Ads Top

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر 17 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi

 by 

Abu Shuja Abu Waqar 


غازی از ابو شجاع ابو وقار
 پیشکش محمد ابراہیم
 قسط نمبر17
 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar 
Presented By Muhammad Ibraheim
 Episode 17

بمبئی میرے اکثر دوست مسلمان. ہیں اور ان سے مذہبی گفتگو کر کے میں اسلام کی وسعت نظر اور فراست کا قائل ہو چکا ہوں ایک آدھ سماجی مجبوریاں ہیں بس جنکی وجہ سے ابھی تک خاموش ہوں ورنہ میں کب کا اسلام قبول کر چکا ہوتا میری یہ بات سن کر عبدالکریم کی باچھیں کھل گئی اور وہ مجھے اسلام کی خوبیاں بتانے لگا میں نے اسے ٹوک دیا اور کہا کہ میں اسلام کا بہت گہرائی تک مطالعہ کیا ہے لہذا تم اسکو چھوڑو اور اپنی بتاؤ تم ایک اچھے اور شریف خاندان کے فرد ہو اور حالات کا شکار ہو. میں تمہاری بھر پور مدد کرنے کیے تیار ہوں لیکن اس کے لیے تمہیں اپنی وفاداری کا ثبوت دینا ہو گا میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ انگریزی تو نہیں لیکن اردو اور ہندی پڑھ لکھ سکتا ہے میں نے اس سے کہا کہ مجھے ایک ایسے آدمی کی ضرورت ہے جو وہ سب کچھ لکھ پڑھ سکے جو اس کے ذہن میں ہو تم یوں کرو. تم کو کرنل کے جذبات خیالات اور اس کے کام کے متعلق جو کچھ معلوم ہے وہ مجھے لکھ کر دے دو لیکن یاد رکھنا کرنل یا کسی اور کو اس بات کا پتہ نہ چلے میں تین چار روز بعد کرنل کے پاس چکر لگاؤں گا اور موقع دیکھ کر میں تم سے وہ تحریر لے لوں گا تمہاری تحریر سے میں اندازہ لگاؤ‍ں گا کہ تم میرے کتنے کام آ سکتے ہو اس کے بعد ہی میں تمہارےمتعلق فیصلہ کروں گا اگر تم میری سوچ پر پورا اترتے ہو تو پھر میں تمہاری سوچ سے بڑھ کر تمہارا ساتھ دوں گا غرض اسی طرح کی امیدوآس کی باتیں کر کے میں عبدالکریم کو قائل کیا اور اسے 500 روپے دے کر رخصت کر دیا ایک بجنے والا تھا اور مجھے آشا سے بھی 1بجے ملنا تھا
جب میں ریسٹورنٹ میں پہنچا تو آشا میری منتظر تھی رسمی جملوں کے بعد آشا نے میری بے اعتنائی کے شکوے شروع کر دئیے آپ ملے تو میں سمجھی مجھے میری منزل مل گئی مگر میں یہ بات بھول گئی تھی کہ بمبئی کی رنگینیوں میں بھلا میری کیا اوقات ہو سکتی ہے آشا کافی دیر بولتی رہی اور میں سنتا اور سوچتا رہا کہ آشا میری بہتری کی بات کیوں نہیں کہہ رہی جس کے لیے اس سے ملاقات کی ہے میں نے فیصلہ کیا کہ جبتک آشا کو پرامید باتوں سے رام نہ کر لوں وہ کچھ نہیں بتاے گی میں نے آشا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا بولا دیکھو آشا ہر انسان میں کچھ اچھائیاں اور کچھ خامیاں ہوتی ہیں اور مجھ میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ میں محبت کے الفاظ کا سہارا لینے میں ہمیشہ ناکام رہا ہوں میں نے شاید تمہیں یہ بھی بتایا تھا کہ جس لڑکی سے میں محبت کرتا تھا اس کے سامنے میں محبت کا بھرپور اظہار نہ کر سکا جسکیوجہ سے وہ کسی اور کی جیون ساتھی بن گئی اس لڑکی کے بعد جیون میں بہت بڑا خلا رہا جب تم ملی تو میں سمجھا کہ میرے جیون میں بہار آ گئی لیکن تم شادی شدہ ہو تم کیونکر میری جیون ساتھی بن سکتی ہو میں فطرتاً بہت possessive ہوں اگر تم میری بیوی ہوتی تو میں تمہارے بغیر کسی کلب یا پارٹی میں نہ جاتا اور تمہارے سوا کسی کے ساتھ نہ ناچتا اور نہ ہی تمہیں ناچنے دیتا یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ عورت کی سب سے بڑی کمزوری اس کا کسی مرد کی زبان سے اپنے لیے محبت اور اپنے حسن کی تعریف سننا ہے میں اسے مختلف شعر سناتا گیا اور آشا کی میرے ہاتھ پر گرفت مضبوط ہوتی گئی میں نے کہا دیکھو آشا میرے جذبات اور خیالات کی راہ میں تمہاری زندگی کے لمحات کس بری طرح سے حائل ہیں تم آج ایک مرد کی بغل میں ہوتی تو کل دوسرے کے کبھی شوہر کے ساتھ اور کبھی دوستوں کے ہمراہ تو ایسی صورت میں تم میری اور میں تمہاری منزل کیونکر ہو سکتے ہیں آشا کی آنکھیں حقیقت کی تلخی برداشت نہ کر سکیں اور چھلکنے لگیں اس نے رومال سے اپنے آنسو صاف کیے وہ ذرا سنبھلی تو کہنے لگی ونود بابو برسوں سے میرا ضمیر جس بات پر قائل نہ کر سکا آپ نے چند منٹ میں وہ بات مجھے سمجھا دی یقین جانیے میں دل سے آپکی پوجا کرتی ہوں پہلی ہی ملاقات سے میں آپکو دل کی گہرائیوں سے چاہنے لگی ہوں آپکو پانے کے لئے میں نے کتنے جتن کیے ہوٹل میں آپ کمرے میں آئی بریگیڈیئر کے بیٹے سے آپکی ملاقات بس اس لیے کروائی کہ آپ میں رقابت پیدا ہو جائے لیکن یہ میری بھول تھی اور آپ مجھ سے دور ہوتے چلے گئے اب میں آپکو اور سچائی کو سمجھ چکی ہوں اگر آپ میرے ماضی کو فراموش کر سکتے ہیں تو میں وعدہ کرتی ہوں کہ آج سے اور ابھی سے آپ ایک بدلی ہوئی آشا کو دیکھیں گے میں نے کہا آشا یہ سب کہنا آسان ہے اور کرنا بہت مشکل ہے اور پھر تم شادی شدہ ہو اور کیا جے چند تمہیں اتنی آسانی سے چھوڑ دے گا آشا بولی یہی تو بتانے کے لیے آپ کو یہاں بلایا تھا.
 جے چند نے میس کے بریگیڈیئر سے جس کے لڑکے میں نے سے آپ کو ملوایا تھا اس نے ایک بہت بڑا ٹھیکہ انتہائی کم ریٹ پر حاصل کیا ہے اور 25لاکھ روپیہ رشوت دی ہے اور ایک منسٹر بھی اس ٹھیکے میں انوالو ہے جسکا حاصل ہونے والے پرافٹ کا آدھا حصہ ہے میرے پوچھنے پر آشا نے بتایا کہ ایک چھوٹا ٹیپ ریکارڈ تھا جس پر اسنے ٹھیکے کے متعلق ہونے والی گفتگو ریکارڈ کر لی ہے کیونکہ کنٹریکٹ کے لیے جے چند بریگیڈیئر؛ ور منسٹر کی ملاقاتیں جے چند کے بنگلے پر ہوتی تھیں
میں نے معصومانہ انداز میں کہا کہ آشا تم نے تو کل میری بہتری کی بات بتانے کا کہا تھا بھلا اس ٹھیکے کے اندرونی حالات سے میری کیا بہتری ہو سکتی ہے آشا معصومیت سے کہا کہ کیا میں آپ کی بہتری نہیں اور میں کوئی جواب نہ دے سکا آشا نے کہا اس ریکارڈنگ سے نہ صرف جے چند مجھے آزاد کر دے گا بلکہ منہ بند رکھنے کے لیے ایک موٹی رقم بھی دے گا اور پھر میں تمہارے ساتھ تمہارے مطابق زندگی گزاروں گی مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں آشا کو کیا جواب دوں میں نے آشا سے کہا کہ اگر واقعی تم کو مجھ سے محبت ہے تو کیا تم مجھے وہ ٹیپ ریکارڈ سنا سکتی ہو آشا نے فوراً اپنا بیگ کھولا اور ایک چھوٹے سائز کا ٹیپ ریکارڈ نکال کر مجھے دیا اور کہا ٹیپ بھی تمہاری کیسٹ بھی تمھاری. اب تو میں آپکی اجارت کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاؤں گی ادھر میری حیرانی اور پریشانی بڑھتی جا رہی تھی نامعلوم آشا نے یہ جانے بغیر میں کون ہوں کہاں سے آیا ہوں کیا کرتا ہوں آپنی ساری امیدیں مجھ سے وابستہ کر لی تھیں
مجھے آشا سے کوئی جذباتی لگاؤ نہیں تھا جو تعلق تھا صرف اور صرف اپنے وطن کی بہتری کے معلومات حاصل کرناتھا میں نے آشا کو کہا کہ وہ مجھے کونٹیکٹ کرنے میں احتیاط برتے اور کبھی اس کے سامنے اس کے شوہر کا آمنا سامنا ہو جاے تو مجھے اگنور کر دے جواباً آشا نے کہا کہ اب وہ اپنے شوہر یا کسی اور کے ہمراہ باہر نہیں جاے گی لیکن مجھے ہر روز فون کرے گی اور یہ کہ میں دوسرے تیسرے دن اسے ضرور ملوں کھانا تو ہم کب کا کھا چکے تھے ریسٹورنٹ سے پہلے آشا باہر نکلی اور اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلی گئی اس کے بعد میں نکلا اور ٹیکسی لی اور اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچ گیا ہم سب مکمل تیاری میں پہلے ہی تھے لہذا ہم دو ٹیکسیوں میں سراے بیرم خان کیطرف روانہ ہو گئے اور یشونت سے مقررہ وقت سے پہلے پہنچ گے بجاے چھپر ہوٹل میں قیام کرنے کے میں نے سوچا اس علاقے میں گھوما جاے ہم دو دو کی ٹولیوں میں آگے پیچھے چل پڑے
اس علاقے میں مسلمانوں کے چھوٹے چھوٹے گھر ایک منزلہ اور دوکانیں تھیں ایک دوکان سے ہم نے دودھ کی ٹھنڈی بوتلیں پی اور واپس آ گئے پہلے کیطرح میں نے چھپر ہوٹل میں اپنا مورچہ سنبھالہ اور ساتھیوں نے اپنی اپنی پوزیشنیں سنبھال لیں اور ہم یشونت کا انتظار کرنے لگے اور اس دوران پولیس کی گاڑی آئی گاڑی ہوٹل کے سامنے رکی اور پھر پولیس والوں نے چاے پی اور چل دئیے چونکہ مسلمان ہندوؤں کے مقابلے میں کمزور اور لاغر ہیں اس لیے اس کمزوری کا فائدہ پولیس والے بھی اٹھاتے ہیں جب جی چاہے چاے کھانا وغیرہ کھانے آ جاتے ہیں اور بل ادا کرنے کی زحمت نہیں کرتے ان کے جانے کے بعد یشونت آتا دکھائی دیا وہ آج نسبتاً بہتر حالت میں تھا اس کے ریسٹورنٹ میں پہنچنے کے 10 منٹ بعد میں بھی ریسٹورنٹ اس کے پاس پہنچ گیا یشونت ٹیبل پر بیٹھا تھا اور اس نے چاے کا آرڈر دے رکھا تھا چاے پیتے پیتے اس نے ایک پیکٹ مجھے تھما دیا پیکٹ اس نے لباس میں سے نکالا تھا میں نے بھی وہ پیکٹ اپنی قمیض کے اندر ڈال لیا اور پینٹ کی جیب سے پیسوں کا لفافہ نکال کر اسے دیا اس نے دھیرے سے پوچھا کتنے ہیں میں نے کہا 5ہزار اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی اس نے لفافہ جیب میں ڈالااور میں نے پوچھا آج تو ثمی کا ہاں جاؤ گے وہ جھنپ سا گیا اور چشمے کے اوپر سے ہاں کی میں نے کہا پیکٹ کی واپسی پہلے کی طرح ہوگی اس نے کہا کہ میں وہاں رات12بجے تک رہوں گا واپسی پر گھر کے پاس مل جائیں تو بہت بہتر ہو گا کیونکہ میرے گھر والے پہلے ہی میرا دیر سے گھر آنے پر بہت نالاں ہیں اور میرے آنے کے بعد کوئی ملنے آے تو بہت برا مانتے ہیں وہ راز داری کے لہجے میں بولا اولاد جوان ہو جائے تو والدین کو یکسر نظر انداز کر دیتی ہے اور ان کے اسی روئیے نے مجھے ثمی کے ہاں جانے پر مجبور کر دیا ہے آخر میں بھی انسان دفتر میں سارا دن اور جب واپسی گھر آؤ تو کوئی گھر والا بات نہیں کرتا ایسا آخر کب تک چلتا ہے میں نے اٹھتے ہوئے یشونت کو تھپکی دی اور کہا کہ یہ بالاخانے آباد کروانے میں گھر والوں کا بہت ہاتھ ہوتا ہے ورنہ کس کا دل کرتا ہے کہ اپنی محنت سے کمایا ہوا پیسہ ان بالاخانے والی مصنوعی ہنسی ہنسنے والی بے وفا جن کا مقصد صرف اور صرف پیسہ ہوتا ہے کے لیے ٹائم اور پیسہ ضائع کرنے کی یشونت کے اٹھنے سے پہلے ہی میں باہر نکل آیا میرے ساتھیوں کو علم تھا کہ یہ میٹنگ مختصر ہوگی انہوں نے دو ٹیکسیاں پہلے ہی روک رکھی تھیں ہم ان سوار ہو کر ساتھیوں کے گھر کے قریب اتر گئے
اس بار یشونت کے لاے ہوے پیکٹ میں ٹاپ پریرآرٹئ اور کنفیڈنشل کی مہروں والے خطوط تھے یہ پچاس خط تھے میرے ساتھی کاپیاں بنانے میں لگ گئے اور میں بیڈ پر دراز ہوگیا آج میں بہت تھک گیا تھا رات کو پیکٹ واپس کرنے بھی میں نے ہی جانا تھا یہ جمعہ کی رات تھی اور یشونت کو میں نے ہفتہ کی دوپہر 3بجے گولچہ سینما کے ریسٹورنٹ میں ملنے کا کہا تھا جہاں میں نے یشونت سے اک نیا پیکٹ وصول کرنے اور نیکسٹ پلاننگ کے لیے اس سے میٹنگ بھی کرنی تھی اور پیر کو مجھے پاکستانی ایجنٹ سے بھی ملنا تھا رات کو ساڑھے گیارہ بجے میں وہ پیکٹ لے کر یشونت کے گھر کی طرف روانہ ہوا حسب معمول میرا ایک ساتھی میری حفاظت کے لیے میرے ہمراہ تھا پرانی دہلی کا یہ علاقہ ہندووں کی آبادی کا تھا اور رات کو جلد ہی بے رونق ہو جاتا تھا یہ بات میں نے اچھی طرح محسوس کی تھی کہ بھارتی ہندووں کی اکثریت سقوط ڈھاکہ اور اپنی کامیابی پر بجاے خوش ہونے کے پژمردہ تھے شیر کو انہوں نے زخمی تو کر دیا تھا لیکن اب ان کو ڈر تھا کہ زخمی شیر نجانے کب اپنا بدلہ لینے کے لیے ان پر حملہ نہ کر دے اور بھارتی محکمہ جاسوسی کو بھی اب تک یہ پتہ چل گیا ہو گا کہ پاکستان نے pows کی کمی پوری کرنے کے لیے چار نئے ڈویژن بھی raise کے لیے ہیں جو جدید ترین اسلحہ سے لیس تھے اور اب پاکستانی افواج کو سابقہ مشرقی پاکستان کا بھی دفاع نہیں کرنا تھا ان کی تمام تر طاقت مغربی پاکستان کے دفاع کیلئے تیار تھی دہلی میں اکثر یہ افواہیں گردش کر رہی تھی کہ پاکستان اب پوری طاقت کے ساتھ دہلی پر حملہ آور ہو گا پاکستان کی چھاپہ بردار فوج دہلی میں اتاری جاے گی اور سکھ علیحدگی پسند پاکستان کے لیے ففتھ کا کام کریں گے دہلی میں ہر اتوار کو ہوائی حملے سے بچنے کے لیے سائرن ٹرائی کیے جاتے تھے بھارتی ہندووں کا یہی خوف دور کرنے کے لیے بھارت نے 74ء میں پاکستان کی سرحد کے قریب اپنا ایٹمی تجربہ کیا تھا جس کے بعد پاکستان نے بھی ایٹمی سرچ میں تیزی پیدا کر دی اور بھارتی اندیشوں کے عین مطابق تیل کی دولت سے مالا مال ملکوں نے اس معاملے میں پاکستان کی بھرپور مدد کرنی شروع کر دی تھی جن میں سب سے نمایاں لیبیا تھا کرنل قذافی کے احکام پر یورینیم 238 کے خام مواد سے بھرے 20 ٹرک جنوبی افریقہ میں سفر کے دوران غائب کروا دیئے جن پر لدا خام یورینیم پاکستان پہنچا دیا گیا یہ خبر ذرائع عالمی ابلاغ نے بڑے زورو شور سے دینی شروع کر دی تھی اسی بنیاد پر اسلام بم کا شوشہ چھوڑا گیا جسکی پاکستان نے قطعی تردید نہیں کی یہلےہی خوف بھارتی ہندووں میں سما چکا تھا پاکستانی چھاتہ برداروں کے خوف سے مڈل کلاس ہندو سر شام ہی اپنے اپنی گھروں میں دبک جاتے تھے ہم یشونت والی گلی کی سڑک پر پہنچے تو اکا دکا ٹیکسی اور رکشہ نظر آ رہے تھے سب دوکانیں بند ہو چکی تھی اس لیے اس بار ہم نے ٹیکسی نہیں چھوڑی اور ٹیکسی میں بیٹھے رہے تھوڑی دیر بعد یشونت کی گلی کے سامنے ایک رکشہ آ کر رکا اس میں جھومتا ہوا نشے سے چور یشونت باہر نکلا وہ جھومتا گنگناتا اپنے گھر کیطرف جا رہا تھا میں اسکی یہ مصنوعی خوشی چھیننا نہیں چاہتا تھا لہذا میں اسے پیکٹ تھما کر کل 3 بجے گولچہ سینما کے ریسٹورنٹ میں ملنے کا یاد دلا کر واپس آ گیا اپنے ساتھی کو اس کے گھر پر چھوڑا اور کناٹ پیلس میں ٹیکسی بدل کر اپنے ہوٹل واپس آ گیا اگلے روز صبح میں نے آشا کی دی ہوئی کیسٹ کئی بار سنی اس میں تین افراد کی آواز گلاسوں کی کھنک اور کئ بار خود آشا کی آواز بھی شامل تھی ٹھیکے کے متعلقہ امور اور بچت کے مختلف طریقے جن پر بات چیت کی گئی تھی صرف ایک بات ایسی تھی جس سے آشا کی سچائی کا پتہ چلتا تھا غالباً بریگیڈیئر نے کہا تھا کہ سر ٹھیکہ تو میں دے دیتا ہوں مگر دوسرے ٹھیکیداروں کو پتہ چل گیا تو وہ شور مچا دیں گے اور بات انکوائری تک پہنچ جاے گی پھر کیا ہو گا اسکی آواز کو دوسری آواز نے کاٹ دیا بریگیڈیئر تم اس کی چنتا چھوڑو یہ. یری ذمہ داری ہے جے چند تمہارا حصہ تو ٹھیکہ ملتے ہی تمہیں دے دے گا میری تو جے چند کی حصہ داری ہے اور جب تک ٹھیکے کا تمام کام مکمل نہیں ہو جاتا مجھے میرا حصہ نہیں ملے گا یہ غالباً منسٹر بریگیڈیئر کو تسلی دے رہا تھا ہمارے لیے یہ کیسٹ کارآمد ہو سکتی تھی مگر اس کے لیے آشا کا تعاون بہت ضروری تھا اگر وہ ٹھیکے کی تمام تفصیلات مہیا کر سکتی ہے تو پھر ہم جے چند بریگیڈیئر اور منسٹر کو بھی قابو کر سکتے تھے لہذا میں نے فیصلہ کیا کہ اس موضوع پر آشا سے پیر یا منگل کو بات چیت کروں گا پیر کے دن مجھے کونٹیکٹ کو بھی ملنا تھا اس کے بعد ہی آشا کو فون کر سکتا تھا مجھے ٹھیکے والے معاملے میں جلدی نہیں تھی کیونکہ یہ ابھی ابتدائی مراحل میں تھا ٹھیک 2 بجے میں گولچہ سینما چلا گیا اس سینما میں مشہور بھارت فلم بوبی جو اس وقت نئی نئی ریلیز ہوئی تھی چلنی تھی اور سینما شائقین سے کچھا کھچ بھرا ہوا تھا
 گولچہ سینما کی بلڈنگ میں نہایت اعلی درجے کا ریسٹورنٹ بنا ہوا تھا مجھے یشونت سے وہی پر ملنا تھا میں ریسٹورنٹ میں داخل ہوا تو یشونت پہلے ہی ایک ٹیبل پر قبضہ جماے بیٹھا ہوا تھا کئی قسم کے کھانے اس کے سامنے پڑے ہوئے تھے آج وہ بہت نکھرا ہوا دکھائی دے رہا تھا رسمی علیک سلیک کے بعد وہ کہنے لگا کہ گھر والے تو اکثر دال سبزی ہی پکاتے ہیں میں کبھی کبھی کسی ریسٹورنٹ میں جا کر من پسند کھانا کھاتا ہوں یا پھر ثمی کے ہاں اچھا کھانا ملتا ہے میں نے اسے چھیڑتے ہوے کہا کہ ثمی کے ہاں تو کھانا تمہیں یقیناً بھاتا ہو گا کیونکہ ثمی کا ساتھ اسے مزید لذیذ بنا دیتا ہو گا یشونت کچھ جھنپ ساگیا چونکہ اب ہم دوست بن چکے تھے اس لیے وہ بے تکلفی سے کہنے لگا ثمی رات بھی آپکا پوچھ رہی تھی کبھی ادھر کا بھی چکر لگا لیں میں نے کہا یشونت صاحب کیوں اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کا کہہ رہے ہو اس بالاخانے میں ثمی ہی نمایاں ہے اگر میں وہاں جانے لگا تو پھر تمہاری دال نہیں گلے گی اسکا حسن اور ادائیں صرف تماشبینوں سے صرف پیسہ اینٹھنے کے لیے ہیں جس طرح پیسے کے زور پر میں نے پہلے دن تماشبینوں کو کھسکنے پر مجبور کر دیا تھا اسی طرح اگر میں وہاں گیا تو تم کو بھی کھسکنا پڑے گا اس لیے بہتر ہے کہ تم ہی وہاں جایا کرو اور عیش کیا کرو میرا مالی تعاون تمہارے ساتھ جاری رہے گا آپ میری ضرورت پوری کرتے رہیں میں آپ کی ضرورت پوری کرتا رہوں گا اور دوسری بات یہ کہ طوائف کے کوٹھے پر اربوں روپے لٹانے والے بھی پیسہ ختم ہونے پر ذلیل کر کے نکال دئیے جاتے ہیں اسی لیے اپنا پیسہ ہوش و ہواش اور ہاتھ کھینچ کر استعمال کرنا چاہیے خرچ کم کریں اور ظاہر یہ کریں کہ آپ بہت دولت مند صاحب حیثیت ہیں اس طرح یہ طوائفیں بھوکی بلی کیطرح تمہارے گرد چکر کاٹتی رہیں گی یشونت خاموشی سے میری باتیں سن رہاتھا مگر اس کے چہرے سے صاف عیاں تھا کہ بڑھاپے کے اس عشق سے بچنا اس کے بس کا روگ نہیں رہا اور میں چاہتا بھی یہی تھا کہ ثمی کی وجہ سے یشونت ہماری ہر ضرورت پوری کرتا رہے میں نے موقع غنیمت جان کر کہا ویسے یشونت صاحب تمہاری پسند بھی لاکھوں میں ایک ہے اور لاجواب ہے ثمی پر دلوجان ہی نہیں دونوں جہاں نچھاور کرنے پڑیں تو سودا مہنگا نہیں ہے یشونت کھل اٹھا اور کہنے لگا ونود بھائی اب یہ بھگوان اور آپ کے ہاتھ میں ہے کہ میں ثمی کو حاصل کر سکوں کل کی ڈاک آپکو کیسی لگی میں نے جواب دیا کوئی خاص نہیں. معمولی سی ڈاک سے ایک درجہ اوپر تھی حالانکہ ہو بہت اہم ڈاک تھی آرمی ہیڈ کوارٹرز کے ایک خط کے ذریعے بھارت کو 7 اور 10 نمبر ڈویژن کمانڈرز کو مطلع کیا گیا تھا کہ سکھ لائیٹ انفنٹری کی تمام رجمنٹس کو جن کی نفری تقریباً 35 ہزار سے زائد تھی کو ہٹا کر ایک ماہ کے اندر ان ڈویژنز سے ہٹا کر تری پورو میں مقیم جاٹ رجمنٹس جن کی نفری 30 ہزار کے قریب تھی کی جگہ تعینات کیا جائے بھارت 7اور 10 نمبر ڈویژن پاکستان بارڈر کے قریب تعینات تھے یشونت نے کہا کہ اب جب کہ میں نے آپ کے لیے اتنا بڑا رسک لے لیا ہے تو اب آپ حکم کرتے جائیں اور. میں تعمیل کرتا جاؤں گا مجھے اچانک خیال آیا اور میں نے یشونت سے کہا کہ کرتار پور بجلی گھر سے radiation سے محفوظ ٹرک ٹاٹا ریسرچ انسٹیٹیوٹ کو باقاعدگی سے جاتے ہیں اور ان کی سیکیورٹی فوج کے کے کمانڈوز کے سپرد ہے تارا پور کا ایٹمی پلانٹ بھی ان کی نگرانی میں ہے اسی لیے ایٹمی پلانٹ اور ٹاٹا انسٹیٹیوٹ کے متعلق ہیڈ کوارٹر کو مطلع کیا جاتا ہوگا ایسی تمام فائلیں مجھے درکار ہیں یشونت خاموش ہوگیا جیسے کچھ سوچ رہا ہو میں نے بے رغبتی برتتے ہوئے کہا کہ میں نے ایسے ہی تم سے پوچھ لیا ورنہ ایٹمی پلانٹ اور ٹاٹا انسٹیٹیوٹ میں ہمارا رابطہ ہے اور ہمی مفصل معلومات مل رہیں ہیں میں نے تو ان معلومات کو ٹیلی کرنےکے لیے تم کو کہا تھا ہاں یہ بات ہے کہ اس کام کے عوض تم کو خاصی بڑی رقم مل سکتی ہے میں خاموش ہوا تو یشونت بولا ہا ں ایسی دو فائلیں جنرل صاحب اپنے دفتر کے سیف میں رکھتے ہیں چونکہ میں کاپی رائٹنگ کا سپریڈنٹ ہوں تو اس سے متعلقہ آئی ہوئی ڈسک کو ٹائپ کروانے کا کرنل صاحب مجھے ہی حکم دیتے ہیں اور میں کرنل صاحب کےدفتر میں پڑی ہوئی ٹائپ رائٹر مشین پر وہی ٹائپ کر دیتا ہوں اور پھر اس ٹائپ شدہ ڈاک کو اصلی پیپرز کے ساتھ سٹیپل کر دیتا ہوں وہ کوئی دو فائلیں نہیں ہیں وہ ایک ہی فائلز کے دو حصے ہیں یعنی ایک فائل فل ہونے کے بعد دوسری لگائی گئی ہے جنرل صاحب کا ٹائپ رائٹر بجلی سے چلتا ہے اور وہاں فوٹو سٹیٹ مشین بھی ہے لہذا کاربن کاپی نہیں بنائی جاتی میں نے کہا کہ کوئی بات نہیں ان فائلوں کی رسائی تک ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہے لہذا اس بات کو بھول جائیں اب یہ بتائیں کہ بریگیڈیئر اور جنرل اور دوسرے سئنر افسران کے دفتروں کی صفائی کون کون سے سویپر کرتے ہیں ان کی ردی کی ٹوکریوں میں پھینکے ہوئے کاغذات اور ٹکڑے ہمیں چاہیئے یشونت فوراً بولا آپکا یہ کام بھی میں کروا دوں گا اور ایسے تمام کاغذات میں آپ کو مہیا کروا دوں گا میں نے اسے ٹوکا اور کہا نہیں یشونت بابو دفتر کی روٹین میں جو کام چل رہا ہو اس میں خلل ڈالنے پر شک پیدا ہو سکتا ہے آپ صرف ان سویپرز کے نام ہمیں دے دیں یہ سویپرز کا کام ہے اور انہی سے یہ کام ہم لیں گے دوسرا اس کام کا معاوضہ قلیل ہو گا جو آپ جیسے افسر کو سوٹ نہیں کرے گا بڑا کام اور بڑا معاوضہ جنرل کی سیف میں پڑی ہوئی وہ دو فائلیز کا ہے جو آپ کے لیے ممکن نہیں
جاری ہے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.