Ads Top

رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر52 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode

Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
 مصنف
 محمد طارق خان


رادھا
قسط۔ 52
مصنف۔ طارق خان 

’بند کر اپنا یہ اپدیش۔۔۔تو نہیں جانتا اس سمے تو کسی شکتی کے سامنے کھڑا ہے؟یدی ایک پل میں تو یہاں سے باہر نہ گیا تو بھسم ہو جائے گا‘‘پرتاب حلق کے بل دھاڑا۔
ایک لمحے کے لئے محمد شریف کے چہرے پر جلال چھا گیا پھر وہ معمول پر آگیا۔ اس نے ایک بار پھر اس ملعون کو اسلام کی دعوت دی لیکن جواب میں وہ بکواس کرتا ہرا۔ اس نے اسلام کی تعلیمات کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ میں نے دیکھا غصے سے محمد شریف کا چہرہ سرخ ہوگیا۔

’’تو نادان ہے۔۔۔میں نے بہت کوشش کی کہ تو راہ راست پر آجائے لیکن تیرے دل پر قفل لگاہوا ہے تو ہدایت پانے والوں میں سے نہیں ہے۔‘‘ محمد شریف کی قہر بار آواز آئی۔

’’بڑھ بڑھ کر باتیں نہ کر میں جانتا ہوں تو عام منشوں سے ہٹ کر ہے۔ میں تجھے شما کرکے جانے کا اوسر دیتا ہوں پرنتو اس ملیچھ کو ساتھ لے جانے کا نہ کہنا۔ میں نے مہاراج کالی داس کو وچن دیا ہے کہ اس کا بلیدان اوش کالی ماتا کے چرنوں میں ہوگا۔‘‘ پرتاب نے حقارت سے کہا۔

’’تو ایسے نہیں مانے گا‘‘ محمدشریف نے کہا۔
’’بھائی عبدالودود! میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ لیکن اس کی قسمت میں ایمان کی دولت نہیں لکھی۔ اب آپ جیسا حکم کریں‘‘ محمد شریف نے پرتاب کو جھڑک کر ایک طرف منہ کرکے کہا۔ اچانک عبدالودود ظاہر ہوگیا۔ اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔ پرتاب نے چونک کر عبدالودود کو دیکھا اور جلدی سے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ وہ چوکنا دکھائی دے رہا تھا حالانکہ اس سے پہلے وہ بڑی بے پرواہی سے نیم دراز تھا۔

’’بھائی محمد شریف نے آپ کو اسلام کی دعوت دی میں بھی آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ شیطان کی پیروکاری چھوڑ کر ایک اللہ پر ایمان لے آئیں تاکہ آخرت میں آپ جہنم کے عذاب سے بچ جائیں۔ یہ دنیا محض چند روزہ کھیل تماشہ ہے دھوکہ ہے۔ا صل زندگی تو آخرت کے بعد شروع ہوگی۔ جہاں ہم سب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے۔ اس لئے میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ ہماری دعوت پر غور فرمائیں۔ اگر آپ کو کچھ مہلت چاہیے تو ہم دینے کے لئے تیار ہیں۔اس خاتون کو آزاد دیجئے اور ہماری ساتھ ایک نشست اختیار کیجئے۔ امید ہے اللہ کے حکم سے ہماری بات آپ کی سمجھ میں آجائے گی‘‘ عبدالودود نے نہایت تحمل سے اس خبیث کو سمجھایا۔ پرتاب کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ چھا گئی۔
’تم مجھے شکتی پورک(طاقتور) جان پڑتے ہو۔ پرنتو تمرا یہ بھاشن میری بدھی میں نہیں سماتا۔ منش جاتی سے ہمیں کچھ پراپت ہونے والا نہیں۔ ان کی سنگت چھوڑ کر میرے متر بن جاؤ پھر دیکھو یہ سنسار تمرے واسطے سورگ بن جائے گا۔ ایک سے ایک سندر کنیا ہے کالی داس کے آشرم میں۔۔۔دیکھو گے تو اپسراؤں(پریوں) کو بھول جاؤ گے۔ میں تمہیں وچن دیتا ہوں کہ کچھ سمے بعد یہ سندرنازی بھی تمہیں دان کر دوں گا‘‘ پرتاب نے اوباشوں کے سے انداز میں صائمہ کی طرف اشارہ کیا۔ اس کے ہونٹوں پر خباثت بھری مسکراہٹ رقصاں تھی۔ اس کی بات سن کر عبدالودود کا چہرہ طیش سے قندھاری انار جیسا ہوگیا۔ اسنے قہر ناک نظروں سے پرتاب کو دیکھا جس کے ہونٹوں پر تاؤ دلانے والی مسکراہٹ تھی۔
’’محمد شریف! آپ گواہ ہیں کہ میں نے بھی اپنا فرض ادا کردیا‘‘ اس نے محمد شریف کو مخاطب کیا۔
’سن مورکھ! تو مجھے ان سے الگ جان پڑتا ہے اس کارن میں نے تجھ سے یہ بات کہی۔ پرنتو اس سے من میں یہ وچار نہ لانا کہ پرتاب تیری شکتی سے ڈر گیا ہے‘‘ وہ دوبارہ نیم دراز ہوتے ہوئے بولا۔
اس خبیث کو صائمہ کے ساتھ دیکھ کر میرے خون میں ابال گیا۔ میں مسہری کی پائنتنی کی طرف میرے ساتھ محمد شریف جبکہ مسہری کی دوسری جانب عبدالودود کھڑا تھا۔ ہم جس دروازے سے اندر داخل ہوئے تھے وہ میرے بائیں جانب تھا۔

’’پریم! میں آگئی ہوں چنتا مت کرنا‘‘ اچانک دروازے سے رادھا اندر داخل ہوئی۔ سب نے چونک کر دیکھا۔ رادھا کی نظر عبدالودود پر پڑی۔ اس نے چونک کر اسے دیکھا اور جلدی سے ساڑھی کا آنچل اپنے سرپر ڈال لیا۔ جیسا کہ ہماری خواتین کسی بزرگ کو دیکھ کر کرتی ہیںَ ۔آج اس نے لباس بھی اس قسم کا پہن رکھا تھا جس نے اس کے سارے جسم کو ڈھک دیا تھا جبکہ اس سے پہلے اس کی ساڑھی مہین اور بلاوز اتنا مختصر ہوا کرتا جو اس کے جسم کو ڈھکنے سے قاصرہوتا۔ ململ کی سارڑھی میں وہ بہت مقدس دکھائی دے رہی تھی۔ چہرہ سنگھار سے عاری اور گھنی زلفیں چٹیا کی صورت میں بندھی نظر آرہی تھی۔پھولوں کا زیور بھی غائب تھا جو اس کی شخصیت کا لازمی جز ہوا کرتا حتیٰ کہ اس کے ماتھے پر وہ تلک بھی نہ تھا جو ہمیشہ اسکی صبیح پیشانی پر چپکا ہوتا۔ وہ بڑے غور سے عبدالودود کو دیکھ رہی تھی۔ میں نے دیکھا عبدالودود کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔ وہ بھی دلچسپی سے رادھا کی جانب دیکھ رہا تھا لیکن اس کی شفاف آنکھوں میں کسی قسم کی آلودگی نہیں فقط دلچسپی تھی
’آہا۔۔۔رادھا دیوی آئی ہیں۔ پدھارئیے دیوی جی۔۔۔پدھارئیے آج کیسے داس کی یاد آگئی۔ ہمرے بھاگ آپ ہمری کٹیا میں پدھاریں۔ ہم تو بڑے بھاگیہ شالی ہیں دیوی جی! آپ نے کیوں کشٹ اٹھایا؟ داس کو آگیا دی ہوتی آپ کے چرنوں میں آجاتا۔‘‘ پرتاب چہکا۔ کچھ دیر عبدالودودکو دیکھ کر رادھا نے اپنی نظریں پرتاب پر مرکوز کر دیں۔ اب دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے۔ یک بیک رادھا کا چہرہ تپ گیا۔

’’مورکھ! تو نے بڑی بھول کی جو رادھا کو کشٹ دیا۔ کیا تو بھول گیا تھا کہ رادھا کس شکتی کا نام ہے؟‘‘ اس کی غضبناک آواز کمرے میں گونجی۔ عبدالودود آرام سے چلتا ہوا ایک آرام دہ کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس کی ہر ادا سے وقار جھلکتا تھا۔ وہ بڑی دلچسپی سے دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔
’’آج تیری سندر تاکا کوئی داؤ پر تاب پر نہ چلے گا۔ ہم تجھ سے نراش ہوئے اور اپنا من اس سندرنار کو ارپن(دے دیا) کر دیا ہے۔ دیکھو تو یہ سندرتا میں تم سے کم نہیں‘‘ پرتاب نے محو خواب صائمہ کی طرف اشارہ کیا۔ میری کن پٹیاں تپ گئیں۔ قریب تھا کہ میں اس کتے پر جھپٹ پڑتا رادھا کی آواز آئی۔

’پرتاب ! میں اب بھی تجھے شما کر سکتی ہوں، کیول تجھے اتنا کرنا ہوگا کہ اس سندرناری کو اس کے پتی کے حوالے کر دے اور دیا کی بھکشا مانگ، مجھے وشواس ہے موہن تیرے اپرادھ کو بھول کر تجھے شما کر دے گا، یدی سے سمے تیرے ہاتھ سے نکل گیا تو تو جیون بھکشا مانگے گا بھی تو نہ ملے گی۔ میں تجھے ایک اور سر دیتی ہوں کہ میری بات مان لے اور وہ بھی اس کارن کے تونے میری بڑی سیوا کی ہے‘‘ رادھا کا لہجہ اتنا سرد تھا کہ پرتاب کے چہرے پر ایک رنگ آکر گزر گیا۔ کچھ دیر بعد وہ سنبھل کر بولا۔

’’سمے تو کب کا بیت گیا رادھا۔۔۔! یاد ہے میں نے تیرے چرنوں میں سر رکھ کر تجھ سے پریم کی بھکشا مانگی تھی۔ پرنتو تو نے اس پلید مسلے کے کارن میری بنتی کو سوئیکار نہ کیا۔۔۔یاد ہے نا؟‘‘ پرتاب غصے سے بل کھا کر رہ گیا۔ اس کے انداز میں چوکنا پن تھا وہ کبھی رادھا کو دیکھتا کبھی عبدالودود کو۔

’’ٹھیک ہے۔۔۔اب اپنے مہاگرو اس دھشٹ کالی داس کو بلا کہ وہ تجھے میرے شراپ سے بچائے۔ آواج دے کسی اور شکتی کو۔۔۔رادھا تجھے اس سنسار سے پرلوک بھیجنے کے کارن آئی ہے۔ میں نے تیری تپسیا کے کارن تجھے ایک اور سردیا تھا پرنتو تو مورکھ ہے‘‘ رادھا غضبناک ہوگئی۔

اس کے ساتھ ہی اس نے چھت کی طرف دیکھ کر کسی اجنبی زبان میں کچھ کہا۔ میرا خیال تھا کہ ابھی چھت سے آگ کا گولہ گرے گا اور پرتاب کو جلا کر خاکستر کر دے گا۔ فکر مجھے صائمہ تھی کہیں وہ بھی آگ کی زد میں نہ آجائے۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا کمرے کے ایک کونے سے بسنتی کی مکروہ ہنسی سنائی دی۔
’’کھی۔۔۔کھی۔۔۔کھی، دیوی جی! ہم بھی کسی کارن یہاں بیٹھک لگائے بیٹھے ہیں کیا تیری شکتی نے تجھے ہمرے بارے جانکاری نہیں دی؟‘‘ اس کی کھرکھراتی آواز آئی۔ ساتھ ہی اس کا گندہ وجود ظاہر ہوگیا۔ رادھا نے چونک کراسکی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں شعلے بھڑک اٹھے۔

بسنتی اپنے گندے وجود کو گھسیٹتی مسہری کے قریب آگئی جس سے بدبو کے بھبھکے اٹھ رہے تھے۔

’’تو۔۔۔؟ تو رادھا کی شکتی کے آڑے آئے گی؟‘‘ رادھا نے زہر خند سے کہا ۔ اسکے ہونٹوں پر حقارت بھری مسکراہٹ چھا گئی تھی۔ اس نے ایک بار پھر منہ ہی منہ کچھ پڑھا اور چھت کی طرف دیکھ کر کسی کو پکارا۔ اس سے پہلے کہ گولا چھت سے بسنتی پر گرتا بسنتی چلائی۔

’’مہاراج! یہ کلنکی آگئی ہے اپنے وچن کے انوسار میری سہائتا کرو‘‘ اچانک کمرے کے ایک کونے سے چنگھاڑ سنائی دی۔

میں اور محمد شریف بری طرح اچھل پڑے۔ دیکھا تو ایک دیونما شخص جس کا سر چھت سے لگ رہا تھا اور جسم کسی پہاڑ کی طرح تھا ایک طرف سے نمودار ہوا اور چنگھاڑتا ہوا رادھا کی طرف بڑھا۔ اس کے جسم پر ریچھ کی طرح بال تھے۔ یوں لگ رہا جیسے بالوں سے بھرا ہوا گوشت کا پہاڑ لڑھک رہا ہو۔ا س نے اپنا پاؤں اٹھا کر دھم سے زمین پر رکھا جس سے بڑی بھیانک آواز خارج ہوئی۔ اس کے جسم پر فقط ایک لنگوٹی تھی۔ کمرے کی چھت لگ بھگ پچاس فٹ بلند ہوگئی۔ وہ پہاڑ اس میں سر جھکائے چل رہا تھا۔ رادھا نے ایک نگاہ غلط اس پر ڈالی اس کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ دوڑ گئی۔ اس نے گوشت کے اس پہاڑکو دیکھا، اچانک اسکی آنکھوں سے سرخ روشنی کی دھار نکل کر اس پر دیو پر پڑی اور ایک لمحے میں اسے جلا کر دھویں میں تبدیل کردیا۔ دھواں چکراتا ہوا چھت کے پاس جا کر غائب ہوگیا۔ میں جو اس دیو کو دیکھ کر گھبرا گیا تھا رادھا نے بڑی آسانی سے اسے ختم کر دیا۔ عبدالودود جو بڑی دلچسپی سے یہ سب دیکھ رہا تھا اسکے چہرے پر رادھا کے لئے تحسین کے تاثرات ابھر آئے۔ بسنتی نے اپنے مددگار کا یہ حشر دیکھا تو فوراً غائب ہوگئی۔
’چمارو‘‘ رادھا غضبناک ہو کر گرجی۔

’’جی دیوی جی!‘‘فورا! چمارو کی آواز آئی۔
’بسنتی کو لاؤ‘‘ رادھا نے اسے حکم دیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک دھماکے کے آواز آئی اور کسی نے بسنتی کو زمین پر پھینک دیا۔ وہ درد سے بلبلا اٹھی۔ ابھی وہ کھڑی بھی نہ ہو پائی تھی کہ رادھا نے چھت کی طرف دیکھا۔ آگ کا گولہ نمودار ہو کر بسنتی کے سر پر گرا۔ اس کے منہ سے ایسی دلخراش چیخ برآمد ہوئی جس سے دل دہل جائیں۔ پل کے پل آگ کے گولے نے اسے جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔
’’پاپن۔۔۔رادھا کی شکتی کو نشٹ کرنے چلی تھی‘‘ رادھا نے نیچے تھوک دیا۔’اب کیا وچارہیں تیرے؟‘‘ غیض و غضب میں بھری رادھا نے پرتاب سے کہا جسکے چہرے سے پریشانی جھلک رہی تھی۔بسنتی کا حشر دیکھ کر وہ خوفزدہ نظر آنے لگا۔

’’کالی داس کا شراپ تجھے بھسم کر دے گا‘‘ اس نے ڈرے ڈرے لہجے میں کہا۔ اچانک کمرے میں گھپ اندھیرا چھا گیا لیکن سکینڈ کے ہزاویں حصے میں دوبارہ روشنی ہوگئی۔

’’کیا بالکوں جیسے چمتکار دکھا رہا ہے؟ کوئی ایسا کام دکھا کر رادھا کو تجھے اپنا سیوک کہنے پر لاج نہ آئے۔‘‘ رادھا نے اس کا تمسخر اڑایا۔

’’رادھا! ہمرادھرم ایک ہے۔ ہمرے بیچ یدھ اچھی نہیں۔ تو ان مسلوں کے کارن اپنے ہی دھرم کے ایک بچاری کو نشٹ کرنے کا وچار من میں لا رہی ہے ، کیا تجھے لاج نہیں آتی؟ تو نے ایک مسلے سنگ اپنے شریر کا سمبندھ جوڑا، میں نے کتنا کہا تجھے یہ شوبھا(زیب) نہیں دیتا تو دوجے دھرم کے منش سنگ ایسا سمبندھ رکھے۔ پرنتو تو نے میری ایک نہ مانی۔ یدی تو منش جاتی سنگ ایسا سمبندھ رکھ سکتی ہے تو میں کیوں نہیں؟‘‘ پرتاب نے بڑی ڈھٹائی سے کہا۔ میرا سر بے اختیار شرم سے جھک گیا۔ محمد شریف کیا سوچتاہوگا کہ میں کیسا آدمی ہوں؟ میں نے دیکھا رادھا بھی شرمساردکھائی دے رہی تھی۔ اسنے بڑے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
’ہاں۔۔۔مجھ سے بھول ہوئی۔ میں نے پوتر پریم کوپلید کیا۔پرنتو اب میری آنکھیں کھل چکی ہیں اس مہاپرش نے‘‘ اسنے میری طرف اشارہ کیا۔

’’اپدیش دے کر میری آنکھیں کھول دیں۔ اس نے کہا تھا ہم دونوں کے بیچ جو سمبندھ ہے وہ اس کے دھرم کی شکشا(مذہب کی تعلیمات) کے انوسار ٹھیک نہ ہے۔ اس دن سے میں نے من میں ٹھان لیا میں دوبارہ اس سے ایسا سمبندھ نہیں رکھوں گی۔ ہاں میں اس سے پریم کرتی رہوں گی۔ پرنتو پریم آتما سنگ ہوگا شریر سنگ نہیں۔ جب اسنے مجھے اپدیش دیامجھے بڑی لاج آئی۔ میں واقعی اس کے پریم میں پاگل ہوگئی تھی۔ یدی پریم تو دو آتماؤں(روحوں) کا بندھن ہے، شریرکا نہیں۔‘‘ رادھا نے یہ کہہ کر ہم سب کو حیران کردیا۔ اسکی نظریں زمین میں گڑی ہوئی تھیں۔ چہرے سے شرمندگی کا اظہارہو رہا تھا
continued

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.