ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر Novel Snipper by Riaz Aqiz Koahler Episode 43
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
Novel Snipper
by
Riaz Aqiz Kohler
Episode 43
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
43 قسط نمبر
by
Riaz Aqiz Kohler
Episode 43
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
43 قسط نمبر
سنائپر(قسط نمبر43)
ریاض عاقب کوہلر
میں جانتا تھا کہ پلوشہ لڑائی بھڑائی میں کسی سے کم نہیں تھی ،لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت تھی کہ ٹریسی والکر ایک خطرناک لڑاکا تھی ۔اور پھر پلوشہ کو زخمی ہونے کے بعد عملی میدان میں قدم رکھتے ہی اتنے سخت حریف کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔
”میجر !....پلیز اسے کچھ نہ کہنا ۔“میں پلوشہ کے بجائے ٹریسی کی منت کرنے لگا ۔
اس کے چہرے پر زہریلی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور وہ بھاری لہجے میں بولی ۔”نہیں اس کی گرمی تو نکالنا پڑے گی نا ۔“یہ الفاظ اس کے منہ میں تھے کہ پلوشہ نے اس پر چھلانگ لگا دی ۔
اپنی جگہ کھڑے کھڑے وہ نیچے جھکی اور اس کی ٹانگ پیچھے سے خم کھا کر پلوشہ کی چھاتی میں لگی ، وہ کولہوں کے بل نیچے گر گئی تھی ۔غصے میں میری مٹھیا ں بھینچ گئی تھیں ۔ٹریسی نے ایک دم سیدھے ہو کر چھلانگ لگائی اور اس کا گھٹنا خطرناک انداز میں پلوشہ کے پیٹ کی طرف بڑھا ۔اگر وہ گھٹنا پلوشہ کے پیٹ میں لگ جاتا تو یقینا اسے بے ہوش ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا ۔لیکن پلوشہ کو میں نے کچھ زیادہ ہی نازک اندام سمجھ لیا تھا وہ اتنی کمزور نہیں تھی جتنی مجھے لگ رہی تھی ۔ٹریسی کا گھٹنا پیٹ تک پہنچنے سے پہلے وہ مچھلی کی طرح ٹرپ کر ایک طرف کو ہوئی اور اگلے ہی لمحے اس کے ننگے پاﺅں کے زوردار ٹھوکر ٹریسی کے چہرے پر لگی ٹریسی کولہوں کہ بل گر کر پیچھے کو الٹ گئی تھی ۔لیکن ٹریسی نے ایک لمحہ بھی زمین پر نہیں گزارا تھا فوراََ الٹی قلابازی لیتے ہوئے وہ پیچھے کی جانب کھڑی ہو گئی ۔مگر اس وقت تک پلوشہ زمین سے اٹھ کر اس پر چھلانگ لگا چکی تھی ۔پلوشہ کا دایاں گھٹنا خطرنا ک انداز میں اس کی چھاتی کی طرف بڑھا ۔اپنی کلائیوں کا کراس بنا کر ٹریسی نے بہ مشکل وہ وار سہا لیکن اس کے ساتھ ہی دوتین قدم پیچھے ہٹتی چلی گئی تھی ۔اس کے عقب میں دیوار تھی مجبوراََ اسے دیوار سے ٹکر کر رکنا پڑ گیا تھا ۔
پلوشہ کی حرکت نہیں رکی تھی ۔نیچے گرتے ہی وہ دائیں پاﺅں پر گھومی اور اس کے بائیں پاﺅں کی جچی تلی ضرب ایک بار پھر ٹریسی کی چھاتی میں لگی ۔ٹریسی کا سر زوردار انداز میں دیوار سے ٹکرایا۔اس کے چہرے پر چھائی استہزائیہ مسکراہٹ ، غیض و غضب میں تبدیل ہو گئی تھی ۔یقینا اسے معلوم ہو گیا تھا کہ اس کے مقابل کوئی عام لڑکی نہیں ہے ۔
زوردار ٹھوکر اس کی چھاتی میں لگاتے ہی پلوشہ کا دایاں ہاتھ دائرے میں گھوما ،اگر اس مرتبہ وہ اپنے داﺅ میں کامیاب ہو گئی ہوتی تو ٹریسی کا بے ہوش ہونا لازمی تھا۔لیکن اس کے دائروی مکے کو اپنی ہتھیلی پر روکتے ہوئے ٹریسی نے سر کی زوردار ٹکر پلوشہ کی چھاتی میں رسید کی اور پلوشہ پیچھے کو الٹ گئی ۔
ٹریسی نے اسے چھاپنے کے لیے اس پر چھلانگ لگائی مگر ایک دم اپنی ٹانگیں گھٹنوں سے موڑتے ہوئے پلوشہ نے اپنے پاﺅں ٹریسی کی چھاتی پر ٹیکے اور اسے سر سے پیچھے اچھا ل دیا ۔اس کے ساتھی ہی وہ سپرنگ کی طرح اچھل کر کھڑی ہو گئی تھی ۔ٹریسی بھی الٹی قلابازی کھا کر اپنی جگہ پر اٹھ کھڑی تھی۔
ایک مرتبہ پھر وہ آمنے سامنے کھڑی تھیں ۔پلوشہ کی گرمی نکالنے والی خود غصے میں تپ رہی تھی۔آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو تولتے ہوئے دونوں نے اکٹھی چھلانگ لگائی اور ایک دوسرے سے گھتم گھتا ہو گئیں ۔میں اپنی پلوشہ کو جتنا قابل سمجھتا تھا وہ اس سے کئی گنا بڑھ کر تھی ۔ٹریسی کے ہر وار کو اگر اینٹ سمجھا جاتا تو وہ اس کا جواب پتھر سے دے رہی تھی ۔دونوں نہ تو ہار ماننے کو تیار تھیں اور نہ تھکنے کو ۔وہ ایسی دلچسپ اور خطرناک جنگ تھی کہ مجھے قابو کرنے والے پوری طرح اس میں کھو چکے تھے۔ ٹریسی والکر کے بارے مجھے معلوم ہوا تھا کہ وہ ایک خطرناک لڑاکا تھی اور یہ بات اس کے ساتھی مجھ سے بہتر جانتے تھے ۔اب گھریلو لباس پہنے ہوئے ایک عام سے لڑکی کو ٹریسی کا مقابلہ کرتے دیکھنا ان کے لیے یقینا حیرت کا باعث تھا۔اور پھر وہ دونوں لڑتے ہوئے اپنے لباس وغیرہ سے غافل ہی ہو گئیں تھیں ۔ پلوشہ جیسی پرکشش دوشیزہ اور ٹریسی جیسی جاذب نظر فگر کی مالک لڑکی کے جسمانی زاویوں کو یوں چند فٹ کے فاصلے سے اس انداز میں دیکھنا ایک خوش کن نظارہ ہی تو تھا ۔اور اس نظارے نے انھیںپوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا تھا وہ مجھ سے پوری طرح غافل ہو چکے تھے ۔اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے ۔میں نے ایک دم اپنا بازو مروڑے ہوئے شخص کے چہرے پر اپنے سر کے عقبی حصے کی زوردار ٹھوکر لگائی ۔اور اس کے ساتھ ہی اسے اپنے جسم سے پیچھے کی طرف دھکیلا ۔دوسرے آدمی نے میری گردن سے پستول لگایا ہوا تھا ۔میرے پیچھے ہٹتے ہی اس کا پستول میری آنکھوں کے سامنے تھا ۔چوٹ کھا کر میرے عقبی جانب موجود آدمی کے منہ سے ۔”افف....“ کی زوردار آواز نکلی اور میرا ہاتھ اس کی گرفت سے آزاد ہو گیا ۔میں نے دوسرے آدمی کے ہاتھ سے پستول لینے کے بہ جائے اس کی کلائی مروڑتے ہوئے پستول کی نال اس کی کھوپڑی کی طرف گھمائی اور ٹریگر دبا دیا ۔
”ٹھک ۔“کی آواز کے ساتھ گولی اس کے ماتھے پر لگی تھی ۔اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت ڈھیلی کر کے میں فوراََ پیچھے مڑا اور عقبی جانب موجود آدمی کی دونوں ٹانگوں کے درمیان گھٹنے کی زوردار ضرب لگائی ۔وہ ابھی تک ناک والی ٹکر سے مدہوش تھا ٹانگوں کے درمیان لگنے والی ضرب سے وہ منہ کے بل گرا۔اس کے ہاتھ سے سائیلنسر لگا پستول لے کر میں نے اس کی کھوپڑی میں بھی روشن دان کھول دیا تھا۔یہ تمام کارروائی میں نے چند سیکنڈ کے اندر ہی کر ڈالی تھی ۔
ان دونوں سے فارغ ہوتے ہی میں ٹریسی اور پلوشہ کی طرف متوجہ ہوا ۔اسی وقت پلوشہ نے ٹریسی کی چھاتی میں لات مار کر اسے پیچھے کی طرف گرایا تھا ۔
”ایک منٹ پلوشے !“میں نے زوردارآواز دے کر پلوشہ کو آگے بڑھنے سے روکا ۔میرا پستول والا بازو ٹریسی کی طرف سیدھا ہوا۔ اس نے بھی اپنی جانب اٹھتی ہوئی گلاک کی بے رحم نال دیکھ لی تھی ۔اس کی آنکھوں سے کسی لبریز پیالے کی طرح خوف چھلکا اور وہ چلائی ....
”ذی ....گولی نہ چلانا ۔“وہ لوچ دار اور سریلی آواز ٹریسی والکر کی تو نہیں تھی ۔اور مجھے ذی صرف ایک ہستی ہی کہتی تھی جس کا نام کیپٹن جینیفر ہنڈسلے تھا ۔
وہ زمین سے اٹھ کر اپنی شناخت کراتے ہوئے بولی ۔”میں جینی ہوں ۔“اس کے ساتھ ہی اس نے گریبان کے اندر ہاتھ ڈالا اور ایک باریک جھلی اس کے چہرے سے اترتی چلی گئی ۔ کالے سیاہ چہرے کے نیچے جینیفر کا سرخ و سفید چہرہ نکل آیا تھا ۔اس کے سر کے بال سنہری تھے ۔لیکن اب یقینا اس نے کسی لوشن سے بالوں کا رنگ بھی کالا کیا ہوا تھا ۔
میرا پستول والا ہاتھ ابھی تک اس کی طرف اٹھا ہوا تھا ۔لیکن اپنی پہچان کرانے کے بعد وہ بے جھجک میرے جانب بڑھی ،اگلے ہی لمحے میرے پستول کو ایک جانب کرتے ہوئے وہ مجھ سے لپٹ چکی تھی ۔اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی ثقافت کا مظاہرہ شروع کر دیا ۔
”یہ کیا پاگل پن ہے جینی !“اسے ڈانٹتے ہوئے میں نے خود کو اس کی گرفت سے چھڑایا ۔ پلوشہ پھٹی پھٹی نظروں سے ہمیں گھور رہی تھی ۔مجھے لگا وہ گر جائے گی ۔
”اتنے عرصے بعد ملے ہو کیا میرا اتنا بھی حق نہیں بنتا ۔“اس نے شرمندگی ظاہر کیے بغیر منھ بنایا۔
”شاید تم بھول گئی ہو کہ تم میری دشمن ہو ۔“میں نے ایک ایک لفظ چباتے ہوئے کہا ۔
”بھول ہے تمھاری ....اگر دشمن ہوتی تو آج تم زندہ نظر نہ آرہے ہوتے ۔“
”یہ مہربانیاں اپنے پاس رہنے دو سمجھیں ....اور میں نے تمھیں منع کیا تھا کہ پلوشہ پر ہاتھ نہ اٹھانا ۔“
”تمھاری پیلاوشہ بھی کوئی ہے ۔“اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے عجیب سے تلفظ سے پلوشہ کا نام ادا کیا ۔
”دانت مت نکالو ....تمھیں پتا بھی ہے یہ ابھی بیماری سے اٹھی ہے ۔“
”تو اس نے بھی کوئی کمی نہیں چھوڑی....تمھیں میرا احساس نہیں اور اس کے لیے مرے جا رہے ہو ۔بھول گئے ہو اس سے پہلے میں تمھاری زندگی میں آئی ہوں ۔“
”جینی!.... سمجھنے کی کوشش کرو پلوشہ میری بیوی ہے ۔“
”بیوی ....“جینیفر حیران ہی تو رہ گئی تھی ۔”مگر شادی کب ہوئی ؟“
”مہینا ہو گیا ہے اور یقین مانو ابھی ہم ہنی مون منا رہے تھے کہ تم مصیبت بن کر نازل ہو گئی ہو۔“
”تو ایسی لڑکیاں تو شادی کے بغیر بھی نہ نہیں کرتیں ،تمھیں شادی کی ضرورت کس لیے پیش آ گئی ۔“
میں نے غصیلے لہجے میں کہا ۔”شاید تمھارا زندہ واپس جانے کا ارادہ نہیں ہے ۔“
وہ اعتماد بھرے لہجے میں بولی ۔”تم جتنی بڑھکیں مار لو ایک بات تو یقینی ہے کہ تم مجھے کچھ بھی نہیں کہہ سکتے ۔“
”ہاں ....مگر پلوشہ کے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔“
”اب ڈراﺅ تو نہیں نا یار !“بے تکلفی سے کہتے ہوئے وہ چارپائی پر بیٹھ گئی ۔پلوشہ ابھی تک کینہ توز نظروں سے اسے گھور رہی تھی ۔
”ویسے اپنی پیاری بیوی کو بھی بتا دو کہ میں دشمن نہیں ہوں ۔“پلوشہ کو مسلسل گھورتے دیکھ کر وہ کہے بنا نہیں رہ پائی تھی ۔
”پلوشہ ، انگریزی اچھی طرح جانتی ہے محترمہ ۔“میں نے دوسرے امریکی کے ہاتھ میں پکڑا ہوا گلاک اٹھا کر نیفے میں اڑسنے لگا ۔
”اوہ ....یہ بات ہے ۔“وہ پلوشہ کی طرف متوجہ ہوئی ۔”بے بی غصہ تھوک دو،میں میجر جینیفر ہنڈسلے ہوں ،ذی کی پرانی دوست۔“
پلوشہ کوئی جواب دیے بغیر خاموشی سے دوسری چارپائی پر بیٹھ گئی ۔اس کے چہرے پر چھائے غصے بھرے تاثرات معدوم نہیں ہوئے تھے ۔میں جانتا تھا کہ جنیفر کے مجھ سے لپٹنے اور بوس و کنار کی بات اسے ہضم نہیں ہو رہی تھی ۔
میں اسے پشتو میں مخاطب ہوا ۔”چندا !....یوں غصہ نہیں کرتے ۔اور تم جانتی تو ہو کہ یہ ان لوگوں کی ثقافت ہے ۔“
”میں کسی گھٹیا ثقافت کو نہیں جانتی اور آپ سے تو میں بات ہی نہیں کرنا چاہتی ۔“وہ جیسے غصے سے ابل رہی تھی ایک دم پھٹ پڑی۔
”بھئی یہ تو بہت غصے میں ہے ۔“جینیفر مزاحیہ انداز میں بولی ۔اسے پلوشہ کی حالت دیکھ کر لطف آ رہا تھا ۔
”اچھا یہ بتاﺅ کیسے تشریف آوری ہوئی ؟“میں اس کے سامنے چاپائی پر جگہ سنبھالتے ہوئے مستفسر ہوا ۔یوں بھی میں جانتا تھا کہ پلوشہ کا غصہ اتنی آسانی سے اترنے والا نہیں تھا ۔
جواباََ اس نے جو کچھ بتایا اس کا لب لباب یہی بنتا تھا کہ صنوبر خان کے ایک آدمی نے تین چار بار کمانڈر نصراللہ کو بیٹھک میں کھانا لاتے دیکھا۔ ایک دن اس نے یونھی تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کردروازے کی درز سے آنکھ لگا کر بیٹھک میں جھانکا ۔اس وقت میں کسی کام سے بیٹھک کے صحن میں نکلا تھا ۔مجھ پر نظر پڑتے ہی اس نے یہ بات صنوبر خان تک پہنچانے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگایا تھا ۔اور اگلے ہی دن جینیفر نے مجھے پکڑنے کا پروگرام بنا لیا ۔چونکہ وہ جانتی تھی کہ میں نے صنوبر خان کے آدمیوں کے ہاتھ نہیں آنا تھا اس لیے خود ہی اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ مجھے پکڑنے آ گئی تھی ۔انھیں اب تک یہ خوش فہمی تھی کہ میں ان سے کیے ہوئے وعدے سے انحراف نہیں کروں گا ۔
”ٹھیک ہے تو جواب سن لو ،میں تم لوگوں کے لیے کام نہیں کر سکتا ۔بلکہ پاکستان آرمی کے خلاف البرٹ نے جو کارروائیاں کرائی ہیں ان کا جواب اسے دینا پڑے گا ۔“
”پاگل مت بنو ذی !“جینیفر نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی ۔
”اس میں پاگل پن کی کیا بات ہے ،کیا مجھے جچتا ہے کہ میں اپنے ملک کے خلاف کام کرنے والوں سے معاہدے کرتا پھروں ۔“
”ذی !....جانتے ہومیں امریکہ سے افغانستان صرف تمھاری خاطر آئی ہوں ۔“اس نے مجھے جذباتی طور پر بلیک میل کرنا چاہا ۔
پلوشہ سے ہماری گفتگو برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔وہ رضائی میں گھس گئی ۔مگر جینیفر اسے خاطر میں لائے بغیر مجھے قائل کرنے کی کوشش میں لگی رہی ۔
میں صاف گوئی سے بولا ۔”جتنے دن میں امریکہ میں رہا تم مجھے اسی طرح اپنی جھوٹی محبت کا دھوکا دے کر ورغلاتی رہیں اب تک تمھاری وہ عادت ختم نہیں ہوئی ۔“
”ذی میں قسم کھاتی ہوں میں نے کبھی تم سے جھوٹ نہیں بولا ....اور اگر تم یہ سوچ رہے ہو کہ لی زونا نے تمھیں پہلے سے میرے بارے بتا دیا تھا تو یقین کرو ہر مرتبہ وہ گفتگو میں نے خود لی زونا کے کانوں تک پہنچائی تھی کیونکہ میں تمھیں بلیک میل ہوتے نہیں دیکھنا چاہتی تھی ۔“
میں شکوہ کناں ہوا ۔”بعد میں تم نے ان کا آلہ کار بن کر مجھے بلیک میل تو کروا دیا تھا ۔“
”ہاں ....کیونکہ کرنلسکاٹ ڈیوڈاور کرنل جولی روز ویلٹ کسی بھی قیمت پر تم سے برین ویلزکے قتل کا کام لینا چاہتے تھے ۔اور میں نہیں چاہتی تھی کہ میرے بغیر وہ کوئی ایسا منصوبہ ترتیب دے لیں جس سے تمھاری ذات کو نقصان پہنچے ۔“
”آخری دن بھی تم نے محبت کا ڈراما کھیلا تھا ۔“
وہ ہنسی ۔”یقینا لی زونا نے تمھیں کہا ہو گا کہ میں کسی کو فون پر یہ کہہ رہی تھی کہ میں تمھیں راضی کرنے میں ناکام رہی ہوں ۔“
”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
”وہ میں نے اپنی انا کو تسکین پہنچانے کے لیے کہا تھا ،ورنہ حقیقت یہی ہے کہ مجھے کسی نے تمھیں وہاں رہنے پر مجبور کرنے کو نہیں کہا تھا ۔“
”میری سمجھ میں یقینا تمھاری بات نہیں آئی ۔“
”ذی!.... میں نہیں چاہتی تھی کہ تم یہ سمجھو کہ تم نے میری محبت کو ٹھکرا دیا ہے ۔اس لیے جونھی تم نے میری آفر ٹھکرائی میں نے بھی لی زونا کے ذریعے تم تک یہ بات پہنچا دی کہ میں کسی کے کہنے پر تمھیں وہاں رکنے پر راضی کر رہی تھی ۔“
میں نے پوچھا ۔”لی زونا کو تمھارے ڈرامے کی بابت معلوم تھا ؟“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سرہلایا۔”میں اس کے آنے کی منتظر تھی ۔جونھی اسے آتے دیکھا میں نے فرضی طور پر موبائل فون پر بات چیت شروع کر دی ۔اور اتنا تو مجھے معلوم تھا کہ وہ تمھیں یا سیردر (سردار) کو لازماََ بتائے گی ۔اور جب تم چلے گئے تو یقین مانو میں بہت بے چین رہی ۔تمھاری ٹریننگ میں بنی ہوئی وڈیوز دیکھ کر دل کو بہلایا کرتی تھی ۔پھر مجھے معلوم ہوا کہ تم افغانستان محاذکے پر پہنچے ہوئے ہو ۔اور تمھاری محبت مجھے بھی اس مشکل جگہ پر کھینچ لائی ۔“
”اچھا مان لیا ،جو تم کہہ رہی ہو وہ صحیح ہے ،لیکن میرا نکار تو اب بھی برقرار ہے ۔“
وہ جذباتی لہجے میں بولی ۔”ذی !....تم بے شک امریکن سی آئی اے کے لیے کام نہ کرو ،بلکہ تم امریکہ میں بھی کوئی کام نہ کرنا سب کچھ میں کروں گی ،تمھیں گرین کارڈ لے کر دوں گی اور تمھیں زندگی کی وہ سہولتیں ملیں گی جو تم نے خواب میں بھی نہیں سوچی ہوں گی ۔تم بے شک ہمارے بچوں کو مسلمان بنا نا میں اس پر بھی اعتراض نہیں کروں گی بس میرے ساتھ چلو ۔“
”اور اس کا کیا کروں ؟“میں نے رضائی میں لپٹی پلوشہ کی جانب اشارہ کیا ۔
”اسے میں اتنی رقم دے دوں گی کہ یہ باقی کی زندگی عیاشی میں گزارے گی ۔“
میں ہنسا ۔”مطلب تم ،مجھے اس سے خرید لو گی ؟“
”پہلے بھی تو اس نے پندرہ ہزار ڈالر میں تمھارا سودا کر لیا تھا ....اب اس سے چار پانچ گنا زیادہ رقم لے کر کیوں کر انکار کرے گی ۔“
”بکواس نہ کرو جینی !....مجھے معلوم ہے اس معصوم کے ساتھ تم لوگوں نے کیا ظلم کیا تھا ۔“
”چلو مان لیا ،لیکن یہ بھی تو سوچو اس نے اپنے چھوٹے بھائی اور ماں کو تم پر ترجیح دی ،جبکہ میں وعدہ کرتی ہوں کہ اگر تم کہو گے تو اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو تمھارے لیے چھوڑ دوں گی ۔“
”یہ ممکن نہیں ہے جینی !“میں نے بے بسی سے سرہلایا۔
”کیا میں خوب صورت نہیں ہوں ،کیا میں تمھیں پیاری نہیں لگتی ،کیا میری محبت تمھارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی ۔“اس کی آواز سچ مچ گلو گیر ہو نے لگی ۔بغیر شک و شبہ کے مجھے یقین تھا کہ وہ ڈراما نہیں کر رہی تھی ۔
”جینی معلو م ہے ہمارے درمیان سب سے بڑا تہذیبوں کا فرق ہے ۔ہم وقتی طور پر یقینا ایک ہو جائیں گے، شادی بھی کر لیں گے اور چند سال محبت سے بھی گزار لیں گے ۔لیکن تم جس ماحول میں پل کر جوان ہوئی ہو وہ اس ماحول سے یکسر مختلف ہے جو مجھے میسر رہا ہے ۔میں کبھی بھی یہ گوارا نہیں کروں گا کہ میری بیوی کو چھونا تو درکنار کوئی دیکھ بھی سکے ۔جبکہ اپنی تہذیب کے مطابق تم میرے سامنے کسی بھی مرد کے گلے لگنے کو بھی معیوب نہیں سمجھو گی ۔اور یہ میں نے ایک مثال دی ہے اس کے علاوہ بھی ہماری شادی میں کئی ایک قباحتیں ہیں جو اس وقت تمھیں اس لیے نظر نہیں آ رہیں کہ تمھاری آنکھوں پر محبت کی پٹی بندھی ہے ۔جونھی یہ پٹی کھلے گی تمھیں یہ شادی ایک مذاق سے بڑھ کر معلوم نہیں ہو گی ۔“
وہ روہانسی ہوتے ہوئے بولی ۔”نہیں بلکہ تمھاری آنکھوں پر پیلاوشہ کی محبت کی پٹی بندھی ہے۔اس چھوٹی سی چھوکری نے تمھیں مجھ سے چھین لیا ہے ۔“
میں زچ ہوتے ہوئے بولا ۔”یقینا تم نے میری بات نہ سمجھنے کی قسم کھائی ہے ۔“
”اچھا سچ سچ بتاﺅ ....تمھیں ہم دونوں میں سے کون زیادہ پیارا ہے ۔اورکیا تمھاری پیلاوشہ مجھ سے خوب صورت ہے ؟“
”چلو تمھیں دروازے تک چھوڑ آﺅں ....اور صبح ہونے والی ہے تھوڑی دیر تک ہم دونوں بھی یہاں سے چلے جائیں گے ۔“
”میں اپنے ساتھیوں کی لاشیں یہاں نہیں چھوڑ سکتی ۔“
”تو میں نے ان لاشوں کاکیا کرنا ہے ۔اٹھاﺅ اور لے جاﺅ۔“
”میری مدد کرو ۔“وہ اپنے ساتھیوں کی لاشوں کی طرف بڑھ گئی ۔دونوں لاشوں کوبیٹھک کے بیرونی دروازے کے پاس رکھ کر وہ باہر نکل گئی ۔اپنی گاڑی انھوں نے بیٹھک سے تھوڑے فاصلے پر پارک کی تھی ۔ڈبل کیبن اس نے بیٹھک کے دروازے کے سامنے لا کر کھڑی کی اور میری مدد سے لاشوں کو گاڑی کی باڈی میں رکھ لیا ۔
لاشیں کو ٹھکانے لگا کر وہ میرے جانب متوجہ ہوئی ۔”میں نے کوئی سوال پوچھا تھا ۔“
”تم حد سے زیادہ خوب صورت ہو اورمجھے بہت زیادہ پیاری ہو جبکہ پلوشہ کے بغیر شاید میں زندہ نہ رہ پاﺅں ۔“
”مطلب وہ مجھ سے زیادہ پیاری ہے ۔“
”میں نے ایسا تو نہیں کہا ۔“
”تو پھر اس بات کا کیا مطلب بنتا ہے ؟“
”یہی کہ ہمارے ملاپ میں بہت ساری رکاوٹیں ہیں جو ہم چاہ کر بھی دور نہیں کر سکتے ۔“
”ذی !....“وہ جذباتی انداز میں مجھے لپٹ گئی ۔میرے ہاتھوں نے بھی اس کے گرد گھیرا ڈال لیا تھا ۔وہ میرے لیے امریکہ سے افغانستان تک آ گئی تھی ۔اس کی اتنی پذیرائی تو میرا حق بنتا تھا ۔وہ کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کرتی رہی اور میں اسے روکے ٹوکے بغیر اس کا ساتھ دیتا رہا ۔میں جانتا تھا کہ وہ ہماری آخری ملاقات تھی اور آخری ملاقات میں اس کا دل توڑنا کسی طور مناسب نہیں تھا ۔گو میں جانتا تھا کہ اسے میری پلوشہ کے ساتھ محبت بہت کھل رہی تھی لیکن پلوشہ میری مجبوری تھی ۔اگر میں جینی کا محبوب تھا تو پلوشہ میری محبت تھی ۔لیکن کچھ سچ ایسے ہوتے ہیں جن کا کھلم کھلا اقرار کسی دل کو چکنا چور کر دیتا ہے ۔میں نے بھی پلوشہ کی محبت کے بہ جائے اور مسائل کا رونا رو کر جینیفر کو ٹالنے کی کوشش کی تھی ۔جینی اس قابل تھی کہ اسے چاہا جاتا مگر اس کے ساتھ وہ سب باتیں بھی کھلی حقیقت تھیں جو میں اس کے گوش گزار کر چکا تھا ۔
بڑی مشکل سے وہ مجھ سے علاحدہ ہوئی ۔اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر میں نے اس کے ماتھے پر بوساس دیا اور کہا ....”جی !....پلیز یہاں سے واپس چلی جاﺅ ....میں ہمیشہ ایک اچھے اور مخلص دوست کی طرح تمھیں یاد رکھوں گا ۔جب کبھی دل کرے مجھے ملنے آجانا ....مگر خدارا مجھے اس بات پر مجبور نہ کرنا کہ اپنے وطن اور تم میں،مجھے ایک کا چناﺅ کرنا پڑے....شاید ایسے موقع پر میں تمھاری توقعات پر پورا نہ اتر سکوں ....اور ہاں میں بھی تم سے محبت کرتا ہوں ۔“
چودھویں کے چاند کی روشنی میں مجھے اس کے پرکشش چہرے پر دل آویز تبسم نمودار ہوتا ہوا محسوس ہوا اور چاہت بھرے لہجے میں بولی ....”شکریہ ذی !....اب شاید میں اطمینان سے واپس لوٹ سکوں ....اور ہاں پیلاوشہ کو میری طرف سے بہت پیار کرنا ۔“اتنا کہتے ہی وہ گاڑی میں بیٹھ گئی ۔
میں نے پوچھا ۔”کیا میری وڈیوز پاک آرمی تک پہنچ گئی ہیں ؟“
”فی الحال تو نہیں لیکن جلد ہی پہنچا دی جائیں گی ....اور معذرت چاہوں گی کہ میں البرٹ کو ایسا کرنے سے نہیں روک سکتی ۔وہ مجھ سے سینئر ہے ۔“
”جی !....اپنا خیال رکھنا اور یاد رکھنا جتنا جلدی ہو سکے یہاں سے واپس چلی جاﺅ ۔تم پر گولی چلانے کے بعدشاید میں خود کو کبھی معاف نہ کر سکوں ۔“
وہ ہنسی ۔”مطلب مجھ پر گولی ضرور چلانی ہے ۔“
”خدا حافظ۔“اس کی بات کا جواب دیے بغیر میںگاڑی کی کھڑکی سے ہاتھ ہٹا کر پیچھے ہو گیا۔
ایک لمحہ مجھے گھورنے کے بعد وہ ہاتھ ہلاتے ہوئے رخصت ہو گئی ۔گاڑی کے موڑ مڑنے تک میں وہیں کھڑا رہا ۔جونھی گاڑی کی عقبی بتیاں نظروں سے غائب ہوئیں میں بیٹھک میں داخل ہو گیا ۔گو اس وقت بیٹھک میں موجود رہنا خطرے سے خالی نہیں تھا لیکن مجھے جینیفر پر پورا بھروسا تھا ۔وہ کبھی بھی میری پیٹھ میں خنجر نہیں گھونپ سکتی تھی ۔
اس کے باوجود میں نے صبح ہوتے ہی وہاں سے چلے جانے کا منصوبہ بنا لیا تھا ۔کمرے میں داخل ہوتے ہی میری نظر پلوشہ پر پڑی جو اسی طرح رضائی میں لپٹی پڑی تھی ۔اب اسے منانے کا مشکل مرحلہ درپیش تھا ۔یقینا وہ غصے میں تھی اور خفا بھی تھی ۔
میں نپے تلے قدم رکھتا ہوا اس کے قریب پہنچا اور پھر چارپائی پر بیٹھتے ہوئے آہستہ سے رضائی ہٹا کر میں نے اس کا چہرہ سامنے کیا اس کی آنکھیں رو روکر سوجنے والی ہو گئی تھیں ۔جونھی میں نے اس کے چہرے کی طرف ہاتھ بڑھایا اس نے بے ساختہ میری چھاتی پر ہاتھ رکھ کر دھکا دیا ....
”دفع ہو جائیں ....کچھ نہیں لگتی میں آپ کی ....جائیں اپنی جینی کے پاس ....وہ مجھ سے خوب صورت بھی ہے اور امیر بھی ہے ....میرے پاس کیا لینے آئے ہیں ....اگر وہ کم پڑے تو ماہین بھی منتظر ہو گی تمھاری ....اور وہ کشمیرن بھی ہے ....جاﺅ مجھے نہیں رہنا آپ ساتھ ۔“روتے ہوئے اس کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں ۔مگر میں کوئی بات کیے بغیر اس کے آنسوچننے لگا ۔
”آپ نے اسے گلے سے کیوں لگایا ....اسے چوما کیوں ....آپ نے اس کے منھ پر تھپڑ کیوں نہ مارا ....بتائیں نا ں؟“وہ میرے پیار کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مچلتی رہی ۔
”کیا میری چاہت میں شک ہے ؟“اس کے کان سے لب لگاتے ہوئے میں نے سرگوشی کی۔
”ہاں ....شک ہے ....نفرت ہے مجھے آپ سے ....آپ اس قابل ہی نہیں کہ آپ سے محبت کی جائے ....آپ چلے جائیں ....کہیں دور چلے جائیں ........“
اس کے ہونٹوں پر مہر لگاتے ہوئے میں نے اس کے مسلسل شکووں کو روکنے کی کوشش کی مگر میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر اس نے مجھے دور دھکیل دیا ۔
”میں کہہ رہی ہوں دور ہو جائیں مجھ سے ....مجھے آپ کے جھوٹے پیار کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے ....وہ ....وہ ....میرے سامنے آپ سے پوچھ رہی تھی کہ وہ خوب صورت ہے یا میں اور یہ کہ وہ آپ کو پیاری ہے یا میں ....اور آپ اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دے رہے تھے ....باہر جا کر آپ نے یہی کہا ہو گا نہ کہ وہ آپ کو پیاری ہے ....مجھے پتا ہے آپ نے یہی کہا ہے ....آپ صرف اس لیے اس سے شادی نہیں کر سکتے کہ اس کی اور آپ کی ثقافت میں فرق ہے ورنہ تو آپ مجھے دودھ میں گری مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیتے ....“
”پلوشے !....مجھ سے تھپڑ کھاﺅ گی ۔“میں نے اسے ہلکے سے ڈانٹا۔
وہ سسکیاں بھرتے ہوئے بولی ۔”ہاں ماریں گے تو آپ سہی ....آپ کی لاڈلی کے خلاف بات جو کر لی ،مجھے توآپ یوں بھی پیٹنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں ....آپ کی لاڈلی نے بھی میری پٹائی کی اور آپ نے اسے کچھ بھی تو نہیں کہا ۔اس نے میرے پیٹ میں لاتیں ماریں ،مجھے چہرے پر مکے برسائے ،میری چھاتی ٹھوکریں رسید کیں اورآپ اسے سینے سے لپٹا کر پیار کرنے لگے ۔“
میں ہنسا ۔”اور تم نے اسے کچھ بھی نہیں کہا ۔“
”اگر مجھے پتا ہوتا کہ وہ تمھاری اتنی زیادہ لاڈلی اور پیاری ہے تو یقینا میں اس پر ہاتھ نہ اٹھاتی۔“
”ہونہہ!....“کرتے ہوئے میں نے پوچھا ۔”تو گویا تم چاہ رہی ہو میں اس کے پاس چلا جاﺅں ۔“
”ہاں ....ہاں ....ہاں،میں یہی چاہتی ہوں ۔“
”ٹھیک ہے ....میں کھڑا ہوتا ہوا بولا ۔میں بھی تم سے اجازت ہی لینے آیا تھا لیکن سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ بات کیسے شروع کروں ،شکریہ کہ تم نے خود ہی اجازت دے دی ....پچاس لاکھ کے قریب رقم میں یہیں چھوڑے جا رہا ہوں اور اتنی ہی رقم کل تک جینی بھی تمھیں بھجوا دے گی ....کوئی غلطی ہو تو معاف کرنا ۔“
”کک....کیا مطلب ؟“وہ جیسے تڑپ کر بستر سے اٹھی ۔”کک....کیا ....آپ سچ مچ ....“حیرت کی شدت سے پھیلی ہوئی آنکھیں اور زرد پڑتا رنگ دیکھ کرمجھے لگا اس کی حرکت قلب بند ہو جائے گی ۔
”خود ہی تو کہہ رہی ہو چلا جاﺅں ۔“
”میں اپنی جان لے لوں گی سمجھے آپ ۔“غصے سے چلاتے وہ مجھ سے لپٹ گئی ۔شدت جذبات سے اس کا بدن رعشے کے مریض کی طرح کانپ رہا تھا ۔
اپنے بازوﺅں میں بھر کر میں نے اس کا کومل بدن اٹھایا اور چارپائی پر لٹا کر اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا ۔
”میں نے دور جا کر مرنا ہے کیا۔“
میرے ہاتھوں کو پکڑ کر آنکھوں سے لگاتے ہوئے اس نے کراہتے ہوئے کہا ۔”راجو ! .... آئندہ ایسا مذاق میں بھی نہ کہنا ....“
”میں نے کب کہا ،خود ہی تو مجھے بار بار دفع ہو جانے کا کہہ رہی تھیں ۔“
”میں غصے میں تھی ....آپ منا بھی تو سکتے تھے ۔“
”منا تو رہا تھا تم نزدیک ہی نہیں آنے دے رہی تھیں ۔“
”آپ نے اسے اتنی اہمیت کیوں دی؟“اس نے پرانا شکوہ نئے الفاظ میں دہرایا۔
”کیونکہ وہ مجھ سے محبت کرتی ہے چندا !....اور یہ کوئی ایسا جرم نہیں کہ میں اسے سزا دوں ۔ باقی میرے لیے جو اہم ہے میں اسی کے پاس ہوں ۔نہ تو مجھے ماہین کی ضرورت ہے نہ مجھے رومانہ چاہیے اور نہ کوئی دوسری تیسری ۔میرے لیے میراچاند،میری پلوشے ،میری گڑیا کافی ہے ۔“
وہ سسکی ۔”کبھی دور تو نہیں جاﺅ گے ۔“
میں عزم سے بولا ۔”اپنی زندگی میں تو نہیں جاﺅں گا ۔“
”اللہ پاک نہ کرے کہ میرے راجو کو کچھ ہو ۔“سارے گلے شکوے پس پشت ڈال کر اس نے مجھے ریشمی بانہوں کا ہار پہنا یا اور میرے پیاسے ہونٹوں کو سیراب کرنے لگی ۔
٭٭٭
صبح کی آذان ہوتے ہی میں نے پلوشہ کو تیار ہونے کا کہا ۔
”کہاں جانا ہے ۔“اس نے حیرانی سے پوچھا ۔
”یہ جگہ صنوبر خان کے آدمیوں کی نظر میں آ گئی ہے ۔چچا نصراللہ کو کہہ کر کسی دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں ۔“
اس نے منھ بناتے ہوئے کہا ۔”اگر اس لفنگی میجر کو قتل کر دیتے تو یقینا کسی کو اس جگہ کے بارے معلوم نہ ہوتا ۔“
”اس جگہ کے بارے جینی کو صنوبر خان سے پتا چلا ہے ،پھر تم یہ کیسے کہہ سکتی ہو کہ اس کی موت کے بعد ہم محفوظ ہو جاتے۔“
وہ دوٹوک لہجے میں بولی ۔”میں آپ کو بتا رہی ہوں اس کے بعد وہ جب بھی میرے سامنے آئی بچے گی نہیں ۔“
میں نے مزاحیہ اندازمیں کہا۔”یہی بات جاتے ہوئے وہ بھی کہہ کر گئی ہے ۔“
”چلیں ،اس طرح آپ کی جان تو چھوٹ جائے گی نا ۔“
”مذاق کر رہا ہوں ،سچ تو یہ ہے کہ اس نے کہا ہے میری طرف سے پلوشہ کو بہت سارا پیار کرنا۔“
وہ تیکھے لہجے میں بولی ۔”یہ نہ ہو میں سمجھنے لگوں کہ آپ اس کے کہنے پر مجھے اتنی توجہ دے رہے ہیں اور آپ کو قریب ہی نہ آنے دوں ۔“
”تمھاری تو کوئی کل ہی سیدھی نہیں ہے ....اب اٹھ جاﺅ دیر ہو رہی ہے ۔“میں پاﺅں میں بوٹ ڈالنے لگا ۔
شرارتی انداز میں ہنستے ہوئے وہ بھی تیار ہونے لگی ۔تھوڑی دیر بعد ہم کمانڈر نصراللہ کے دروازے پر دستک دے رہے تھے ۔اس نے دروازہ کھولنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔وہ وضو کر کے مسجد جارہا تھا ۔
”ارے آپ ،اتنی صبح ۔“وہ ہمیں دیکھ کر حیران رہ گیا تھا ۔
”ہاں چچا جان !....ایک مسئلہ ہو گیا ہے ........“میں اجمالاََ اسے رات کو ہونے والے واقعے کے بارے بتانے لگا ۔
”اوہ ....یہ تو بہت برا ہوا ۔خیر چلو میں تمھیں اپنے دوست کی بیٹھک میں چھوڑ آتا ہوں ۔“
”دوست کے بہ جائے اگر کسی ایسے آدمی کے پاس ٹھکانہ مل جائے جس سے آپ کا تعلق لوگوں کو معلوم نہ ہو تو یہ زیادہ بہتر ہو گا۔“
کمانڈر چچا نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔”اس کی اور میری دوستی ایسی ہی ہے فکر نہ کرو ۔“
اور ہم سر ہلاتے ہوئے ان کی معیت میں چل پڑے ۔ان کا دوست امام مسجد تھا ۔اس کا گھر مغرب کی طرف سے مسجد کے کے ساتھ متصل تھا ۔اور گھر کے ساتھ ہی چھوٹی سی بیٹھک تھی جس کا صحن نہایت ہی مختصر سا تھا ۔اورایک چھوٹا سا کمرہ جس میں دو چارپائیوں کی گنجائش تھی ۔لیکن ایک فائدہ یہ تھا کہ بیٹھک میں ایک کھڑکی گھر کی طرف بھی کھلتی تھی جس کی وجہ سے پہلے کی طرح کسی کو وہاں ہمارے چھپنے کا شبہ نہیں ہو سکتا تھا ۔کیونکہ ہمیں اسی کھڑکی سے کھانے پینے کا سامان وصول ہو جانا تھا ۔
امام مسجد اور کمانڈر چچا ہمیں بیٹھک میں چھوڑ کر نماز کو چلے گئے ۔ہم دونوں بھی وضو کر کے بیٹھک ہی میں نماز پڑھنے لگے ۔
تھوڑی دیر بعد امام مسجد ہمارے لیے ناشتا لے آیا ۔اس کا نام مولانا عبدالقدوس تھا ۔چچا نصراللہ ہی کے ہم عمر تھے ۔اور جوانی میں مجاہدین کے ساتھ جہاد میں حصہ لے چکے تھے ۔نہ جانے کمانڈر نصراللہ نے اسے ہمارے بارے کچھ بتایا تھا یا نہیں لیکن ازخود اس نے ہم سے کچھ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
ناشتا کر کے ہم نے بیٹھک کا دروازہ کنڈی کیا اور سونے کے لیے لیٹ گئے ساری رات جاگتے ہوئے گزر گئی تھی ۔
٭٭٭
اسی رات میں اور پلوشہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کر رہے تھے ۔اپنے واپس جانے کی بات پر تو وہ ہتھے ہی سے اکھڑ گئی تھی ۔
”میں آپ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی راجو !....اس بات پر خفا ہونا ہے تو ہزار بار ہو جائیں ،مناﺅں گی بھی نہیں ۔“
”چندا !....معلوم ہے تمھاری موجودی میں میرا دل ہر وقت لرزتا رہتا ہے ۔“
” معلوم ہے ،مجھے واپس بھیج کر آپ نے اپنی جینی کے ساتھ گل چھرے اڑانے ہوں گے ۔“
میں نے خفگی سے پوچھا ۔”اب شک کرنا بھی شروع کر دیا ۔“
وہ بے پروائی سے بولی ۔”پہلے دن سے کرتی تھی ۔“
اس کے انداز پر مجھے ہنسی آ گئی تھی ۔اس کے ہونٹوں پر بھی خوب صورت تبسم کھلنے لگا ۔
”پلوشے !....مار کھاﺅ گی ۔“
اس نے دوٹوک انداز میں کہا ۔”مار کھا لوں گی ....چھوڑ کر نہیں جا سکتی ۔“
”اچھا تمھارا ارادہ کیا ہے ؟“
”آپ کی حفاظت کرنا ۔“
”مرد میں ہوں کہ تم ۔“
”میں ....اور آپ ہیں پنجابن کڑی ۔“اس نے مزاحیہ انداز میں کہا اور پھر کھل کھلا کر ہنستی چلی گئی ۔اس کی خوب صورت ہنسی ایسی نہیں تھی کہ میرے دماغ میں لڑائی بھڑائی کے منصوبے پل سکتے ۔ اس پرکشش اور دل کے تاروں کو چھیڑنے والی ہنسی کو سن کر ایک ہی کام سوجھ سکتا تھا اور وہی میں کرنے لگا۔
بادل زور سے گرجا اور چھت پر ٹپ ٹپ پڑنے والے قطروں نے کمرے کی رومانوی فضا کو چار چاند لگا دیے ۔وزیرستان میں گرمی کے موسم میں بھی رات کو اچھی خاصی سردی ہوتی ہے ۔خاص کر پہاڑیوں کے اوپر تو تیز چلنے والی ہوا موسم کو گرم ہونے ہی نہیں دیتی اور ستمبر اکتوبر میں ایک بار پھر سردی ڈیرے ڈالنے لگتی ہے۔اب اکتوبر کی شروعات تھی ، سردی آہستہ آہستہ بڑھتی جا رہی تھی ۔اور ایسی سردیوں میں محبوب کی کمی کچھ زیادہ ہی محسوس ہونے لگتی ہے۔جبکہ میرے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ نہیں تھا ،کہ میری زندگی کا پیاراساتھی میرے ساتھ ہی تھا ۔اسے دور بھیج کر یقینا میں خوش نہ رہ پاتا ۔
بہت ساری دیر گزر گئی اور پھر اس کی مدھر آواز نے میرے کانوں میں سر بکھیرے ۔”راجو ! اگر میں چلی گئی تو خوش رہ پائیں گے ۔“
”نہیں ....“میرے منھ سے سچ ہی نکلا تھا ۔
”اسی لیے نہیں جاتی جانو !....کیا معلوم زندگی کب ساتھ چھوڑ جائے ،میں چاہتی ہوں مرتے وقت آپ کی بانہوں کا سہارا میسر ہو ۔یقین مانو میں کبھی کسی بات سے نہیں ڈری ....مگر آپ سے دور رہ کر جو کچھ مجھ پر بیتی ہے اب میں آپ سے دور ی کا تصور کرکے ہی لرزنے لگتی ہوں ۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”یہ حالت تو میری بھی ہوتی ہے چندا !“
”پھر دور بھیجنے کی بات کیوںکرتے ہیں ....اور فکر نہ کیا کریں میں نرم و نازک اور موم کی بنی ہوئی گڑیا صرف آپ کے لیے ہوں ۔ورنہ دیکھ لینا دشمن کے لیے میں لوہے کا چنا ثابت ہوں گی ۔“
اور یہ بات تو میں بھی اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ کسی تربیت یافتہ کمانڈو سے کم نہیں تھی ۔ امریکن سی آئی اے کی تربیت یافتہ میجر جینیفر ہنڈسلے جیسی خطرناک لڑاکا کو برابر کی ٹکر دینے والی کوئی عام لڑکی نہیں ہو سکتی تھی ۔لیکن اس کے باوجود میں اسے اپنے ساتھ پھرا کر غیر مطمئن تھا ۔وہ میری عزت تھی کسی بھی مشکل جگہ پر اس کی وجہ سے میری پریشان کئی گنا بڑھ جاتی ۔وہ دشمن کا تشدد تو برادشت کر لیتی مگر ایک عورت پر قابو پانے کے بعد وہ ننگ انسانیت اس کے ساتھ کیا کیا سلوک کر سکتے تھے اس کو سمجھنے کے لیے کسی عقل بینا کی ضرورت نہیں تھی ۔اور اگر پلوشہ کے ساتھ کوئی ایسا حادثہ پیش آجاتا تو شاید میں خود کو کبھی معاف نہ کر پاتا ۔ان سب سوچوں کے باوجود میں نے اسے خوش کرنے کی خاطر کہا ۔
”اچھا پھر ایسا کچھ نہیں کہوں گا ....اب خوش ۔“
وہ منھ بناتے ہوئے بولی ۔”کہہ دیں ....میں نے کون سا ماننا ہے کہ آپ کے کہنے کی فکر کروں ۔“
میں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔”اچھا سوتے ہیں ....“اور میرے مشورے کی تائید میں اس نے آنکھیں بند کر لیں ۔
جاری ہے

No comments: