ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر Novel Snipper by Riaz Aqiz Koahler Episode 44
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
Novel Snipper
by
Riaz Aqiz Kohler
Episode 44
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
44 قسط نمبر
by
Riaz Aqiz Kohler
Episode 44
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
44 قسط نمبر
سنائپر(قسط نمبر44)
ریاض عاقب کوہلر
دوہفتے ہم نے وہیں گزار دیے تھے ۔ اس دوران امام مسجد کی وساطت سے کمانڈر نصراللہ کو کہہ کر ہم نے گلاک کی سو گولیاں بھی وانہ سے منگوا لی تھیں ۔جینی کے ہلاک ہونے والے ساتھیوں سے دو سائیلنسر لگے گلاک میرے ہتھے چڑھے تھے،جاتے ہوئے جینی نے جان بوجھ کران کی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا تھا یا شاید اسے بھول گیا تھا ۔بہ ہرحال اگر وہ مانگتی بھی تو میں نے واپس نہیں کرنے تھے، کہ گلاک نائینٹین ایک کارآمد پستول ہے اور اس پر لگا سائیلنسر سونے پر سہاگے کی مصداق تھا ۔
ایک صبح ہم علام خیل جانے کے لیے تیا رتھے ۔ایک روز پہلے ہی رات کے وقت پلوشہ برقع اوڑھ کر اپنے ماموں کے گھر سے ہو آئی تھی ۔اور ماموں کے گھر جانے کی وجہ اس کا دودھ شریک بھائی مراد تھا ۔وہ چند دن کے لیے گھر آیاہوا تھا۔اسے مسجد میں دیکھتے ہی امام مسجد مولانا عبدالقدوس نے پلوشہ تک یہ بات پہنچانے میں دیر نہیں کی تھی کہ پلوشہ نے وہاں آنے کے اگلے ہی دن مولانا صاحب کو یہ درخواست کی تھی ۔اس کے ماموں کا گھر بھی اسی محلے میں تھا اور وہ اسی مسجد میں نماز پڑھتے تھے ۔
مراد سے اسے کافی کام کی باتیں معلوم ہوئی تھیں ۔دو دن بعد اس کی انگور اڈے والی حویلی میں ایک بڑا پروگرام تھا ۔میں نے حویلی کے سازوسامان اور دروازوں وغیرہ ہی کو جلا سکا تھا یقینا عمارت کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا تھا ۔اوروہاں پر جشن مناتے وقت اس کے زیادہ تر لشکریوں نے وہیں اکٹھے ہونا تھا اس صورت میں علام خیل کی حویلی میں اس کے آدمیوں کی کوئی خاص تعداد موجود نہ ہوتی ۔ علام خیل میں اس کی دو حویلیاں تھیں ایک میں اس کے خاندان والے رہائش پذیر تھے اور ددسری اس سے ملحق بیٹھک تھی جو رہائش کی حویلی سے بھی کافی بڑی تھی ۔یہ وہی حویلی تھی جو اس سے پہلے قبیل خان کا مسکن تھی ۔قبیل خان اور جہانداد خان سگے بھائی تھے جبکہ صنوبر خان ان کا سوتیلا بھائی تھا ۔ اور وہ شروع دن ہی سے ایک ہی حویلی میں سکونت پذیر تھے ۔
پلوشہ مجھے یہ بھی بتاچکی تھی کہ صنوبر خان نے اس پر تشدد کرتے وقت اس کی قمیص بھی پھاڑی تھی اور اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی ماں کے ساتھ بھی بد تمیزی کی تھی ۔اس لیے صنوبر خان کو سبق سکھانے کے لیے ضروری تھا کہ اسے بھی ویسی ہی اذیت سے دوچار کیا جاتا ۔گو میں نے کبھی عورتوں کو مردوں کی دشمنی میں گھسیٹنے کا نہیں سوچا تھا نہ وزیرستان میں ایسا کوئی رواج تھا مگر صنوبر خان نے پلوشہ کی ماں اور کم سن بھائی کو درمیان میں لا کر اس گھٹیا رسم کو شروع کر دہی دیا تھا تو اسے اتنا احساس دلانا ضروری تھا کہ گھر والا وہ بھی تھا ۔
انگور اڈے سے علام خیل تک ہمیں ویگن مل گئی تھی ۔پلوشہ برقعے میں روپوش تھی جبکہ میں نے پگڑی باندھ کر اس کا پلو چہرے سے لپیٹا ہوا تھا ۔علام خیل میں ہمارے علاوہ دو مرد اور بھی اترے تھے ۔ ویگن ہمیں اتار کر آگے بڑھ گئی ،جبکہ میں پلوشہ کے ساتھ دھیرے قدموں گاﺅں میں داخل ہو گیا ۔ ہمارے ساتھ اترنے والے دونوں مرد ہم سے پہلے ایک جانب بڑھ گئے تھے ۔کمانڈر عبدالرشید بیٹنی کی بیٹھک تک ہم بغیر بات چیت کیے پہنچے تھے ۔دوپہر کا وقت تھا بیٹھک دروازہ کھلا تھا ۔دروازے پر موجود آدمی مجھے نہیں پہچانتا تھا ۔
”کمانڈر عبدالرشید بیٹنی سے ملنا ہے ۔“اپنا تعارف کرائے بغیر میں نے مدعا بیان کیا ۔
اس نے برقع میں روپوش پلوشہ پر حیرت بھری نظر ڈالتے ہوئے کہا ۔”وہ کہیں گئے ہوئے ہیں ۔“
”کمانڈر عبدالحق مل جائیں گے ۔“کمانڈر عبدالحق وہی مرد مجاہد تھا جس کی وجہ سے میرے لیے مجاہدین کے ٹھکانوں کے دروازے کھلے تھے ۔
اس نے انکار میں سر ہلایا۔”وہ بھی موجود نہیں ہیں ۔“
”یہاں پر کوئی کمانڈر موجود نہیں جس سے میں بات کر سکوں ۔“
”قاری غلام محمد صاحب موجود ہیں ۔“
”رغزئی والے ۔“میں نے تصدیق چاہنے کے انداز میں پوچھا ۔کیونکہ اس کے متعلق کمانڈر عبدالحق مجھے پہلے سے بتا چکے تھے ۔کہ اگر میں رغزئی میں کبھی چلا جاﺅں تو ان کے ہاں مجھے پناہ مل سکتی ہے ۔
”جی ہاں ۔“اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
”ٹھیک ہے انھیں بتا دیں انگور اڈے سے کمانڈر نصراللہ خان خوجل خیل کے خصوصی مہمان آئے ہوئے ہیں ۔“
”آپ اندر تشریف لے جائیں وہ حجرے میں تشریف فرما ہیں ۔“اتنے زیادہ کمانڈرز سے واقفیت نے اسے احساس دلا دیا تھا کہ میں کوئی غیر نہیں تھا ۔
اور میں ۔”شکریہ ۔“کہتے ہوئے پلوشہ کے ساتھ حجرے کی طرف بڑھ گیا ۔اسے شاید اندازہ تھا کہ میں پہلے بھی وہاں آچکا ہوں اس لیے اس نے حجرے کی جگہ کے بارے میری رہنمائی کی کوشش نہیں کی تھی ۔یہ بھی ممکن تھا کہ یہ کام اس نے اندر موجود آدمیوں کے لیے رہنے دیا ہو ۔
بیٹھک کے اندر کافی جوان دائیں بائیں پھر رہے تھے ۔اور خالص مردانہ ماحول میں ایک برقع پوش خاتون کی آمد ان کے لیے حیرانی کا باعث تھی ۔لیکن اس حیرانی کا اظہار کرنے کے لیے انھوں نے پلوشہ کو گھورنے سے پرہیز کیا تھا ۔
حجرے میں قاری غلام محمد صاحب چند دوسرے آدمیوں کے ساتھ بیٹھے تھے ۔چونکہ میں انھیں شکل و صورت سے نہیں جانتا تھا اس لیے میں نے اندر داخل ہوتے ہی ۔”اسلام علیکم ۔“کہہ کر ان کے متعلق استفسار کیا ۔
تکیے سے ٹیک لگائے گھنی کالی داڑھی والے ایک صحت مند آدمی نے خوش اخلاقی سے ”جی؟“کہتے ہوئے گویا اپنا تعارف کرادیا تھا ۔اور پھر برقع پوش پلوشہ پر نظر پڑتے ہی اس نے ہاتھ کے اشارے سے وہاں بیٹھے ہوئے دوسرے آدمیوں کو جانے کا اشارہ کیا ۔
تمام خاموشی سے اٹھ کر حجرے سے باہر نکل گئے تھے ۔
”تشریف رکھیں ۔“قاری غلام محمد نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔اور میں پلوشہ کے ساتھ زمین پر بچھی چٹائیوں پر بیٹھ گیا ۔
”کیا خدمت کر سکتا ہوں ؟“ہمارے بیٹھتے ہی اس نے نرم لہجے میں پوچھا ۔
”ہم نصراللہ خان خوجل خیل کے جاننے والے ہیں، کسی کام سے آئے ہیں ۔دو تین دن یہاں گزاریں گے ۔“
”مگر ،کوئی خاتون یہاں نہیں رہ سکتی ۔“قاری غلامحمد ہچکچاتے ہوئے انکار کیا ۔
”ایسی بھی کیا بے رخی ہے استاد جی ۔“پلوشہ نے اپنا برقع سامنے سے اٹھاتے ہوئے معصومانہ لہجے میں کہا ۔
قاری غلام محمد کی آنکھیں حیرت سے پھیلتی چلی گئی تھیں ۔”اوہ پلو خان !....تمھارے بارے معلوم ہوا تھا کہ تم پلوشہ خان وزیر ہو ....مطلب وہ حقیقت تھی ۔“
”جی استاد جی ۔“پلوشہ نے اثبات میں سرہلایا۔
”اس کا مطلب ہے آپ ایس ایس ہیں ۔“وہ میری طرف متوجہ ہوا اور میں نے اثبات میں سرہلادیا۔یوں بھی مجاہدین اور صنوبر خان کے آدمیوں کی اکثریت مجھے ایس ایس کہہ کر ہی پکارتے تھے ۔
”اگر آپ لوگ برانہ منائیں تو ایک بات کہوں ۔“
”یہ میرے شوہر ہیں استاد جی !“اس کے نصیحت کرنے سے پہلے پلوشہ نے حقیقت اگل دی۔
وہ اطمینان بھرا سانس لیتے ہوئے بولا ۔”ماشاءاللہ ....مبارک ہو ۔شادی کب کی ہے ؟“
پلوشہ نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا ۔”ڈیڑھ ماہ سے زیادہ ہو گیا ہے ....چچا نصراللہ خوجل خیل نے خود نکاح پڑھایا تھا ۔“
”بہت خوشی ہوئی ....اوریہ آپ کا اپنا گھر ہے بیٹی !....یہاں رکنے کے لیے کم از کم میری اجازت کی ضرورت آپ کو نہیں تھی ۔“
”آپ تمام اساتذہ کی اجازت تو مجھے زندگی کے ہر مرحلے پر درکار ہو گی استاد جی !.... میں نے یہ شادی بھی چچا نصراللہ خان کے کہنے پر کی ہے ۔“پلوشہ عقیدت سے بولی ۔
”خوش رہو بیٹی !“قاری غلام محمد نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگا ۔ ”یقیناکھاناآپ اپنے کمرے میں کھانا پسند کریں گے ۔“
”جی استاد جی !“پلوشہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
”چلیں میں آپ کو کمرہ دکھا دوں ۔“وہ ہمیں ساتھ لے کر بیٹھک کے شمالی کونے میں بنے ہوئے ایک بڑے سے کمرے کے پاس لایا جس کے ساتھ ملحق بیت الخلاءاور غسل خانہ بھی موجود تھا ۔وہ کمرہ یقینا پلوشہ کی وجہ سے ہمارے حوالے ہوا تھا ورنہ اس سے پہلے میں اور سردار یہاں رہ چکے تھے،اس وقت بھی ہمارے حوالے انھوں نے علاحدہ کمرہ ہی کیا تھا لیکن اس کمرے ساتھ یہ سہولت موجود نہیں تھی ۔
گوپلوشہ لڑکا نما لڑکی تھی اور ابھی تک اس کے سر کے بال اتنے بڑے نہیں ہوئے تھے جن میں پونی ڈالی جا سکتی یا جوڑا باندھا جا سکتا ۔اسی طرح نہ تو اس کی ستواں ناک میں عورتوں کی طرح سوراخ ہوا تھا اور نہ کانوں میں ۔اب بھی مردانہ لباس پہن کر وہ لڑکے کا کردار آسانی سے ادا کر سکتی تھی ۔لیکن مجھے اس کا بے پردہ پھرنا بالکل بھی گوارا نہیں تھا ۔وہ میری عزت تھی اور اپنی عزت کی حفاظت ہر مسلم کرنا جانتا ہے۔ میرا پکا ارادہ تھا کہ صنوبر خان کوانجام تک پہنچاتے ہی اسے کسی بہانے تلہ گنگ جا کر چھوڑ آﺅں گا ۔ لیکن اسے اپنے ارادے سے مطلع کرنا گویا نیا محاذ کھولنے کے مترادف تھا اس لیے یہ ارادہ میرے دل ہی میں نہاں رہا ۔
شادی کے بعد سے وہ کھانا مجھے اپنے ہاتھوں ہی سے کھلاتی تھی ۔اس کی ہر ادا اور ہر انداز سے میرے لیے یوں محبت ٹپکتی تھی جیسے سوراخ زدہ چھتے سے شہد ٹپکتا ہے ۔میری پسند سے وہ مجھ سے زیادہ واقف تھی ،میری ناراضی اور خفگی کووہ ایک لمحے میں بھانپ جایا کرتی ۔اور میرے آرام و سکون کو اتنا خیال کرتی جیسے میں کوئی چھوٹا سابچہ ہی تو تھا ۔یقینا مشرقی بیویا ں اپنے خاوند کا ہر کام نہایت عقیدت سے سرانجام دیتی ہیں ،لیکن پلوشہ اس معاملے میں گھریلو خواتین سے بھی ایک ہاتھ آگے تھی ۔گو مجھ سے جھگڑا کرتے وقت وہ کافی ساری بکواس کر جایا کرتی تھی ،لیکن اس کی یہ باتیں بس زبان تک ہی محدود ہوتی تھیں ۔اور کچھ بھی ایسا ویسا کہتے ہوئے وہ مجھے آپ ہی کہا کرتی تھی ۔بلا شک و شبہ وہ میرے لیے قدرت کا ایک تحفہ ہی تو تھی ۔
کھانا کھا کر ہم آرام کے لیے لیٹ گئے ۔ظہر کی نماز میں نے باقیوں کے ساتھ ادا کی تھی البتہ پلوشہ کمرے سے باہر نہ نکلی ۔مسجد میں مجھے کچھ اور جاننے والے بھی مل گئے تھے ۔جن پہلی مرتبہ یہاں رہتے ہوئے ملاقات ہوئی تھی ۔کچھ دیر ان سے گپ شپ کر کے میں پلوشہ کے پاس پہنچ گیا ۔رات کا کھانا کھا کر ہم دونوں تیار ہو کر باہر نکل آئے ۔پلوشہ ایک بار پھر لڑکے کے روپ میں تھی ،لیکن چہرہ چھپانے کے لیے اس نے اپنی پگڑی کا پلو چہرے پر اس طرح لپیٹ رکھا تھا کہ صرف آنکھیں ہی نظر آتی تھیں ۔گو اس کی آنکھیں بھی کسی کے دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کے لیے کافی تھیں مگر رات وقت کوئی کہاں ان پر غور کر پاتا ۔قاری غلام محمد کو میں بتا دیا تھا کہ کچھ دیر کے لیے ہم باہر جا رہے ہیں ،تاکہ وہ اپنے سنتریوں کو اس کی اطلاع کر دے ۔کلاشن کو ف ہم نے کمرے ہی میں چھوڑ دی تھی اور دونوں کے پاس سائیلنسر لگے گلاک نائینٹین پستول موجود تھے ۔علام خیل اس کا اپنا گاﺅں تھا اور وہ اس کے چپے چپے سے واقف تھی ۔ میں اور سردار خان بھی اس گاﺅں کو اچھی طرح کھنگال چکے تھے اس لیے میرا بھی وہ خوب دیکھا بھالا تھا ۔ یوں بھی علام خیل کو پلوشہ کی پیدائش کا گاﺅں ہونے کی سعادت حاصل تھی اس لحاظ سے فطری طور پر میرے دل میں علام خیل کی محبت بسیرا کیے ہوئے تھی ۔
”چندا !....جانتی ہو قبیل خان کی وجہ سے مجھے علام خیل سے نفرت جیسی تھی ،مگر آج کل علام خیل مجھے اپنے گاﺅں کی طرح پیارا لگتا ہے ۔“
”راجو !....ایک بات آج تک میری سمجھ میں نہیں آ سکی ۔“صنوبر خان کی حویلی کی طرف مٹرگشت کے انداز میں جاتے ہوئے وہ سرگوشی میں بولی ۔
”کون سی بات ؟“میں حیرانی سے مستفسرہوا۔
وہ جذباتی لہجے میں بولی ۔”یہی کہ آخر آپ کو مجھ میں ایسی کون سی چیز نظر آئی جو آپ نے مجھے اتنے اونچے مقام پر بٹھا دیا ۔“
میں استہزائی انداز میں ہنسا ۔”تو مجھ میں کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں ۔“
”اگر آپ میں سرخاب کے پر نہ لگے ہوتے تو وہ کمینی جینیفر آپ کے پیچھے امریکہ سے یہاں نہ آئی ہوتی۔اوروہ رومانہ آپ کی خاطر اپنے شوہر سے طلاق لینے پر آمادہ نہ ہو گئی ہوتی ۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔”تو تمھیں ماہین بھول گئی ہے کیا ؟“
وہ قہقہہ لگاتے ہوئے بولی ۔”آپ کو بھی تو پلوشے خان وزیر بھول گئی ہے ،جسے آپ کے بغیر سانس بھی نہیں لیا جاتا ۔“
”اچھا فضول باتوں کو چھوڑو یہ بحث واپس آکر کریں گے ۔“
”آپ نے خود ہی یہ بحث شورع کی ہے ۔“وہ منھ بنا کر خاموش ہو گئی ۔
میں نے بھی مزید کچھ کہنے سے گریز کیا تھا ۔صنوبر خان کی حویلی اور بیٹھک متصل تھیں ۔حویلی شمال کی جانب اور بیٹھک جنوب کی طرف بنی ہوئی تھی ۔دونوں کے داخلی دروازے شرقی جانب تھے ۔ حویلی کی شمالی دیوار پر شرقاََ غرباََ دو مورچے بنے تھے جبکہ بیٹھک کی جنوبی دیوار پر شرقاََ غرباََ دو مورچے بنے تھے ۔گویا حویلی اور بیٹھک کو ملا کر دیکھا جاتا تو ان کے چاروں کونوں پر مورچے موجود تھے ۔حویلی اور بیٹھک کے داخلی دروازوں کے بیچ بس درمیانی دیوار ہی کی آڑ تھی ۔اس طرح دونوں دروازوں کے سامنے ایک آدمی کھڑا ہو کر دونوں دروازوں کی دیکھ بھال کر سکتا تھا ۔
ہم دونوں حویلی اور بیٹھک کے سامنے سے گزرتے چلے گئے ۔دونوں دروازے بند تھے اور ان کے سامنے کوئی آدمی کھڑا ہوا نظر نہیں آرہا تھا ۔بیٹھک کی جنوبی دیوار سے تھوڑا آگے بڑھ کر ہم مغرب کی جانب مڑ گئے ۔وہاں سے فرلانگ بھر کے فاصلے پر چڑھائی شروع ہو رہی تھی ۔اس ڈھلوان پر بھی اکا دکا گھر موجود تھے ۔گھروں سے بچتے ہوئے ہم تھوڑا سا بلندی پر آئے اور ایک تباہ شدہ گھر میں گھس گئے ۔ دو تین آوارہ کتوں نے ناراضی بھرے انداز میں بھونک کر ہماری آمد پر ناپسندیدگی کا اعلان کیا اور احتجاج کرتے ہوئے وہاں سے نکل گئے ۔وہ گھر کافی عرصے سے تباہ شدہ پڑا تھا ۔میں اور سردار اس کا اچھی طرح جائزہ لے چکے تھے ۔ایک کمرے کی چھت جو تھوڑی سلامت تھی اس کے اوپر لیٹ کر ہم حویلی کی جانب دیکھنے لگے ۔صنوبر خان کی حویلی وہاں سے بالکل نیچے تھی ۔چاند کی پہلی دوسری تاریخ تھی اس لیے اندھیرا کافی گہرا تھا ۔لیکن حویلی کے صحن میں ہونے والی روشنی ہماری کافی مدد کرسکتی تھی ۔میں نے دوربین آنکھوں سے لگا کر اس طرف دیکھا مگر اونچی دیواروں نے میری امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا ۔میں نے مایوس ہوتے ہوئے دوربین پلوشہ کی جانب بڑھا دی ۔
”کچھ بھی نظر نہیں آرہا ۔بس اتنا محسوس ہو رہا ہے کہ چاروں مورچوں میں سنتری موجود ہیں۔“
میں نے کہا ۔”حویلی کی دیواریں کچھ زیادہ ہی اونچی ہیں ۔“
اس نے مشورہ دیتے ہوئے کہا ۔”میرا خیال ہے کل دن کو مزید بلندی سے جا کر جائزہ لینے کی کوشش کریں گے ۔“
”ہونہہ !....“میں نے اثبات میں سرہلایا۔”کل یہاں سے مزید آدمی بھی انگور اڈے والی حویلی کی جانب کوچ کریں گے ۔“
”اس بارے بھی کل پتا چل جائے گا ۔“
”چلو چلتے ہیں ۔“وہاں مزید ٹھہرنا فضول تھا اس لیے میں نے وقت ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا ۔
وہ سرہلاتے ہوئے اٹھ گئی ۔واپس بھی ہم اسی رستے سے آئے تھے ۔بیٹھک اور حویلی کے سامنے سے گزرتے ہوئے ہم اپنے مسکن تک پہنچے اور دروازے پر موجود آدمی کو اپنی پہچان کراتے ہوئے اندر گھس گئے ۔ایک اور امنگوں بھری وصل کی رات ہماری منتظر تھی ۔
٭٭٭
اگلی صبح ناشتا کرکے سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی ہم باہر نکل آئے تھے ۔پلوشہ اسی طرح ایک لڑکے کے روپ میں تھی ۔ البتہ اپنا چہرہ اس نے پگڑی کے پلو سے ڈھانپا ہوا تھا ۔ہم دونوں صنوبر خان کی حویلی کے سامنے گزرنے کے بہ جائے ایک دوسرے رستے سے پہاڑ کی بلندی سر کرنے لگے ۔ سورج کے اچھی طرح نکلنے تک ہم صنوبر خان کی حویلی کے عقب میں موجود ایک بلند ی پر موجو د تھے ۔اس جگہ سے خالی آنکھوں سے کوئی خاص نگرانی نہیں ہو سکتی تھی ،مگر ہمارے پاس ایک طاقت ور دوربین موجود تھی ۔درختوں کے جھنڈ میں چھپ کر ہم بیٹھک اور حویلی کے صحن کا جائزہ لینے لگے ۔چونکہ یہ بلندی عین اس حویلی اور بیٹھک کے عقب میں موجود تھی اور اس کا فاصلہ اتنا زیادہ نہیں تھا اس لیے یہاں سے دونوں عمارتوں کے صحن کا جائزہ لیا جا سکتا تھا ۔نامعلوم حویلی بناتے وقت قبیل خان یا بنانے والے نے اس متعلق کیوں سوچا تھا ۔شاید اتنی بلندی سے صرف دوربین کی مدد ہی سے محدود سا دکھاﺅ ممکن تھا اس لیے انھوں نے اسے اہمیت نہیں دی تھی ۔یوں بھی اتنی دور سے دوربین کی مدد سے بھی کسی کے چہرے کی شناخت ممکن نہیں تھی ۔
بیٹھککے صحن میں کافی ہلچل مچی ہوئی تھی ۔تین گاڑیاں ہمیں بیٹھک کے دروازے سے نکل کر انگور اڈے کا رخ کرتی نظر آئیں یقینا وہ رات کو ہونے والے جشن میں شرکت کرنے جا رہے تھے ۔
مورچوں کا جائزہ لینے پر ہمیں ان میں کوئی حرکت نظر نہ آئی ۔
”راجو !....میرے ذہن میں ایک منصوبہ آرہا ہے ۔“تھوڑی دوربین سے حویلی اور بیٹھک کا جائزہ لینے کے بعد وہ مجھے مخاطب ہوئی ۔
”بولو۔“میں اس کی طرف متوجہ ہو گیا ۔سر پر پگڑی لپیٹے مردانہ لباس میں کچھ عجیب ہی دکھائی دے رہی تھی ۔مگر میں نے کئی دفعہ محسوس کیا تھا کہ زنانہ لباس کے بہ جائے وہ مردانہ لباس میں زیادہ آرام دہ محسوس کیا کرتی تھی ۔اس کی وجہ شاید یہی تھی کہ وہ بچپن ہی سے لڑکوں والے کپڑے پہننے کی عادی تھی ۔ بلکہ گزشتا شب وہ یہ کہہ رہی تھی کہ اسے مسلسل بڑھتے ہوئے بالوں سے الجھن محسوس ہونے لگی ہے۔ جواباََ مجھ سے ٹھیک ٹھاک جھاڑ کھا کر اس نے منھ بناتے ہوئے کہا تھا ....”جس دن بھی اسے موقع ملا وہ سر پر استرا پھروا دے گی ۔“
”اگر ایسا کیا تو سچ مچ خفا ہو جاﺅں گا ۔“اس دھمکی کے بغیر میرے پاس کوئی چارہ نہیں تھا ۔
وہ شوخی سے بولی ۔”منانا مجھے آتا ہے ۔“اور میں زچ ہو کر خاموش ہو گیا تھا ۔
وہ مشورہ دیتے ہوئے بولی ۔”اگر ہم ابھی حویلی میں گھسنے کی کوشش کریں تو شاید کامیاب ہو جائیں ۔چاروں مورچے خالی ہیں اور بیٹھک میں آدمیوں کی تعداد بھی نہ ہونے کے برابرہو گی ۔“
چند لمحے سوچ میں کھوئے رہنے کے بعد میں نے اٹھتے ہوئے کہا ۔”چلو ۔“
”سچ ۔“وہ خوش ہو گئی تھی ۔
”اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہے ،رات کو کم از کم مورچوں میں موجود لوگ تو چوکنے ہوتے ہیں ۔اس وقت یقینا وہ بے فکر ہوں گے ۔اور مورچے یوں بھی خالی پڑے ہیں ۔صرف داخلی دروازے ہی پر کوئی محافظ موجود ہوگا ۔“
ہم احتیاط سے نیچے اترنے لگے ۔دونوں کے پاس سائیلنسر لگے گلاک موجود تھے ۔کلاشن کوف ہم کمرے ہی میں چھوڑ آئے تھے ۔رات جس ویران عمارت کی چھت سے ہم نے حویلی کی دیکھ بھال کرنے کی کوشش کی تھی وہاں چند لمحے رک کر ہم نے ایک بار پھر دوربین سے مورچوں کے خالی ہونے اطمینان کیا ۔وہیں پر ایک گرے ہوئے کمرے کی چھت کی کڑیوں میں سے پلوشہ نے ساڑھے سات آٹھ فٹ لمبی ایک کڑی اٹھا لی جو میرے بازو کے بہ قدر موٹی ہو گی ۔
”اس کا کیا کرو گی ؟“میں پوچھے بنا نہیں رہ سکا تھا ۔
اس نے شرارتی لہجے میں کہا ۔”جو بھی میرے قریب آیا،سر میں مار کر اس کا سر پھاڑ دوں گی ۔“
”میرے بھی ؟“میں نے شرارتی لہجے میں پوچھا ۔
وہ کھل کھلا کر ہنسی ۔”ہاں آپ کے بھی اگر دور جانے کی کوشش کی تو ۔“
میں مسکرا کر رہ گیا تھا ۔مزید کچھ کہے بغیر اس نے اترائی کی جانب قدم بڑھا دیے۔
بیٹھک اور حویلی کے عقب میں چھوٹا سا خالی میدان تھا ۔حویلی کے دائیں بائیں جڑا کوئی عمارت یا مکان موجود نہیں تھا ۔جنوب کی طرف پچاس ساٹھ گز کے فاصلے پر دو تین گھر بنے تھے اور قریباََ اتنے ہی فاصلے پر شمال کی جانب گھروں کا سلسلہ تھا ۔ان دونوں عمارتوں کے سامنے پختہ سڑک بنی تھی جو وہاں سے علام خیل اور انگور اڈے کو ملانے والی مستقل سڑک سے ملاپ کرتی تھی ۔سامنے کی جانب ہی سڑک عبور کر کے ڈھلان تھی جس کے اختتام پر کچے پکے مکانات کا سلسلہ شروع ہوجاتاتھا ۔وزیرستان کے چند بڑے شہروں ،جیسے میران شاہ ،وانہ ،رزمک ،مکین وغیرہ میں تو گلیاں اور کوچے مل جاتے ہیں لیکن عام آبادی سلسلے گلیوں وغیرہ کے تکلف سے آزاد ہیں ۔نظریہ ضرورت کے تحت جس کو جہاں جگہ ملتی ہے وہ اپنا مکان بنا لیتا ہے ۔دو دو تین تین مکانات اکٹھے ہوتے ہیں اور پھر درمیان میں ڈھلان،میدان، درختوں کے جھنڈ یا کھیت وغیرہ آجاتے ہیں اور پھر چند گھر بنے ہوتے ہیں ۔بڑے شہروں کے مضافات میں موجود آباد ی کی بھی یہی صورت حال ہے ۔یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ بڑے شہروں کی آبادی بھی پنجاب یا کے پی کے کے کسی متوسط گاﺅں سے زیادہ نہیں ہو گی ۔جب بڑے شہروں کا یہ حال ہے تو چھوٹے دیہاتوں کا اندازہ آپ خود کر سکتے ہیں ۔
ڈھلان سے اتر کر ہم دونوں ایک چٹان کے ساتھ یوں ٹیک لگا کر بیٹھ گئے جیسے تھک کر سستا رہے ہوں۔دائیں بائیں کا اچھی طرح جائزہ لینے کے ساتھ ہم نے عقب میں موجود دونوں مورچوں کو بھی بہ غور دیکھ لیاتھا ۔دور کھیتوں میں چند عورتیں کام کرتی نظر آ رہی تھیں ۔ڈھلان اترتے وقت ایک بوڑھا شخص ہم سے تھوڑا آگے گدھے پر لکڑیاں لادے ہوئے جا رہا تھا ۔جو ہمارے چٹان کے ساتھ بیٹھنے کے بعد حویلی سے شرقی جانب ہوتا ہواآگے بڑھ کر مزید اترائی اترتے ہوئے مکانات کے سلسلے میں غائب ہو گیا تھا ۔انھی مکانوں کے مغربی جانب کچھ بچے اور بچیاں کھیل رہے تھے ۔لیکن جب ہم بیٹھک کی دیوار کے قریب پہنچ جاتے توانھیں نظر نہ آتے ۔مغربی جانب کچھ فاصلے پر دو نازنینیں بکریاں، بھیڑیں چرا رہی تھیں اور وہی دو ایسی جگہ پر تھیں ،جہاں سے ہمیں آسانی سے دیکھا جا سکتا تھا ۔لیکن امید یہی تھی کہ اگر وہ ہمیں دیکھ بھی لیتیں تب بھی حویلی یا بیٹھک کے پاس آکر کسی کو بتانے کی جرّات نہ کرتیں ۔ اور اس کی وجہ بیٹھک میں اوباش مردوں کی موجودی اور بیٹھک سے منسوب جھوٹی سچی کہانیاں تھیں ، جن میں صنفِ نازک کے ساتھ زیادتی کے واقعات کثیر تعداد میں تھے ۔
”کہاں سے گھسا جائے ؟“اطراف کا جائزہ لینے کے بعدہم دونوں ہدف کی جانب متوجہ ہو گئے تھے ۔
وہ جلدی سے بولی۔”دونوں عمارتوں کو ملانے والی دیوار مناسب رہے گی ۔“
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سرہلایا۔”یہاں سے گھسنے پر ہم دونوں عمارتوں میں موجود لوگوں کو دکھائی دے سکتے ہیں ۔اس کے بہ جائے جنوبی دیوار میں بنے ہوئے مورچے کی جگہ سے اندر داخل ہونے پر ایک تو دیکھے جانے کا خطرہ کم ہو گا دوسرا وہاں سے آسانی سے نیچے بھی اتر سکیں گے ۔“
”آپ کی محبت نے مجھے کچھ بہتر سوچنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا ۔“اپنی غلطی تسلیم کرنے میں اس نے ایک لمحہ بھی نہیں لگایا تھا ۔اس کی ایسی باتیں مجھے خوشی سے نہال کر دیا کرتیں ۔محبت جتانے کا کوئی لمحہ بھی وہ ضائع نہیں جانے دیتی تھی ۔دل کی بات دل میں چھپا نے کی وہ عادی نہیں تھی ۔
ہم دونوں دائیں بائیں دیکھتے ہوئے جنوبی مورچے کے عین نیچے آکر کر کھڑے ہوگئے ۔وہ دیوار کافی بلند تھی اور بالکل ہی سیدھی بنی ہوئی تھی ۔وزیرستان کے لوگ گھر کی بیرونی دیواریں بہت اونچی بناتے ہیں ۔ہر گھر کا نقشہ کسی قلعے کے جیسا ہوتا ہے ۔چاروں طرف اونچی اونچی دیواریں اور ان کے بیچوں بیچ چھوٹے چھوٹے کمرے جن کی چھتیں چاردیواری سے نیچی بنی ہوتی ہیں ۔دیوار کے اوپر وہ لوگ پلاسٹک ،کھجور کی چٹائیاں یا پتے وغیرہ کی اس طرح ڈالتے ہیں کہ بارش ہونے کی صورت میں پانی دیواروں کے اوپر نہ بہہ سکے ۔ان دیواروں کی اونچائی چودہ فٹ سے تو کم نہیں ہو گی ۔میرا قد پانچ فٹ نو انچ ہے جبکہ پلوشہ کا قدبہ مشکل پانچ فٹ دو انچ ہوگا اگر اس کے پاﺅں میرے اٹھے ہوئے ہاتھوں پر ہوتے تب بھی وہ دیوار کی بلندی کو نہیں چھو سکتے تھے ۔
”گڑ بڑ ہو گئی ہے ۔“دیوار کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھتے ہوئے میں نے پریشانی ظاہر کی ۔
”کیا ہوا ؟“اس نے پوچھنے میں تاخیر نہیں کی تھی ۔
اوپر کیسے چڑھیں گے ؟“میں پریشانی کی وجہ بتلائی ۔
”آپ بس اپنی نئی نویلی دلھن کے ناز نخرے اٹھاتے رہنا ،کام کی بات پر توجہ نہ دینا ۔“اس کے ہونٹوں پر محبوبانہ تبسم کھل گیا تھا ۔
”طنز کر رہی ہو ؟“میں نے مصنوعی غصے سے پوچھا ۔
وہ بے پروائی سے بولی ۔”حقیقت بتا رہی ہوں ۔بہ ہر حال پوچھنا یہ تھا کہ کیا مجھے ہاتھوں پر اٹھا لو گے ؟“
میں نے اسے مطعون کرتے ہوئے کہا ۔”بھول گئیں ،کتنے دیر ان بازوﺅں میں اٹھا کر چلتا رہا۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”اس وقت تو میں پرائی لڑکی تھی اور غیر لڑکیوں کا وزن بھلا مردوں کو کہاں محسوس ہوتا ہے ۔“
”پلوشے !....مار کھاﺅ گی ۔“میں نے اسے پیار سے ڈانٹا ۔
”آپ اس ڈنڈے کا پوچھ رہے تھے نا ،تو یہ اسی لیے ساتھ لایا ہے راجو جی !“اس نے وہ موٹی کڑی میری آنکھوں کے سامنے لہرائی ۔اور جھک کر اپنے بوٹوں کے تسمے کھولنے لگی ۔ بوٹ اتار کر اس نے جرابیں بھی اتاریں اور جرابیں بوٹوں کے اندر ٹھونس کر ،دونوں بوٹوں کے تسموں کو ایک دوسرے سے باندھ کر گلے میں ڈال لیا ۔
تیار ہو کر وہ مجھے طریقہ بتانے لگی ۔تفصیل سن کر میں سر ہلاتے ہوئے نیچے بیٹھ گیا ۔اس نے اپنے ننگے پاﺅں میرے کندھوں پر رکھے اور دیوار کا سہارا لے کر کھڑی ہو گئی ۔میں نے اپنی پیٹھ دیوار سے لگائی ہوئی تھی ۔جونھی اس نے مجھے اٹھنے کا اشارہ کیا میں اطمینان سے کھڑا ہو گیا ۔یوں بھی وہ مجھے پھول کی طرح ہلکی لگا کرتی ۔سیدھا ہوتے ہی میں نے وہ مضبوط کڑی اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑی اور اس کا ہموار سرا اوپر کی طرف کرکے نچلا سرا زمین پر ٹکا دیا ۔ساڑھے سات آٹھ فٹ لمبی کڑی مجھ سے کافی اونچی تھی ۔ اس نے ایک پاﺅں میرے سر پر رکھا اوردوسرا پاﺅں بہ مشکل کڑی کے دوسرے کونے پر ٹکا کر وہ کڑی کے اوپر منتقل ہو گئی ۔پلوشہ کا سارا بوجھ کڑی پر منتقل ہو گیا تھا ۔منتقل ہو گیا تھا ۔
”تھوڑا اوپر اٹھا ﺅ ۔“اپنا توازن برقرار کرتے ہی اس نے ہولے سے کہا ۔اور میں کڑی کو آہستہ آہستہ اوپر اٹھانے لگا ۔کڑی کو متوازن پکڑنے کے لیے میں اسے اپنے سر اور گردن کے ساتھ لگایا ہوا تھا ۔میں بہت مشکل سے کڑی کو بلند کر پارہا تھا ۔میرے بازو بالکل اکڑ گئے تھے اور مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں زیادہ دیر کڑی کو اسی انداز میں تھامے نہیں رہ پاﺅں گا ۔
کم از کم پلوشہ کا وزن پچاس کلو کے بہ قدر تو ہوگا ۔حقائق کو خالی محبت کی آنچ سے نہیں ناپا جاتا۔ میرے دل میں بھری اس کی محبت کی وجہ سے اس کے وزن میں کوئی فرق نہیں پڑ سکتا تھا ۔البتہ محبت انسان کو برداشت اور حوصلہ ضرور عطا کرتی ہے ۔اور میں جانتا تھا کہ اگر کڑی میرے ہاتھوں میں ہلی جلی یا لرزی تو پلوشہ نیچے بھی گر سکتی تھی ۔اور اسے چوٹ لگنے کے اندیشے پر میرے بازوﺅں میںپورے جسم کی قوت سمٹ آئی تھی ۔
میں نے بہ مشکل فٹ بھر کڑی کو بلند کیا ہو گا کہ اچانک میرے ہاتھ بالکل ہلکے ہو گئے ۔میں نے گہرا سانس لے کر اوپر کی جانب نظریں اٹھائیں وہ دیوار کے کنارے میں انگلیاں پھنسا کر اوپر چڑھ رہی تھی ۔
کڑی کو ایک طرف پھینک کر میں وہیں نیچے کھڑا ہو گیا کہ اگر خدانخواستہ اس کے ہاتھ چھوٹ گئے تو اسے نچے گرنے سے پہلے بازوﺅں میں سنبھال سکوں ۔اتنی سخت جان ہونے کے باوجود مجھے تو وہ کانچ کی گڑیا ہی لگتی تھی ۔
مگر میری احتیاط بے کار گئی تھی ۔وہ دیوار کے اوپر پہنچ کر بیٹھک کے صحن کاجائزہ لینے لگی ۔چند لمحوں کے بعد وہ مطمئن ہو کر دیوار پر اس طرح لیٹی گئی کہ اس کا پیٹ تو دیوار کے اوپر تھا نچلا دھڑ دوسری جانب اور سینہ اورہاتھ میری طرف جھکے ہوئے تھے ۔اس کے ساتھ اس نے سر سے لپٹی پگڑی اتار کر اس کا ایک سرا اپنے ہاتھوں میں لپیٹ کر دوسرا سرا میرے لیے نیچے لٹکا دیا ۔اس نے پتلی دھوتی نما چادر ہی پگڑی کے انداز میں سر سے لپیٹی ہوئی تھی ۔چادر سر سے اتارتے ہی اس کے ریشمی بال بکھر کر ماتھے پر لہرانے لگے تھے ۔
میں نے ایک پتھر سے کڑی کا نچلا سرا جوڑ کر اسے دیوار کے ساتھ سیدھا کھڑا کیا اورپلوشہ کی چادر کو پکڑ کر آہستہ آہستہ اوپر اٹھنے لگا ۔میری نظر اس کے سرخ پڑتے چہرے پر تھی ،صاف لگ رہا تھا کہ اسے بہت زیادہ قوت صرف کرنا پڑ رہی ہے ۔اسے زیادہ زحمت سے بچانے کے لیے ہی میں نے کڑی کو دیوار کے ساتھ کھڑا کیا تھا ۔وہ ساڑھے سات آٹھ فٹ لمبی کڑی کافی مدد دے سکتی تھی ۔تھوڑا سا اوپر ہوتے ہی میں کڑی کے ہموار سرے پر پاﺅں رکھنے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔ایک دم پلوشہ کے ہاتھوں پر سے میرا وزن ہٹ گیا اور میں دیوار کا سہارا لے کر آہستہ آہستہ کھڑا ہو گیا ۔میرے ہاتھوں اور دیوار کی کگرمیں چند انچ کا فرق تھا ۔اس نے دوبارہ میرے ہاتھ تھامنے چاہے ،مگر میں اسے مزید مشقت میں مبتلا نہیں کر سکتا تھا ۔
”میں چڑھ جاﺅں گا ،تم مورچے میں پہنچو۔“
وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے دیورا پر چڑھ کر اس نے دائیں بائیں کا جائزہ لیا اور پھر سیدھا کھڑے ہوکر مورچے کی ایک جانب سے نکلے ہوئے لکڑی کے سروں پر پاﺅں رکھتی ہوئی مورچے میں گھس گئی ۔اس اثناءمیں میں نے اچھل کر دیوار کی کگر میں انگلیاں پھنسائیں اور اپنے ہاتھوں کے بل پر اوپر اٹھ گیا ۔اگلے ہی لمحے میں دیوار پر تھا ۔اسی دیوار سے چند فٹ نیچے کمروں کی چھت تھی ۔لیکن چھت پر پاﺅں رکھنے میں یہ خطرہ تھا کہ اگر اس کمرے میں کوئی آدمی بھی موجود ہوتا تو اسے ایک منٹ میں معلوم ہو جاتا کہ چھت پر کوئی موجود ہے۔ میں نے ایک سرسری نظر صحن میں دوڑائی ،مگر نہ توداخلی دروازے پر کوئی نظر آیا اور نہ صحن کو ئی حرکت نظر آئی ۔غور کر نے پر مجھے حویلی کے داخلی دروازے کی اندر سے کنڈی لگی نظر آئی۔
کسی کے نہ ہونے کا اطمینان کرتے ہی میں سرعت سے اٹھا اور پلوشہ کی طرح بڑھی ہوئی لکڑیوں پر پاﺅں رکھ کر مورچے میں گھس گیا ۔مورچہ چھے سات فٹ چوڑا اور اتنا ہی لمبا تھا ۔دیوار کے ساتھ ایک کلاشن کوف کھڑی تھی ۔تپائی نما لکڑی کی میز پرگولیوں سے بھری تین چار میگزنیں بھی رکھی ہوئی تھیں ۔جدید ساخت کی ایک دوربین دیوار سے لٹکی ہوئی تھی ۔ایک لوہے کی کرسی جس کی ٹانگیں اتنی اونچی تھیں کہ اس پر بیٹھنے والا آسانی سے مورچے کی تین اطراف کی دیواروں میں بنے ہوئے سوراخوں میں سے جھانک کر نگرانی کرسکتا تھا ۔چوتھی سمت میں یوں بھی مورچے کا دروازہ تھا ۔
پلوشہ جرابیں اور بوٹ پہن کر تیار تھی ۔سر پر باندھی ہو ئی چادر کو اس نے مفلر کے انداز میں چہرے پر لپیٹ لیا تھا جبکہ نیفے میں اڑسا ہو ا گلاک نائینٹین اس کے ہاتھ میں نظر آرہا تھا ۔وہ ہلہ بولنے کے لیے مکمل طور پر تیار تھی ۔
”کلاشن کوف لے لیں ؟“اس نے مشورہ چاہنے کے انداز میں پوچھا ۔
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سرہلایا۔”فی الحال اس کی کوئی ضرورت نظر نہیں آرہی ،گلاک کافی ہے ۔“میں نے اپنا گلاک بھی ہاتھ میں پکڑ لیا تھا ۔مورچے کے ساتھ لکڑی کی سیڑھی بنی ہوئی تھی ،مگر وہ سیڑھی اتنی چوڑی ضرورتھی کہ ہاتھوں کا سہارا لیے بغیر سیڑھی سے اترا جا سکتا تھا ۔سیڑھی کا اختتام ایک کمرے ہی میں ہو رہا تھا ۔
نیچے اترتے ہی پلوشہ نے اپنی پیٹھ میری پشت سے جوڑتے ہوئے عقب کی دیکھ بھال کرنے لگی ۔میں نے بارہا پرکھا تھا کہ اس کا انداز کسی تربیت یافتہ کمانڈو کا سا ہوتاتھا ۔اس کی دلربائی اور محبوبیت سے ہٹ کر بھی اس کی موجودی میں مجھے سردار خان جیسے تربیت یافتہ اور دلیر ساتھی کی کمی محسوس نہیں ہوتی تھی ۔
اس کمرے کے دو دروازے تھے ۔ایک باہر صحن کی جانب کھلتا تھا ،جبکہ دوسرابرآمدے کی طرف ۔ ہمارا رخ اندر کی طرف تھا ۔گلاک کو فائر کے لیے تیار حالت میں تھامے میں دبے قدموں آگے بڑھتا گیا۔ ایک کمرے سے بے ہنگم موسیقی کی آواز آرہی تھی ۔اس کمرے کے دروازے سے ہم ایک لمبے چوڑے برآمدے میں داخل ہوئے ،جس کی مغربی جانب کمروں کے دروازے اور مشرقی جانب بیٹھک کا کھلا اور وسیع صحن تھا ۔کمروں کی یہ قطار دیوار کے اختتام کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی تھی بلکہ شمالی دیوار کی طرف مڑ جاتی تھی ۔اگر مغرب کی جانب سے دیکھا جاتا تو وہ کمرے اور برآمدہ انگریزی کے حرف ایل کی طرح نظر آتا تھا ۔شمالی جانب ان کمروں اور برآمدے کے اختتام پر ایک علاحدہ کمرہ بنا ہوا تھا ۔ شاید وہ سنتریوں کے لیے بنا تھا ۔جنوب مشرقی دیوار کے ملاپ پر بھی جنوب مغربی دیوار کے کونے کی طرح ایک طویل کمرہ بنا ہوا تھا جس اوپر ایک مورچہ موجود تھا جس سے مشرق اور جنوب کی جانب کی دیکھ بھال کی جا سکتی تھی ۔مورچے والے مشرقی اور مغربی دونوں کمروں کے درمیان تھوڑی سی جگہ خالی تھی اور پھر دو تین کمرے بنے نظر آ رہے تھے جن کے سامنے اپنا برآمدہ موجود تھا ۔مشرقی دیوار کے ساتھ دو تین غسل خانے اور بیت الخلاءبنے تھے اور ان کے بعد گاڑیاں کھڑی کرنے کے لیے ایک گیراج بنا ہوا تھا ، جس میں پہلو بہ پہلو پانچ چھے گاڑیاں با ٓسانی کھڑی کی جا سکتی تھیں۔اس وقت بھی وہاں ایک سنگل کیبن کھڑی تھی ۔مورچے والے کمرے شرقاََ غرباََ طول لیے ہوئے تھے ۔مغربی جانب بنا مورچے والا کمرہ دوسرے کمروں کی چوڑائی اور برآمدے کی چوڑائی کے برابر لمبا تھا ۔
مغربی جانب کمروں کی قطار میں آٹھ دروازے میں نے گنے ۔جن میں سے صرف دو کے دروازے کھلے تھے ۔ایک ہماری طرف سے دوسرا کمرہ اور دوسرا آخری کمرہ جس سے موسیقی کی آواز آرہی تھی ۔بند کمروں کو نظر انداز کر کے میں نے پہلے آنے والے کھلے کمرے میں جھانکا ۔مگر کمرہ بالکل خالی پڑا تھا ۔اس دوران پلوشہ صحن اور جنوبی دیوار کے ساتھ بنے ہوئے کمروں کی جانب متوجہ رہی تھی ۔ہم محتاط مگر ذرا تیز قدموں سے آخری کمرے کے قریب پہنچے ۔دروازے سے ذرا پہلے رکتے ہوئے میں نے پلوشہ کے کان سے منہ لگاتے ہوئے کہا ۔
”تم باہر ہی رہنا ۔“
”ٹھیک ہے ۔“اس کی آواز بھی سرگوشی میں ڈھلی ہوئی تھی ۔
میں کھسکتا ہوا کھلے دروازے کے قریب ہوا ۔اب موسیقی کی آواز کے ساتھ ایسی حیوانی اور قبیح آوازیں بھی میرے کانوں میں پڑنے لگیں تھیں جو دیکھے بغیر کمرے کا اندرونی منظر آشکارا کر رہی تھیں ۔ میں نے دل ہی دل میں شکر کیا کہ میں پلوشہ کو باہر رکنے کا کہہ چکا تھا ۔
کمرے کے دونوں پٹ کھلے ہوئے تھے اس لیے مجھے دروازے کو ٹھوکر مار کر یا دھکیل کر اندر داخل ہونے کی ضرورت نہیں تھی ۔میں گلاک دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے زقند بھر کر اندر گھسا ،کیوں کہ پستول کو اگر ایک کے بہ بجائے دونوں ہاتھوں میں تھاما جائے تو درست نشانہ لینے میں آسانی رہتی ہے۔
”خبردار اگر کسی نے حرکت کی ۔“میری آواز اتنی ہی بلند تھی کہ کمرے میں موجود آدمی ہی سن سکتے تھے ۔
جاری ہے

No comments: