Ads Top

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر 18 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi

 by 

Abu Shuja Abu Waqar 


غازی از ابو شجاع ابو وقار
 پیشکش محمد ابراہیم
 قسط نمبر18
 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar 
Presented By Muhammad Ibraheim
 Episode 18

کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد میں نے یشونت سے اگلی ڈاک کا پوچھا تو اس نے کہا کہ آئندہ وہ ڈاک ہفتے میں دو دن منگل اور ہفتے کے روز دیا کرے گا ڈلیوری کے دونوں دن دفتر سے واپسی پر وہ گلی کی نکر پر موجود دودھ دہی کی دوکان پر ایک جیسے تھیلے کی تبدیلی اور ڈاک کی واپسی کے لیے منگل کی رات کو 12 بجے جب وہ چہلی قدمی کے لیے گلی سے باہر تک آ جایا کرے گا اور ہفتے کو ثمی کے بالاخانے سے واپسی پر ساڑھے گیارہ بجے 12 بج کے دوران سڑک پر میں نے کہا اول تو میں خود آیا کروں گا ورنہ اہک ساتھی جسکی بڑی بڑی مونچھیں ہوں گی اور نظر کی عینک لگائی ہوگی تمہارے قریب آ کر تم سے سگریٹ جلانے کے لیے ماچس مانگے گا اور کوڈ ورڈ ڈان ہوگا ڈان کہتے ہی تم اس سے تھیلا تبدیل کر لینا اس دوران یشونت نے ڈاک کا ایک پیکٹ ٹیبل کے نیچے سے
مجھے پکڑا دیا اور میں نے بھی نیچے سے ہی اپنے لباس میں چھپا لیا جب میں کرسی سے اٹھنے لگا تو یشونت نے اٹک کر کہا کہ جنرل کی فائلوں کا کتنا معاوضہ مل سکتا ہے میں نے کہا یشونت بابو جو کام آپ نہیں کر سکتے اسکے متعلق پوچھنے کا کیا فائدہ آپ دوست ہیں اس لیے آپکو بتا دیتا کہ کم از کم پچاس ہزار روپے پچاس ہزار کا سنتے ہی یشونت کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں 70ء کی دہائی میں 50 ہزار روپیہ بہت بڑی رقم تصور کی جاتی تھی آج کل کے نوجوان اس کا حساب اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اس وقت بکرے کا صاف ستھرا گوشت 4 روپے کلو ہوتا تھا اور باقی سب چیزوں کی قیمت بھی آج کی نسبت بہت زیادہ کم تھی بھارت میں اندرون ملک بننے والی اشیاء کی قیمت اس وقت پاکستانی آ شیاء سے بہت کم تھیں میں یشونت کو وہی چھوڑ کر ریسٹورنٹ سے باہر آ گیا
میرے ساتھیوں نے اندر دوکانوں میں گھومتے ہوے بڑی مونچھیں اور سکھوں والی بڑی ڈارھیاں خرید لی تھیں انہوں نے محض تفریحا خریدی تھیں لیکن میں نے ان سے کام لینے کا فیصلہ کر لیا بال تو ان کے پہلے ہی خاصے بڑے ہو چکے تھے میں نے انہیں سکھ طرز کی بندھی بندھائی پگڑیاں خریدنے کا بھی کہہ دیا اور اب میرے ساتھیوں کے پاس مکمل سکھ کٹ آپ کا سامان موجود تھا یشونت کے ساتھ رابطے کا میں نے مضبوط پل بنا دیا تھا اب ڈاک لینے اور دینے کا کام میں انہیں سونپنا چاہتا تھا کیونکہ کئی جگہوں پر میں بیک وقت مختلف کاموں میں انوالو ہو چکا تھا سینما سے نکل کر میں ایک چشموں والی دوکان پر گیا اور چار سادہ چشمے بھی خرید لیے
 یشونت کی حالت دیکھ کر یکایک مجھے ایک منصوبہ سوجھا تھا میں سیدھا چاوڑی بازار ثمی کے بالاخانے پر پہنچا صبح بنارس اور شام میں اودھ کے حسن کیطرح طوائفوں کے بالاخانے بھی شام ڈھلتے ہی رنگین اور پرکشش ہو جاتے تھے اور ابھی شام کے 4 بھی نہیں بجے تھے میں نے اپنی آمد کی اطلاع دی اور ایک آدھ سویا ہوا میراثی مجھے اندر لے گیا رات کا سجا ہوا حال سگریٹ کے ٹکڑوں الٹے گلدانوں بکھرے سازوں اور میں چادروں سے اٹاپڑا تھا میں نے میراثی سے کہا مجھے ڈیرہ درانی سے ملنا ہے تھوڑی دیر بعد مجھے اندر کے کمرے میں پہنچا دیا گیا جہاں ثمی دو تین اور لڑکیوں کے ساتھ اوندھی ترچھی پڑی سوئی ہوئی تھی اور پلنگ پر دراز ڈیرہ درانی لیٹی سگریٹ پی رہی تھی اسکی نظریں سوالیہ انداز میں بے وقت آنے کا سبب پوچھ رہی تھیں میں نے ایک ہزار روپیہ اسے دیا اور کہا کہ میری بات دھیان سے سنے اور صحیح جواب دے ہزار نے میرے بے وقت آمد کا احساس ختم کر دیا تھا اور میراثی کو گالی دے کر پکارنے لگی کہ ابھی تک میرے لیے ٹھنڈا نہیں لایا گیا اتنی دیر میں ثمی اور دوسری لڑکیاں بھی اٹھ گئیں درانی نے انہیں اشارہ کیا وہ دوسرے کمرے میں چلی گئیں ساری لڑکیوں میں صرف ثمی نے چھوٹی سی نتھلی پہن رکھی تھی میں نے درانی سے پوچھا کہ ثمی کی بات کہیں طے ہوئی ہے تو اس نے نفی میں سر ہلایا. میں نے پوچھا نزرانہ کیا ہوگا ڈیرہ درانی نے کہا کہ 20 ہزار سے ایک پائی بھی کم نہیں لوں گی میں نے پوچھا کہ یشونت بابو سے بھی اس مسئلے پر کبھی بات ہوئی وہ کہنے لگی کہ وہ بڈھا تو میری بچی کا دیوانہ ہو چکا ہے اور یہاں کئی ہزار ثمی کے قدموں پر نچھاور کر چکا ہے لیکن میں نے اسے صاف کہہ دیا ہے کہ 20 ہزار سے ایک پائی کم نہیں ہوگی اگر اس مقصد کے لیے آنا ہے تو 20 ہزار لے کر آے ورنہ میرے کوٹھے کی سیڑھیاں بھی نہ چڑھے پھر آہ بھر کہنے لگی وہ بھی کیا زمانہ تھا جب اماں بتاتی تھی اس کوٹھے پر بڑے بڑے رئیس زادے آیا کرتے تھے اب تو کلجک ہے کلجک جسکی جیب میں 100 روپیہ ہوتا ہے وہ بلا جھجک چلا آتا ہے میری بچیوں کے نازک پاؤں ناچ ناچ کر سوجھ جاتے ہیں لیکن 5 روپے سے زیادہ کوئی ویل نہیں دیتا میں نے پوچھا اگر تمہیں ثمی کے 35 ہزار مل جائیں تو درانی میری بلائیں لینے لگی اور بولی جوہری ہی ہیرے کی قیمت جانتا ہے اور کچھ اور بھی کہنا چاہتی تھی مگر میں نے اسے ٹوک دیا اور کہا کہ رات کو یشونت آے تو اسے کہنا کہ ایک رئیس نے 35ہزار کی پیشکش کی ہے اور ایک ہفتے کی مہلت مانگی ہے آپ چونکہ ہمارے پرانے شناساں ہیں اس لیے پہلا حق آپ کا ہے اس سے پہلے بھی بیس ہزار کے مطالبے کو پورا نہ کر کے اپنا نقصان اور ہمارا فائدہ کیا ہے اب 35 ہزار کی آفر کوبھی آپ نظر انداز نہ کریں وہ رئیس زادہ تو اس سے بھی زیادہ دینے پر آ جاے گا اس لیے ایک ہفتہ کی مہلت ہے بعد میں ہم سے شکوہ نہ کیجئیے گا اور کہا کہ اس معاملے میں میرا ذکر بلکل بھی نہ کرے غرض کہ میں نے ڈیرہ درانی کو خوب پٹی پڑھائی وہ بھی گرگ باراں دیدہ تھی حضور آپکی ہر بات درست لیکن یشونت 35 ہزار پر راضی نہ ہوا تو 20 ہزار سے بھی جائیں گے میں نے اسے 1000 اور دیا اور کہا کہ اگر یشونت ایک ہفتہ میں 35 ہزار نہ دے گا تو میں 20 ہزار ویسے ہی دے دوں گا یہ میرا وعدہ ہے لیکن شرط یہ ہے کہ میرے کہنے پر حرف بہ حرف عمل کیا جائے یہ کہہ کر میں وہاں سے واپس چلا آیا
قارئین کرام یہ میں نے ایک طرح کا جوا کھیلا تھا یشونت کا مجھے پتہ تھا کہ اگر اسے ثمی کے بارے میں ٹائم فیکٹر دیا جاے گا تو وہ بڑے سے بڑا رسک لے لےگا میرا خیال ہے کہ ان دو انتہائی اہم فائلز کا حصول 50 ہزار میں میرے سئنرز کے لیے بہت سستا سودا تھا ہمارا ایک گروپ پہلے ہی اس مشن پر ناکام ہو چکا تھا اور مطلوبہ معلومات ہمارے لیے بہت ضروری تھیں چاوڑی بازار سے واپسی پر میں ساتھیوں کے گھر چلا گیا آج کی ڈاک کی کاپیاں بنوا کر گذشتہ ڈاک کی بھی کاپیاں لے لیں میں نے ساتھیوں سے کہا کہ آج سے یشونت سے ڈاک لینے اور واپس دینے کی ڈیوٹی ان کے ذمے ہے کاپیاں بھی وہ خود ہی بنایا کریں اور ہفتہ اور منگل کی ڈاک کی وصولی اور واپسی بھی وہی کریں گے ان کو ڈاک کی وصولی کے لیے تمام ترتیب کوڈ اور دیگر ہدایات دیں اور کہا کہ ہفتہ اور منگل کی کاپیاں اتوار اور بدھ کو صبح 10 بجے وہ ڈاک مجھے لودھی ہوٹل کے قریب مغل محل ریسٹورنٹ میں پہنچا دیا کریں یشونت سے ڈاک لینے کے لیے دو ساتھی جایا کریں گے جو ڈاک وصول کرے گا اسکی لمبی مونچھیں اور عینک لگی ہوئی ہونی چاہیے جبکہ دوسرا اصلی حالت میں اسے کور کرے گا اسی دوران میں نے ایک اور فیصلہ کیا جو میرے سئنرز کی ہدایات کے خلاف تھا حالات کے تقاضوں کے مطابق مجھے پلان میں تبدیلی کا اختیار دیا گیا تھا میں نے ساتھیوں کو لودھی ہوٹل میں اپنی رہائش اور ٹیلی فون نمبر بتا دیئے اور کہا کہ کسی ایمر جنسی کی صورت میں وہ مجھ سے ہوٹل میں رابطہ کر سکتے ہیں میرے اس فیصلے کی 3 وجوہات تھیں
اول. میرا ہر روز ان کے گھر آنا مناسب نہیں تھا
اس طرح روزانہ آنے محلے والے اور مالک. مکان شک کر سکتے تھے
دوم... میرے ساتھیوں کو میرے متعلق علم نہیں تھا کہ میں کہاں رہتا ہوں اور وہ کسی ایمر جنسی. میں مجھ سے رابطہ بھی نہیں کر سکتے تھے
سوم... اگر میں پکڑا جاؤں تو وہ میرے متعلق بلکل اندھیرے میں نہ رہیں
میں آہستہ آہستہ ان کو انکی ذمہ داریاں سونپنا چاہتا تھا تاکہ میری گرفتاری کے بعد بھی وہ طے شدہ امور کو جاری رکھ سکیں.
اگلا سارا دن میں نے ہوٹل میں ہی گزارا پاکستان بھیجنے والی ڈاک تیار کی اور نظر نہ آنے والی سیاہی سے گذشتہ کارروائی کی ممکمل تفصیل لکھی ہمدرد سے 20 روپے لینے اور یشونت کو مزید پیسے دینے کے متعلق بھی لکھا کرتار پور مشن کی کوشش اور نتائج کے متعلق لکھا غرض شام ڈھلنے سے پہلے ڈاک کا پیکٹ تیار ہوچکا تھا 
 اگلے روز میں مقررہ وقت پر ساتھیوں سمیت کونٹیکٹ سے ملنے کے لیے مطلوبہ جگہ پر پہنچ گیا میرے مطالبے کے مطابق دو کونٹیکٹ بھیجے گئے تھے جو ڈاک کا خاصا بڑا تھیلا لاے تھے میرے ساتھی مجھے کور کیے ہوئے تھے میں نے تھیلا لے کر نمبر 2 کے حوالے کیا جو اسے لے کر فوراً ہی اپنے گھر کی طرف چلاگیا کونٹیکٹ کو مجھ سے کوئی بات کرنے اجازت نہیں تھی وہ بھی اپنی ڈاک کا تھیلا لے کر فوراً چلے گئے اپنے بقیہ ساتھیوں کے ہمراہ دو ٹیکسیاں لے کر راستے میں دو تین ٹیکسیاں بدل مختلف راستوں سے ہو کر ساتھیوں کو الگ الگ جگہ پر اتار کر تقریباً 2 گھنٹے میں ساتھیوں کے گھر پہنچا یہ سب کرنے کا مقصد سیکورٹی کے لیے ضروری تھااس بار ڈاک میں مطلوبہ خطوط کے علاوہ ہمارے گھروں سے ایک ایک خط بھی آیا تھا اور دو عدد کیمرے اور ہر کیمرہ کے ساتھ فلم کے بارہ بارہ رول بھی تھے ایک تیس بور کا پسٹل جس پر سائلنسر لگا تھا اور ساتھ فالتو میگزین اور 100 گولیاں اور 50 ہزار بھارتی روپے بھی تھے سئنرز نے ہماری کارکردگی کو بہت سراہا اور یشونت سے حاصل ہونے والی ڈاک کا شدت سے انتظار کیا جارہا تھا ایک کیمرہ سگریٹ لائٹر جتنا تھا اور ڈاک کی تصویریں بنانے کی صلاحیت رکھتا تھا جبکہ دوسرا کیمرہ آٹو میٹک تھا اور اس میں بلٹ ان فلیش گن تھی سئنرز کا ایک خط صرف میرے لیے تھا جس میں مختلف ہدایات کے علاوہ یہ درج تھا کہ تمہاری کارکردگی اور صلاحیت نے ہمیں بہت متاثر کیا ہے تم چاہے اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتے ہو گے لیکن تمہاری زندگی ہمارے لیے بہت قیمتی ہے لہذا ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھاؤ سائلنسر والا پسٹل تمہارے لیے ہماری طرف سے تحفہ ہے اگر ضرورت بنے تو بے دریغ استعمال کرنا آئندہ ہر بدھ اور اتوار کو 2بجے دوپہر ہم تمہیں وائرلیس پر رابطہ کیا کریں گے تاکہ ضروری ہدایات کے علاوہ تم سب کی خیریت بھی معلوم ہوتی رہے آپ جواب میں صرف آل اوکے میسج رسیو کہنا یہ انتظام اس لیے کیا گیا تھا کہ ہم جو پیغام بھیجتے تھے اس سے ہم ٹریس ہو سکتے تھے کیونکہ اس میں خاصہ ٹائم لگتا تھا لیکن. لاہور سے ٹرانسمٹ ہونے والے پیغام چاہے کتنا بھی ٹائم لے لیں رسیو کرنے اور مختصر ترین جواب دینے میں پکڑ کا خدشہ بہت کم تھا مجھے اس نئے انتظام میں کہیں کچھ گڑ بڑ ہونے کا احساس دلا رہی تھی میں اسے اپنا وہم سمجھ کر بھلانا چاہ رہا تھا لیکن دو تین روز بعد اخبارات میں ملی جلی سرخیوں میں آلہ آباد میں ایک پاکستانی میجر جاسوس کی گرفتاری اور بعد ازاں اس کے تین ساتھیوں کی گرفتاری مسلسل ٹرانسمیٹر یوز کرنے کی وجہ سے آگرہ سے عمل میں آئی اور ان خبروں نے میرے خدشات کی تصدیق کر دی اخبارات تو پاکستانی میجر اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری سے انکشافات میں بھرے ہوئے تھے لیکن کیا انکشاف ہوے اس کا پتہ نہ چلا یہ تو کرنل شنکر نے مجھ سے ایک دن باتچیت میں بتایا کہ احسن نام کا ایک پاکستانی میجر بھارتی 39 ماؤنٹین کی وردی پہنے آلہ آباد میں کسی اسپیشل کا کہہ کر ٹھہرا وہ میس میں مقیم ایک کرنل کی ڈائری کے پیچھے لگا ہوا تھا میس میں کئی دنوں کی لاحاصل کوشش کے بعد اس نے کرنل کے مسلمان بیٹ مین کو پیسے کے زور پر رام کرنا چاہا اور اسے اعتماد میں لینے کے لئے یہاں تک بتا دیا کہ وہ پاکستانی مسلمان ہے کرنل کی ڈائری لا کر دینے کے عوض اس نے بیٹ مین کو خاصی رقم کی پیشکش کی اور آدھی رقم پیشگی دے دی یہ بیٹ مین کچھ زیادہ ہی محب وطن تھا اس نے کرنل کو سب کچھ بتا دیا میجر احسن کو فوری گرفتار کر لیا گیا اور یہ تصدیق ہونے پر کہ اس کا 39 ماؤنٹین ڈویزن جو پونا میں stationed تھا کوئی واسطہ نہیں اس پر انتہائی تشدد کیا گیا لیکن اس نے سواء اپنے نام اور رینک کے اور نمبر کے کچھ نہ بتایا بھارتی انٹیلیجنس نے جلد از جلد اس کے ساتھیوں اور ہمدردوں کے نام اگلوانے کی خواہش میں اس میجر کو بریک کرنے کے لیے تشدد کی انتہا کردی اس کے دونوں پاؤں کی انگلیاں کاٹی گئیں ہاتھ کاٹے گئے اور دونوں بازو بھی کاٹ دیئے لیکن میجر احسن کی زبان سے ایک لفظ بھی نہ نکلا حتی کہ وہ شہید ہو گیا اس کے ساتھی آگرہ میں تھے جب میجر احسن کئ دن تک ان تک نہ پہنچا تو وہ بوکھلا گئے اور بار بار ٹرانسمیٹر پر سے لاہور رابطے شروع کر دیئے بھارتی ٹرانسمیٹر نے ان کے سگنل کیچ کیے اور جگہ کا تعین کیا اور وہ تینوں بمعہ ٹرانسمیٹر پکڑے گئے کرنل شنکر جو کچھ مجھے بتاتا گیا میں سنتا گیا میں نے خود کوئی ایسا سوال نہ کیا جس سے کرنل کو مجھ پر شک ہو سکے یہ روداد میں نے اپنی ڈاک میں لاہور بھیج دی بہت بعد میں مجھے پتہ چلا کہ میجر کے تینوں ساتھیوں کو بھی تشدد کر کے شہید کر دیا گیا تھا اور انہوں نے بھی اپنی زبان نہیں کھولی. اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے آمین
قارئین کرام آپ اس بات پر حیران ہو رہے ہوں گے کہ پاکستان سے بھارت ہمارے لیے اتنی رقوم منتقل ہوتی ہے تو ہم جیسے چاہیں جتنی چاہیں یوز کر سکتے ہیں ایسی بات نہیں ہے پاکستان سے جو ہمیں پیسے بھیجے جاتے ہیں ان میں میرا جیب خرچ پورے ماہ کے لیے 4 ہزار اور ساتھیوں کے لیے 3 ہزار پر ہیڈ ہوتا تھا باقی جتنے بھی پیسے ہوتے تھے ان اخراجات کی مکمل تفصیل لکھ کر بھیجی جاتی تھی
میں نے ساتھیوں کو میجر احسن اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری کی تفصیل بتائی اور انہیں سخت چوکس رہنے کا کہا اور کہا جب بھی باہر جاؤ اکیلے اکیلے نہیں جانا بلکہ دو دو ہر کر جائیں اور باہر جاکر آپسمیں فاصلہ رکھیں اور احتیاط سے چوکس ہو کر ہر لمحہ ذہن کو بیدار رکھ کر رہنا ہے جب باہر جاؤ تو اسلحہ پاس رکھو جب دیکھو کہ کام بگڑ رہا تو پھر پیچھا کرنے والے پر گولی چلا دو اور بچ کر نکلنے کی کوشش کرو ساتھیوں نے کیا کہ ہم نے سراے بیرم خان میں گھومنے کے دوران ایک چاقو چھریوں والی دوکان سے ایسی پانچ چھریاں خرید لیں ہیں جو آدھ انچ سے بھی کم چوڑی اور ایک فٹ لمبی ہیں اور ہاتھ میں پکڑنے والے عام بید کے موٹے دستے بنے سکریو کے ذریعے فٹ ہو جاتی ہے انہوں نے ایسا ایک بید مجھے بھی دیا چھری واقعی بہت سخت اور بے حد تیز تھی بید کے اندر فٹ ہونے کیوجہ سے دستہ بید کا حصہ دکھائی دیتا تھا یہ واقعی کارآمد ہتھیار تھا جس سے آواز نکلے بغیر ہی دشمن کو ہلاک کیا جا سکتا تھا پاکستان سے بھیجے گئے سائلنسر پسٹل کو رکھنے کے لئے کور اور ایسی بیلٹس بھیجی گئی تھی جس سے پسٹل لباس کے اندر بلکل چھپ جاتا تھا میں نے ساتھیوں کو دوبارہ تنبیہ کی کہ پسٹل اور چھری کا استعمال اس وقت کیا جاے جب کوئی راستہ باقی نہ رہے جاری ہے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.