے میں یونھی بہتر تھا ۔
تین دنوں کا ایڈوانس کرایہ جمع کرا کے میں سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا ۔
تھوڑی دیر کمرے میں گزار کر میں ہوٹل کے ہال میں آن بیٹھا ۔میں چاہتا تھا کہ میری بے خبری میں وہ باہر نہ نکل جائے ۔ایک سنائپر کو جاسوس بننا پڑ گیا تھا ۔
گو انتظار دنیا کا پر اذیت کا م ہے ،مگر سنائپر بے چارے کا تو انتظار کے ساتھ بہت مضبوط رشتا ہے ۔اپنے شکار کے انتظار میں سنائپر کو کئی کئی گھنٹے بلکہ دن گزارنے پڑ جاتے ہیں ۔ 
آہستہ آہستہ ہال میں بیٹھے لوگوں کی تعدادبڑھنے لگی ۔میں دومرتبہ چاے منگوا کر پی چکا تھا ۔ اسی اثناءمیں دوپہر کے کھانے کا وقت بھی ہو گیا تھا ۔میں نے بھی کھانا منگوا لیا اور پھر بہ مشکل کھانے سے فارغ ہوا تھا کہ میں نے کرس کارٹر کو سیڑھیاں اترتے دیکھا ۔رات والی تتلی بھی اس کے ساتھ ہی تھی ۔ وہ اب بھی سکن ٹائیٹ پاجامے اور بہ مشکل ناف تک آتی شرٹ میں ملبوس تھی ۔البتہ سردی کی وجہ سے گھٹنوں تک آتے فر کے کوٹ نے چھپنے کے کافی تقاضے پورے کر دیے تھے ۔کوٹ سامنے سے کھلا ہونے کی وجہ سے مجھے دور ہی سے اس کے پیٹ کی سفیدی نظر آگئی تھی ۔ہال میں رکنے کے بہ جائے وہ بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گئے ۔اسے دیکھتے ہی میں نے حفظ ماتقدم کے طور پر بیرے کو بل لانے کا اشارہ کر دیا تھا ۔ان کے دروازے کے قریب پہنچنے تک میں نے بل دستخط کر کے واپس بیرے کی طرف بڑھایا اور ان کے پیچھے قدم بڑھا دیے ۔
میرے دروازے سے نکلنے تک وہ پارکنگ میں پہنچ کر سفید رنگ کی کار میں بیٹھ رہے تھے ۔ میں ان پر توجہ دیے بغیر موٹر سائیکل کی طرف بڑھ گیا ۔میرے موٹر سائیکل ان لاک اور اسٹارٹ کرنے تک وہ پارکنگ سے نکل کر سیمنٹ کی روش پر چڑھ چکے تھے ۔میں نے ان کے سڑک تک جانے کا انتظار کیا اور پھر موٹر سائیکل آگے بڑھا دی ۔
شہر میں کسی کا تعاقب کرنے کے لیے موٹر سائیکل ایک بہترین سواری ہے ۔میں محتاط انداز میں کار کا تعاقب کرتا رہا ۔مگر وہ شاید شاپنگ وغیرہ کے لیے نکلے تھے ۔ دو تین پلازوں میں گھوم پھر کر انھوں نے تھوڑی بہت خریداری کی اور واپس چل پڑے ۔اس دوران میں سائے کی طرح ان کے پیچھے لگا رہا تھا ،مگرکرس کارٹر کی کوئی مشکوک حرکت میری نظر میں نہ آسکی۔
اسے ہوٹل کی پارکنگ میں مڑتے دیکھ کر میں آگے بڑھتا چلا گیا تھا ۔ایک چھوٹا سا چکر کاٹ کر میں واپس ہوٹل کی جانب مڑ آیا ۔
ہال میں مجھے وہ نظر نہیں آئے تھے ۔میں استقبالین کی طرف بڑھ گیا ۔ابھی تک صبح والا آدمی بیٹھا تھا ۔
”جی سر !“وہ خوش دلی سے مسکرایا ۔
”ایک چھوٹا سا کام پڑ گیا تھا ۔“
”حکم کریں ۔“ایک آنکھ میچتے ہوئے اس نے معنی خیز لہجے میں پوچھا۔
”ابھی دو منٹ پہلے ایک گورے کے ساتھ براﺅن کوٹ میں ملبوس ایک تتلی یہاں سے گزری ہے ،مجھے تو مقامی لگ رہی تھی ۔حقیقت میں ایسا ہی ہے یا میری نظر کا قصور ہے ۔“
”بڑی تیز نظر ہے آپ کی ۔“اس کے چہرے پر کاروباری مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”بہ ہر حال حکم کریں ۔“
”میرا دل ساتھ لے گئی ہے ،وہی واپس لینا تھا ۔“
”ہاہاہا۔“اس نے کھلے دل سے قہقہہ لگایا ۔”ویسے اس سے بڑھیا مال بھی موجود ہے ۔“
میں نے منھ بنایا۔”بڑھیا مال خاک پسند آئے گا جب دل کسی اور کے قبضے میں ہو ۔“
”پھر تو معذرت خواہ ہوں ،کیونکہ وہ ہمارے ہوٹل سے تعلق نہیں رکھتی ۔“
”دھت ۔“میں نے بیزاری بھرے انداز میں کاﺅنٹر پر مکا رسید کیا ۔
”اگر وہ ہمارے ہوٹل کی ہوتی تب بھی گورے کی مرضی کے بغیر کسی گاہک کو وقت نہ دے پاتی۔“
”کہیں اکیلی بھی جاتی ہے یاوہ خبیث ہر وقت ساتھ ہی چپکا رہتا ہے ۔“
”کبھی دیکھا نہیں ہے ،البتہ آپ کا رقیب کافی دفعہ اکیلے بھی نکل جاتا ہے ۔“
”اگر میں کہوں کہ جب بھی وہ یا لڑکی اکیلے کہیں جائیں تو مجھے فوراََ معلوم ہو جائے ۔“یہ کہتے ہوئے میں نے جیب سے سو ڈالر کا نوٹ نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا تھا ۔
سو ڈالر کے نوٹ کو حریص نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ جلدی سے بولا ۔” صبح دس سے شام چھے بجے تک آپ کو یہ اطلاع بغیر کسی رکاوٹ کے مل سکتی ہے ۔“
”آپ کا نام؟“میں نے نوٹ اس کی جانب بڑھاتے ہوئے پوچھا ۔
”شان علی ۔“نوٹ جھپٹتے ہوئے اس نے جیب میں ڈال لیا تھا ۔
”میں اپنے کمرے میں منتظر رہوں گا ۔“اثبات میں سر ہلاتے ہوئے میں سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا تھا۔سارا دن ہوٹل کے ہال میں بیٹھنے سے بہتر تھا کہ نگرانی کا کام میں کسی اور سے لیتا ۔یوں بھی میں نے گورے کے بہ جائے اس لڑکی میں اپنی دلچسپی ظاہر کی تھی تاکہ شان کوکوئی شک نہ ہو ۔
شام چھے بجے کے قریب مجھے انٹرکام پر شان علی کی کال موصول ہوئی ۔”سر !....میں چھٹی کر رہا ہوں آپ کا رقیب اور تتلی کمرے ہی میں ہیں ۔“
”شکریہ ۔“کہہ کر میں نے رسیور رکھا اور تیار ہو کر باہر نکل آیا ۔یوں بھی کافی آرام کر لیا تھا۔ آٹھ بجے تک میرا کوفت زدہ انتظار جاری رہا ۔آٹھ بجے وہ اس لڑکی کے ہمراہ نیچے ہال میں آکر بیٹھ گیا ۔ کھانا کھا کر دونوں تھوڑی دیر بیٹھے رہے ۔ان کے دوبارہ کمرے کا رخ کرنے پر بھی میں وہیں بیٹھا رہا کہ کہیں وہ اکیلا نہ لوٹ آئے ۔مگر مزید آدھا گھنٹا انتظار کے بعد بھی اسے واپس نہ آتے دیکھ کر میں کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔میرے اندازے کے مطابق اتنی رات گئے وہ باہر نہ جاتا ۔
دروازہ کنڈی کر کے میں بہ مشکل بوٹ اتار پایا تھا کہ موبائل فون بجنے لگا ۔سکرین پر کمانڈر بسم اللہ جان کا نام چمک رہا تھا ۔
”اسلام علیکم۔“میں نے کال وصول کی ۔
”وعلیکم اسلام !آپ کہاں ہیں ؟“اس کی آواز میں شامل گھبراہٹ مجھے حیران کر گئی تھی ۔
”اسی ہوٹل میں جہاں ہمارا دوست مقیم ہے ۔“
وہ سرعت سے بولا ۔”فوراََوہاں سے نکلنے کی کوشش کرو ،احمد صبح سے غائب ہے ،شاید آپ بھی ان کی نظروں میں آگئے ہوں ۔“
”مگر ....“
”تفصیل بتانے کا وقت نہیں ہے ذیشان بھائی !“اس نے قطع کلامی کی۔
”ٹھیک ہے ۔“رابطہ منقطع کرتے ہوئے میں وہاں سے نکلنے کا سوچنے لگا ۔شاید میںنے دیر کر دی تھی احمد کے ان کے ہتھے چڑھنے کا ایک ہی مطلب ہو سکتا تھا کہ میں کل سے ان کی نظروں میں ہوں۔ اور یقینا اسی وجہ سے کرس کارٹر نے بھی اپنے کسی آدمی سے ملنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔

جاری ہے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.