رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر 55 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode
Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
مصنف
محمد طارق خان
رادھا
قسط۔ 55 آخری
مصنف طارق خان
۔
’’یدی میں چاہتا تو ایک پل میں ان سب کو نرکھ میں پہنچا دیتا۔ پرنتو میں ان پاپیوں کا بلیدان کالی ماتا کے چرنوں میں کروں گا۔ اسی کارن یہ دھشٹ جیوت ہیں۔ سن۔۔۔یدی اب بھی تو اپنے وچار بدل کر دھرم کو اپنا لے تو میں وچن دیتا ہوں تیرے واسطے دیوتاؤں کے آگے بنتی کرکے شما مانگ لوں گا‘‘ اس بار وہ نرم لہجے میں رادھا سے بولا۔
’’جیون لینا اور دینا اوپر والے کا کام ہے، یدی تو چاہے تو ایک چیٹی کو بھی اس کی آگیا کے بنا کچھ نہیں کہہ سکتا۔ میں مرتیو سویکار کر لوں گی پرنتو دھرم جو میں ے چن لیا ہے اس پر سے نہ ہٹوں گی۔ تجھے جو کرنا ہے کر لے‘‘ رادھا نے بڑے مضبوط لہجے میں کہا۔ وشنو داس انکار سن کر مشتعل ہوگیا۔
’’پاپن! کیا تو نے نہیں دیکھا میں نے ان بھاشن(تقریر) دینے والوں کی کیا دشا بنا دی؟‘‘ اس نے ملنگ اور عبدالودودکی طرف اشارہ کیا۔ جن کے چہرے کرب و اذیت سے مسخ ہو چکے تھے۔ شدید تکلیف کے باوجود صبر و ضبط ایک مثال تھا۔ وشنو داس پر ایک نظر مجھ پر ڈال کر رادھا کی طرف مڑا۔
’’اب تیرے اس پریمی کی باری ہے جس کے کارن تو نے اپنا دھرم نشٹ کر دیا۔‘‘ اس نے اپنے ہاتھ کا رخ میری طرف کر دیا۔
’وشنو داس! جس نے جیون دان کیا ہے یدی اس کے نام پر ایسے ہجاروں جیوان بلیدان کرنا پڑیں تو میں نا نہیں کہوں گی‘‘ اس کی با سن کر وشنو داس کو پتنگے لڑ گئے۔
’’پان! اب تو دیا کہ بھکشا بھی مانگ گی تو نہ ملے گی‘‘ اس نے اپنے ہاتھ کا رخ میری طرف موڑا۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ لیکن رادھا کی بات سن کر میرا سینہ فخر سے پھول گیا۔ واقعی پاک اللہ کے لئے ایک زندگی تو کیا ہزاروں زندگیاں قربان کی جا سکتی ہیں بلکہ ہم مسلمان تو اسے سعادت سمجھتے ہیں کہ جان ، جان آفرین کے نام پر قربان ہو جائے۔ وشنو داس مجھے غور سے دیکھ رہا تھا۔ شاید وہ توقع کر رہا تھا کہ میں اسے معافی مانگوں گا۔
’’وشنو داس! تیرے جیسے شیطان سے معافی مانگ کر میں اپنا ایمان خراب کرنا نہیں چاہتا۔ مجھے یقین ہے اگر اللہ تعالیٰ نے ہم سب کی موت تیرے ہاتھوں لکھی ہے تو کوئی ہمیں بچا نہیں سکتا۔۔۔اگر اسے ہمیں بچانا مقصود ہوگا تو تو کیا دنیا کی کوئی طاقت ہمیں نہیں مار سکتی‘‘ میرا عزم دیکھ کر وہ بھڑک گیا۔ کچھ دیر وہ غضبناک نگاہوں سے مجھے دیکھتا رہا۔
پھربری طرح چونک اٹھا۔ وہ سکتے کے عالم میں میرے پیچھے دیکھ رہا تھا۔ اس کا ہاتھ اٹھا کا اٹھارہ گیا۔ اچانک اس کے چہرے پر شکست خوردگی کے آثار چھا گئے۔ چہرے سے الجھن کا اظہار ہو رہا تھا جیسے اسے کوئی فیصلہ کرنے میں دشواری ہو۔ میں نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا اور اپنے پیچھے کھڑی شخصیت کو دیکھ کر میں ششدر رہ گیا۔ میرے پیچھے حضرت صاحب کھڑے تھے۔ وہی حضرت صاحب جو محمد شریف کی درخواست پر میرے گھر کا حصار کرنے تشریف لائے تھے وہ قوم جنات میں ولی کامل تھے۔ ان کا پر جلال چہرہ غیض و غضب کا نمونہ بنا ہوا تھا۔ محمد شریف نے بھی حضرت صاحب کو دیکھ لیا تھا۔ خوشی سے اس کا چہرہ چمکنے لگا۔ وشنو داس کچھ دیر حضرت صاحب کو دیکھتا رہا۔
’کیا تو بھی ان کی سہائتا کرنے آیا ہے؟‘‘ اس کے چہرے پر سنجیدگی چھا گئی تھی۔ حضرت صاحب نے اسے کوئی جواب دینے کے بجائے ایک نظر ملنگ اور عبدالودود پر ڈالی اس کے ساتھ ہی وہ بندشوں سے آزاد ہوگئے۔ حضرت صاحب کی ایک نگاہ ان پر پڑی تھی۔ مجھے یاد آیا میں نے کہیں پڑھا تھا۔
’’مومن کی نگاہ سے ڈرو وہ اللہ کی عطا کی ہوئی فراست سے دیکھتا ہے‘‘ حضرت صاحب کی نگاہ میں وہ تاثیر تھی جس نے وشنو داس کی بندشوں کو کاٹ دیا تھا۔ اللہ والے عبادت و ریاضت اور اللہ کی رحمت سے وہ مقام حاصل کر لیتے ہیں جسے شیطان کے پیروکار سمجھ نہیں پاتے۔ وشنو داس کے پیچھے کھڑے پجاریوں میں کھلبلی مچ گئی۔ وہ بے چین دکھائی دینے لگے۔ بندشوں سے آزاد ہوتے ہی ملنگ اور عبدالودود کھڑے ہوگئے۔ عبدالودود کے چہرے پر شرمندگی تھی۔
’’مرشد ! معافی کا خوستگار ہوں بے خبری میں مار کھا گیا۔ ‘‘ اس کی نظریں جھک گئیں۔ حضرت صاحب نے شفقت سے اسے دیکھا۔ ان کا نورانی چہرہ مسکراہٹ سے مزید روشن ہوگیا۔ اس کے بعد انہوں نے رادھا کی طرف دیکھا جو نظریں جھکائے کھڑی تھی۔
’’میری بچی ! ادھر آؤ‘‘ انہوں نے اسے اپنے پاس بلایا۔ رادھا سارھی کا پلو سر پر درست کرتی ان کے قریب چلی گئی۔ انہوں نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
’تم نجات پا گئیں جس کے لئے میں تمہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ برائی کے راستے کو چھوڑ کر تم سچے دین پر آگئی ہو یہی راہ نجات ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارے درجات بلند کرے‘‘ بے اختیار سب کے منہ سے نکلا’’آمین‘‘ اس کے بعد حضرت صاحب وشنو داس کی طرف متوجہ ہوئے۔
’’میں تمہیں بھی اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ ان سب کھیل تماشوں میں کچھ نہیں رکھا۔ دنیا چند روزہ کھیل تماشہ ہے۔ شیطان ہم سب کا کھلا دشمن ہے۔ اس کا کام بہکانہ ہے جس کا اس نے رب کائنات سے وعدہ کیا ہے۔ جو کوئی دنیا میں شیطان کے بتائے ہوئے راستے پر چلتا ہے جہنم میں بھی اس کا ساتھی بنے گا۔ تم نے علم حاصل کیا لیکن اس پر عمل نہ کیا۔ مذہب کوئی بھی ہو وہ انسانیت کا درس دیتا ہے لیکن تم نے اس کے برخلاف عمل کرے اپنی ساری ریاضت کو مٹی میں ملا دیا۔ میں ایک بار پھر تمہیں سمجھاتا ہوں کہ شیطان کی اطاعت سے باز آکر راہ راست پر چلو۔‘‘ بڑے ہی شفیق لہجے میں حضرت صاحب نے اسے سمجھایا۔’بند کر اپنا یہ ناٹک‘‘ وشنو داس دھڑا۔
’’ان بالکوں کو تو اس نوٹنکی سے اپنے بس میں کر سکتا ہے پرنتو اس سمے تو وشنو داس مہاراج کے سامنے کھڑا جس نے ورشوں کالی ماتا اور دیوی دیوتاؤں کی تپسیا میں سمے بتایا ہے۔ تو نہیں جانتا میری شکتی اپرم پار(بے پناہ) ہے‘‘ وہ حقارت سے بولا
’’یہی تو میں تمہیں سمجھا رہا ہوں کہ جو وقت تم نے اپنے مذہب کی تعلیمات حاصل کرنے میں گزارا ہے۔ اس کے مطابق انسانوں کے لئے باعث سکون بنو نہ کہ ان کو ایذا دو‘‘ حضرت صاحب کی مہربان آواز آئی۔
’’جیادہ جیب نہ چلا۔ میں تجھے اوسر (موقع) دیتا ہوں کہ تو اپنے من کے ارمان نکال لے کہیں ایسا نہ ہو بعد میں تجھے دکھ ہو۔۔۔وشنو داس مہاراج نے تجھے اوسر نہ دیا۔‘‘ وہ مسلسل تکبر اور غرور کا مظاہرہ کر رہا تھا۔
’’میں فقط یہ چاہتا ہوں کہ تم ان بے قصور انسانوں کو یہاں سے جانے دو انہوں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟‘‘ حضرت صاحب نے تحمل کا مظاہرہ کیا۔
’’ان پاپیوں کو جانے دوں، اس پاپن کو بھی جانے دوں۔۔۔؟‘‘ اس نے رادھا کی طرف اشارہ کیا۔
’جس نے ہمرادھرم نشٹ کر دیا۔‘‘ وشنو داس پیچ و تاب کھا کر بولا۔
’’میں ان کو ساتھ لے جانے کے لیے آیا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ ایک ذی علم شخص کو میرے ہاتھوں نقصان پہنچے۔ یوں بھی ہمارے مذہب میں بے وجہ لڑائی جھگڑے اور زمین پر فساد پھیلانے سے منع کیا گیا ہے۔‘‘ حضرت صاحب ابھی تک اسے سمجھا رہے تھے۔ وشنو داس کی بد تمیزی کو انہوں نے بڑے صبر سے برداشت کیا تھا۔
’جس نے ہمرادھرم نشٹ کر دیا۔‘‘ وشنو داس پیچ و تاب کھا کر بولا۔
’’میں ان کو ساتھ لے جانے کے لیے آیا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ ایک ذی علم شخص کو میرے ہاتھوں نقصان پہنچے۔ یوں بھی ہمارے مذہب میں بے وجہ لڑائی جھگڑے اور زمین پر فساد پھیلانے سے منع کیا گیا ہے۔‘‘ حضرت صاحب ابھی تک اسے سمجھا رہے تھے۔ وشنو داس کی بد تمیزی کو انہوں نے بڑے صبر سے برداشت کیا تھا۔
’’پرنتو ہمرے دھرم میں ایسا کرنے کی آگیا دی گئی ہے‘‘ وشنوداس نے تمسخر سے کہا۔
’’یدی تو ڈر گیا ہے تو میں تجھے آگیا دیتا ہوں کہ یہاں سے چلا جا۔ پرنتو جانے سے پہلے میرے چرن چھو کر مجھے مہا شکتی مان سویکار کر‘‘وہ غرور و تکبر کا پتلا مسلسل ہر زہ سرائی کر رہا تھا۔
’’میں تمہارے قدموں کو ہاتھ لگانے پر بھی تیار ہوں اگر تم اللہ کاپیغام سن کر اس پر غور کرنے کا وعدہ کرو۔‘‘ یہ برداشت کی انتہا تھی۔ عجز کی انتہا تھی خود کی نفی کرکے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے عاجزی اختیار کرنا کوئی ولی کامل ہی ایسے ضبط کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔
’’جان پڑتا ہے تو کچھ لے کر ہی جائے گا‘‘ وشنو داس دانت پیس کر بولا۔ ساتھ ہی اس کے ہونٹ متحرک ہوگئے۔ حضرت صاحب اطمینان سے کھڑے رہے۔ وشنو داس نے اپنا ہاتھ بلند کیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک سانپ آگیا۔ کالا سیاہ سانپ جس کے منہ سے شعلے نکل رہے تھے۔ اس کی شکل اتنی خوفناک تھی کہ دل دہل جائیں۔ معنی خیز نظروں سے گھورتے ہوئے اس نے وہ سانپ حضرت صاحب کی طرف اچھال دیا۔ سانپ تیر کی طرف ان کی طرف بڑھا۔ اچانک حضرت صاحب کی آنکھوں سے بجلی کوندی اور سانپ جل کر راکھ ہوگیا۔ جلال سے ان کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔ انہوں نے ایک قہر بار نگاہ وشنو داس پر ڈالی۔
’’میرے بچو! چلو چلیں‘‘ وہ باہر جانے والے راستے کی طرف مڑے۔
’’کیا تو نے مجھے مورکھ سمجھ رکھا۔۔۔میں تجھے جانے کی آگیا دے دوں گا؟‘‘ وشنو داس پہلو بدل کر بولا۔ اس کے بعد اس نے مختلف شعبدے دکھانے شروع کر دیے۔ کچھ دیر تو حضرت صاحب برداشت کرتے رہے۔ اس کے بعد انہوں نے آخری بار اسے سمجھایا لیکن اس پر مطلق اثر نہ ہوا۔ حضرت صاحب نے ایک بار پھر باہر کی جانب قدم بڑھائے۔ وشنو داس اپنے وار خالی جاتے دیکھ کر پاگل ہوگیا۔ اس نے کسی اجنبی زبان میں فلک شگاف نعرہ لگایا اور اپنے گندے جسم سے میل کی ایک تہہ اتار کر ان کی طرف اچھال دی۔ حضرت صاحب جو دروازے کی طرف رخ کیے کھڑے تھے یکدم مڑے۔۔۔ان کی نگاہ اتھی۔۔۔ایک عجیب نظارہ دیکھنے کو ملا۔ ان کی آنکھوں سے برق نکلی جیسے آسمانی بجلی زمین پر گرتی ہے۔ وشنو داس ایک دلدوز چیخ کے ساتھ زمین پر گر گیا۔ اس کے سارے جسم نے آگ پکڑ لی تھی۔ وہ زمین پر پڑا بری طرح ڈکرارہا تھا۔ آگ نے آنا فاناً اسے راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا۔ اپنے گرو کی یہ حالت دیکھ کر سب پجاری تھرتھرا اٹھے اچانک وہ زمین پر گر گئے۔
’گرو جی! ہمیں شما کر دو۔۔۔دیا کرو ہم پر۔۔۔تم بلوان ہو۔۔۔تمری شکتی اپرم پار(تمہاری طاقت بے پناہ ) ہے۔۔۔ہمیں شما کر دو۔۔۔ہم وچن دیتے ہیں کہ پھر کبھی تمری راہ میں نہ آئیں گے‘‘ وہ یک زبان ہو کر چیخ رہے تھے اور اپنے ماتھے زمین پر رگڑ رہے تھے۔
’’اٹھ کر کھڑے ہو جاؤ‘‘ حضرت صاحب نے مہربان آواز میں انہیں حکم دیا۔
’’وہ تھرتھر کانپتے کھڑے ہوگئے۔ خوف سے ان کے چہرے پیلے پڑ چکے تھے۔ ہاتھ جوڑے وہ حضرت صاحب کے اگلے حکم کے منتظر تھے۔
’’اگر جھکنا ہے تو ایک اللہ وحدہ لاشریک کے آگے جھکو۔ وہی سب کائنات کا ملک ہے۔ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے ۔ میرا کام تم لوگوں کو اللہ کا پیغام دینا تھا سو میں نے دے دیا۔ میرا تعلق قوم جنات سے ہے۔ ہمیں بعض کاموں میں انسانوں پر فضیلت دی گئی ہے۔ لیکن انسان کو تو اللہ پاک نے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ ہماری قوم انسان پر رشک کرتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنا نائب بنا کر زمین کی خلافت عطا فرمائی ہے۔ لیکن مجھے تم لوگوں کے سلوک پر افسوس ہوا ہے کہ تم انسان ہو کر انسانوں کو ناحق قتل کر رہے ہو اور زمین پر دنگا فساد پھیلاتے ہو۔‘‘ حضرت صاحب نے تاسف سے سر ہلایا۔
’’جاؤ اپنے مقام پر واپس چلے جاؤ اور عہد کرو کہ آج سے تم انسان کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرو گے نہ کہ اسے ستانے کے لیے۔‘‘
ایک بار پھر گھپ اندھیرا چھا گیا لیکن صرف ایک پل کے لئے۔ دوسرے ہی لمحے کمرہ پھر روشن ہوگیا۔ پجاری جاچکے تھے۔ وشنو داس اور کالی داس کی راکھ بھی موجود نہ تھی۔ شاید پجاری اسے ساتھ لے گئے تھے۔ حضرت صاحب نے کچھ دیر کے لئے آنکھیں بند کرلیں۔ سب سر جھکائے خاموش کھڑے تھے۔ میں چاہتا تھا کہ حضرت صاحب کی توجہ صائمہ کی طرف دلاؤں وہ ابھی تک بے ہوش تھی۔ انہوں نے مشفقانہ نگاہ مجھ پر ڈالی۔
’ادھر آؤ میرے بچے!‘‘ انہوں نے مجھے بلایا۔ میں ایسے ان کی طرف کھینچتا چلا گیا جیسے لوہا مقناطیس کی طرف۔ انہوں نے میرے دونوں ہاتھ تھام لیا۔
’’تم بھی مبارک باد کے مستحق ہو۔ تم گناہوں کی دلدل میں دھنس چکے تھے لیکن تمہاری نیک بیوی نے تمہارے ضمیر کو جھنجھوڑا تم شرمسار ہوئے اور گناہ کا راستہ چھوڑ کر اس معبود برحق کے آگے سر بسجود ہوگئے اور اس پر قائم رہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری یہ بچی تم سے متاثرہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ہدایت سے نوازا اور یہ مسلمان ہوگئی۔ تم کافی مشقفت اور مصیبت اٹھا چکے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔ وہ اس بندے کے گناہ معاف فرما دیتا ہے جو سچے دل سے توبہ کر لے اور اس پر قائم رہے۔ تم نے جو راستہ اختیار کیا تھا وہ سیدھا جہنم کو جاتاتھا لیکن اس رحمن الرحیم کی مہربانی دیکھو اس نے تمہاری دل سے کی ہوئی توبہ نہ صرف قبول فرمائی بلکہ تمہیں انعام کے طور پر سعادت بھی عطا فرمائی کہ تم ایک کافرہ کے قبول اسلام کی سعادت کے لئے چن لئے گئے۔‘‘حضرت صاحب کی گھمبیر آواز گونج رہی تھی۔ میری ہچکیاں بندھ گئیں۔ اپنے گناہوں پر شرمندگی کے احساس نے مجھے سر جھکانے پر مجبور کر دیا۔’’ میرے بچے! یاد رکھنا اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاکی کو پسند فرماتا ہے۔ کوشش کرو کہ تم کبھی نماز سے غافل نہ رہو۔ وضو اور نماز ، شیطان کے خلاف ڈھال کا کام دیتے ہیں۔ ہمیشہ باوضو رہنے والے پر اس معلون ابلیس کا داؤ نہیں چلتا‘‘ میرا ہاتھ اپنے نرم و نازک پاکیزہ ہاتھوں میں تھامے وہ درس دے رہے تھے۔ ان کا ایک ایک لفظ میرے دل میں اتر رہا تھا۔
’’میرے پاس آؤ میرے بچے!‘‘ انہوں نے عبدالودود کو اپنے پاس بلایا۔ اس کے بعد وہ رادھا کی طرف متوجہ ہوئے جس کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں۔
’’میری بچی! میں چاہتا ہوں تمہارا نکاح عبدالودود سے کر دوں اگر تمہیں اعتراض نہ ہو؟‘‘ سب حیران رہ گئے۔ رادھا بری طرح شرما گئی۔ اب سے کچھ عرصہ قبل وہ بڑی بے باکی سے باتیں کرتی تھیں، بعض مرتبہ میں بھی شرما جاتا لیکن اسلام کو قبول کرتے ہی اس اس کے اندر حیا خود بخود آگئی تھی۔
رادھا نے زبان سے تو کچھ نہ کہا البتہ سر ہلا کر اس کی منظوری دے دی اور ساڑھی کے پلو کو کچھ اور آگے کھینچ کر اپنا چہرہ چھپا لیا۔
’مشورہ کرنا سنت نبوی ﷺ ہے۔ چونکہ عبدالودود مجھے یہ حق تفویض کر چکا ہے کہ میں جہاں چاہوں اس کا نکاح کر سکتا ہوں اس لئے میں نے اپنے بچے سے نہ پوچھا۔ لیکن آپ ہمارے بھائی ہیں۔۔۔یہ سعادت انجام دینے سے پہلے میں آپ بھائیوں سے مشاورت کرنا ضروری سمجھا ہوں۔ کیوں برخودار؟‘‘ انہوں نے محمد شریف کی طرف دیکھا۔
’’مرشد! اللہ آپ کے درجات بلند کرے اس نیک کام میں دیر کرنا مناسب نہیں۔ میں آپ سے متفق ہوں‘‘ وہ نہایت ادب سے بولا۔ حضرت صاحب نے ابھی تک کمال مہربانی سے میرا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔
’’برخوردار فاروق احمد! آپ کا کیا مشورہ ہے؟‘‘ انہوں نے مسکرا کر میری طرف دیکھا۔
’’حضرت صاحب! آپ ذی علم ہیں۔ میں نا چیز آپ کے اس حکم سے اتفاق کرتا ہوں‘‘ میں نے ادب سے کہا۔
’الحمد للہ‘‘ انہوں نے چھت کی طرف نگاہ دوڑائی۔ میں چاہتا تھا کہ حضرت صاحب کی توجہ صائمہ کی طرف دلاؤں۔میں نے بیڈ کی طرف دیکھا تو میرا دل دھک رہ گیا۔ بیڈ پر دھند سی چھائی ہوئی تھی۔ کچھ نظر نہ آرہا تھا جبکہ کچھ دیر قبل صائمہ باریک پردوں کے پیچھے صاف دکھائی دے رہی تھی۔ میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ جلدی سے بیڈ کی طرف بڑھا۔
’برخوردار!‘‘ حضرت صاحب کی آواز آئی۔ میں نے مڑ کر ان کی طرف دیکھا۔
’’فکر نہ کرو ہم نے صائمہ بٹیا کو سب کی نگاہوں سے وقتی طور پر اوجھل کرنے کے لیے یہ سب کیا ہے۔ یہاں آپ کے علاوہ کچھ نامحرم بھی موجود ہیں۔ اور بٹیا کالباس جوان کافروں نے انہیں زیب تن کروایا تھا نامناسب ہے اس لئے ہمیں اس پردے کا بندوبست کرنا پڑا‘‘ وہ میری پریشانی بھانپ چکے تھے اطمینان بھری ایک سانس میرے سینے سے خارج ہوگئی۔ حضرت صاحب کے تقویٰ سے میرا دل بہت متاثر ہوا۔ ’’بیٹی! اگر تمہیں منظور ہو تو اہم تمہارا اسلامی نام تجویز کرنا چاہتے ہیں؟‘‘ انہوں نے رادھا سے کہا۔
’اب تو آپ ہی ہمرے بڑے ہیں جو آپ کوبھلا دکھے ہم سے پوچھے بنا آگیا دیں ہم منع نہیں کریں گے‘‘ رادھا نے نہایت ادب سے جواب دیا۔
’’اللہ تعالیٰ تمہیں شاد آباد رکھے آمین‘‘ انہوں نے رادھا کے تابعداری سے خوش ہوکر اسے دعا دی۔ ہمارا خیال ہے ان کا نام عابدہ ہونا چاہئے۔‘‘ سب نے ان کی با کی تائید کی۔
’’عابدہ بیٹی! آپ جا کر صائمہ بیٹا کا لباس تبدیل کر دیں۔ الحمد اللہ وہ ہوش میں آچکی ہیں۔ لباس ان کے پاس رکھا مل جائے گا۔‘‘ انہوں نے عابدہ کو حکم دیا۔
’’جو آگیا مہاراج مم۔۔۔حجرت جی‘‘ اس کے اس طرح کہنے سے سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی لیکن پاس ادب سے خاموش رہے۔ رادھا بیڈ کے پاس جا کر دھند میں غائب ہوگئی۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ صائمہ کے ہوش میں آنے کی خبر سن کر میری آنکھیں خوشی کے آنسوؤں سے لبریز ہوگئیں۔ اور دل بے اختیار اللہ کا شکر اا کرنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد دھند چھٹنی شروع ہوگئی۔
بیڈ کے پاس ہی صائمہ اور عابدہ کھڑی تھی۔ صائمہ نے نہایت قرینے کا لباس زیب تن کر رکھا تھا۔ محمد شریف اور عبدالودود نے نظریں جھکا لیں۔ صائمہ کو بھلا چنگا دیکھ کر میں نے سکون کی سانس لی۔
’’حضرت صاحب! میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں‘‘ میں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
’میری بچی! ادھر آؤ۔ انہوں نے صائمہ اور عابدہ کو بلایا۔ دونوں چلتی ہوئی ان کے پاس آگئیں۔ بڑی سی چادروں سے ان کے چہرے اور جسم اچھی طرح ڈھکے ہوئے تھے۔ حضرت صاحب نے صائمہ کے سر پر ہاتھ رکھا۔
’’جو بھی مصیبت یا تکلیف۔۔۔جن وانس کو آتی ہے اللہ کے اذن سے آتی ہے۔ جس سے اس ذات کریم کا مقصد اپنی مخلوق کے گناہ معاف فرمانا اور درجات کو بلند کرنا ہوتا ہے۔ تم نیک ماں باپ کی اولاد ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں شرم و حیا کے زیور سے آراستہ کیا ہے۔ جو کچھ ہوا اسے بھول کر اپنی زندگی اسلام کی تبلیغ میں صرف کرو۔ ہر دم اللہ کا شکر اداکرو۔ صرف عبادت کر لینا کوئی کمال نہیں۔ اگر اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ اور ان کے صحابہ بھی اپنی عبادت کرتے تو سوچو ہم لوگ آج کیا مسلمان ہوتے؟ انسان۔۔۔خاص کرامت محمد ﷺ پر لازم ہے کہ وہ اسلام کی تبلیغ کو اپنے روزہ مرہ کے کاموں کا حصہ بنا لے۔ اسی میں نجات ہے۔‘‘ سب سرجھکائے ان کی ایمان افروز باتیں سن رہے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے میری اور محمد شریف کی موجودگی میں عبدالودود اور عابدہ کا نکاح پڑھایا۔ ان کی خوش الحانی سے پڑھی گئی قرات مجھے آج بھی یاد ہے۔ گواہ ہم دونوں یعنی محمد شریف اور میں تھے۔ سب نے عبدالودود کو مبارک باد دی۔ حضرت صاحب نے مٹھائی تقسیم کی جو عبدالودود ایک لمحے میں لے آیا تھا۔ لیکن اس کے لئے رقم محمد شریف نے بہم پہنچائی کہ حضرت صاحب کا فرمان تھا بلا قیمت کسی سے چیز لے آنا جائز نہیں ہے بلکہ حرام ہے۔ صائمہ میرے ساتھ کھڑی تھی۔ دہ بار بار میری طرف دیکھ رہی تھی۔ میں اسکی بے چینی کی وجہ سے آگاہ تھا۔ وہ بچوں کے لئے فکر مند تھی۔ نکاح کے بعد حضرت صاحب نے دونوں کے حق میں دعا فرمائی اور انہیں قوم جنات کے دوسرے افراد کی تبلیغ کے لیے دوسرے پر بھیج دیا۔ ان کے جانے کے بعد حضرت صاحب نے ہمیں حکم دیا کہ اپنی آنکھیں بند کر لیں اور ان کی اجازت کے بغیر ہرگز نہ کھولیں۔ آنکھیں بند کرتے ہی مجھے اپناجسم ہلکا پھلکا محسوس ہوا۔ بعدمیں صائمہ اور محمد شریف نے میرے پوچھنے پر بتایا تھا کہ انہیں بھی ایسا ہی محسوس ہوا تھا۔
’میرے بچو! اانکھیں کھول دو۔‘‘ ان کہ مہربان آواز آئی۔ میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو ہم اپنی گاڑی کے پاس کھڑے تھے۔ آسمان پر صبح کی روشنی نمودار ہونے لگی تھی۔ صبح کاذب کا وقت تھا۔
بچو ! جاؤ اللہ تماہرا حامی ہو ناصر ہو۔ میری درخواست پر غور کرنا اور اپنی مصروفیات میں سے تھوڑا بہت وقت نکال کر اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کے لئے اسلام کی تبلیغ کرتے رہنا۔ حضرت صاحب کی آواز سنائی دی لیکن وہ نظروں سے اوجھل تھے۔’’یا حضرت! کیا وہ دوبارہ آپ کی صحبت سے شرف یابی ممکن ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’اگر اللہ کا حکم ہوا تو کیونکہ ہم سے اس کے حکم کے پابند ہے جس کے حکم کے بغیر پتا نہیں ہل سکتا۔ اچھا میرے بچو! اللہ حافظ‘‘ اس کے ساتھ ہی آواز آنا بند ہوگئی۔ ہم جس جگہ کھڑے تھے وہاں دور دور تک کسی متنفس کا وجود نہ تھا۔ صائمہ نے چادر کا پلو سر سے کھسکا کر پیار بھری نظروں سے میری طرف دیکھا۔ میں نے بے اختیار اسے اپنے بازؤں میں بھر لیا۔ وہ میرے شانے سے لگ کر سسکنے لگی۔ میری آنکھوں میں بھی پانی اتر آیا۔ کافی دیر ہم یوں ہی کھڑے رہے۔ اس کے بعد میں نے اس کا کندھا تھپتھپایا۔
’’حوصلہ کرو میری جان دیکھو اللہ پاک کے کرم سے ہم ایک بار پھر اپنی کھوئی ہوئی جنت میں واپس جا رہے ہیں‘‘ میں نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے اسے تسلی دی۔ جب ہم واپس عمران کے گھر پہنچے تو صبح کی نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ نازش نے صائمہ کو لپٹا لیا۔ عمران میرے گلے لگ گیا۔ اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ عمران اور میں مسجد میں نماز ادا کرنے چلے گئے۔ نازش چائے بنا لائیں۔ ہم سب باتیں کرنے لگے۔ بچوں نے ماں کی آواز سنی تو جاگ گئے اور بھاگے ہوئے آکر اس سے لپٹ گئے۔ وہ بار بار اس کا منہ چومتے اور ننھے منے ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھام کر اسے دیکھنے لگتے۔ صائمہ نے انہیں اپنے ساتھ لپٹا لیا۔ اسی دن شام کو ہم سب پروفیسر صاحب سے ملنے ان کے گھر گئے۔ رات کو ہم دونوں نے اللہ کے حضور شکرانے کے نقل ادا کئے۔ جس نے ہمیں بہت بری مصیبت سے بچایا تھا۔ اس واقعے کو گزرے آج اٹھارہ برس ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد ہم چھ سال مزید اس شہر میں رہے پھر میری تبدیلی واپس لاہور ہوگئی۔ بیٹی کی شادی ہو چکی ہے۔ احد ڈاکٹر بن چکا ہے۔ میں اور صائمہ اکثر دعوت تبلیغ کے لے جایا کرتے ہیں۔ ہاں یاد آیا۔ اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد ایک دن عبدالودود اور عابدہ ہم سے ملنے آئے تھے۔ دونوں بہت خوش تھے۔ رادھا بلکہ عابدہ کہنا چاہیے صائمہ سے مل کر بہت خوش ہوئی۔ آج بھی جب مجھے وہ وقت یاد آتا ہے تو بے اختیار میرے منہ سے نکلتا ہے۔
اے اللہ! سب کی حفاظت فرما۔
آمین، ثم آمین۔
(ختم شد)

No comments: