Hijaz Ki Andhi By Annayt Ullah Altamash Episode No 25`حجاز کی آندھی عنایت اللہ التمش قسط نمبر25
Hijaz Ki Andhi
By
Annayat Ullah Altmash
حجاز کی آندھی
از
عنایت اللہ التمش
قسط نمبر 25
کچھ دنوں بعد لڑکی نے بوڑھے راہب کے اشاروں پر بولنا شروع کر دیا۔ راہب اس سے کچھ پوچھتا تھا اور لڑکی جواب دیتی تھی ۔اس کا انداز اور لہجہ ایسا ہوتا تھا جو لڑکی کا قدرتی انداز نہیں تھا۔ صاف پتا چلتا تھا کہ وہ کسی اورکے اثر کے تحت بول رہی ہے۔
’’نہیں……ابھی نہیں، ابھی کام نہیں ہوا ۔ابھی ہو گا بھی نہیں۔‘‘
یہ لڑکی کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ تھے۔ تین چار راتیں اس کی زبان سے یہی الفاظ نکلتے رہے ۔ان سے پتا چلتا ہے کہ راہب کے جادو کا اثر کم از کم اس لڑکی پر ہو گیا تھا ۔وہ لڑکی سے آنے والے وقت کے متعلق معلوم کرنا چاہتا تھا اور یہ بھی دیکھنا چاہتا تھا کہ اس کے جادو میں اثر کس حد تک پیدا ہوا ہے۔ یہ بھی جادو کا اثر تھا کہ جب لڑکی بول چکتی تو دونوں اُلّو اپنی مخصوص آواز میں بولتے تھے ،جیسے ویرانے میں اُلّو بولا کرتے ہیں۔
ابھی نوزائیدہ بچے کونہیں لایا گیا تھا۔ شاید یہودی کے عمل کا وہ مرحلہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔
یزد گرد نے اپنے متعدد قاصد اپنی فوج کی طرف بھیج دیئے۔ انہیں پیغام یہ دیا کہ وہ جہاں کہیں بھی ہیں، اکٹھے ہوجائیں۔ غیب سے مدد آرہی ہے۔ جم کر مقابلہ کریں اور اب مسلمانوں کی پیش قدمی پسپائی میں بدلنے ہی والی ہے۔
بُہر شیرمدائن سے کچھ دور نہیں تھا۔ درمیان میں صرف دریا حائل تھا۔ یزدگرد نے وہاں بھی پیغام بھجوایا اور کہا کہ جہاں جہاں اپنے فوجی موجود ہیں، وہاں سے انہیں بُہر شیر لے آؤ اور بُہر شیر کا دفاع مضبوط کروتاکہ مسلمان شہر کا محاصرہ کریں تو محاصرہ اتنا طویل ہو جائے کہ وہ مایوس ہو کر واپس چلے جائیں۔
٭
سعدؓ بن ابی وقاص بابل سے چلے تو راستے میں فارس کے بیشمار شہریوں نے جن میں مختلف بستیوں کے رؤسا اور اُمراء شامل تھے سعدؓ سے آکر ملے اور اطاعت قبول کی اور اپنا تعاون پیش کیا۔ زیادہ تر مؤرخوں نے لکھا ہے کہ ان میں لوگوں میں سے کئی ایک نے اسلام قبول کر لیا اور کئی جزیہ کی ادائیگی پر رضا مند ہو گئے۔
سعدؓ بن ابی وقاص بُہر شیر پہنچ گئے۔ انہیں پہلے ہی اطلاع مل چکی تھی کہ ہاشم بن عتبہ نے بہر شیر کے شیر کو تلوار سے مار ڈالا تھا۔ تاریخِ طبری میں لکھا ہے کہ سعدؓ نے جواں سال ہاشم بن عتبہ کو گلے لگالیا اور اس کا ماتھا چوما ۔ہاشم نے جھک کر بڑے احترام سے سعدؓ کے پاؤں اور گھٹنے چھو لیے۔ہاشم بن عتبہ سعدؓ بن ابی وقاص کا بھتیجا تھا۔
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ مدائن اور بہر شیرایک ہی شہر کے دو حصے تھے۔ ان کے درمیان سے دجلہ گزرتا تھا۔ بغداد مدائن سے بیس میل دور چھوٹی سی ایک بستی ہوا کرتی تھی۔ مؤرخوں ے لکھا ہے کہ مدائن شروع سے ہی فارس کا دارالسلطنت چلا آرہا تھا۔ تعمیرات اور باغات کے لحاظ سے بابل کی خوبصورتی مشہور تھی۔ وہ تو قصہ پارینہ ہو چکی تھی اور ا س کے کھنڈر اس پر نوحہ کناں تھے۔ اس کے بعد خوبصورتی کے لحاظ سے جس شہر نے شہرت پائی وہ مدائن تھا۔ اپنے اس دارالسلطنت کو دنیا کاحسین شہر بنانے کیلئے ملک کے خزانے لُٹا دیئے گئے تھے۔
مدائن پر رومیوں کا بھی قبضہ رہا اور مدائن بار ہا اندرونی بغاوتوں سے بھی دوچار ہوا۔ اس کا امن و سکون تباہ ہوا۔ اس کی گلیوں میں خون بہہ گیا، لیکن ا س شہر کے حسن و جمال میں کوئی فرق نہ آیا۔ ایک یورپی مؤرخ نے لکھا ہے کہ مدائن میں ساحرانہ کشش تھی۔ اجنبی اس شہر میں آکر مسحور ہو جاتے تھے۔ یہاں کے قحبہ خانوں ،شراب خانوں ،رقص گاہوں اور عشرت کدوں کی شہرت دوسرے ملکوں تک پہنچی ہوئی تھی۔
سعدؓ بن ابی وقاص بُہر شیرسے کچھ دور خیمہ زن ہو کر دجلہ کے پار مدائن کو دیکھ رہے تھے، جو ایک ہیرے کی طرح چمک رہا تھا ۔اس کی شہرِ پناہ پر بُرج اور ان کے سنہری کلس دیکھے۔ شاہی محل کے گنبد اور مینار دیکھے۔ کسریٰ کا محل بلندی پر کھڑا تھا، اس لیے شہر کی دیوار دیکھنے والوں کی نظروں کے آگے رکاوٹ نہیں بنتی تھی۔ مؤرخوں کے مطابق یہ محل اپنے زمانے میں عجائباتِ عالم میں شمار ہوتاتھا۔ یہ محل کسریٰ نوشیرواں نے ۵۵۰ء میں تعمیر کروایا تھا ۔معمار رومی ا ور یونانی تھے، اس لیے یہ محل روم اور یونان کے فنِ تعمیر کا غیر معمولی طور پر حسین شاہکار بن گیا تھا۔
محمد حسنین ہیکل نے محل کے سامنے کی چوڑائی ایک سو پچاس میٹر سے زیادہ اور بلندی چالیس میٹر لکھی ہے ۔اس کے پانچ گنبد تھے۔ درمیان والا گنبد سب سے زیادہ بڑا اور اونچا تھا۔ اس کے نیچے ایوانِ کسریٰ تھا، یہیں کسریٰ کا تخت تھا۔ جس میں جڑے ہوئے ہیروں اور نایاب پتھروں کی قیمت کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا تھا۔ اس کے کئی حصے تو خالص سونے کے بنے ہوئے تھے۔
سعدؓ بن ابی وقاص گھوڑے پر سوارایک بلند ٹیکری پر کھڑے تھے۔ ان کے ایک طرف زہرہ بن حویہ اور دوسری طرف ہاشم بن عتبہ گھوڑوں پر سوار موجود تھے۔ تین چار مؤرخوں نے لکھا ہے کہ سعدؓکچھ دیر مدائن کی طرف دیکھتے رہے، انہوں نے اتنا بڑا اور خوبصورت شہر شاید پہلی بار دیکھا تھا اور انہیں توقع تھی کہ وہ اس شہر کو فتح کر لیں گے اور یہ سلطنتِ فارس کے تابوت میں آخری کیل ہو گی۔ انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر اﷲ کا شکر ادا کیا اور پھر بلند آواز سے یہ آیت پڑھی:
’’کیا تم نے قسم نہیں کھائی تھی کہ تمہارے لیے زوال نہیں ہے!‘‘
اس وقت سعدؓ بن ابی وقاص کے ذہن میں یقینا فارس کی عظیم سلطنت کا زوال تھا۔
’’میرے عزیزو!‘‘سعد ؓبن ابی وقاص نے زہرہ اور ہاشم سے کہا۔’’ مدائن کے ان گنبدوں کے نیچے کسریٰ پرویز نے رسول ﷺ کا پیغامِ حق پھاڑکر اڑا دیا تھا……کیا تمہیں یہ گنبد لرزتے محسوس نہیں ہو رہے؟‘‘
’’بیشک……بیشک!‘‘زہرہ اور ہاشم بیک زبان بولے اور دونوں نے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر کہا۔’’اﷲ……اﷲ۔‘‘
٭
اس وقت وہ بُہر شیر سے کچھ دور تھے۔ ان کے تمام دستے جو قادسیہ سے پسپا ہونے والے فارسیوں کے تعاقب میں بکھر گئے تھے ،ان کے پاس پہنچ گئے تھے ۔رات کو سعدؓ نے سالاروں اور قبیلوں کے سرداروں کو بلایا۔
’’میں جانتا ہوں کہ مجاہدین بہت تھکے ہوئے ہیں۔‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ خدا کی قسم!ان کی ہڈیاں ٹوٹ رہی ہوں گی لیکن ہم آرام کرنے بیٹھ گئے تو آتش پرستوں کی فوج اس شہر میں اکٹھی ہو جائے گی، اور ہمارے لیے بہت بڑی رکاوٹ بن جائے گی ۔ہمیں فوراً اس شہر پر حملہ کر دینا چاہیے ۔ شہر کے دروازے کھلے ہیں ۔اگر ہم شہر میں داخل ہو گئے تو اندر جتنی بھی فوج ہوئی اس کا مقابلہ کر لیں گے……اگر دروازے بند ہو گئے تو محاصرہ بہت لمبا ہو گا۔ مجاہدین کو شہر پر حملے کیلئے فوراً تیار کرو۔‘‘
اِدھر مجاہدین کو حملے کیلئے تیار کیا جانے لگا اُدھر فارس کی وہ فوج جو بُہر شیر کے باہر نظر آرہی تھی، وہ بڑی تیزی سے شہر کے اندر چلی گئی اور شہر کے دروازے بند ہو گئے۔ فوراً ہی بعد شہر کی دیواروں کے اوپر یہ فوجی تیر کمانیں لیے کھڑے نظر آنے لگے۔
بُہر شیر کی وہ دیوار جو دریا کی طرف تھی، وہ دریا کے اندر تھی۔ وہیں سے مدائن تک پل تھا ۔تاریخ میں یہ پتا نہیں چلتا کہ یہ پُل کشتیوں کا تھا یا لکڑی وغیرہ سے بنایا گیا تھا۔ یہ واضح رہے کہ پل اتنا مضبوط تھا کہ اس سے زیادہ سے زیادہ فوج گزر جاتی تھی۔ سعدؓ بن ابی وقاص کو معلوم نہ ہو سکا کہ رات کے وقت مدائن سے فوج اور دیگر سازوسامان بُہر شیر بھیجا جاتا ہے اور اس طرح شہر کا دفاع بہت مضبوط کیا جا چکا ہے ۔جس شہر کا محاصرہ کیا جاتا تھا، اس شہر کے لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء ملتی رہتیں تو محاصرہ بہت ہی لمبا ہو جاتا تھا۔ بُہر شیر میں خوراک کی کوئی قلت نہیں تھی۔
یزدگرد نے بُہر شیر کو ناقابلِ تسخیر بنانے کا ایسا تہیہ کر لیا تھا کہ وہ خود راتوں کو فوجوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کرتا تھا، پھر خود بُہر شیرآکے دیکھتا تھا کہ لوگوں میں دفاع کا جذبہ کمزور تو نہیں ہو گیا۔
اس کی بہن پوران جو فارس کی ملکہ رہ چکی تھی، یزد گرد سے کہیں زیادہ وطن پرست تھی۔ اس نے اپنا وہی طریقہ کار جاری رکھا ہوا تھا کہ گھوڑے پر سوار ہو کر مدائن کی گلیوں میں گھومتی پھرتی، کہیں رُک کر لوگوں کو اکٹھا کرکے بڑے ہی جذباتی اورجوشیلے الفاظ میں ان کے حوصلے مضبوط کرتی ۔بُہر شیر کے لوگوں کو تو اس نے اس قدر گرما دیا تھا کہ بچے بچے فارس پرجان قربان کرنے کیلئے تیار ہو گئے۔
’’تم دیکھ رہے ہو کہ مسلمان آدھے سے زیادہ فارس پر قابض ہو کر تمہارے دروازے تک پہنچ گئے ہیں۔‘‘ یہ پوران کے الفاظ تھے جو مدائن اور بُہر شیر کی گلیوں میں گونجتے اور گرجتے رہتے تھے ۔’’ہمارے جرنیل اور ہماری ساری فوج اتنی بزدل نکلی کہ چند ہزار مسلمانوں کے سامنے بھی نہ ٹھہر سکی۔ ‘‘پوران لوگوں کی غیرت کو جگانے کیلئے اور انہیں ڈرانے کیلئے یہ الفاظ ضرور کہتی تھی ۔’’ان تمام شہروں سے جن پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا ہے، مسلمانوں نے تمام نوجوان لڑکیوں اور جوان عورتوں کو اپنے پاس رکھ لیا ہے اور ان میں جو بہت خوبصورت ہیں انہیں عرب بھیج دیا ہے ۔تم نہیں جانتے کہ مسلمان کیسے وحشی اور درندے ہیں۔ انہوں نے تمام مویشی اپنے قبضے میں لے لیے ہیں ،جنہیں وہ ذبح کرکے کھاتے رہتے ہیں ۔مذہنی پیشواؤں اور بڑے بڑے رئیسوں اور معزز لوگوں کو بھی انہوں نے غلام بنا لیا ہے۔ اگر تم نے مسلمانوں کو یہیں ختم نہ کیا تو تمہارا بھی یہی حال ہو گا۔ تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہاری بیٹیاں مسلمانوں کی لونڈیاں اور کنیزیں بنی رہیں گی، تمہارے گھر میں جتنا مال و دولت ہے وہ مسلمان اٹھا لیں گے اور تم فاقہ کشی پر مجبور ہو جاؤ گے۔ یہ بھی سمجھو کہ اپنے دیوتاؤں کا اور زرتشت کا جو قہر تم پر گرے گا وہ بڑا ہی بھیانک ہوگا اور اگر تم عربوں کے آگے جم گئے تو خدائے آفتاب کی ایسی ایسی نعمتیں تم پر نچھاور ہوں گی جنہیں تم تصور میں بھی نہیں لا سکتے۔‘‘
سعدؓ بن ابی وقاص نے آگے بڑھ کر شہر کا محاصرہ کر لیا، تب انہیں پتا چلا کہ دریا کی طرف سے شہر کو کمک اور رسد باقاعدگی سے مل رہی ہے ،لیکن اس کا وہ کوئی سدِباب نہیں کر سکتے تھے کیونکہ دریا کی طرف دیوار کی لمبائی خاصی زیادہ تھی۔ یہ دیکھا گیا کہ تیروں سے کمک کو روکاجا سکتا ہے یا نہیں ۔لیکن جہاں سے تیر چلائے جا سکتے تھے وہاں سے پُل بہت دور تھا۔ سعدؓ بن ابی وقاص نے شہر کے تین اطراف گھوم پھر کر دیکھ لیا۔ شہرِ پناہ پر اس قدر تیر انداز اور برچھیاں پھینکنے والے فارسی موجود تھے کہ آگے بڑھ کر دیوار کو کہیں سے توڑنا یا دیوار پر کمند پھینک کر چڑھنا ناممکن تھا۔
شہرِ پناہ پر اس قدر تیر انداز اور برچھیاں پھینکنے والے فارسی موجود تھے کہ آگے بڑھ کر دیوار کو کہیں سے توڑنا یا دیوار پر کمند پھینک کر چڑھنا ناممکن تھا۔
’’میرے عزیز رفیقو!‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے اپنے سالاروں اور سردارو ں کو بلا کر کہا۔’’ تم دیکھ رہے ہو کہ شہر کا دفاع بہت مضبوط ہے اور ہم جانوں کی اتنی قربانی نہیں دے سکتے کہ دروازے کو توڑنے کیلئے آگے بھیجیں ۔محاصرہ لمبا ہو گا جس کا ہمیں صرف یہ فائدہ ملے گا کہ ہمارا لشکر آرام کرلے گا اور جو پہلے کے زخمی ہیں وہ ٹھیک ہو کر لڑائی کیلئے تیار ہوجائیں گے۔ لیکن غور کرو کہ ہم ایک بہت بڑے خطرے میں ہیں جو یہ ہے کہ بیشمار فارسی فوجی چھُپ گئے ہیں۔ ان کے بڑے جرنیل تو مارے گئے ہیں لیکن چھوٹے افسر ابھی زندہ ہیں۔ کیا تمہیں یاد نہیں کہ اسی علاقے کے لوگوں نے مثنیٰ کے خلاف بغاوت کر دی تھی ۔یہ لوگ اب بھی وہ حرکت کر سکتے ہیں ۔اب فوجی بھی ان کے ساتھ ہیں۔ مجھے صاف نظر آرہا ہے کہ یہ لوگ اکٹھے ہو کر ہم پر پیچھے سے حملہ کر سکتے ہیں۔ اِدھر اس شہرمیں بہت سی فوج موجود ہے ۔اگر ہم پر عقب سے حملہ ہو گیا تو شہر کی فوج پھر باہر آجائے گی۔ پھر تم سوچ سکتے ہو کہ ہمارا کیا انجام ہو گا۔ کیا تم میری اس کارروائی کو پسند کرو گے کہ دجلہ اور فرات کے درمیانی علاقے کے لوگوں کو وہ کسان ہیں، فوجی ہیں یا کوئی بھی ہیں ،پکڑ کر ایک جگہ اکٹھا کر لیا جائے اور اُن پر پہرہ لگا دیا جائے؟‘‘
’’بیشک……بیشک!‘‘سعدؓ بن ابی وقاص کی تائید میں کئی آوازیں اٹھیں۔’’ اور یہ کارروائی فوراً ہونی چاہیے۔‘‘
یہ سعدؓ بن ابی وقاص کی دور اندیشی تھی۔ فارس کے اس علاقے کے لوگوں کی فطرت میں یہ شامل تھا کہ وہ ذرا سی بھی گرفت ڈھیلی ہونے پر بغاوت کر دیتے تھے ۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ سعدؓ بن ابی وقاص کی یہ دور اندیشی ان ہی کی عسکری دانشمندی کا کرشمہ تھا۔ اپنے سالاروں کی تائید حاصل کرکے انہوں نے ایک دستہ تمام علاقے کے لوگوں کو پکڑ لانے کیلئے بھیج دیا۔
٭
’’میرے عزیز رفیقو!‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے اپنے سالاروں اور سردارو ں کو بلا کر کہا۔’’ تم دیکھ رہے ہو کہ شہر کا دفاع بہت مضبوط ہے اور ہم جانوں کی اتنی قربانی نہیں دے سکتے کہ دروازے کو توڑنے کیلئے آگے بھیجیں ۔محاصرہ لمبا ہو گا جس کا ہمیں صرف یہ فائدہ ملے گا کہ ہمارا لشکر آرام کرلے گا اور جو پہلے کے زخمی ہیں وہ ٹھیک ہو کر لڑائی کیلئے تیار ہوجائیں گے۔ لیکن غور کرو کہ ہم ایک بہت بڑے خطرے میں ہیں جو یہ ہے کہ بیشمار فارسی فوجی چھُپ گئے ہیں۔ ان کے بڑے جرنیل تو مارے گئے ہیں لیکن چھوٹے افسر ابھی زندہ ہیں۔ کیا تمہیں یاد نہیں کہ اسی علاقے کے لوگوں نے مثنیٰ کے خلاف بغاوت کر دی تھی ۔یہ لوگ اب بھی وہ حرکت کر سکتے ہیں ۔اب فوجی بھی ان کے ساتھ ہیں۔ مجھے صاف نظر آرہا ہے کہ یہ لوگ اکٹھے ہو کر ہم پر پیچھے سے حملہ کر سکتے ہیں۔ اِدھر اس شہرمیں بہت سی فوج موجود ہے ۔اگر ہم پر عقب سے حملہ ہو گیا تو شہر کی فوج پھر باہر آجائے گی۔ پھر تم سوچ سکتے ہو کہ ہمارا کیا انجام ہو گا۔ کیا تم میری اس کارروائی کو پسند کرو گے کہ دجلہ اور فرات کے درمیانی علاقے کے لوگوں کو وہ کسان ہیں، فوجی ہیں یا کوئی بھی ہیں ،پکڑ کر ایک جگہ اکٹھا کر لیا جائے اور اُن پر پہرہ لگا دیا جائے؟‘‘
’’بیشک……بیشک!‘‘سعدؓ بن ابی وقاص کی تائید میں کئی آوازیں اٹھیں۔’’ اور یہ کارروائی فوراً ہونی چاہیے۔‘‘
یہ سعدؓ بن ابی وقاص کی دور اندیشی تھی۔ فارس کے اس علاقے کے لوگوں کی فطرت میں یہ شامل تھا کہ وہ ذرا سی بھی گرفت ڈھیلی ہونے پر بغاوت کر دیتے تھے ۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ سعدؓ بن ابی وقاص کی یہ دور اندیشی ان ہی کی عسکری دانشمندی کا کرشمہ تھا۔ اپنے سالاروں کی تائید حاصل کرکے انہوں نے ایک دستہ تمام علاقے کے لوگوں کو پکڑ لانے کیلئے بھیج دیا۔
اس کارروائی میں کچھ دن لگ گئے ۔لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کیاجاتا رہا اور اس طرح چند دنوں میں ایک لاکھ افراد جو سب کے سب مرد تھے اکٹھے کر لیے گئے۔ کسی کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا ۔انہیں بتایا گیا کہ انہیں کھانے پینے کیلئے ملتا رہے گا اور اس کے سوا کہ انہیں یہیں موجود رہنا پڑے گا کوئی تکلیف نہیں دی جائے گی۔
دو مؤرخوں جن میں محمد حسنین ہیکل بھی شامل ہے لکھاہے کہ مسلمانوں نے اپنے اردگرد ان ہی لوگوں سے خندق کھدوالی تھی تاکہ عقب کے خطرے سے بھی محفوظ ہو جائیں لیکن زیادہ تر مؤرخوں نے ایسی خندق کا ذرا سا بھی ذکر نہیں کیا نہ ہی یہ خندق صحیح معمول ہوتی ہے ۔سعد ؓبن ابی وقاص ایسے جرنیل تھے جو اپنے عقب میں ایسی رکاوٹ کبھی کھڑی نہیں کیا کرتے تھے۔
محاصرہ لمبا ہو تا جا رہا تھا ۔ایک روز ساباط کا ایک رئیس شہرزاد سعدؓ بن ابی وقاص کے پاس آیا۔
’’محترم سپہ سالار!‘‘شہرزاد نے کہا۔’’ آپ نے اس علاقے کے تمام آدمیوں کو اپنے قیدی بنا لیا ہے۔ آپ نے یہ نہیں دیکھا کہ سب کسان ہیں ۔ان کا ذریعۂ معاش کاشتکاری ہے ۔ ان کی گرفتاری کی وجہ سے کھیتی باڑی کا نقصان ہو رہا ہے۔ اگر آپ نے انہیں یہاں بٹھائے رکھا تو کھیتیاں ویران ہوجائیں گی۔ اس کا نقصان لوگوں کوتو ہوگا ہی، خود آپ کو نقصان یہ ہو گا کہ محاصرہ زیادہ لمبا ہو گیا تو آپ کے لشکر کو کھانے کیلئے کچھ بھی نہیں ملے گا۔ یہ سب غریب سے کسان ہیں ۔اگر یہ تیغ زنی اور تیر اندازی کی کچھ سوجھ بوجھ رکھتے تو انہیں فوج میں لے لیا جاتا ۔ان میں آپ کو بہت سے ایسے بھی ملیں گے جو جنگی گھوڑے کی سواری میں بھی مہارت نہیں رکھتے۔
’’لیکن کون ہے جو ان کی ضمانت دے سکتا ہے؟‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ ان میں فوجی بھی ہو سکتے ہیں۔‘‘
’’ایک بھی نہیں۔‘‘شہرزاد نے کہا۔’’ ہم نے کوئی ایک بھی فوجی نہیں دیکھا جو کسی بستی میں آکر چھپا ہو۔اس لیے کہ بھگوڑے فوجی لوگوں سے ڈرتے ہیں کہ لوگ انہیں طعنے دیں گے کہ وہ بزدل ہیں اور بھاگ آئے ہیں……ان کی ضمانت میں دیتا ہوں اور میں دوسری بستیوں کے رئیسوں اور جاگیردروں کو بھی لے آتا ہوں۔ وہ سب ان کی ضمانت دیں گے۔ اگر ان سب نے نہیں، صرف چند ایک نے بھی گڑبڑ کی تو آپ ہمیں قتل کر دیں۔‘‘
جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ سعد ؓبن ابی وقاص روز بروز محاذ کی کار گزاری اور صورتِ حال لکھوا کر امیر المومنین ؓکیلئے مدینہ بھیجا کرتے تھے ۔انہوں نے شہرزاد سے کہا کہ وہ آج ہی ان سب کو آزاد کر دیں گے، تاکہ یہ اپنے کام کاج میں مصروف ہو جائیں اور آج ہی قاصد کو مدینہ بھیجیں گے اگر امیر المومنین ؓنے یہ حکم بھیج دیا کہ ان لوگوں کو اپنا قیدی بنائے رکھو تو میں انہیں پھر پکڑنے پر مجبور ہو جاؤں گا۔
تقریباً تمام تارخ نویسوں نے لکھا ہے کہ ان تمام دیہاتی قیدیوں کو یہ وارننگ دے کر آزاد کردیا گیا کہ ذرا سا بھی شک ہوا کہ ان میں سے کچھ لوگ بغاوت پر آمادہ ہیں تو انہیں قتل کر دیا جائے گا۔ (۔ اسلام اور انسان۔ تاریخ اسلام اور انسانیت پر مبنی فیسبک پیج سے آپ پڑھ رہیں ، مجاہدین اسلام کے ہاتھوں کسریٰ فارس کی تباہی کی داستان حجاز کی آندھی) اس کے فوراً بعد سعد ؓبن ابی وقاص نے امیر المومنین حضرت عمرؓ کو پیغام بھیجا کہ انہوں نے عقبی خطرے کے پیشِ نظر یہاں کے تما م لوگوں کو گرفتار کر لیا تھا،لیکن کھیتی باڑی کا کام رک جانے کی وجہ سے اور یہاں کے جاگیرداروں اور رئیسوں کی ضمانت پر انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔ مجھے اس کارروائی کی توثیق یا تردید درکار ہے۔
قاصد عموماً تیز رفتار گھوڑوں یا اونٹوں پر آیا جایا کرتے تھے ۔کچھ دنوں بعد حضرت عمر ؓکی طرف سے توثیق آگئی ۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ان لوگوں کو امان دے دو اور اگران میں سے کوئی جزیہ یا خراج دینا چاہے تو وہ لے لو۔ور نہ جبر نہ کرنا کیونکہ جو کام محبت کر سکتی ہے وہ جبر نہیں کر سکتا۔
سعدؓ بن ابی وقاص نے وہاں کے مقامی لوگوں میں سے جاسوس اور مخبر تیار کر لیے جو کسانوں اور غریب مسافروں کے روپ میں اس سارے علاقے میں گھومتے پھرتے رہتے، لوگوں سے ملتے ملاتے اور دیکھتے رہتے تھے کہ کسی گوشے میں بغاوت کی چنگاری تو نہیں سُلگ رہی۔
٭
محاصرے کا ایک مہینہ پورا ہو گیا۔
مدائن کے محل میں یزدگرد اور پورا ن کبھی تو مطمئن ہوتے کہ بُہرشیر کا محاصرہ ناکام ہو جائے گا اور کبھی مسلمانوں کے نعرے سن کر مایوس ہو جاتے کہ مسلمانوں کا د م خم ٹوٹنے کے بجائے ان میں جوش و خروش پیدا ہو تا چلا جا رہا ہے، یزدگرد شاہانہ عیش و عشرت بھول گیا تھا ۔اس نے اپنی ماں سے ملنا ملانا بھی کم کر دیا تھا۔ پوران بھی عیش و عشرت میں کچھ کم نہیں تھی لیکن ان حالات میں کہ مسلمان مدائن کی دہلیز تک پہنچ گئے تھے۔ پوران پر وطن پرستی غالب آگئی تھی۔ ان دونوں نے مذہبی پیشواؤں کوبلا کر کئی بارکہا تھا کہ عبادت گاہوں میں ہر وقت عبادت جاری رکھیں۔
پوران پر وطن پرستی غالب آگئی تھی۔ ان دونوں نے مذہبی پیشواؤں کوبلا کر کئی بارکہا تھا کہ عبادت گاہوں میں ہر وقت عبادت جاری رکھیں۔
ایک روز وہ یہودی راہب جو مسلمانوں کو روکنے کیلئے بڑا سخت جادو تیار کر رہا تھا، یزد گرد کے پاس آیا اسے دیکھ کر یزدگرد کی آنکھیں چمک اٹھیں جیسے فارس کا نجات دہندہ یہی یہودی راہب ہو۔
’’کیا تم نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے؟‘‘یزدگرد نے اسے دیکھتے ہی بیتابی سے پوچھا۔
’’تیاری کا آخری مرحلہ آگیاہے شہنشاہ!‘‘یہودی راہب نے جواب دیا۔
’’کیا تمہیں احساس ہے کہ تم کتنے عرصے سے اس کام میں لگے ہوئے ہو؟‘‘ یزدگر دنے غصیلی آواز میں کہا۔’’ عربی لشکر ہمارے سر پر پہنچ گیا ہے۔‘‘
’’مجھے احساس ہے شہنشاہ! ‘‘راہب نے کہا۔’’ میرا جادو عربی لشکر کو یہیں تباہ کر دے گا۔ اسے پسپائی کی مہلت ہی نہیں ملے گی۔‘‘
’’تو اب کیا لینے آئے ہو؟‘‘ یزد گرد نے کہا۔’’ کیا تم خود نہیں سمجھ سکتے کہ جھوٹی تسلیا ں مدائن کو نہیں بچا سکتیں؟ کبھی تو مجھے شک ہو تا ہے کہ تم یہودی اپنی فطرت کے عین مطابق مجھے دھوکا دے رہے ہو۔ جس سے تمہارا مقصد شاید یہ ہے کہ مسلمان مدائن پر قابض ہوجائیں اور تم مدائن کے خزانوں میں سے اپنا حصہ وصول کرو۔‘‘
’’نہیں شہنشاہ!‘‘بوڑھے راہب نے کہا۔ ’’میں تسلیاں دینے نہیں آیا۔ میں صرف ایک حکم لینے آیا ہوں۔ آخری چیز جو مجھے درکار ہے وہ ایک نوزائیدہ بچہ ہے، جس کی عمر تین دن سے زیادہ نہ ہو۔ میں نے شہر میں اپنے مخبر چھوڑے ہوئے تھے۔ ابھی ابھی مجھے ایک مخبر نے اطلاع دی ہے کہ گذشتہ رات ایک عورت نے ایک بچے کو جنم دیا ہے، وہ بچہ ہمیں دے دیں اور دو دنوں کے بعد آپ میرے جادو کا اثر دیکھ لیں گے۔‘‘
یزدگر دنے اسی وقت حکم دیا کہ جو بچہ رات کو پیدا ہوا ہے ۔وہ اس راہب کو دے دیا جائے ۔اگر بچے کے ماں باپ بچے کی قیمت مانگیں تو اس سے زیادہ قیمت دے کر بچہ لے لیا جائے اور اگر وہ بچہ کسی قیمت پر نہ بھی دینا چاہیں تو تو بچہ اٹھا لیا جائے اور اس راہب کے سپرد کر دیا جائے۔ یزد گرد نے یہ بھی کہا کہ بچے کے ماں باپ مزاحمت کریں تو انہیں قتل کر دیا جائے۔
حکم ملتے ہی یزدگرد کے محافظ دستے کے چار آدمی اس گھر جا پہنچے اور بادشاہ کا حکم سنایا۔ ماں نے لپک کر نوزائیدہ بچے کو سینے سے لگا لیا۔ماں کو بتایا گیا کہ اس بچے کی وہ جتنی قیمت مانگے گی اس سے زیادہ قیمت دی جائے گی۔
’’نہیں!‘‘ماں نے بچے کو سینے سے چپکاتے ہوئے کہا ۔’’یہ میرا پہلا بچہ ہے۔ آسمان کے ستارے توڑ لاؤ تو بھی میں یہ بچہ نہیں دوں گی۔‘‘
محافظوں نے بچے کے باپ کی طرف دیکھا ۔باپ نے بھی بچہ دینے سے انکار کر دیا اور اس نے محافظوں کے قدموں میں بیٹھ کر التجا کی کہ وہ ان پر یہ ظلم نہ کریں۔
(۔ اسلام اور انسان۔ تاریخ اسلام اور انسانیت پر مبنی فیسبک پیج سے آپ پڑھ رہیں ، مجاہدین اسلام کے ہاتھوں کسریٰ فارس کی تباہی کی داستان حجاز کی آندھی)
’’ان سے بچہ چھین لو۔‘‘ محافظوں کے کمانڈر نے حکم دیا۔
محافظ سپاہوں نے بچہ ماں کے سینے سے نوچ لیا ۔ماں نے چند ہی گھنٹے پہلے بچے کو جنم دیا تھا۔ اس لیے بھی وہ ا ٹھنے کے قابل نہیں تھی۔ پھر بھی وہ کھڑی ہو گئی تھی لیکن سپاہی کے دھکے سے وہ گری تو پھر اٹھ نہ سکی۔ اس کے خاوند نے اسے اٹھایا۔ اتنی دیر میں محافظ سپاہی اس بچے کو لے جا چکے تھے ۔پیچھے ماں کی چیخیں رہ گئی تھیں ۔وہ دروازے کی طرف دوڑتی تھی اور خاوند اسے پکڑتا تھا اور رو رو کر کہتا تھا کہ یہ بادشاہوں کا حکم ہے جس کی خلاف ورزی کی جرأت رستم بھی نہیں کر سکتا تھا۔
ماں چیختی چلاتی رہ گئی اور بچے کو یہودی راہب لے گیا۔
٭
آدھی رات کا وقت ہو گا جب دریا کے کنارے تالابوں والی ویران جگہ پر یہودی راہب نے اس لڑکی کو دو زانو بٹھا رکھا تھا۔ روز مرہ کی طرح لڑکی چغے میں ملبوس تھی۔ اس سے پہلے وہ لڑکی کو کُٹیا کے اندر بٹھایا کرتا تھا ۔اس رات اس نے لڑکی کو کُٹیا کے باہر ایک قدرتی تالاب کے قریب بٹھایا اور نوزائیدہ بچے اس کی گود میں دے دیا۔
راہب لڑکی کو اپنے عمل سے ہپناٹائز کر کے اس سے کچھ پوچھتا تھا اور لڑکی جواب دیتی تھی۔ ان جوابوں کے مطابق راہب کوئی جادو تیار کر رہا تھا۔ اس کاآخری مرحلہ یہ تھا کہ نوزائیدہ بچے کو اس لڑکی کی گود میں ڈالنا تھا جو اس نے ڈال دیا۔ پھر کُٹیا میں چلا گیا ۔باہر آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک چھری تھی۔ معلوم نہیں کہ اس چھری سے اس نے بچے کو ذبح کرنا تھا یا کہیں سے اس کا خون نکالنا تھا یااس نے لڑکی کی ہی جان لینی تھی۔ چھری دیکھ کر لڑکی کی چیخ نکل گئی۔
’’ڈرو مت لڑکی!‘‘راہب نے بڑے پیار سے کہا۔’’ اس چھری سے مت ڈر۔‘‘
تالاب بالکل قریب تھا ۔یہودی معلوم نہیں کیوں پیچھے ہٹا ۔اچانک اس کی ایک ٹانگ ایک شکنجے میں آگئی۔ لڑکی ایک بار پھر چیخی اور اٹھ کر کُٹیا کی طرف دوڑی۔ پیچھے دیکھا تو اسے یہودی راہب پانی میں ہاتھ مارتا نظر آیا۔ لڑکی کو صاف نظر آرہا تھا کہ ایک مگر مچھ نے یہودی کی ٹانگ پکڑ لی تھی اور اسے گھسیٹ کر تالاب میں لے گیا تھا ۔
یہودی کے شور شرابے پر اس کا جواں سال چیلا کُٹیا سے دوڑتا تالاب کے کنارے تک چلا گیا۔ وہاں ایک نہیں دو مگر مچھ تھے۔ ایک کو تو شکار مل گیا تھا اور دوسرا اس سے اس کا شکارچھیننے کی کوشش کر رہا تھا۔ لڑکی نے بچے کو زمین پر رکھا اور اس جواں سال چیلے کی طرف دوڑی اور اسے پیچھے سے اتنی زور سے دھکا دیا کہ وہ پانی میں جا پڑا۔ دوسرے مگرمچھ نے تیزی سے آکر اسے اپنے لمبے اور خوفناک جبڑوں میں جکڑ لیا ۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہودی راہب اور اس کا چیلا غائب ہو گئے۔
لڑکی نے نوزائیدہ بچے کو اپنے چغے میں لپیٹا اور وہاں سے دوڑ پڑی۔ شہر کی دیوار دور نہیں تھی، لیکن شہر کے دروازے بند تھے ۔اس نے باقی رات دروازے کے ساتھ بیٹھ کر گزاردی۔
صبح جب یہ دروازہ کھلا تو لڑکی شہر میں داخل ہو گئی اور اپنے گھر جا پہنچی۔ لڑکی کا باپ ڈر گیا کہ یہ شاہی حکم سے لے جائی گئی تھی اور شاید وہاں سے بھاگ آئی ہے اور ابھی سرکاری ہرکارے آئیں گے اور لڑکی کو گھسیٹ کر لے جائیں گے۔اس نے اپنی خیریت اسی میں سمجھی کہ لڑکی کو شاہی محل میں لے جائے۔
صبح جب یہ دروازہ کھلا تو لڑکی شہر میں داخل ہو گئی اور اپنے گھر جا پہنچی۔ لڑکی کا باپ ڈر گیا کہ یہ شاہی حکم سے لے جائی گئی تھی اور شاید وہاں سے بھاگ آئی ہے اور ابھی سرکاری ہرکارے آئیں گے اور لڑکی کو گھسیٹ کر لے جائیں گے۔اس نے اپنی خیریت اسی میں سمجھی کہ لڑکی کو شاہی محل میں لے جائے۔
وہ اپنی بیٹی اور نوزائیدہ بچے کو ساتھ لے کر شاہی محل جا پہنچا اور دربانوں کو بتایا کہ وہ کیوں آیا ہے۔ یزدگرد کو اطلاع ملی تو اس نے فوراً بلا لیا۔ اس کے سامنے جا کر لڑکی نے اسے بتایا کہ یہودی راہب اور اس کے چیلے کا کیا انجام ہوا ہے۔
’’وہ تمہارے ساتھ کرتا کیا تھا؟‘‘ یزدگرد نے لڑکی سے پوچھا۔’’ کیا وہ تم پر کوئی عمل کیا کرتا تھا؟‘‘
’’نہیں شہنشاہ!‘‘لڑکی نے یہ سوچ کر کہ وہ دونوں یہودی تو مگر مچھوں کے پیٹ میں چلے گئے ہیں جھوٹ بولا۔’’ وہ دونوں میرے ساتھ سوائے بدکاری کے اور کچھ نہیں کرتے تھے ۔میرا خیال ہے کہ وہ اس نوزائیدہ بچے کو صرف اس لئے وہاں لے گئے تھے کہ آپ کو دھوکا دیا جائے کہ وہ واقعی کوئی جادو تیار کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ بچے کو پانی میں پھینک دینا چاہتے ہوں لیکن قدرت نے اُلٹا انہیں پانی میں پھینک دیا اور وہ دونوں کو مگرمچھ کھا گئے۔‘‘
جاری ھے

No comments: