رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر 48 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode
Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
مصنف
محمد طارق خان
رادھا
ِقسط۔ 48
مصنف۔ طارق خان
یدی تو اتنا ہی شکتی مان ہے تو مجھے اپنی پتنی کے شریر سے نکال کر دیکھا‘‘ اس نے مضحکہ اڑایا۔
وہ جو کوئی بھی تھا اس وقت میرے مقابلے میں زیادہ بہتر پوزیشن پر تھا۔
حس و چار میں کھو گیا؟ اپنے دھرم کے کسی مہا شکتی مان کو بلا وہ مجھے تیری پتنی کے شریر سے نکالے۔ تو تو بڑا بلوان ہے۔۔۔کالی داس جیسا مہا پرش بھی تیرے آگے کچھ نہیں پھر کس کارن چپ ہے؟‘‘ وہ مسلسل میرا مضحکہ اڑا رہا تھا۔
’’میری بات دھیان سے سن۔۔۔یدی تو نے کوئی چھل کپٹ کیا تو تیری پتنی جیوت نہ رہے گی۔ اس بات کو من میں اچھی طرح بٹھا لے‘‘ اس نے مجھے دھمکی دی۔ میں نے بے بسی کی حالت میں پیچ و تاب کھا رہا تھا۔ اگر وہ کوئی مجسم شخص ہوتا تو میں اسے ایک منٹ میں مزا چھکا دیتا۔ لیکن نادیدہ وجود کے خلاف میں کیا کر سکتا تھا؟
’’میں جا رہا ہوں ، پرنتو اس بات کا دھیان رہے یدی تو نے کوئی چال چلی تو میں تیری پتنی کو جیوت نہ چھوڑوں گا‘‘ اس کے ساتھ ہی صائمہ نے ایک جھرجھری لی اور چونک کر میری طرف دیکھنے لگی۔ اس کی آنکھوں میں الجھن تھی۔
’’کیا میں پھر سو گئی تھی؟‘‘ اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں ہے اس لئے تم پر بار بار غنودگی چھا جاتی ہے۔ جلدی سے نہا کر فریش ہو جاؤ پھر ہم بچوں کو سکول سے لے کر نازش کے گھر جائیں گے کہہ رہی تھی رات کا کھانا ہم ان کے ہاں کھائیں‘‘ وہ چپ چاپ باتھ روم میں گھس گئی۔ تھوری دیر بعد ہم بچوں کے سکول سے لے کر عمران کے گھر جا رہے تھے۔ میں چاہتا تھا صائمہ کو وہاں چھوڑ کر میں محمد شریف کو ساری صورتحال بتاؤں اس کے علاوہ رادھا کے ساتھ بات کرنا بھی ضروری تھا۔ اتنا تو میں جان چکا تھا کہ کوئی خبیث جن صائم پر قابض ہوگیا ہے۔ اس کا یہ کہنا ’’تو ہمارے دھرم کی ناریوں سے بلات کار کر سکتا ہے تو میں کیوں نہیں کر سکتا۔‘‘
’’کہیں یہ بسنتی کا کوئی دوست تو نہیں؟ ہو سکتا ہے وہ مجھ سے بدلہ لے رہا ہو’‘‘ کچھ بھی ہو سب میری کوتاہیوں کی وجہ سے ہو رہا تھا۔ میں سوچوں میں غرق گاڑی چلا رہا تھا۔ صائمہ بھی خاموشی سے سر جھکائے بیٹھی تھی۔ بچے ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے جب انہوں نے سنا کہ ہم عمران انکل کے گھر جا رہے ہیں تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ تھوڑی دیر بعد ہم عمران کے گھر پہنچ گئے۔ نازش ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئیں۔ میں نے علیحدگی میں انہیں سمجھایا کہ صائمہ ذہنی خلفشار کا شکار ہو گئی ہے اس لئے میں اسے تنہائی سے نکالنا چاہتا ہوں۔انہوں نے مسکرا کر کہا’’خان بھائی! بے فکر ہو کر جائیں مجھے بھی ایک ساتھی کی ضرورت ہے جو میری باتیں سن سکے‘‘ میں ہنستا ہوا باہر نکل آیا۔
مجھے یہ خطرہ بھی تھا کہ نازش پر حقیقت نہ کھل جائے لیکن اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ یہ بھی سوچا خاموشی سے لاہور چلے جائیں لیکن اگر وہاں اس خبیث جن نے امی جان اور بھائی صاحب کے سامنے میرا پول کھول دیا تو کیا ہوگا؟ اس پیش نظر ابھی میرا یہاں سے جانا ناممکن تھا۔ محمد شریف نے بھی کہا تھا وہ حضرت صاحب سے رابطہ کرے گا۔ بینک جا کر میں نے محمد شریف کو صورت حال سے آگاہ کیا۔
’’جناب عالیٰ میں انشاء اللہ آج رات حضرت صاحب سے رابطہ کروں گا انہیں ساری صورتحال بتا کر ان کے مشورے سے کچھ کرنا بہتر ہوگا۔‘‘ اس نے بڑی اپنایت سے کہا۔
’’محمدشریف میں صائمہ کی حالت سے سخت پریشان ہوں۔ یہ تو شکر ہے بچوں کے سامنے اس کی حالت ٹھیک رہی ورنہ میرے لئے اور زیادہ مصیبت بن جاتی۔ لیکن ڈرتا ہوں کسی وقت اس حالت میں وہ بچوں کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔‘‘
’’جناب خان صاحب ! اللہ تعالیٰ اسے شرمسار کرے گا۔ اور وہی معصوم بچوں کی حفاظت بھی کرے گا۔ آپ فکر نہ کریں انشاء اللہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ اس کا خیال بھی یہی تھا کہ یہ کسی سرکش جن کی کارستانی ہے۔ محمد شریف سے بات کرکے مجھے کچھ تسلی ہوئی۔ رادھا کے سلسلے میں میں محتاط ہو چکا تھا۔ مجھے شک تھا صائمہ نے ہمیں ملتے دیکھ لیا ہے لیکن کسی وجہ سے خاموش ہے۔ رادھا سے ملنا بھی ضروری تھا اس لیے میں نے صائمہ سے بہانہ بنایا کہ مجھے وظیفے کے لیے خالی مکان چاہئے اس لیے تم بچوں کے ساتھ عمران کے ہاں ٹھہر جاؤ۔ اس نے کوئی اعتراض نہ کیا۔ رات کے کھانے کے بعد میں واپس اپنے گھر آگیا۔ جب میں اندر داخل ہوا تو سناٹا چھایا ہوا تھا۔ جیسے ہی میں بیڈ روم میں داخل ہوا۔ عجیب سی ناگوار بومیرے نتھنوں سے ٹکرائی جیسے کوئی مردار کمرے میں پڑا ہو۔ ابھی میں سو ہی رہا تھا کہ کمرہ دھویں سے بھرنے لگا۔ مجھے کھانسی چھڑ گئی۔ میں الٹے قدموں کمرے سے باہر آنے لگا۔ اچانک کسی نے پشت سے مجھے دھکا دیا اور میں ہوا میں اڑتا ہوا کمرے کے درمیان جا گرا۔ ساری ہڈیاں کڑکڑا کر رہ گئیں۔ فرش پر دبیز قالین بچھا ہوا تھا اس کے باوجود خاصی چوٹ آئی۔ اگر ننگا فرش ہوتا تو شاید میں زندگی بھر کے لیے معذور ہو سکتا تھا۔
’کھی۔۔۔کھی۔۔۔کھی۔۔۔‘‘ کمرے میں مکروہ نسوانی ہنسی گونج اٹھی۔ میں نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا۔ دم بدم بدبو میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ سانس لینا دوبھر ہوگیا کمرے میں اندھیرا تھا مجھے لائٹ جلانے کی مہلت ہی نہ مل سکی تھی۔ ابھی میں اس افتاد کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ میرے ہاتھ سے کوئی سرد چیز ٹکرائی۔ میں نے گھبرا کر ہاتھ جھٹک دیا۔ تھوڑی دیر پھر اس شے نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ مجھے کراہیت محسوس ہوئی۔ اسکی گرفت میرے ہاتھ پر سخت ہوگئی۔ میں نے دوسرے ہاتھ سے اسے ہٹانے کی کوشش کی لیکن وہ آہستہ آہستہ میرے ہاتھ کے گرد لپٹنا شروع ہوگئی۔ اندھیرے کی وجہ سے اسے دیکھنا تو ممکن نہ تھا لیکن محسوس ہو رہا تھا جیسے سانپ میرے ہاتھ کے گرد لپٹ گیا ہو۔ اچانک کمرے میں روشنی پھیل گئی۔ اب دھویں کانام و نشان نہ تھا۔ یکدم روشنی ہونے کی وجہ سے میری آنکھیں خیرہ ہوگئیں۔میں نے چندھی آنکھوں سے دیکھا اور میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔
بسنتی میرا ہاتھ پکڑے کھڑی تھی۔ وہی بسنتی جس کے حسن کے پیچھے کئی سادھو اور پنڈت بچاری پاگل تھے۔ اب وہ خوفناک حد تک کریہہ المنظر ہو چکی تھی۔ بدبو کے بھبھکے اس کے بدن سے اٹھ رہے تھے جگہ جگہ سے پیپ رس رہی تھی۔ کھال اترنے کے باعث اندر سے گوشت اور پیپ جھانکنے لگی تھی۔ گھٹاؤں جیسی زلفوں کے بجائے گنجا سر اور گلاب کی نوشگفتہ کلی جیسی جلد کی بجائے جھریوں بھرا چہرہ۔ دلوں پر بجلیاں گرانے والے موتیوں جیسے دانت۔۔۔اب منہ سے باہر نکل کر بھیانک منظر پیش کر رہے تھے۔ سڈول جسم اب بد وضع ہو کر ڈھلک چکا تھا۔ وہ سو سالہ بڑھیا جیسی دکھائی دے رہی تھی۔ ایک نظر ڈال کر میں نے منہ دوسری طرف پھیرلیا۔ اس کا ہاتھ لمبا ہو کر میرے ہاتھ کے گرد لپٹا ہوا تھا۔ بغیر ہڈی کا ہاتھ جس میں مکمل انگلیاں موجود تھیں لیکن ہڈی کے بغیر۔
’’کھی۔۔۔کھی۔۔۔کھی۔۔۔‘‘ اس کی مکروہ ہنسی کمرے میں گونج اتھی۔
’مہاراج! کس کارن ناراج ہو اپنی داسی سے‘‘ اور کوئی کہتا کہ کچھ عرصہ قبل یہ حور شمائل تھی تو سننے والا اسے پاگل قرار دیتا۔
’’تمہیں تو ادھیک پریم تھا میرے سنگ؟ کیا بھول گئے۔۔۔میں وہی بسنتی ہوں جسے اپنی بانہوں میں لینے کے کارن تم بیاکل رہا کرتے۔ دوشی تو تم بھی تھے موہن! پرنتو۔۔۔شراپ اس کلٹانے کیول مجھے دیا۔ تم پر اسنے دیا کی اور میری سندرتا کی کیا دشا بنا دی؟ یہ سب کچھ تمرے کارن ہی تو ہوا ہے۔ یدی میں بیاکل ہوں تو تم کیوں شانت پھرو؟‘‘ اس کی آواز تیز ہوتی جارہی تھی۔
’’یاد ہے میں نے اس سمے کتنی بنتی کی تھی تجھ سے۔۔۔رادھا کے شراپ سے مجھے بچا لے۔ پرنتو تونے میری ایک نہ سنی۔ میرے شریر سے کھلواڑ کرکے تو یوں ہوگیا جیسے مجھے جانتا ہی نہیں ۔یدی تو ایک بار اس پاپن سے کہہ دیتا وہ اوش مجھے شما کردیتی۔ پرنتو تیرے نینوں پر تو ایک بارپھر رادھا کے پریم کی پٹی بندھ چکی تھی۔ سب یاد ہے یا بھول گیا؟‘‘ میں گنگ کھڑا سب کچھ سن رہا تھا۔
’’کہاں گئی پریم کے بول بولنے والی تیری جیب(زبان)؟ کیا میں نے کچھ گلط کہا۔۔۔بولتا کیوں نہیں پاپی‘‘ وہ مجھے خاموش پا کر دھاڑی۔ میں نے کچھ کہنے کے بجائے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی لیکن جتنا میں اس سے ہاتھ چھڑاتا اتنا ہی اس کا ہاتھ لمبا ہو کر میرے بازو سے لپٹنے لگتا۔ بدبو کے مارے ابکائیاں آرہی تھیں۔ جیسے ابھی قے ہو جائے گی۔
’’یہ بسنتی کی پکڑ ہے۔ اس سے جان چھڑانا بالکوں کا کھیل نہیں۔ کہاں ہے تیری پریمیکا جس نے تیرے کارن اپنی سکھی پر دیا نہ کی۔ یدی وہ تجھے بھی شراپ دیتی تو مجھے دیکھ نہ ہوتا۔ پرنتو اس نے مجھے توکہیں کا نہ رکھا اور تجھے اسی طرح سندر رہنے دیا۔ یہ بات مجھے بھلی نہ لگی۔ بلا اس کلٹا کو جس نے میری یہ دشا بنا دی ہے۔‘‘ وہ گرجی۔
’’دیکھو بسنتی! اس میں میرا کیا قصور ہے؟ تمہارے ساتھ جوکچھ ہوا وہ رادھا نے کیا ہے میں تو خود اس وقت بہت ڈر گیا تھا کہیں وہ مجھے بھی سزا نہ دے دے۔ میں قطعی طور پر نہیں چاہتا تھا کہ وہ تمہارے ساتھ ایسا ظلم کرے لیکن میں کر بھی کیا سکتا تھا؟ وہ بہت طاقتور ہے۔ میں جانتا تھا وہ میرے کہنے پر بھی تمہیں نہیں چھوڑے گی اس لئے میں خاموش رہا‘‘ میں نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش ترک کرتے ہوئے اسے بڑے رسان سے سمجھایا۔
’’اگر تم نے بدلہ لینا ہے تو رادھا سے لو۔۔۔اسی نے تمہاری یہ حالت بنائی ہے مجھ بے قصور پر کس لئے ظلم کرتی ہو؟‘‘
’’بند کر اپنی گندی جیب۔۔۔یدی تو نے کالی داس کی آگیا کا پالن کرتے ہوئے اس کی سہائتا کی ہوتی تو اس کلٹا کو کچھ کرنے کا اوسر ہی نہ ملتا۔ تو دوشی ہے۔۔۔اب میرے شراپ سے تجھے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔‘‘ وہ طیش کے عالم میں گرجی۔ اس کی گرفت میرے ہاتھ پر سخت ہونے لگی۔ مجھے اپنے ہاتھ کی ہڈیاں کڑکڑاتی محسوس ہوئی۔ بے اختیار میرے منہ سے چیخ نکل گئی۔
اسی قت بسنتی مجھ سے دور چلی گئی۔ اسکا ہاتھ ربر کی طرح لمباہوگیا تھا دور جانے کے باوجود میرے ہاتھ پر اس کی گرفت اسی طرح سخت تھی۔ اس نے اپنا منہ کھولا۔ خوف سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ آج بھی جب مجھے وہ منظر یاد آتاہے تو جھرجھری آجاتی ہے۔ اس کی سرخ زبان لمبی ہو کر میری طرف بڑھنے لگی۔ میرے چہرے کے سامنے پہنچ کر وہ سانپ کے پھن کی طرح لہرانے لگی۔ میں نے حتی الامکان چہرے کو پیچھے کر لیا۔ کوئی لمحہ جاتا تھا کہ اس کی کریہہ زبان میرے چہرے کو چھو لیتی۔ میں نے خوف کے مارے آنکھیں بند کرلیں۔ اچانک کمرے میں گلاب کی خوشبو پھیلنے لگی۔ اس کے ساتھ ہی میرا ہاتھ اس کی گرفت سے آزاد ہوگیا۔ میں نے چونک کر آنکھیں کھولیں تو کمرے میں بسنتی کا نام و نشان نہ تھا۔
’’چنتا نہ کرو پریم! میں آگئی ہوں‘‘ رادھاکی پیار بھری سرگوشی سنائی دی۔ جیسے کسی اندھے کو آنکھیں مل جائیں۔میں نے چاروں طرف دیکھا۔
ضرور پڑھیں: تعلیمی اداروں میں منشیات کا بڑھتا استعمال روکا جائے:سینیٹر سراج الحق
’’رادھا تم کہاں ہو؟‘‘ میں نے اسے آواز دی۔
’’میں اس سمے تم سے جیادہ دور نہیں ہوں پریم! پرنتو۔۔۔تم مجھے دیکھنے میں سپھل نہ ہو پاؤ گے اس کا کارن کیا ہے یہ میں تمہیں پھر بتاؤں گی۔ وہ کلٹا بھاگ گئی ہے تم چنتا مت کرو اب وہ نہیں آئے گی نشچنٹ ہو کر سو جاؤ۔ میں نے تمری رکھشا کا پربند کر دیا ہے‘‘ یہ کہہ کر اس نے کسی کو آواز دی۔’’چمارو۔۔۔!‘‘
’’جی دیوی جی‘‘ سہمی ہوئی کھرکھراتی آواز سنائی دی۔
’’تجھے میں نے موہن کی رکھشا کرنے کو کہا تھا پھر وہ کلٹا کیسے اپنے داؤ میں سپھل ہوگئی؟‘‘ رادھا کی سرد آواز آئی۔
’’دو۔۔۔دیو۔۔۔دیوی جی ! شما چاہتا ہوں بھول ہوگئی۔ مجھ پر دیا کرو دیوی جی! شما کردو پھر ایسا نہ ہوگا‘‘ کانپتی ہوئی آواز میں کہا گیا۔
’’یدی اب ایسا ہوا تو تجھے نرکھ میں بھیج دوں گی تیری اس بھول پر تجھے شراپ تو اوش ملے گا پرنتو اس سمے میں کسی جاپ میں لگی ہوں یدی اب اس پاپن نے میرے پریمی کو ستایا تو۔۔۔‘‘ رادھا کی قہر بار آواز اائی۔
’’دیوی جی! اس بار شما کر دوپھر ایسی بھول نہ ہوگی‘‘ چمارو کی آواز خوف سے کانپ رہی تھی۔
’’پریم ! چنتا نہ کرنا چمارو تمری رکھشا کرے گا۔۔۔میں کل آؤں گی۔‘‘ رادھا نے مجھے مخاطب کیا۔ اس کے ساتھ ہی چھا گئی۔ گلاب کی خوشبو بھی ختم ہوگئی۔ مجھے حیرت تھی کہ رادھامجھے مشکل میں دیکھ کر کیوں نہیں آئی؟ ہاں اس نے بر وقت میری مدد کردی تھی ورنہ پتا نہیں وہ منحوس بسنتی میرا کیا حشر کرتی؟ اگر رادھا خود نہ آئی تھی تو گلاب کی خوشبو کہاں سے آگئی؟ ہو سکتا ہے وہ مجھے نظر نہ آنا چاہتی ہو۔ کوئی مجبور ہوگی سر جھٹک کر ان خیالات سے پیچھا چھڑایا۔میں یہاں رادھا سے ملنے کی خاطر ہی آیا تھا لیکن اس کے بقول وہ کسی ضروری کام میں مصروف ہونے کی وجہ سے نہ آسکتی تھی۔ دل چاہا واپس عمران کے گھر چلا جاؤں لیکن صائمہ کو کیا جواب دیتا یہ سوچ کر میں نہ چاہتے ہوئے بھی بستر پر لیٹ گیا۔ ذرا سی آہٹ پر چونک اٹھتا ہر چند کہ رادھا نے کہا تھا چمارو میری حفاظت کرے گا لیکن ان پراسرار قوت کے مالک لوگوں پر مجھے کچھ زیادہ یقین نہ رہا تھا۔ کافی دیر بعد نیند آئی۔ جب میری آنکھ کھلی تو دس بج رہے تھے۔ جلدی سے تیار ہو کر بینک پہنچ گیا۔ چپراسی سے کہہ کر چائے اور بسکٹ منگوا کرمیں نے ناشتہ کیا اور محمد شریف کو بلوا لیا۔
’’اسلام علیکم جناب عالی‘‘ اس کا مسکراتا ہوا شفیق چہرہ سامنے تھے۔
’’وعلیکم اسلام! آؤ محمد شریف بیٹھو‘‘ میں نے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
’حضرت صاحب نے ہماری مدد کرنے کی حامی بھر لی ہے۔۔۔بدبخت شیطان کو شکست فاش ہوگی۔ انشاء اللہ‘‘
’’انشاء اللہ‘‘ بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک تعویز نکالا اور میرے ہاتھ پر رکھتے ہوئے بولا۔
’’یہ حضرت صاحب نے دیا ہے۔ فرما رہے تھے اسے صائمہ بیٹا کے گلے میں پہنچا دینا لیکن اس وقت اس کی طبیعت ٹھیک ہو۔ آپ سمجھ گئے نا؟‘‘ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’اللہ کریم کے حکم سے وہ بدکار دوبارہ خاتون محترم کے جسم پر قبضہ نہ کر سکے گا۔‘‘ اس کے الفاظ سے میرے دل کو تسلی ہوئی۔
’بہت شکریہ محمد شریف۔ میں تمہارا احسان کبھی نہ بھولوں گا‘‘ میں نے عقیدت سے چوم کر تعویذسامنے والی جیب میں رکھ لیا۔
’’اس کے علاوہ حضرت صاحب نے ایک پیغام بھی دیا ہے‘‘
’’وہ کیا؟‘‘ میرا دل دھڑکنے لگا۔
’’فرما رہے تھے آپ کو مبارک باد دے دوں کہ بہت جلد آپ سے کوئی نیک کام لیا جائے گا‘‘
میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔اپنی بدکاری اور دین سے دوری کا سوچ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔‘‘ میں کہاں اس قابل کہ مجھ سے کسی نیک کام کی توقع کی جائے۔‘‘ آنسو چھپانے کی خاطر میں نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔
’’اللہ کے نزدیک کون کتنا اچھا ہے؟ یہ وہ مالک دو جہاں خود بہتر جانتا ہے ہم تو سب اس کے حکم کے بندے ہیں۔ حضرت صاحب کا فرمان میرے پاس آپ کی امانت تھا میں نے پہنچا دیا۔‘‘ اس نے آہستہ سے کہا۔ میرے آنے کے بعد عمران کھانا کھانے گھر چلا گیا تھا۔ جب وہ واپس آیا تو اس نے بتایا۔
’’بھابی بچوں کو لے کر گھر چلی گئی ہیں کہہ رہی تھیں آپ سیدھے گھر آجائیں‘‘ اسکی بات سن کر میری کان کھڑے ہوگئے۔
’’لیکن وہ گھر کیوں چلی گئی؟ میں نے کہا تو تھا کہ شام کو میں خود لے جاؤں گا۔‘‘ میں نے الجھ کر پوچھا۔
’’کہہ رہی تھیں میرے سرمیں درد ہے گھر جا کر کچھ دیر آرام کروں گی۔‘‘ عمران نے کہا۔
’’اچھا ٹھیک ہے‘‘ میں نے کہا لیکن میرے دل میں طرح طرح کے خدشات آرہے تھے۔ بچوں کا صائمہ کے ساتھ اکیلا گھر میں ہونا اچھا نہیں تھا۔ کیا خبر کب اس کی طبیعت پھر خراب ہو جائے۔ یہ سوچ کر میں نے عمران سے کہا
’’میں ذرا گھر کا ایک چکر لگا آؤں صبح صائمہ کی طبیعت خراب تھی۔‘‘ یہ کہہ کر میں آندھی اور طوفان کی طرح گھر پہنچا۔ گیٹ کھول کر میں ے گاڑی گیراج میں کھڑی کی۔ گھر میں سنانا چھایا ہوا تھا۔ ابھی میں گاڑی سے اترنے بھی نہ پایا تھا کہ مومنہ کی دل خراش چیخ نے فضا کا سینہ چیر دیا۔ میں بھاگتا ہوا بیڈا روم میں پہنچا۔ صائمہ دونوں ہاتھ پہلوؤں پر رکھے کمرے کے درمیان کھڑی تھی۔ دونوں بچے سہم کو کرنے میں دبکے ہوئے تھے۔ خوف سے ان کی آنکھیں پھٹی اور چہرے زرد تھے۔ احد نے مومنہ کو اپنے بازوؤں میں لے رکھا تھا۔وہ حد درجہ خوفزدہ تھے اور سہمی ہوئی نظروں سے صائمہ کی طرف دیکھ رہے تھے۔ سامنے ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں صائمہ کا چہرہ نظر آرہا تھا۔اُ ف میرے خدا۔۔۔اسکا چہرہ اس قدر بھیانک ہو چکا تھا کوئی بڑا بھی دیکھتا تو خوف سے اس گھگی بندھ جاتی۔ صائمہ کی زبان گز بھر لمبی ہو کر باہر نکل آئی تھی۔ آنکھیں بڑی ہو کر گولائی اختیار کر چکی تھیں۔ چہرہ اس قدر ڈراؤنا ہو چکا تھا کہ نظر بھر دیکھنا مشکل تھا۔ اسی وقت صائمہ کی نظر مجھ پر پڑی۔ کھڑے کھڑے اس کی گردن گھوم گئی۔ اس کا صرف چہرہ میری طرف ہوا تھا ورنہ وہ اسی طرح میری طرف پشت کیے کھڑی تھی۔ بچوں نے مجھے دیکھا تو چیخیں مارنے لگے۔ میرا بدن غصے سے کانپنے لگا۔ اپنے ننھے منے معصوم بچوں کو اس حالت میں دیکھ کر میں غصے سے پاگل ہوگیا۔ جنون کی حالت میں میں صائمہ کی طرف بڑھا اور اللہ کا نام لے کر پوری قوت سے اس کے چہرے پر تھپڑ جڑ دیا۔ مجھے یقین ہے اگر وہ تھپڑ کسی آدمی کو بھی پڑتا تو وہ کئی فٹ دور جا گرتا لیکن صائمہ صرف لہرا کر رہ گئی۔
’’ہا۔۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔۔‘‘ اس کے منہ سے خوفناک قہقہہ بلند ہوا۔
’توآگیا۔۔۔ٹھیک کیا۔۔۔آج میں تیرے سامنے تیری سنتان کے شریرسے رت پی کر ان کاماس(جسم کا خون پی کر ان کا گوشت) کھاؤں گا۔‘‘ اس نے سرخ انگارہ آنکھوں سے مجھے گھورا۔
’’آج تجھے میں بتاؤں گا بلو ان کون ہے؟ دیکھ کیسا کومل شریر ہے ان بالکوں کا ۔۔۔ان کا ماس بڑا سوادش (مزے دار) ہوگا۔‘‘ اسنے اپنی لمبی زبان کو سکوڑ کر ہونٹوں پرپھیرا۔ گردن دوبارہ بچوں کی طرف گھوم گئی۔ جنہوں نے سہم کر آنکھیں بند کر لی تھی۔ احد خان کے ہونٹ تیزی سے ہل رہے تھے۔ صائمہ نے اسے سمجھا رکھا تھا جب کبھی ڈر لگے کلمہ پڑھا کرو، اس کے اثر سے چڑیلیں ڈرکر بھاگ جاتی ہیں۔ مومنہ بھائی کی بغل میں گھسی ہوئی تھی۔ اس کا ننھا وجود خوف سے کانپ رہا تھا۔ ان کا حال دیکھ کر میں پاگل ہوگیا۔ صائمہ کا ہاتھ درازہوکر بچوں کی طرف بڑھنے لگا۔ بچے اس قدرسہم گئے تھے کہ وہ میری طرف بڑھنا بھول گئے۔ حالانکہ احد مجھے دیکھ چکا تھا۔
میں سپرنگ کی طرح اپنی جگہ سے اچھلا اور پورے زور سے صائمہ کے ساتھ ٹکرا گیا۔ ساتھ ہی میں نے بالوں سے پکڑکراسے اچھال دیا۔ وہ ہوا میں اڑتی ہوئی بیڈ پر جاگری۔ لیکن فوراً اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔ اس کی آنکھوں سے چنگاریاں نکلنے لگیں۔ زبان سانپ کی طرح بار بار اندر باہر ہونے لگی۔ اسنے اپنے ہاتھوں کا رخ میری طرف کیا۔ اچانک اس کے ہاتھ لمبے ہو کر میری گردن کی طرف بڑھنے لگے۔ سادھو امر کمار نے بھی اس طرح کا مظاہرہ کیا تھا اس وقت رادھا میری مدگار تھی جبکہ آج میں اکیلا تھا۔ مجھے اپنی نہیں بچوں کی فکر تھی۔ صائمہ کے خوبصورت ہاتھ یک بیک سیاہ اور بد وضع ہوگئے۔ ان پر بال نکلنے لگے، تھوڑی دیر میں وہ جانور کے پنجے کی شکل اختیار کر گئے۔ تیزی سے اسکے ہاتھ میری گردن کی طرف بڑھ رہے تھے۔ میں آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگا۔ میں چاہتا تھا کسی طرح بچوں کے پاس پہنچ جاؤں لیکن وہ خبیث میرا عند یہ بھانپ چکا تھا۔
قریب تھاکہ میری گردن اس کے شکنجے میں ہوتی بے اختیار میری زبان پر آیتہ الکرسی کا ورد جاری ہوگیا۔۔۔ہاتھ وہیں رک گئے۔ میں بلند آواز سے آیتہ الکرسی کا ورد کرنے لگا ۔دونوں بچے آہستہ آہستہ رو رہے تھے۔ مومنہ کی ہچکیاں بندھ چکی تھیں۔ صائمہ کے ہاتھ مجھ سے کچھ فاصلے پر رک گئے تھے۔
’آگے بڑھ پھر دیکھ میں تیرا کریہ کرم کیسے کرتا ہوں؟‘‘ میں نے اسکی طرف کوئی دھیان نہ دیا بلکہ آہستہ سے کھسکتا ہوا بچوں کی طرف بڑھنے لگا۔
’’یہیں رک جا۔۔۔نہیں تومیں اس بالک کو نرکھ میں پہنچا دوں گا‘‘ صائمہ کے منہ سے دھاڑ نکلی اور اس نے ہاتھ کا رخ بچوں کی طرف کردیا۔ میں ٹھٹھک کر رک گیا۔ آیتہ الکرسی کی برکت اور بزرگ کے دیے ہوئے تعویذ کی وجہ سے وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔
’’ہا۔۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔۔‘‘ فتح کے نشے سے سرشار اس نے قہقہہ لگایا۔
’’بہت پریم ہے نا تجھے اپنی سنتانسے۔۔۔آج تو کھد دیکھے گا میں ان کا ماس کیسے کھاتاہوں؟‘‘ ہاتھ ایک بار پھر بچوں کی طرف بڑھنے لگا۔ احد نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔۔۔فلک شگاف چیخ اسکے منہ سے نکلی۔ اس کے ساتھ ہی مومنہ نے بھی آنکھیں کھول دیں۔ جانور کے پنجے نما ہاتھ کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر وہ بے ہوش ہو کر ایک طرف لڑھک گئی۔ احد مسلسل چیخ رہا تھا۔ اب دیر کرنا درست نہ تھا۔ میں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور بھاگتا ہوا صائمہ سے ٹکرا گیا۔ میری زور دار ٹکر سے اس کے پاؤں اکھڑ گئے۔ میں سینے کے بل اس سے ٹکرایا تھا۔ دراصل میں اسے دبوچنا چاہتا تھا۔ دل دہلا دینے والی چیخ صائمہ کے منہ سے نکلی، وہ سینہ پکڑے نیچے گرکر بے ہوش ہوگئی۔ اس کا ہاتھ اور چہرہ یک دم اپنی اصلی حالت میں آگئے۔ میں بھاگ کر بچوں کے پاس پہنچا ۔مومنہ کو اٹھایا اور باتھ روم میں جا کر اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ تھوڑی دیر بعد اس نے آنکھیں کھول دیں۔ میرے چہرے پر نظر پڑتے ہی وہ میرے ساتھ لپٹ کر رونے لگی۔ احد بھی میری ٹانگوں سے لپٹا ہوا تھا۔ دونوں بچے اس قدر سہم چکے تھے کہ ان سے ٹھیک طرح سے رویا بھی نہ جا رہا تھا۔ میں نے مومنہ کو کندھے سے لگاکر دوسرے ہاتھ سے احدکو اٹھالیا۔ دونوں میرے سینے سے چپک گئے۔ میں باتھ روم سے باہر آیا تو دیکھا صائمہ بال کھولے بیڈ پر بیٹھی جھوم رہی ہے۔ اس نے سر اٹھا کر مجھے دیکھا۔
کیسے ہو رادھا کے موہن؟‘‘ میں بری طرح چونک گیا۔ صائمہ کی سرخ آنکھیں تمسخر سے بھری ہوئی تھیں۔
تم کون ہو؟‘‘ میں نے بڑے ٹھہرے ہوئے لہجے پوچھا۔۔
جاری ہے

No comments: