ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر Novel Snipper by Riaz Aqiz Koahler Episode 45
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
Novel Snipper
by
Riaz Aqiz Kohler
Episode 45
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
45 قسط نمبر
by
Riaz Aqiz Kohler
Episode 45
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
45 قسط نمبر
سنائپر
قسط نمبر 45
ریاض عاقب کوہلر
وہ تعداد میں چار تھے ۔ایک آدمی ،کم عمر بے ریش لڑکے کے ساتھ شرم ناک حالت میں موجود تھا جبکہ باقی تین سی ڈی پلیئر پر پشتو کا مجرا دیکھنے میں محو تھے ۔میری آواز سے سوائے لڑکے کے ساتھ گھناﺅنی حالت میں موجود آدمی کے باقی تمام سن ہو گئے تھے ۔وہ ابھی تک اپنی حرکت پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا ۔اس کی مشکل گلاک کی مزل سے نکلنے والی بے رحم اور صورت حال ناآشنا گولی نے آسان کر دی تھی ۔ماتھے میں پیوست ہونے والی گولی نے اس کے اندر پلنے والے حیوانی جوش کو پر اذیت تھرتھراہٹ میں تبدیل کر دیا تھا ۔
اپنے ساتھی کا انجام دیکھتے ہی ان میں سے دو نے اٹھ کر دوسری چارپائی پر پڑی کلاشن کوفوں کی طرف بڑھنے کی کوشش کی ۔یقینا حرکت میں برکت ہوتی ہے مگر ان کی حرکت کسی بھاری گاڑی کے پہیے کے نیچے سر دینے کے مشابہ تھی اور لازماََ ایسی حرکت برکت کے بہ جائے حسرت کا باعث بنتی ہے دونوں کی کوشش میں گلاک کی گولیاں یوں رخنہ انداز ہوئی تھیں جیسے بارش کی راہ میں چھتری ، دونوں اپنے ساتھی کی نقل اتارنے لگے ۔چوتھے آدمی نے فوراََ اپنے ہاتھ سر سے بلند کر لیے تھے ،جبکہ نوعمر لڑکا زور زور سے رونے لگ گیا تھا ۔
”چپ ۔“میں نے اس کی جانب دیکھے بغیر اسے ڈانٹا ۔”جلدی سے کپڑے پہنو ۔“
وہ لرزتا ہوا اپنے لباس کی طرف متوجہ ہو گیا ۔
”حالات قابو ہیں باہر ہی رہو ۔“پلوشہ تک اپنی خیریت پہنچا کر میں آگے بڑھ کر ماہرانہ انداز میں چوتھے آدمی کی تلاشی لینے لگا ۔مگر اس کی جیبوں میں کوئی قابل ذکر چیز موجود نہیں تھی ۔اس کی قمیص اتار کر میں اسی سے اس کے ہاتھ پشت کی طرف کر کے باندھ دیئے ۔
ایل ای ڈی کی سکرین پر پشتو کے بھڑکیلے گیت پر چست شلوار قمیص میں ملبوس ایک رقاصہ جسم کو یوں توڑ موڑ رہی تھی جیسے اسے تشنج کے دورے پڑ رہے ہوں ۔جتنے واہیات اس گانے کے بول تھے ، اس سے کئی گنا واہیات اس لڑکی کا رقص تھا ۔
”پہ لار رازی پکار نہ رازی سہ ور سرا اوکو....یو کال کیگی کہ یار نہ رازی سہ ور سرا اوکو۔“
(راستے پر تو ملتا ہے مگر کسی کام نہیں آتا اب اس کے ساتھ کیا کریں ۔اور ایک سال ہو گیا ہے کہ یار میرے پاس نہیں آرہا اس کے ساتھ کیا کریں )
میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ سی ڈی پلیئر یا ایل ای ڈی کو آف کرتا پھرتا ۔میرے قیمتی وقت کو بچانے کے لیے گلاک کی گولی کام آئی تھی ۔ایل ای ڈی سکرین اور سی ڈی پلیئر پر ایک ایک گولی ضائع کر کے میں لڑکے کی طرف متوجہ ہوا جو باقاعدہ لرز رہا تھا ۔
اسے بازو سے پکڑ کر میں نے کمرے کے دروازے کی طرف دھکیلا ۔”پلو خان !....اسے ساتھ والے کمرے میں بند کر دو ۔“
”پلوشہ نے فوراََ اندر جھانک کر دیکھا مگر اس انداز میں بھی اس کا سر کسی پنڈولم کی طرح ہلتے ہوئے باہر کا بھی جائزہ لے رہا تھا ۔لڑکے کو بازو سے پکڑ کربغیر کوئی سوال کیے اس نے باہر کھینچ لیا ۔
”کمرے میں ہتھیار وغیرہ کی غیر موجودی کو یقینی بنا لینا ۔“یہ جانتے ہوئے بھی کہ پلوشہ کوئی بے احتیاطی نہیں کر سکتی تھی میں نے مشورہ دینے میں بخل سے کام نہیں لیا تھا ۔
”تم اچھا نہیں کر رہے ایس ایس !“وہ یقینا مجھے جانتاتھا،رہی سہی کسر پلوشہ کے نام نے پوری کر دی تھی ۔صنوبر خان کے آدمیوں کے لیے پلو خان، نام اجنبی نہیں تھا ۔یوں بھی پلوشہ خان وزیر اور ایس ایس کی داستان محبت کافی لوگوں تک پہنچ چکی تھی ۔اس میں زیادہ کردار قبیل خان اور جہانداد خان کی ہلاکت کاتھا ۔علاقے کے دو سرکردہ سردار وں کا ایک عام سی لڑکی اور لڑکے کے ہاتھوں قتل ہونا بہت بڑی بات تھی ۔
میں نے اطمینان بھرے لہجے میں کہا ۔”ہاں،تمھارے جیسے ننگ انسانیت سے زمین کا صفایا کرنا یقینا اچھا نہیں بہت اچھا کام ہے۔“
”تمھارے ساتھ ہماری کوئی دشمنی نہیں ہے ۔“
میں اطمینان بھرے لہجے میں بولا ۔”مگر میری تو ہے ۔“
”وجہ ؟“
”تم میرے وطن کے دشمن ہو اور میرے لیے یہ وجہ کافی سے بھی کچھ زیادہ ہے ۔“
”سردارصنوبر خان اس بار تمھیں معاف نہیں کرے گا ۔“اس نے دبے لفظوں میں دھمکیاں دینا جاری رکھا ۔اس مرتبہ میرا ہاتھ گھوما ،وہ الٹ کر پیچھے کو گر گیا تھا۔
میں نے اسے سر کے بالوں سے پکڑ کر سیدھا بٹھایا۔”میں تمھاری دھمکیاں سننے نہیں آیا ،اس لیے جو پوچھتا ہوں آرام سے اس کا جواب دیتے رہو ۔“
وہ کوئی لفظ منھ سے نکالے بغیر کینہ توز نظروں سے مجھے گھورنے لگا ۔
”تمھارا نام ؟“
وہ آہستہ سے بولا۔”شاہجہان۔“
” باقی لوگ کہاں دفع ہو گئے ہیں ۔“میں نے جانتے بوجھتے ایسا سوال پوچھا تھا جس کی بابت مجھے معلوم تھا ۔
”تھوڑی دیر ہوئی نکلے ہیں ،بس آتے ہی ہوں گے ۔“اس نے صفائی سے جھوٹ بولا ۔
اور میں اس کے جھوٹ بولنے ہی کا تو منظر تھا ۔اگلے سوال سے پہلے میں نے چارپائی پر پڑی کلاشن کوف کی سلنگ نکال کر اس کی ننگی پیٹھ پر چابک کی طرح تواتر سے برسانے لگا ۔
”اس نے سختی سے ہونٹ بھینچ لیے تھے ،مگر زیادہ دیر وہ ان ضربات کو برداشت نہ کر سکا اور جلد ہی کراہنے پر مجبور ہو گیا ۔اس کی پیٹھ پر سرخ لکیریں پڑ گئی تھیں ،کسی کسی جگہ سے خون بھی رسنے لگا تھا ۔
”یقینا ،اب جھوٹ نہیں بولو گے ،اس کی کراہیں جب چیخنے میں تبدیل ہونے لگیں تو ہاتھ روک کر میں دوبارہ اسے مخاطب ہوا ۔
”تم زیادتی کر رہے۔“اس نے کراہتے ہو زبان کھولی ۔
میں مسکرایا۔”جھوٹے جواب پر اتنی زیادتی تو روا ہوتی ہے نا میری جان ۔باقی جواب دیتے ہوئے یہ دھیان میں رہے کہ ،کچھ سوالات کے جواب مجھے معلوم ہیں اور ایسے سوالات کا مقصد تمھاری سچائی کو جانچنا ہے ۔یہ آخری وارننگ تھی ،اس کے بعد تمھارا جھوٹ زندگی کا آخری جھوٹ ثابت ہو گا۔“
اس نے بے بسی سے ہونٹوں پر زبان پھیری اور سر جھکا لیا ۔
میں نے اپنا سوال دہرایا۔”تو باقی لوگ کہاں گئے ہیں ؟“
”انگور اڈے والی حویلی میں آج سردار صنوبر خان ایک بہت بڑی پارٹی دے رہے ہیں ، جہاں ان کے حلیف سردار بھی آئیں گے ۔چند غیر ملکی مہمان بھی ہیں ۔“اس مرتبہ اس نے سچ بتاتے ہوئے تفصیلی جواب دیا ۔
”شاباش ....اب ذرا یہ بتاﺅ ،ساتھ والی حویلی میں کتنے محافظ موجود ہیں ؟“
”ایک بھی موجود نہیں ہے ۔“
”گھر میں کتنے مرد ہوں گے ۔“
” کوئی مردموجود نہیں ہے ،عورتیں اور بچے ہیں ۔“
”ہونہہ !....“ایک گہرا سانس لیتے ہوئے میں نے سوالات کا سلسلہ جاری رکھا ۔اس دوران پلوشہ بھی اندر آکر خاموشی سے بیٹھ گئی تھی ۔میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا ....
وہ جلدی سے بولی ۔”تمام بیٹھک چھان لی ہے ، کوئی بھی موجود نہیں ہے ۔“
میں دوبارہ شاہجہان سے سوالات کرنے لگا ۔سوالات کے اختتام پر میں نے پلوشہ کی جانب دیکھا ۔گویا اس کا کوئی سوال تھا تو وہ کر سکتی تھی ۔
وہ زہر خند لہجے میں مستفسر ہوئی ۔”شاہ جہان !یاد ہے میرے معصوم بھائی کے بارے غلاظت اگلتے وقت صنوبر خان نے تمھاری طرف اشارہ کر کے کہا تھا کہ اس کے پاس ایسے آدمی موجود ہیں جو کم سن لڑکوں کا شوق رکھتے ہیں ۔“
وہ تھوک نگلتے ہوئے بولا ۔”وہ ....وہ ....تو سردار نے تمھیں ڈرانے کی غرض سے کہا تھا ۔“
”اور تم نے کہا تھا کہ میرے بھائی کے بعد میرے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کرو گے ۔“پلوشہ کے اطمینان بھرے لہجے میں کوئی ایسی دھمکی پوشیدہ تھی کہ وہ تھرتھر کانپنے لگا تھا ۔
”مم....میں ....میں ....“اس نے کچھ کہنا چاہا مگر پلوشہ نے گلاک سیدھا کرتے ہوئے اس کی چھاتی میں گولی اتار تے ہوئے کہا ۔”بکواس بند کروکنجر۔“یقینا وہ مزید وقت ضائع کرنے کے حق میں نہیں تھی ۔
”چلیں ۔“شاہجہان کا پھڑکنارکتے ہی میں نے اسے متوجہ کیا ۔
”ہوں چلنا ہی پڑے گا ،ایل ای ڈی آپ نے یوں بھی توڑ دی ہے ،ورنہ جو گانا لگا تھا اس پر میں بہت اچھا رقص پیش کر سکتی تھی ۔“
”اور میں نے منع جو کیا تھا ۔“میں نے اسے ہلکے سے ڈانٹا۔
وہ کھل کھلا کر ہنسی ۔”آپ نے مردوں میں ناچنے سے منع کیا تھا ....آپ اکیلے کے سامنے تو کوئی قباحت نہیں ہے نا ۔“
”بے شرم ۔“میرے ہونٹوں پر بھی ہنسی نمودار ہو گئی تھی ۔
”اچھا ایک خوشی کی بات بتاﺅں ۔“اس نے مسرت بھرے لہجے میں پوچھا ۔
میں فلسفیانہ لہجے میں بولا ۔”خوشی کی بات چھپانی تو نہیں چاہیے ۔“
”میری سوکن بھی یہیں موجود ہے ۔“
”سوکن ....؟“میں نے حیرانی بھری نظروں سے اسے گھورا ۔
وہ وضاحت کرتے ہوئے مسکرائی ۔”بیرٹ ایم 107۔“اسے بھی میں نے استاد محترم راﺅتصورو کا مقولہ میںنے سنایا تھا اور وہ اسے بھولا نہیں تھا ۔
”کہاں ہے ؟“میں بے صبری سے مستفسر ہوا ۔
”آئیں ۔“وہ مجھے ساتھ لے کر جنوبی طرف بنے خواص کے کمروں کی طرف بڑھ گئی ۔وہیں ایک کمرے میں بیریٹ ایم 107مکمل سامان کے ساتھ موجود تھی ۔اس کے ساتھ ساٹھ کے قریب فالتو گولیاں بھی موجود تھیں ۔
وہ قیمتی رائفل دیکھتے ہی خوشی سے میری باچھیں کھل گئی تھیں ۔میں محبت بھرے انداز میں رائفل کی باڈی پر ہاتھ پھیرنے لگا ۔
”راجو !....مجھے جلن محسوس ہو رہی ہے ۔“میری محویت میں پلوشہ کی آواز نے خلل ڈالا تھا ۔
میں فوراََ اس کی طرف مڑا ۔”چندا !....جانتی ہو سانس لینے کے بعد میرے لیے سب سے اہم کام تمھیں چاہنا ہے ۔“
”تو پھر رائفل کے ساتھ یوں چاہت سے تو پیش نہ آﺅ نا۔“وہ شکوہ کناں ہوئی ۔”مجھ سے برداشت نہیں ہوتا کہ میرے علاوہ آپ کسی سے اس چاہت سے پیش آئیں چاہے وہ بے جان رائفل ہی کیوں نہ ہو ۔“
”پاگل ۔“مجھے سچ مچ ہنسی آ گئی تھی ۔
”اچھا ایک اور بات ،یہاں تہہ خانہ بھی موجود ہے جس میں کافی ہتھیار اور گولہ بارود موجود ہیں۔“
”اوہ ....“جوش بھرے انداز میں میں اسکی معیت میں تہہ خانے کی طرف بڑھ گیا ۔تہہ خانے کا دروازہ ساتھ والے کمرے میں موجود تھا ۔تہہ خانہ دو کمروں پر مشتمل تھا ۔دونوں کمروں کی لمبائی چوڑائی پندرہ سولہ فٹ کے قریب ہو گی ۔وہ دونوں کمرے عین ان خاص کمروں کے نیچے بنے تھے ۔ایک کمرے میں لکڑی کے بکسوں میں نئی کلاشن کوفیں، روگر ایم پی نائن سیمی آٹو میٹک (Ruger mp 9) پسٹل ،راکٹ لانچراور سنائپر رائفل ڈریگنوو بھری ہوئی تھیں ۔کلاشن کوفوں کی تعداد زیادہ تھی ۔کمرے کی دیواروں کے ساتھ ان ہتھیاروں کے ایمونیشن کی بھری ہو ئی پیٹیاں رکھی ہوئی تھیں ،جبکہ دوسرے کمرے میں بارود کی تھیلیاں ،مختلف قسم کے سوئچ، سیفٹی فیوزاور ڈیٹو نیٹر وغیرہ پڑے ہوئے تھے ۔اس کے ساتھ مختلف قسم کے بارودی پھندے ، ٹائم بم اورٹینک شکن بارودی سرنگیں بھی پڑی دکھائی دیں ۔
(قارئیں کی تفریح طبع کے لیے بارود کے بارے چند ضروری باتیں لکھتا جاﺅں ،کہ عمومی طور پر لکھاری حضرات بارود وغیرہ کے بارے بہت سطحی معلومات رکھتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لکھاریوں کی اکثریت وہ ہے جنھیں میں ڈرائینگ روم کے لکھاری کہا کرتا ہوں ۔عملی زندگی میں ان بے چاروں نے اصلی پستول تک کی شکل نہیں دیکھی ہوتی ۔اس ضمن میں بتاتا چلوں کہ پچھلے دنوں ایک محترم مصنف کی تحریر نظر سے گزری جس میں موصوف کا ہیروایک عمارت میں کچھ خطرناک دشمنوں سے نبرد آزما ہوتا ہے ،وہاں دشمنوں کے پاس کچھ فالتو ہتھیار اور ایمونیشن کا ذخیرہ بھی موجود ہوتا ہے ،ایمونیشن کے ذخیرے میں غلطی سے گولی لگتی ہے اور اتنا بڑا دھماکا ہوتا ہے کہ ساری عمارت بھک سے اڑ جاتی ہے جبکہ ہیرو صاحب اس دھماکے کی شدت سے اڑتے ہوئے عمارت سے باہر جانے والی کسی ٹرالی میں جا گرتے ہیں اور اسے خراش تک نہیں آتی ،جبکہ باقی کی عمارت اور اس میں موجود لوگوں کا نام و نشان بھی نہیں بچتا ۔کسی کرم فرما کی فرمائش پر میں نے وہ چند صفحات پڑھے یقین مانیں وہ سطور پڑھ کرمیری سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ ہنسوں یا روﺅں .... سب کے مرنے کے باوجو د ہیرو میاں کیسے بچے یہ تو ایک علاحدہ موضوع ہے ،میرا مسئلہ تو یہ ہے کہ آیا ایمونیشن کے ذخیرے میں گولی لگنے سے اس طرح دھماکا ہو سکتا ہے ۔یہ بات اتنی ہی بعید از قیاس ہے کہ جتنی پانی کو آگ لگنا۔کیوں کہ بارود کا ذخیرہ بھی اس طرح گولی لگنے سے ایک دم دھماکے سے نہیں پھٹتا ،جبکہ فاضل مصنف نے ہتھیاروں کے ایمونیشن کو یوں دھماکے سے پھٹا یا جیسے کوئی تیار شدہ ڈیمولیشن سیٹ یا آئی ای ڈی ہو ۔یقینا محترم نے کسی انگلش فلم کا سین دیکھ کر یہ منظر تراشی کی ہو گی ۔بہ ہرحال حقیقت سے اس کا دور دور تک کا واسطہ نہیں ۔حالا نکہ کسی بھی جگہ اگر کوئی ایسا ایمونیشن پڑا ہو جیسے کہ راکٹ لانچر یا مارٹر وغیرہ کا ایمونشن اور اسے آگ وغیرہ لگ جائے یا فاضل مصنف کے بہ قول گولی وغیرہ لگنے ہی سے وہ پھٹنا شروع ہو جائے تو یقینی طور پر ہر راکٹ یا گولہ علاحدہ علاحدہ اور وقفے وقفے سے پھٹے گا ۔باقی عام رائفل کی گولیاں دھماکا وغیرہ نہیں کریں گی ۔بس خود پھٹ کر ناکارہ ہو جائیں گی ۔ان کے پھٹنے کی آواز تو پھلجڑیاں چلنے کی طر ح آئے گی لیکن رائفل ،کلاشن کوف وغیرہ کی گولیاں اس طرح پھٹ کر کسی کمرے وغیرہ کو نہیں اڑا سکتیں ۔بہ ہر حال یہ ایک ضمنی بات تھی میں بارود کے بارے چند باتیں عرض کرنا چاہتا تھا ،اگر بارود کی اقسام کی بات کی جائے تو بارود کی دو بڑی اقسام ہیں ، ایک لو ایکسپلوزیواور دوسرا ہائی ایکسپلوزیو۔ لو ایکسپلوزیو رائفل وغیرہ کی گولیوں میں استعمال ہوتا ہے اور ہائی ایکسپلوزیوکسی بھی چیز یا جگہ کو تبارہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔پھر خود ہائی ایکسپلوزیو کی مختلف اقسام ہیں ،کوئی مائع کی شکل میں ہوتا ہے،کوئی ٹھوس اور کوئی پاﺅڈر وغیرہ کی شکل میں تھیلیوں میں بند ملتا ہے ۔ اس کو پھٹانے کے لیے بھی ایک مخصوص قسم کی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے ۔جس میں ،ڈیٹونیٹر ،پرائمر،سیفٹی فیوزوغیرہ کا استعمال ہوتا ہے ۔اسی طرح ہائی ایکسپلوزیو بارود کو شیطانی پھندوں میں بھی لگا کر استعمال کیا جاتا ہے جن میں کچھ پھندے ایسے ہوتے ہیں جو کھینچنے پر چال کرتے ہیں جنھیں دروازوں اور کھڑکیوں وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے ،کچھ پھندے وزن پڑنے پر چال کرتے ہیں جیسے بارودی سرنگیں ،کچھ وزن ہٹنے پر چال کرتے ہیں ،ایسے پھندے عام استعمال کی ایسی چیزوں کے نیچے رکھ کر استعمال کیے جاتے ہیں جنھیں عام روزمرہ میں لوگ دائیں بائیں کرتے رہتے ہیں ۔ ان میں کچھ ایسے ہوتے ہیں جو مخصوص وقت پر چال کرتے ہیں جنھیں ٹائم بم کہا جاتا ہے۔ بہ ہرحال یہاں میں اجمالاََ بارود کے بارے چند باتیں ذکر کی ہیں ورنہ یہ ایک بہت بڑا موضوع اور مستقل علم ہے ہے جس پر سیکڑوں ہزاروں صفحات بھی کم پڑ جائیں گے )
”میرا خیال ہے دونوں عمارتوں کو تباہ کرنے کے لیے یہ بارود کافی ہے ۔“بارود کے ذخیرے کو اچھی طرح دیکھتے ہی میں نے اعلان کیا ۔
”اس سے بہتر کوئی بات ہو ہی نہیں سکتی ۔“پلوشہ نے خوشی کا اظہار کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔
”ٹھیک ہے میں دھماکے کے لیے بارودتیار کرتا ہوں تم گیراج میں کھڑی گاڑی کی چابیاں ڈھونڈ کر گاڑی کو ان کمروں کے سامنے کے آﺅ ۔“
وہ سرہلاتی ہوئی سیڑھیوں کی طرف چل پڑی جبکہ میں ڈیمولیشن سیٹ تیار کرنے لگا ۔
وہ کافی وقت لگا کر لوٹی تھی ۔اس کی واپسی تک تمام ضروری کارروائیاں کر کے میں نے سارے بارود کو ٹائم بم کے ساتھ جوڑ دیا تھا۔ٹائم بم پر میں نے وقت سیٹ نہیں کیا تھا ۔
”کافی دیر لگا دی ۔“اس کے واپس آتے ہی میں نے پوچھا ۔
”چابی نہیں مل رہی تھی ۔“
”چلو ایمونیشن اور ہتھیار گاڑی میں رکھتے ہیں ۔تاکہ اتنا قیمتی اسلحہ انھی کے خلاف استعمال ہو۔“
وہ کہنے لگی ۔”جانتی ہوں،آپ نے اسی لیے تو گاڑی کو ان کمروں کے سامنے منگوایا ہے ۔“
ہم دونوں ہتھیاراور ایمونیشن کی پٹیاں سنگل کیبن کی باڈی رکھنے لگے ۔ہمارا مزید آدھا گھنٹا اسی میں لگ گیا تھا ۔اسی اثناءمیں وہ لڑکا دروازے کو کھٹکھٹاتے ہوئے آوازیں دینے لگا ۔شاید وہ سمجھ رہا تھا کہ ہم وہاں سے رخصت ہو گئے ہیں ۔
میں نے قریب جا کر اسے سختی سے ڈانٹا اور چپ رہنے کو کہا ۔وہ سہم کر دوبارہ خاموش ہو گیا تھا۔
”اب کیا کریں ؟“بیٹھک کے دوسرے کمروں میں موجود ہتھیار بھی گاڑی کی باڈی میں منتقل کر کے پلوشہ مستفسر ہوئی ۔
”تم قبیل خان کی عورتوں سے انتقام وغیرہ کا سوچے ہوئے تھیں ۔“میں نے اسے وہاں آتے وقت کی بات یاد دلائی ۔
”دفع کرو ....اس خبیث اور بے غیرت کے افعال میں ان بے چاریوں کا کیا قصور ۔“
”مگر ان سے گھر تو خالی کرانا پڑے گا ۔یہاں ہونے والے دھماکے سے یقینا اس عمارت کو بھی کافی نقصان پہنچے گا ....بلکہ میرا خیال ہے وہ بھی ملبے کا ڈھیر بنے گی ۔“
”راجو !....کہیں اس دھماکے سے دائیں بائیں موجود عمارتوں کو نقصان نہ پہنچے ،یا دھماکے کی وجہ سے جو پتھر وغیرہ اڑیں گے ان کی زد میںکوئی بے گناہ نہ آ جائے ۔“
” تم اتنی سمجھ دار پہلے تو نہیں تھیں ۔“اس کے ساتھ متفق ہوتے ہوئے بھی میں اس پر طنز کرنے سے باز نہیں آیا تھا ۔
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”اگر سمجھ دار ہوتی تو آپ سے شادی کرتی ۔“
میں دوبارہ تہہ خانے کا رخ کرتے ہوئے بولا ۔”پگلی ،یہی ایک کام تو تم نے سمجھ دار ی والا کیا ہے ۔“
”صحیح کہا ۔“کھل کھلا کر ہنستے ہوئے اس نے میرے ساتھ قدم بڑھادیے ۔سیڑھیاں اتر کر میں نے آپس میں باندھی ہوئی بارود کی تھیلیوں کو کھول کر وہ پاﺅڈرتہہ خانے میں بکھیرنے لگا ۔وہاں موجود ڈیٹونیٹر ،پرائمر اور دوسرا ہلکا پھلکا سامان میں نے پلوشہ کو گاڑی میں رکھنے کا کہا ۔سیفٹی فیوز جو کیبل کی طرح ہوتا ہے اسے کھول کر میں نے ایک سرا تہہ خانے میں موجود لکڑی کی پیٹی سے باندھا اور باقی کو کھول کر اوپر تک لے گیا۔ وہاں سے جاتے وقت میں اسے آگ لگانا چاہتا تھا تاکہ وہ تہہ خانے میں بکھرے تمام بارود کو ضائع کر دے ۔ڈیٹونیٹر کے بغیر وہ باردو دھماکا نہیں کر سکتا تھا ۔بس جل کر ضائع ہو جاتا ۔
باہرجا کر سب سے پہلے تو اس لڑکے کو کمرے سے نکال کر دو تین تھپڑ لگائے اور وہاں سے بھاگ جانے کا کہا۔اس کے بھاگ جاتے ہی میں نے پلوشہ کو داخلی دروازہ کھولنے کا کہا اور خود سیٹی فیوز کو آگ لگا کر گاڑی میں بیٹھ گیا ۔سیٹی فیوزکی لمبائی پینتیس چالیس فٹ تھی ۔سیفٹی فیوز ایک منٹ میں دو فٹ کے قریب جلتا ہے ۔اس طرح بیس منٹ کے بعد ہی آگ تہہ خانے تک پہنچ پاتی ۔
گاڑی کے دروازے سے باہر جاتے ہی ،پلوشہ نے دروازہ باہر ہی سے کنڈی کر کے میرے ساتھ آ بیٹھی ۔اگر گاڑی کو میں وہاں سے اپنے ٹھکانے پر لے جاتا تو خطرہ تھا کہ صنوبر خان کے کسی ہمدرد وغیرہ کی نظر پڑ سکتی تھی یا یونھی برسبیل تذکرہ ہی کوئی اس کا ذکر صنوبر خان یا اس کے کسی آدمی سے کر سکتا تھا، اس لیے میں انگور اڈے والی سڑک پر آگے نکلتا گیا ۔گاﺅں سے باہر آتے ہی میں دائیں بائیں احتیاط سے جائزہ لیتے ہوئے گاڑی نالے میں اتار دی ۔
اسی بڑے نالے میں چلتے ہوئے تھوڑا سا آگے جا کر میں نے گاڑی ایک ذیلی نالے میں موڑی ۔یہ وہی نالہ تھا جس جگہ سردار خان اور میں نے قبیل خان کے سالے خائستہ گل کو اپنے انجام تک پہنچایا تھا ۔
گاڑی گھنی جھاڑیوں کے ایک جھنڈ میں چھپا کر ہم باہر نکل آئے ۔پلوشہ نے وہاں سے روگر ایم پی نائن سیمی آٹو میٹک (Ruger mp 9) پسٹل اور ان کی سو ڈیڑھ سو کے قریب گولیاں اٹھا کر اپنے پاس رکھ لی تھیں ۔میں نے بس بیرٹ ایم107کو ساتھ لینا پسند کیا تھا ۔اسی نالے نالے میں چلتے ہوئے ہم علام خیل کے شمالی جانب جا کر گاﺅں میں داخل ہوئے سہ پہر ڈھلے ہی ہم کمانڈر عبدالرشید بیٹنی کی بیٹھک میں پہنچ سکے تھے ۔جاتے ساتھ میں نے قاری غلام محمد کو حویلی پر حملے کی اجمالی تفصیل بتا کر اسے اسلحہ چھپانے والی جگہ کے بارے بتا دیا ۔خوشی سے اس کا چہرہ چمکنے لگا تھا ۔
”جزاک اللہ بیٹا !....باقی ہم سنبھال لیں گے ۔“اور میں سرہلاتا ہوا وہاں سے نکل آیا ۔
پلوشہ تکیے کے ساتھ کمر ٹیکے پشتو کا گوئی گیت گنگنا رہی تھی ۔میں اس کی گود میں سر کر لیٹ گیا۔ وہ میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے آہستہ آواز میں گنگناتی رہی ۔اس کی آواز کسی خوب صورت لوری سے کئی گنا بڑھ کر تھی ۔میری آنکھیں بند ہونے لگیں میں گیت کے بولوں میں کھویا ہوا نیند کی خوب صورت وادیوں میں اترتا چلا گیا جہاں پلوشہ اسی طرح گنگناتے ہوئے میرے ساتھ تھی ۔
”تل مے خیالونو کی اوسیگی پما گران دے ....دا پور کلے مے دا جانان دے۔“(وہ ہمیشہ میرے خیالوں میں بسا رہتا ہے اور مجھے بہت پیارا ہے ....اورمیرا محبوب دوسرے گاﺅں میں رہتا ہے )
٭٭٭
اگلے دن علام خیل میں کافی ہل چل مچی ہوئی تھی ۔صنوبر خان بالکل پاگل ہوا تھا ۔اپنے چار آدمیوں کی موت اسلحے اور بارود کا نقصان اسے اتنی جلدی ہضم نہیں ہو سکتا تھا ۔قاری غلام محمد نے ان کی گاڑی سے اسلحہ لینے کے لیے بہت اعتماد والے بندے روانہ کیے تھے ۔کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ مجاہدین میں بھی صنوبر خان کا کوئی آدمی چھپا ہوا ہو سکتا ہے ۔گو ایسا آدمی ہماری مخبری بھی کر سکتا تھا ۔مگر ہماری وہاں موجودی سے مجاہدین کے صنوبر خان سے ہونے والے معاہدے پر کوئی فرق نہیں پڑ سکتا تھا ۔وہ اسلحہ اٹھا کر قاری غلام محمد کے آدمی سیدھا انگور اڈے میں موجود اپنے کیمپ میں لے گئے تھے ۔ان ہتھیاروں اور ایمونشن کو عبدالرشید بیٹنی کی بیٹھک میں رکھنا بالکل بھی مناسب نہیں تھا ۔یہاں پر شاید کوئی یہ سوچے کہ مجاہدین معاہدے کے خلاف یہ کام رہے تھے تو ایسا سوچنا ٹھیک نہیں ہے ،کیونکہ یہ سب کارروائی میں نے اور پلوشہ نے کی تھی اور ان کا اسلحہ لوٹ لینے کے بعد ہم اپنی طرف سے مجاہدین کے حوالے کر رہے تھے ۔ البتہ اگر اس کام میں مجاہدین ہماری مدد کرتے تب وہ معاہدہ توڑنے والے بنتے ۔
ہم نے پورا دن کمرے میں بند رہ کر ہی گزارا تھا ۔میں نے خود بھی تمام نمازیں کمرے میں ادا کی تھیں ۔میری وہاں موجودی کے بارے اب صرف قاری غلام محمد یا اس کا وہ بھروسے والا آدمی جانتا تھا جو ہمارے لیے کھانا لاتا تھا ۔دن کا کھانا وہ عین اس وقت لایا تھا جب لوگ ظہر کی نماز کے لیے مسجد میں چلے گئے تھے اور رات کا کھانا وہ ٹھیک عشاءکی نماز کے وقت لایا تھا ۔پورا دن بے کار کمرے میں پڑے ہم مستقبل کے منصوبے بناتے رہے اور جب تھک گئے تو پلوشہ مجھے گود میں سلا کر اپنی سریلی آواز میں پشتو کے گیت سناتی رہی ۔اس کی آواز اتنی بلند نہیں تھی کہ کمرے سے باہر جا سکتی ۔
اگلے تین چار دن ہم نے وہیں گزارنے تھے ۔ کہ اس تازہ واقعے کے بعد صنوبر خان اور اس کے آدمی یقینا چوکنا ہوتے ۔اتنا اندازہ تو مجھے بھی تھا کہ صنوبر خان تک یہ بات پہنچ گئی ہو گی کہ اس کارروائی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ۔اور کوئی نہیں تو وہاں موجود جس لڑکے کو ہم نے زندہ جانے دیا تھا اس نے ضرور اس تک یہ خبر پہنچا دی ہو گی ۔کیوں کہ ایسے لڑکوں کی صنوبر خان کی بیٹھک میں آمدورفت رہتی تھی ۔
میرا ارادہ اب صنوبر خان کے کانٹے کو نکالنے کا تھا اس کے جانشینوں میں کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو اس کی جگہ سنبھال سکتا ۔گو اس کے کمانڈروں میں چند ایسے آدمی موجود تھے جو دہشت گردانہ کاروائیوں کو جاری رکھ سکتے ،مگران میں کوئی بھی صنوبر خان یا اس کے ہلاک ہونے والے سوتیلے بھائی،قبیل خان جیسا نہیں تھا ۔البتہ یہ ممکن تھا کہ کسی دوسرے گاﺅں کا سردار ان کارروائیوں کی سرپرستی کرنے لگتا۔ یوں بھی کئی سردار اس کے حلیف تھے ۔اسی طرح دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھی چند اس کے ساتھ ملے ہوئے تھے ۔البتہ کچھ اس کے دوست تو تھے مگر وہ پاک آرمی یا وطن دشمنی میں ملوث نہیں تھے وہ بس اسلحے اور نشہ آور اشیاءکی سمگلنگ کرتے تھے ۔
صنوبر خان کو ٹھکانے لگانے کے بعد میرا ارادہ پلوشہ کو گاﺅں چھوڑ کر آنے کا تھا کیوں کہ میں اسے مزید ان خطرناک کارروائیوں میں ساتھ نہیں رکھ سکتا تھا ۔پاک آرمی کا سپاہی ہونے کے ناتے میری ذمہ داری تو یہ بنتی تھی کہ میں دہشت گردوں کے خلاف لڑتا ،میرے گھر والی کسی بھی حساب سے ان کارروائیوں کا حصہ بننے کی مجاز نہیں تھی ۔ اس کا میرے ساتھ موجود ہونا مجھے جتنا بھی خوش کرنے والا ہوتا ، لیکن یہ بھی حقیقت تھی کہ اس کی وجہ سے میرا دل ہر وقت مختلف قسم کے اندیشوں سے لرزتا رہتا ۔ وہ تربیت یافتہ ،حوصلہ مند ،بہادر اور دلیر لڑکی جو دشمنوں کو ناکوں چنے چبانے کی صلاحیت رکھتی تھی وہ مجھے کانچ کی گڑیا لگتی جس نے ہلکی سی ٹھوکر سے بکھر جانا ہو ۔میرا دل چاہتا بس وہ ،ہار سنگھار کیے ،زنانہ لباس پہن کر میری آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتی رہے ۔اس کے پاﺅں میں زمین پر بھی نہ لگنے دوں اسے جہاں جانا ہو اپنے بازﺅں میں بھرکر لے جاﺅں ۔زمانے کے ہر سرد وگرم سے اسے محفوظ رکھوں ،اسے بس میری ہی آنکھیں دیکھ سکیں اور ہر وہ آسائش جس کے بارے بس گمان کی جا سکتا ہو اس کے قدموں میں ڈھیر کردوں ،ہر وہ آرام جو انسانی طاقت کے بس میں اسے پہنچاﺅں ،ہر وہ عیش جس کے لیے دنیا میں ترسا جاتا ہے اس کا نصیب کردوں ۔مجھے یہ بات بھی اچھی طرح معلوم تھی کہ وہ بھی میرے بارے ایسے ہی خیالات رکھتی تھی۔ ایک سخت جان سنائپر اس کی نظر میں موم کا راجا تھا جس نے حالات کی تیز آنچ سے پگھل جانا تھا ۔ اسی وجہ سے وہ مجھ سے دور جانے پر خود کو آمادہ نہیں کر پا رہی تھی ۔
٭٭٭
رات کافی گزر گئی تھی ۔باتیں کرتے کرتے پلوشہ کی آنکھیں بند ہونے لگیں تھیں ۔اچانک دروازے پر دستک ہوئی ۔
”میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور دروازہ کھولنے کو بڑھا۔پلوشہ فوراََ رضائی میں گھس گئی تھی ۔اسے معلوم تھا کہ میں اس کے مردوں کے سامنے آنے کا بہت برا مناتا ہوں اور وہ میرے جذبات کا احترام کرنا جانتی تھی ۔مجھے ناراض کرنے کے بارے وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔
دروازہ کھولنے پر مجھے قاری غلام محمد کی شکل نظر آئی ۔میں نے حیران ہوتے ہوئے انھیں اندر آنے کا رستا دیا ۔
اندر آکر دروازہ بھیڑتے ہوئے وہ کہنے لگا ۔
”اس وقت زحمت دینے پر معذرت خواہ ہوں ۔“
میں احترام سے بولا ۔”حکم کریں قاری صاحب !“
”محترم بات یہ ہے کہ صنوبر خان اپنے آدمیوں کی ہلاکت اور اسلحے کے نقصان پر بالکل باولا ہوا ہے ۔اس تک یہ خبر بھی پہنچ گئی ہے کہ ایسا کرنے والے آپ دونوں ہیں ۔آپ دونوں کی تلاش میں وہ پاگلوں کی طرح بھاگتا پھر رہا ہے ۔اور اتنا تو آپ جانتے ہوں گے کہ غدار ہر جگہ پائے جاتے ہیں ۔ کوئی پیسے پر بک جاتے ہیں تو کوئی کسی اور لالچ میں اپنے ضمیر کا سودا کر لیتے ہیں ....اسی وجہ سے میں نے اسلحہ اٹھانے کے لیے نہایت اعتماد والے آدمی روانہ کیے تھے ۔اسی طرح میری یہ کوشش بھی تھی کہ آپ دونوں کی دوبارہ آمد کی خبر کسی تک نہ پہنچے ۔ہو سکتا میں اس کام میں کامیاب نہ ہو سکا ہوں تو یقینا صنوبر خان تک آپ دونوں کی یہاں موجودی خبر پہنچ جائے گی ۔وہ فوراََ ہم مطالبہ کرے گا کہ آپ دونوں کو اس کے حوالے کیا جائے ۔یا یہ کہ آپ لوگوں یہاں سے نکال دیا جائے ۔اور اس صورت میں اس کے آدمی اس جگہ کو بھی گھیر لیں گے ۔“
میں نے فوراََ اس کا مطمح نظر سمجھتے ہوئے کہا ۔”گویا آپ چاہتے ہیں ہم یہاں سے چلے جائیں۔“
”نہیں ....“اس نے نفی میں سرہلایا۔”میں اس وقت آپ لوگوں کو یہاں سے بھاگنے کا رستا دکھانے آیا ہوں کہ بالفرض ایسا ہو جائے تو آپ لوگ کیسے بچ کر نکل سکتے ہیں ۔“
”میرا خیال ہے ہمیں علام خیل سے نکلنے کے تمام رستوں کا علم ہے ۔“
وہ اطمینان سے بولا ۔”یقینا ہوگا۔مگر میں آپ کو علام خیل نہیں، یہاں سے نکلنے کا رستا بتانے آیا ہوں ۔“
”یہاں سے ۔“میرے لہجے میں حیرانی تھی ۔
وہ مسکرایا۔”جی محترم یہاں سے ۔آپ لوگ جس کمرے میں رہ رہے ہو یہ عام کمرہ نہیں ہے۔ یہ مجاہدین کے چند بڑے کمانڈروں کے لیے مخصوص ہے ۔اور آپ یہاں پلوشہ بیٹی کی وجہ سے ٹھہرایا ہے کہ لڑکی ذات کی بے پردگی نہ ہو اور اسے غسل خانہ یا بیت الخلاءوغیرہ کے استعمال کے لیے غیر مردوں کے سامنے نہ آنا پڑے۔“
”ممنون و شکر گزار ہوں ۔“
”میں بھی ۔“پلوشہ نے رضائی سے منہ نکالے بغیر کہا ۔مجھے اس کے انداز پر ہنسی آگئی تھی ۔
”اب اس بات سے یہ نہ سمجھ لینا کہ ایس ایس کی مجاہدین کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ۔حقیقت تویہ ہے کہ لوگ آپ کو بہت چاہتے ہیں ،جس طرح آپ نے ان دہشت گرد سرداروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے یقین مانو دل خوش ہوجاتا ہے آپ کے کارنامے دیکھ کر ۔“
”قاری صاحب !....اصل تعریف کے حق دار تو آپ لوگ ہیں کہ بغیر کسی صلے اور تنخواہ وغیرہ کے کفر سے برسرپیکار ہیں ،میں تو پاک آرمی کا نوکر ہوں ٹھیک ٹھاک تنخواہ لیتا ہوں ۔“
” کسر نفسی ہے آپ کی ورنہ پاک آرمی کا ہر سپاہی بھی اپنی جگہ جہاد ہی کر رہا ہے ،ملک کی حفاظت کے لیے سرحدوں پر پہرہ دینا ،دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے اندرون ملک ہر مصیبت کو گلے لگانا اتنا آسان نہیں ہے ،باقی جہاں تک تنخواہ کا تعلق ہے تو وہ لینا مجبوری ہے ۔اگر ایک آدمی اپنے اوقات اور صلاحیتیں ملک کی خدمت کے لیے وقف کر دیتا ہے تو بیوی بچے اور بوڑھے والدین بھی اس کی ذمہ داری ہوتے ہیں ۔ملک کی خدمت کرتے ہوئے ان کا بوجھ کس پر لادے گا ۔“
میں نے کہا ۔”میرا خیال ہے ہم بے فائدہ تکرار میں مشغول ہیں ۔“
”چلیں پھر فائدے کی بات کر لیتے ہیں ۔“کہہ کر وہ مغربی دیوار کے ساتھ لگے کپڑے لٹکانے والے ہینگر کی طرف بڑھا ۔جس کی چوڑائی کے برابر دیوار پر خوبصورت پلاسٹک شیٹ لگی ہوئی تھی۔اور اس پلاسٹک شیٹ کا مقصد ہینگر سے لٹکانے والے کپڑوں کو دیوار کے ساتھ لگ کر گندا ہونے سے بچانے کا تھا ۔ہینگر زمین سے قریباََ ساتھ فٹ بلندی پر لگا تھا ۔جو کہ چوڑائی میں پانچ فٹ کے بہ قدر ہوگا۔اور اس جگہ پر لگی ہوئی پلاسٹک شیٹ پانچ فٹ چوڑی اور چھے فٹ لمبی تھی ۔یوں پلاسٹک شیٹ زمین سے ایک فٹ اوپر ہی ختم ہو جاتی تھی اس کے نیچے کچی دیوار نظر آتی تھی ۔
قاری غلام محمد نے پلاسٹک شیٹ کی ایک جانب گڑے ہوئے کیل نکالے جو نہایت آسانی سے باہر آگئے تھے ۔پلاسٹک شیٹ ہٹاتے دوسری جانب کھڑی دیکھ کر میں حیران رہ گیا تھا ۔مجھے پیچھے آنے کا کہہ کر وہ اس چوکور سوراخ کے اندر داخل ہوگیا جو زمین سے دوفٹ اونچا ئی سے شروع ہو کرچھے فٹ بلندی تک چلا گیا تھا ۔میں نے اس کے پیچھے قدم بڑھا دیئے ۔دوسری جانب جاتے ہی تین فٹ چوڑا رستا نظر آیا جو جنوب کی طرف جا رہا تھا ۔گویا وہ گیلری نما رستا تمام کمروں کے عقب سے گزرتا تھا ۔ وہ رستا اس بیٹھک کی جنوبی دیوار کے پاس جا کر ختم ہوا۔دیوار کے پاس زمین دوز رستا تھا ،سیڑھیاں اتر کر ہم پندرہ بیس فٹ سیدھے چلے اور پھر سیڑھیاں چڑھ کر پہلے کی طرح تین فٹ چوڑے رستے پر آگے بڑھنے لگے ۔یقینا نیچے اتر ہم نے گلی کو عبور کیا تھا اور اس کے بعد اگلے مکان کی عقبی دیوار کے ساتھ وہ رستا آگے بڑھنے لگا تھا ۔عبدالرشید بیٹنی کی بیٹھک اور ساتھ والے مکان کے درمیان تو گلی موجود تھی لیکن اس کے بعد چند مکانوں کی دیواریں بالکل جڑی ہوئی تھیں ۔اس لیے اس کے بعد ہمیں نیچے نہیں اترنا پڑا تھا ۔قاری صاحب خاموشی سے آگے بڑھتا گیا ۔میں بھی اس سے ایک قدم پیچھے چلتا رہا ۔ہم نے مسلسل پانچ چھے مکان عبور کیے ہوں گے ۔یہ تمام مکان ایک ہی قطار میں موجود تھے اور یقینا تمام کے مالکان کا ایک دوسرے سے خاص تعلق تھا تبھی تو وہ رستا وجود میں آیا تھا ۔ایک جگہ پر جاکر وہ رستا بند ہو گیا تھا ۔آگے ٹھوس دیوار نظر آرہی تھی ۔دیوار کے قریب جاتے ہی قاری غلام محمدنیچے جھکا ، ٹارچ کی روشنی میں مجھے لکڑی کا تختہ نظر آیا جسے قاری صاحب نے شمال کی جانب سے اٹھا کر جنوبی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا کر دیا تھا۔ وہ تین ضرب تین فٹ کا ایک چوکور خلا تھا جہاں سے مٹی کی سیڑھیاں نیچے اترتی نظر آرہی تھیں ۔
قاری صاحب کے پیچھے میں بھی سیڑھیاں اترنے لگا ۔سات آٹھ فٹ کی اترائی کے بعدہم نیچے پہنچ گئے تھے ۔وہ ایک دراڑ نما جگہ تھی ۔ٹارچ کی روشنی میں اس خلا کی دیواریں دیکھ کر صاف اندازہ ہوتا تھا وہ دراڑ قدرتی طور پر وجود میں آئی تھی ،اس کی بناوٹ میں انسانی ہاتھوں کا بس اتنا ہی عمل دخل تھا کہ اس پر ڈالی گئی چھت قدرتی نہیں تھی ۔وہ دراڑ مغرب کی جانب آگے بڑھتی گئی تھی اور رستا بتدریج نشیب میں اترتا گیا ۔ڈیڑھ دو سو میٹر کے بعد ہم جو دروازہ کھول کر باہر نکلے وہ اندرونی جانب سے تو لوہے کا تھا مگر بیرونی جانب یوں پتھر کی چٹان تراش کر اس میں نصب کی گئی تھی کہ دیکھنے والے کو وہ قدرتی اور ٹھوس چٹان ہی کی طرح لگتا تھا ۔اس کے ساتھ وہاں جھاڑیوں کا بھی کافی گھنا جھنڈ موجود تھا۔اس رستے کا اختتام ایک نالے میں ہورہا تھا ۔درختوں کے جھنڈ سے نکلے بغیر قاری غلام محمد نے اس نالے کے حدوداربع پر روشنی ڈالی اور ہم واپس مڑ آئے ۔
کمرے میں آکر قاری غلا م محمد مجھ سے اجازت لے کر باہر نکل گیا۔جانے سے پہلے وہ ٹارچ اور ایک مخابرہ میرے حوالے کرنا نہیں بھولا تھا ۔مخابرہ کے بارے اس نے ہدایت دی تھی کہ اسے میں نے چینل نمبر پندرہ پر ہر وقت آن رکھنا تھا ۔کسی بھی قسم کی ناگہانی صورت حال میں قاری صاحب نے ہمیں ہوشیار کرنا تھا ،اور اس کے بعد ضروری تھا کہ ہم کمرے کا دروازہ اندر سے کھول کر اس مخصوص رستے پر فرار ہوجاتے ۔
میں نے پلوشہ کو بھی تمام تفصیل سے آگاہ کردیا ۔سونے سے پہلے ہم نے اپنا سامان تیاری حالت میں سنبھال کر رکھ دیاتھا تاکہ ناگہانی صورت حال میں ہم اپنی چیزیں نہ سمیٹتے رہ جائیں ۔
صنوبر خان نے وہاں آنے کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کیا تھا جب مجبوری سے جاگنے والوں کے علاوہ کسی کی آنکھ کھلی نہیں رہ پاتی ،مگرقاری غلام محمد کی احتیاط کام آگئی تھی ۔رات، اڑھائی تین بجے کا وقت ہوگا جب دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی ۔ایک سنائپر یوں بھی ایک آنکھ کھلی رکھ کر سونے کا عادی ہوتا ہے ۔میں فوراََ اٹھ بیٹھا تھا ۔دروازہ کھولنے پر مجھے عبد الرحیم نامی آدمی دکھائی دیا جو ہمارے لیے کھانا وغیرہ لایا کرتا تھا۔دروازہ کھلتے ہی وہ جلدی سے اندر گھسا اور دروازہ اندر سے کنڈی کر دیا ۔
”بھائی جان !....صنوبر خان کے آدمیوں نے بیٹھک کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا ہے اور وہ قاری صاحب سے تعاون کی اپیل کر رہا ہے ۔اس کے بہ قول اسے پکی اطلاع ملی ہے کہ آپ دونوں یہاں چھپے ہو ۔“
”مگر قاری صاحب نے تو کہا تھا کہ وہ مجھے مخابرے پر اطلاع دے گا ۔“
”قاری صاحب نے آپ کو مخابرے پر پکارا تھا لیکن آپ کی طرف کوئی جواب نہ پا کر انھوں نے فی الفور مجھے بھیج دیا ،اب آپ باتوں میں وقت ضائع نہ کریں اور نکلیں ۔“
پلوشہ بھی جاگ گئی تھی اور عبدالرحیم کی باتیں اس کے کانوں تک بھی پہنچ گئی تھیں ۔وہ جلدی سے چہرے پر چادر لپیٹ کر پاﺅں میں بوٹ ڈالنے لگی۔میں نے بھی ایک منٹ میں اپنے بوٹ ڈالے اور بیرٹ کا تھیلا اٹھا کر خفیہ رستے کی طرف بڑھ گیا ۔پلوشہ میرے پیچھے ہی تھی ۔ٹارچ کی روشنی میں میں آگے بڑھتا گیا ۔یقینا عبدالرحیم وہیں لیٹ کر صنوبر خان کے آدمیوں کو یہ تاثر دینا چاہتا تھا کہ وہاں وہ لیٹا تھا ۔ورنہ کمرے کی حالت یہ ظاہر کر دیتی کہ تھوڑی دیر پہلے تک وہاں کوئی موجود تھا ۔البتہ عبدالرحیم کی موجودی میں کوئی شک کا اظہار نہیں کر سکتا تھا ۔
ہم قریباََچوتھے مکان کو عبور کرنے والے تھے جب مخابرے سے قاری غلام محمدکی آواز ابھری ۔
”جوان!....مجھے سن رہے ہو ۔“
”جی ،کہیں ۔“میں نے بھی اس کی طرح نام لیے بغیر ہی اسے جواب دیا تھا ۔
”بڑی گڑ بڑ ہو گئی ہے ،ایک غداردشمن تک ،اس رستے کی خبر پہنچا چکا ہے ۔یقینا وہاں اس کے آدمی تمھاری تاک میں موجود ہوں گے ۔“
”تو ....کیا کروں ؟“مجھے ایک دم رکنا پڑا ۔”واپس آنا مناسب رہے گا یا یہیں کچھ دیر چھپا رہوں ۔“
”اس کے بجائے کسی دوسرے گھر سے نکلنے کی کوشش کرو اور خیال رہے اس کے آدمی ہر طرف پھیل گئے ہیں اور ........“قاری صاحب کی آواز ایک دم غائب ہو گئی ۔مجھے شک ہوا کہ کسی کی آمد پر اسے خاموش ہونا پڑ گیا تھا۔
پلوشہ بھی اس کی تمام باتیں سن رہی تھی ۔”اب کیا کریں ؟“ایسی صورت حال میں بھی اس کے چہرے پر کوئی خاص پریشانی نظر نہیں آرہی تھی ۔وہ ایسی ہی بہادر اور دلیر تھی ۔اس کی بے خوفی دیکھ کر مجھے بہت حوصلہ ملا تھا ۔
ایک لمحہ سوچ کر میں مشرقی دیوار کا جائزہ لینے لگا ۔ایسے حالات میں قاری صاحب کا مشورہ سب سے بہتر تھا ۔جلد ہی مجھے ایک دروازہ نظر آگیا ۔دو فٹ چوڑا اور چار فٹ اونچا ایک ہی کواڑ تھا ۔جو ہماری جانب ہی کھل رہا تھا ۔پٹ کے کھولتے ہی سامنے سے ایک پلاسٹک کی شیٹ لگی نظر آئی ۔پلاسٹک کی وہ شیٹ ہٹاتے ہوئے میں نے اس چوکور سوراخ سے اندر جھانکا ۔
کمرے میں ساتھ ساتھ ملی ہوئی دو چارپائیوں پر دو آدمی موجود تھے ۔یقینا وہ میاں بیوی ہی ہوں گے ۔پلاسٹک ہٹانے پر ہینگر سے لٹکے کپڑے نیچے گر گئے تھے ۔گو اس سے اتنی زیادہ آواز نہیں ابھری تھی لیکن اس کے باوجود وہاں سوئے میاں بیوی جاگ گئے تھے ۔ہمیں دیکھ کر وہ اتنے حیران ہوئے تھے کہ عورت کو چہرہ چھپانا بھی بھول گیا تھا ۔کمرے میں جلتی ہوئی ایمرجنسی لائیٹ کی روشنی نے ہماری دیکھ بھال کو آسان کر دیا تھا ۔
میں نے ہونٹوں پر انگلی رک کر انھیں خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے دبے لہجے میں کہا ۔ ”ہم دشمن نہیں ہیں ۔“
”مم....مگر آپ ........“اس مرد نے ہکلاتے ہوئے لہجے میں کچھ کہنا چاہا ۔
”بات چیت نہیں ....خاموشی سے لیٹ جاﺅ۔دشمن ہمارے پیچھے ہیں ۔اور تفصیل بتانے کا وقت نہیں ہے ۔“قطع کلامی کرتے ہوئے اسے میں نے خاموشی کی تاکید کی اور پلوشہ کو ساتھ لے کر کمرے سے باہر کا رخ کیا ۔صحن میں اچھا خاصا اندھیرا پھیلا ہوا تھا ۔
کمرے کا درواز ہ باہر سے کنڈی کر کے ہم دونوں داخلی دروازے کی طرف بڑھے ۔ دروازے کے قریب پہنچتے ہی میرے کانوں میں آئی کام کی دھیمی آواز پہنچی ....کسی کو چوکنا رہنے کی ہدایت کی جا رہی تھی ۔یقینا ہم چاروں طرف سے گھیرے میں آ چکے تھے ۔صنوبر خان نے ہماری تاک میں نہ صرف اس نالے میں اپنے آدمی بٹھائے ہوئے تھے بلکہ ایک قطار میں موجود ان گھروں کے چاروں جانب بھی اس کے آدمی پھیلے ہوئے تھے ۔ہم دونوں کے بھاگنے کا کوئی رستا نہیں بچا تھا ۔
جاری ہے ۔

No comments: