رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر 50 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode
Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
مصنف
محمد طارق خان
رادھا
قسط۔ 50
مصنف۔ طارق خان
’بابا۔۔۔میری ماما کو لے آئیں پلیز میں۔۔۔‘‘ احد بھی رونے لگا۔
دونوں بچوں کو چپ کراتے کراتے میری آنکھیں بھی آنسوؤں سے بھر گئیں۔
’’صائمہ تم کہاں ہو خدا کے لئے آجاؤ میں دوبارہ کوئی غلطی نہیں کروں گا۔۔۔میرے خدا! مجھے صائمہ سے ملا دے۔۔۔معصوم بچوں پر رحم کر میرے معبود۔۔۔! ان کو ان کی ماں سے ملا دے یا اللہ! تم ہر چیز پر قادر ہے میری کوتاہیوں کی سزا ان معصوموں کو نہ دینا میرے مالک‘‘
میرا دل رو رہا تھا۔
آنکھیں رو رہی تھیں۔
ہم تینوں رو رہے تھے۔
نازش جاگ گئی تھیں انہوں نے جب بچوں کے رونے کی آواز سنی تو اندر آگئیں۔ پیار سے انہیں گلے لگایا اور چپ کرانے لگیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ تھوڑی دیر وہ انہیں ساتھ لگائے بیٹھی رہیں پھر پیار سے انہیں سمجھاکر ساتھ لے گئیں۔ چونکہ ہم اکثر عمران کے گھر آیا کرتے اس لئے بھی بچے نازش سے مانوس تھے۔ ناشتہ ہم سب نے اکھٹے کیا۔
’’خان بھائی! آج آپ چھٹی کر لیں۔ بھابی کے نہ ہونے سے بچے اداس ہو جائیں گے‘‘ عمران نے مجھے مشورہ دیا۔ میں نے اس سے اتفاق کیا۔ عمران کے جانے کے بعد میں بچوں کو گاڑی میں گھمانے لے گیا۔ ایک سٹور سے بسکٹ ، چپس، کولڈ ڈرنک وغیرہ لے کر ہم ایک چھوٹے سے پارک میں آگئے۔ وہاں جھولے لگے ہوئے تھے۔ دونوں بچے کھیل میں مگن ہوگئے اور میں ایک بنچ پر بیٹھ گیا۔
’’نہ جانے صائمہ کس حال میں ہوگی۔ اگر خدا نخواستہ اسے کچھ ہوگیا تو ۔۔۔اللہ نہ کرے‘‘ بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔ میں بار بار اپنے ذہن کو جھٹک کر ان خیالت سے چھٹکارہ حاصل کرتا لیکن دوسرے لمحے وہ میرے پھر میرے ذہن پر حملہ کر دیتے۔ کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا بری طرح اچھل پڑا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو حیران رہ گیا۔ ملنگ چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ لیے میرے پیچھے کھڑا تھا۔ میں جلدی سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
’’باباجی۔۔۔!‘‘ میری آواز رندھ گئی۔ وہ میرے کندھے پر ہاتھ رکھے خلا میں نظریں جمائے خاموش کھڑا تھا۔
’’بابا جی! صائمہ۔۔۔‘‘ میری ہچکیاں بندھ گئیں۔
’’مرد بن۔۔۔مرد کیا عورتوں کی طرح ٹسوے بہا رہا ہے؟‘‘ اس نے مجھے جھڑک دیا۔
’’تو تو بہت بہادر ہے، کسی سے نہیں ڈرتا۔ حتیٰ کہ ۔۔۔خدائے بزرگ و برتر سے بھی نہیں‘‘ اس کی غیض و غضب میں ڈوبی آواز آئی۔
’’لوگ جنات کا نام سن کر کانپ جاتے ہیں جبکہ تو اتنا دلیر ہے کہ ان کے ساتھ شب بسری کرتا ہے ۔ اپنی گھر والی پر کسی کی نظر پڑی ہے تو بلبلا اٹھا ہے؟‘‘ اس نے طنز کیا۔ میرا خیال تھا وہ میری دلجوئی کرے گا اور مجھے صائمہ تک پہنچنے میں مدد دے گا لیکن وہ تو میرا مذاق اڑا رہا تھا۔ کچھ دیر میں حیرت سے اس کی طرف دیکھتا رہا۔
’بابا جی! اگر آپ میری مدد نہیں کرنا چاہتے تو کوئی بات نہیں لیکن براہ کرم میرے زخموں پر نمک پاشی نہ کریں‘‘ اس کے رویے سے میرا دل دکھ گیا۔
’’نمک حرام ۔۔۔تو کیا کرے گا؟ تو تو اس کا بھی وفادار نہیں جو تیری وجہ سے یہ مصیبت جھیل رہی ہے‘‘ اس کا لہجہ زہریلا تھا۔
’’ہاں۔۔۔ہاں۔۔۔میں نے بہت گناہ کیے ہیں میں جہنمی ہوں۔۔۔مجھے مر جانا چاہئے۔۔۔زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے مجھے‘‘ میں بری طرح جھنجھلا گیا۔ وہ کچھ دیر قہر نظروں سے مجھے دیکھتا رہا۔ بچے جھولا جھول رہے تھے۔ جب ایک مجہول اور پھٹے پرانے کپڑے پہنے میلے کچیلے شخص کو میرے پاس کھڑے دیکھا تو حیرت سے میرے پاس چلے آئے۔
’’ادھر آؤ میرے پاس‘‘ ملنگ نے مسکرا کر انہیں دیکھا۔ مومنہ فوراً اس کے پاس چلی گئی۔ وہ زمین پر بیٹھ گیا اور مومنہ کو اپنی گود میں بٹھا لیا۔ ملنگ کے منہ سے رال بہہ رہی تھی۔ خوراک کے ذرے اس کے داڑھی سے چپکے ہوئے تھے۔ میرے بچے صفائی ستھرائی کے معاملے میں اپنی ماں کی طرح حساس ہیں لیکن مجھے حیرت ہوئی مومنہ نے ملنگ کی داڑھی پکڑ لی اور اس سے کسی شیر خوار بچے کی طرح کھیلنے لگی۔ احد بھی اس کے گٹھنے سے لگ کر بیٹھ گیا۔ ملنگ نے پھٹے ہوئے کرتے کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور تسبیح کے دانوں جیسے سفید موتی نکال کر اپنے منہ میں ڈال لیے۔ کچھ دیر انہیں منہ میں گھماتا رہا پھر انہیں ہتھیلی پر تھوک سمیت نکال لیا۔ سفید دانے سبز رنگ اختیار کر گئے تھے۔
اس نے دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں سے ایک دانے کو پکڑا اور مومنہ سے منہ کھولنے کے کہا۔ اس نے جھٹ منہ کھول دیا۔ ملنگ نے دانہ مومنہ کے منہ میں ڈال دیا۔ مومنہ اسے بڑے مزے سے چباگئی۔ اس کے بعد اس نے احد کو دوسرا دانہ کھلا دیا۔ وہ بھی مزے سے کھا گیا۔ ملنگ کے ہونٹ تیزی سے ہل رہے تھے کچھ دیر وہ پڑھتا رہا پھر دونوں بچوں پرپھونک دیا اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
’’تمہاری ماں بہت جلد آجائے گی‘‘ اس نے بڑی شفقت سے ان سے کہا۔ مومنہ تو کچھ نہ سمجھی لیکن احد نے اسے طرح سر ہلایا جیسے وہ ملنگ کی بات سمجھ گیا ہو۔
’جاؤ جا کرکھیلو‘‘ اس نے بچوں سے کہا وہ اس کی بات مان کر دوبارہ جھولوں کی طرف دوڑ گئے۔
’’جا تو بھی کھیل۔۔۔تیرے ابھی کھیلنے کے دن ہیں۔۔۔۔جامن پسند کھیل کھیلنے میں لگ جا‘‘ اس نے پھر مجھ پر طنز کیا۔ میں جلدی سے اس کے پاس بیٹھ گیا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس نے ایک جھٹکے سے ہاتھ چھڑا لیا اور بے نیازی سے ایک طرف چل پڑا۔ میں اس کے پیچھے بھاگا لیکن وہ بلا کی تیز رفتاری سے چلتا ہوا پارک سے نکل گیا۔ میں سر جھکائے بچوں کے پاس واپس آگیا۔ ملنگ کا آنا بے مقصد نہ تھا وہ ایک پہنچا ہوا بزرگ تھا۔ میں سر جھکائے بیٹھا تھا۔ کافی دیر کھیل کر بچے تھک گئے۔ میرے پاس آکر انہوں نے واپس چلنے کوکہا۔
’’ماما کے پاس جانا ہے‘‘ مومنہ پھر رونے لگی۔ میں نے جلدی سے اسے اٹھایا اور احد کی انگلی پکڑ کر پارک سے نکل آیا۔ مومنہ کسی طور چپ ہونے میں نہ آرہی تھی۔ وہ بار بار ماں کے پاس جانے کی ضد کرتی۔ میں نے کسی نہ کسی طرح بہلا پھسلا کر اسے چپ کرایا۔ اس کے من پسندکھلونے لے کر دیے۔ احد جو ہمیشہ کھلونے پا کر خوش ہوتا آج اس نے بڑی بے دلی سے کھلونے لے کر پچھلی سیٹ پر رکھ دیے۔ اس کی معصوم آنکھیں بار بار آنسوؤں سے بھر جاتیں۔ ان کی حالت دیکھ کرمیرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔
کافی دیر انہیں مختلف جگہوں پر گھما پھر اکر ہم شام کے قریب واپس گھر گئے۔ گھر آکر ایک بار پھر مومنہ نے ماں کو یاد کرکے رونا شروع کر دیا۔ نازش نے بچوں کو اشارہ کیا وہ اسے پیار کرکے کھیلنے کے بہانے لے گئے۔ وقت کاٹے نہ کٹتا تھا۔ میں جلے پاؤں کی بلی کی طرح کبھی اندر کبھی باہر پھرتا رہا۔ بار بار صائمہ کا معصوم چہرہ میرے سامنے آجاتا۔ اس کی معصوم نظریں مجھ سے سوال کرتیں۔
’’فاروق! مجھے کس کے سہارے اکیلا چھوڑ آئے ہو؟‘‘ میں سرجھٹک کر ان خیالات سے پیچھا چھڑاتا لیکن دوسرے ہی لمحے وہ میرے سامنے آجاتی۔
فاروق! خدا کے لئے مجھے ان ظالموں کے چنگل سے چھڑاؤ میں بہت اکیلی ہوں‘‘ میں گھبرا کر باہر آگیا۔
’فاروق! تم تو کہتے تھے مجھے تم سے عشق ہے پھر مجھے کیوں اکیلا چھوڑ دیا‘‘ وہ بار بار مجھ سے سوال کرتی۔ میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ میں گھبرا کر اندر آگیا۔ ڈرائینگ روم میں بچھے صوفے پر بیٹھ کر میں نے آنکھیں بند کر لیں۔
’’فاروق! مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے پلیز میری مدد کرو مجھے یہاں سے لے جاؤ‘‘ صائمہ کا چہرہ بندآنکھوں کے سامنے ابھر آیا۔
’’میں آرہا ہوں صائمہ۔۔۔!میں آرہا ہوں‘‘ میں چیخ اٹھا۔ نازش بھاگ کر اندر آئیں۔
’’کیا ہوا فاروق بھائی؟‘‘ وہ میرے پاس کھڑی پوچھ رہی تھی۔
’’کک۔۔۔کچھ نہیں‘‘ میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔
’’اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرے گا فاروق بھائی! آپ تو بڑے حوصلے والے ہیں۔ صائمہ بھی بہت نیک ہیں اللہ پاک ان کی حفاظت کرے گا‘‘ انہوں نے مجھے تسلی دی۔ میں نے پھر آنکھیں بند کر لیں۔ مجھے اندیشہ تھا کہ میرا حوصلہ جواب دے جائے گا اور میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگوں گا۔ نازش باہر چلی گئیں۔ عمران نے انہیں ساری بات بتا دی تھی۔
’’فاروق بھائی!‘‘ میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔ وہ ہاتھ میں چائے کی پیالی پکڑے کھڑی تھیں۔ صبح سے اب تک ایک کھیل بھی اڑ کر میرے منہ میں نہ گئی تھی۔ بچوں کو تو میں نے بازار سے کچھ چیزیں لے کر کھلا دی تھیں لیکن خود پانی تک نہ پیا تھا۔
’’ صائمہ نہ جانے کس حال میں ہوگی؟اس نے کچھ کھایا بھی نہ ہوگا‘‘ اس خیال نے مجھے کھانے سے باز رکھا۔ رات ہوگئی مومنہ تھوڑی دیر بعد رونے اور ماں کو یاد کرنے لگتی۔ شام تک اسے بخار ہوگیا۔ عمران اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ مجھے تو اپنا ہوش نہ تھا۔
احد بار بار میرے پاس آتا۔ معصوم آنسو بھری آنکھوں سے دیکھتا اور باہر چلا جاتا۔ ڈاکٹر نے عمران کے کہنے پر مومنہ کو نیند کی دوا بھی کھلا دی تھی۔ وہ سو رہی تھی۔ عمران کافی دیر میرے پاس بیٹھا تسلی دیتا رہا۔ لیکن میرا حال تو یہ تھا جیسے دنیا اندھیرا ہوگئی ہو۔ کچھ اچھا نہ لگ رہا تھا۔ بار بار اپنی بزدلی پر مجھے غصہ آتا کہ میں کیوں اسے وہاں چھوڑ کر چلا آیا؟ رات ہوگئی۔ میں نے عشاء کی نماز پڑھ کر ایک بار پھر اپنے معبود کے سامنے سر سجدے میں رکھ دیا۔ رو رو کر مصلّی گیلا ہوگیا۔ رونے سے کچھ سکون ملا۔ عمران کے اصرار پر چند لقمے زہر مارکیے اور خاموشی سے کمرے میں آگیا۔ بچے سو چکے تھے۔
’’پریم‘‘ رادھا کی آواز آئی۔ میں بری طرح اچھل پڑا۔ پریم! ترنت اپنے گھر پہنچو‘‘ آواز دوبارہ آئی۔ میں نے چاروں طرف دیکھا رادھا کہیں نہ تھی۔ میں سوچ ہی رہا تھا کیا واقعی رادھا نے آواز دی تھی یا یہ سب کچھ میرا وہم تھا۔
’’سمے برباد نہ کرو ترنت اپنے گھر جاؤ‘‘ آواز اس بار واضح طور پر سنائی دی۔
’’رادھا تم کہاں ہو؟‘‘ میں نے ایک بار پھر چاروں طرف نظر دوڑائی۔
’میں بھی ایک جروری کام سے جارہی ہوں تم اپنے گھر چلے جاؤ۔ اپنے متر کی پتنی سے کہو وہ تمری سنتان کی رکھشا کرے۔ گھر میں کوئی تمرا انتجار کر رہا ہے‘‘ اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ میں نے عمران کو ساری صورتحال بتائی اور تاکید کی کہ نازش بچوں کے پاس سو جائیں۔ وہ ساتھ جانے پر بضد تھا لیکن میرے سمجھانے پر مان گیا۔ میں گاڑی آندھی اور طوفان کی طرح بھگاتا گھر پہنچا۔ گیٹ بند تھا۔ میں نے بیل بجائی کافی دیر انتظار کرنے کے بعد بھی دروازہ نہ کھلا تو میں نے چابی سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوگیا۔ لان اور برآمدے کی لائٹس جل رہی تھیں۔ لان کے بیچوں بیچ اوپلوں کی راکھ سے ایک بہت بڑا دائرہ بنا ہوا تھا۔ دائرے کے درمیان ایک پیتل کا تھال جس میں باریک باریک رائی جیسے سیاہ دانے بھرے ہوئے تھے۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر زمین میں لکڑی کے چھوٹے چھوٹے کلے گڑھے ہوئے تھے۔ یہ بالکل ویسے تھے جیسے لوگ مویشیوں کو باندھنے کے لئے زمین میں گاڑ دیتے ہیں لیکن سائز میں اس سے کافی چھوٹے تھے۔ برآمدے کے فرش پر کوئلے سے عجیب و غریب نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ میں حیرت سے سب کچھ دیکھتا اندر داخل ہوگیا۔ سارا گھر خالی تھا۔ میرا خیال تھا محمد شریف موجود ہوگا لیکن وہ بھی نہ تھا۔ یہ سب کچھ شاید اسی نے کیا تھا۔ رادھا کے بقول کوئی میرا انتظار کر رہا ہے۔ لیکن یہاں تو بندہ نہ بندے کی ذات گھربھائیں بھائیں کر رہا تھا۔میں سارے گھر کا چکر لگا کر ڈرائنگ روم میں آگیا۔ ابھی مجھے بیٹھے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ بیل بجی۔ میں چونک گیا۔
’’کون ہوسکتا ہے اس وقت؟‘‘ میں نے سوچا اور اٹھ کر باہر آگیا۔ گیٹ کھولا تو سامنے محمد شریف کھڑا تھا
’’اسلام علیکم جناب عالی!‘‘ اس نے مسکرا کر مجھے سلام کیا۔
’’وعلیکم اسلام! محمد شریف گیٹ تو کھلاہوا تھا پھر تم نے بیل کیوں بجائی؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔
’’میں نے آپ کی گاڑی کھڑی دیکھ لی تھی اس پیش نظر بیل دی ہو سکتا ہے آپ کے ساتھ خواتین بھی ہوں‘‘ اس نے آہستہ سے کہا۔
’’آؤ ۔۔۔اندر آجاؤ‘‘ میں نے ایک طرف ہٹ کر اسے راستہ دیا۔ وہ اندر آگیا۔ میں نے گیٹ بند کر دیا۔
’’محمدشریف یہ سب کیا ہے؟‘‘ میں نے لان کی طرف اشارہ کیا۔
’’سب اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے جناب ! کل رات حضرت صاحب تشریف لائے تھے لیکن آپ اس وقت یہاں کیسے؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔ میں شش و پنج میں پڑ گیا کہ اسے رادھا کے بارے میں بتایا جائے یا نہیں۔
’ایسے ہی بس دل بہت افسردہ تھا اس لئے یہاں چلا آیا۔‘‘ میں نے بات بنائی۔
’’اچھا ہوا آپ آگئے میں تو خود آپ کو بلانے کا ارادہ کر رہا تھا‘‘ اس نے مسکرا کر کہا۔
’’کیوں خیریت؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’کسی کو آپ سے ملانا ہے۔‘‘ وہ مسکرایا۔
’’کسے۔۔۔؟‘‘ میں نے چونک کر پوچھا۔
’’آئیے اندر چل کر بیٹھتے ہیں‘‘ وہ اندر کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔ ہم دونوں ڈرائنگ روم میں آکر بیٹھ گئے۔ میں منتظر تھا کہ محمد شریف کس سے مجھے ملوانا چاہتا ہے۔ ساتھ میں حیران بھی تھا کہ گھر میں ہم دونوں کے سوا کوئی نہ تھا۔
’’عبدالودود! اندر تشریف لے آئیے‘‘ محمد شریف نے باہر کی طرف منہ کرکے آواز دی۔ میں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا۔ ایک نہایت خوش روباریش نوجوان اندر داخل ہوا۔ دراز قد، سرخ سفید رنگت ، بڑی بڑی سحر کار آنکھیں۔ شانے تک بڑھے ہوئے سیاہ کالے بال۔ اس کی سفید رنگت پر کالی داڑھی بہت بھلی لگ رہی تھی۔ اس نے پرانے زمانے کے شہزادوں جیسا قیمتی لباس پہن رکھا تھا۔ اندر داخل ہو کر اس نے بڑے باوقار انداز سے سلام کیا۔
’’وعلیکم اسلام‘‘ محمد شریف نے جواب دیا۔
میں حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھا۔ پہلی بات تو یہ کہ گیٹ بند تھا۔ اور شریف کے آنے سے پہلے میں سارے گھر میں چکر لگا کر دیکھ چکا تھا میرے علاوہ کوئی نہ تھا۔ پھر یہ جوان کہاں سے آگیا۔ میں بے اختیار اس کے احترام میں کھڑا ہوگیا۔ وہ باوقار چال چلتا ہوا میرے پاس آگیا۔ اتنا خوبصورت جوان میں نے کم ہی دیکھا تھا۔ حالانکہ پرتاب بھی بہت وجیہہ تھا لیکن اس نوجوان جسے محمد شریف نے عبدالودود کے نام سے پکارا تھا وجاہت اور شاندار شخصیت میں نمبر لے گیا تھا۔ اس کے چہرے پر نہ جانے ایسی کیا بات تھی کہ نظر ہٹانا مشکل تھا۔ میں یک ٹک اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں بھی دلچسپی تھی۔
’’ماشاء اللہ ! اس نے میری طرف دیکھ کر بڑے نستعلیق عربی انداز سے کہا۔ اس کی آواز بھی اس کی طرح خوبصورت تھی۔ میرے قریب آکر اس نے اپناہاتھ بڑھایا۔ میں نے جلدی سے اس سے مصافحہ کیا۔ محمد شریف مسکراتے ہوئے ہم دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے نام ہاتھ پر روئی کے گالے کا گمان ہوتا تھا۔
’یہ شیخ عبدالودود ہیں۔ حضرت صاحب کے مرید خاص‘‘محمد شریف نے میری الجھن دور کی۔ میں سمجھ گیاکہ اس نوجوان کا تعلق قوم جنات سے ہے۔ وہ مسکراتا ہوا مجھے دیکھ رہا تھا۔
’’اللہ تعالیٰ نے آپ کو دل کھول کر وجاہت عطا فرمائی ہے۔ سبحان تیری قدرت ‘‘ میں اسکی گھمبیر آواز کے سحر میں کھو گیا
’’آپ بھی کچھ کم نہیں۔۔۔اللہ پاک نے آپ کے بھی بے مثال پیدا فرمایا ہے‘‘ بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔
’’تشریف رکھیئے‘‘ محمد شریف نے صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے بیٹھنے کے لیے کہا۔
’’خان صاحب! کل رات حضرت سے میری با تفصیل بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کمال شفقت فرماتے ہوئے بھائی عبدالودود کو بھیجا ہے یہ ہماری رہنمائی فرمائیں گے‘‘ محمد شریف نے کہا۔
’’بھائی فاروق! آپ فکر نہ کریں انسان پر جو بھی مصیبت آتی ہے اللہ پاک نے اس کا تدارک بھی اسی دنیا میں رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کو آزماتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے
’’ہم جس کو آزماتے ہیں اسے بھی بھوک اور خوف سے آزماتے ہیں اور جس کو سزا دیتے ہیں اسے بھی بھوک اور خوف ہے‘‘ عبدالودود نے بڑے مدبرانہ انداز میں سمجھایا۔ جنات سے ہم کلام ہونے کا یہ میرا پہلا موقع نہ تھا کہ میں جھجھکتا۔
’’بھائی عبدالودود! ہم کہاں اس قابل کہ اللہ کے پیاروں میں خود کو شمار کرنے کی جرات کر سکیں۔ میں تو اپنے گناہوں پر اتنا شرمندہ ہوں کہ بتا نہیں سکتا۔ لیکن میری بیوی تو معصوم اورپاکباز ہے، اتنی باوفا اور با حیا کہ میں اس کی پاکیزگی کی قسم کھانے کے لیے تیار ہوں۔ پھر۔۔۔پھر اس پر یہ مصیبت۔۔۔میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آتا‘‘ میں نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔
’’بھائی! اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے۔ یہ مصائب اور مشکلات انسان کے گناہوں کی بخشش اور درجات کی بلندی کا باعث ہوتے ہیں کسی کے گناہ جھڑ جاتے ہیں اور کسی کو درجات میں بلندی عطا ہوئی ہے۔ آپ فکر نہ کریں شیطان جتناچاہے قوی جائے اللہ پاک کی قدرت کے آگے بے بس ہے۔ ہو سکتا ہے یہ مشکل وقت کسی نیک کام کی سعاددت کا باعث بن جائے‘‘ عبدالودود نے کہا۔ میں سر جھکا لیا۔
’’بھائی محمد شریف! حضرت صاحب کا حکم تھاتاخیر کام کیا جائے اس لئے مجھے ایک جائے نماز عطا فرما دیں تو مشکور ہوں گا میں کچھ دیر مراقبہ کرنا چاہتا ہوں‘‘ وہ محمد شریف سے مخاطب ہوا۔ میں نے جلدی سے اٹھ کر جائے نماز دے دی۔
معذرت خواہ ہوں آپ لوگوں کو کچھ دیر مجھے تنہائی میں کام کرنے کی اجازت دینا ہوگی۔‘‘ اس نے ہم دونوں کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’ہاں۔۔۔ہاں ضرور میں اور خان بھائی باہر انتظار کرتے ہیں جب آپ فارغ ہو جائیں توبتا دیجئے گا‘‘ ہم دونوں باہر آکر برآمدے میں بچھی کرسیوں پر بیٹھ گئے
continued

No comments: