Ads Top


جنت کے پتے
از

 نمرہ احمد



ناول؛ جنت کے پتے
قسط 60
میری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک دوست تھی۔ اس کے جواب میں بہارے نے آہستگی سے اضافہ کیا۔ ”مر گئی ہے۔“
اوہ! پنار نے اسے تاسف سے دیکھا۔
جب تمہاری بلی مر جائے گی تو وہ ڈی جے کے پاس چلی جائے گی۔ چند لمحوں بعد بہارے نے بہت سمجھ داری سے پنار کی معلومات میں مزید اضافہ کرنا چاہا۔
بہارےگل! بہت ہو گیا۔ اس نے ہڑبڑا کر اسے ٹوکا۔ پھر معذرت کرنی چاہی۔ سوری! یہ بس ایسے ہی بولتی رہتی ہے۔
مگر پنار اور مسز سونا ہنس پڑی تھیں۔
یہ چھوٹی بلی کتنی پیاری ہے نا۔ پنار نے جھک کر اس کا گال چوما۔ آج سے گارڈفیلڈ بڑی بلی اور تم چھوٹی بلی۔
بہارے نے شرما کر لب دانت سے دبائے۔ اثبات میں سر ہلایا پھر ”دیکھا تم نے“ والی فاتحانہ نظروں سے حیا کو دیکھا۔ حیا نے گہری سانس لے کر سر جھٹکا۔ یہ لڑکی بہت پٹے گی اس کے ہاتھوں۔
”آشیانہ کیو ہاؤس“ ایک چھوٹا سا دو منزلہ ہوٹل تھا۔ ننھی سی پہاڑی کو کاٹ کر بنایا گیا تھا۔ سامنے سے جیسے کوئی بنگلہ سا لگتا تھا۔ ایک طرف باہر سے جاتی سیڑھیاں، اوپر ٹیرس، سامنے صحن تھا۔ ٹیرس اور گراؤنڈ فلور دونوں کے برآمدے محرابی تھے۔ اندر آدھے کمرے پہاڑ کو کاٹ کر بنائے گئے تھے۔ وہ کوئی بہت اونچی پہاڑی نہیں تھی۔ ہوٹل کی چھت سے بھی ذرا کم تھی۔ ہوٹل کی پشت اس پہاڑی میں گویا دھنسی ہوئی تھی۔ چھوٹا سا خوب صورت سا آشیانہ۔
مولوت ہلیگج کا کپاودکیہ میں ایک خاص مقام تھا۔ وہ اس علاقے کے ڈسٹرکٹ چیف تھے۔ لوگ ان سے ڈرتے بھی تھے اور ان کی عزت بھی کرتے تھے۔ ان کے مہمان کے ساتھ کوئی برا سلوک نہیں کر سکتا تھا اور آج ہوٹل کے ساتوں کمرے خالی تھے۔ وہ اور بہارے ہی آشیانہ کی مہمان تھیں۔
یہ ہے تمہارا کمرا، مجھے لگا، تمہیں یہ پسند آئے گا۔ اگر بدلنا ہے تو بتا دو۔ متحرک سی مسز سونا ان کو اوپری منزل کے ایک کمرے میں لے آئیں۔ وہ خاکی، سرمئی سنگ مرمر سے بنا کمرا بہت خوبصورت تھا۔ کونوں میں زرد بلب لگے تھے۔ سارے جلا دو تب بھی کمرے میں غار کا نیم مدھم سا اندھیرا برقرار رہتا۔ سرخ سے قالین کا ٹکڑا فرش پہ بچھا تھا۔ اسی سرخ رنگ کا ایک بڑا سا صوفہ کھڑکی کے آگے رکھا تھا۔ ڈبل بیڈ پہ بھی گہرے سرخ، میرون رنگ کی چادر بچھی تھی۔ بیڈ کی عقبی دیوار پہ ایک جالی دار گلابی پردہ لگا تھا جو آگے کو ہو کر بیڈ کی پائینتی تک گرتا اور بیڈ پہ سونے والے کو جیسے ڈھک لیتا۔
باہر ٹیرس پہ گول گول میزیں تھیں۔ جن کے گرد کرسیوں کے پھول بنے تھے۔وہاں بیٹھ کر دیکھو تو کھلا آسمان اور سارا کپادوکیہ دکھائی دیتا تھا۔ اتنی خوبصورت جگہ پہ نامعلعم سی اداسی چھائی ہوئی تھی۔ جہان کے بغیر اسے سب کچھ اداس لگ رہا تھا۔ اگر اس نے واقعی ریسیور آف کر دیا ہو تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
مجھے یہ کمرا پسند ہے اور میری چھوٹی بلی کو بھی۔بظاہر بشاثت سے مسکراتے اس نے مسز سونا کو اطمینان دلایا۔
آشیانہ شہر سے ذرا الگ تھلگ تھا۔ سو مولوت بے نے کہہ دیا تھا کہ وہ جہاں جانا چاہیں وہ انہیں ڈراپ کر دیں گے۔ وہ خالصتا مہمان نواز ترک خاندان تھا۔ وگرنہ ہوٹل کا مالک جو شہر کا ڈسٹرکٹ چیف ہو کہاں اپنے مہمانوں کو ڈرائیو کر کے لے جایا کرتا ہے۔ مولوت بے کو پورا کپادوکیہ جانتا تھا۔ ان کے مہمانوں کو کسی بھی قسم کے ٹور پیکج پہ خصوصی ڈسکاؤنٹ مل جاتا تھا۔ ان کا نام ”مولوت“ اردو لفظ ”نومولود“ کا ”مولود“ ہی تھا۔ہمارے وہ نام جو ”د“ پہ ختم ہوتے ہیں۔ ترک انہیں ”ت“ پہ ختم کرتے تھے۔ وہ احمد کو احمت بلند کو بلنت اور مولود کو مولوت پکارتے تھے۔ایسے ہی ہمارے وہ نام جن کے آخر میں ”ب“ آتا ہے۔ ترک ان کے آخر میں ”پ“ لگایا کرتے تھے۔ یوں طیب سے بنا طیپ ایوب سے ایوپ اور زینب سے زینپ۔
وہ سارا دن کمرے میں ہی رہیں۔ پھر شام کو مسز سونا اور فاتح شہر جا رہے تھے۔ تو ان کے ساتھ چلی گئیں۔حیا کی ٹریسر والی ڈبی پرس میں ساتھ ہی تھی۔ اگر وہ ادھر ہوا تو جان لے گا کہ وہ اس کے قریب ہے۔ پتا نہیں دل کے رشتے زیادہ مضبوط تھے یا جی پی ایس کے۔ مگر جب رات اتر آئی اور فون نہیں بجا تو وہ امید کھونے لگی۔
اگلا پورا دن بھی انہوں نے کمرے میں گزارا۔ کھانا بھی وہیں منگوایا۔ مسز سونا کے ہاتھ کے بنے سلاد، جیلی، جام، بالکل گھر جیسا ذائقہ۔پھر بھی وہ بہت بے زاری محسوس کر رہی تھی۔ بہارے باہر جانا چاہتی تھی۔ مگر اس نے منع کر دیا۔
کیا عبدالرحمن کال نہیں کرے گا؟ اس نے صبح سے کوئی دسویں دفعہ پوچھا۔
مجھے نہیں پتا۔ فضول باتیں مت کرو۔ بہارے کی آنکھوں میں ناراضی در آئی۔
تم نے اگر دوبارہ مجھ سے ایسے بات کی تو میں یہاں سے چلی جاؤں گی۔
میں نے کہا نا فضول باتیں مت کرو! سختی سے جھڑک کر وہ ڈریسک روم میں جانے کے لیے اٹھی۔بہارے ناک سکوڑ کر منہ میں کچھ بڑبڑائی۔
کیا کہا تم نے؟ وہ جاتے جاتے جیسے تپ کر پلٹی۔
نہیں بتاؤں گی۔ بہارے اتنے ہی غصے سے کہتی ٹیرس کی طرف چلی گئی۔
رات میں مسز سونا انہیں بلانے آ گئیں۔
تم لوگ صبح سے کمرے سے نہیں نکلے۔ طبیعت تو ٹھیک ہے؟ حسب توقع وہ فکر مند ہو گئ تھیں۔ ٹورسٹ سیر کے لئے نا جائے یہ ان کے لئے عجیب سی بات تھی۔
نہیں! وہ دراصل ایک دوست نے استنبول سے آنا تھا، اس کا انتظار کر رہے ہیں۔ وہ آ جائے تو مل کر کپادوکیہ دیکھیں گے۔ اس نے جلدی سے وضاحت دی۔ اور پھر ان کے اصرار پر وہ دونوں ڈنر کے لیے نیچے چلی آئیں۔
نچلی منزل کا ڈائننگ ہال پتھر کی دیواروں سے بنا مدھم سا روشن تھا۔ دو چار میزیں، کرسیاں رکھی تھیں۔ دیواروں کے ساتھ فرشی نشست کے طرز کے زمین سے دو بالشت اونچے پتھر کے صوفے بنے تھے۔ جن پہ میرون ترک قالین بچھے تھے۔ اس نے بھی اسی میرون شیڈ کا اجرک کا کرتا اور سیاہ ٹراؤزر پہن رکھا تھا۔ اوپر سیاہ حجاب-
اسے حجاب سے کھاتا دیکھ کر ٹرے اٹھائے ہال میں داخل ہوئی پنار ٹھٹک کر رکی اور پھر سامنے کاؤنٹر پر کھڑے فاتح کو پکارا۔
فاتح! تم کچن دیکھ لو۔ وہ کمفرٹیبل نہیں ہیں۔ اس نے ترک اور انگریزی دونوں میں کہا کیونکہ فاتح کی انگلش کمزور تھی۔ جی آپا کہہ کر وہ تابعداری سے وہاں سے ہٹ گیا۔
‏ تھینکس! وہ ہلکے سے مسکرائی۔ دل پہ اتنی کلفت چھائی تھی کہ مسکرانا بھی دشوار لگتا تھا- 
کھانے کے بعد وہ دونوں آگے پیچھے سیڑھیاں چڑھتی اوپر آ گئیں۔ اس کے پیر میں درد تھا اس لئے وہ آتے ہی بستر پہ لیٹ گئی اور پیچھے دیوار سے لٹکتا جالی دار پردہ اپنی پائینتی تک پھیلا دیا۔ اب چت لیٹے اسے چھت گلابی جالی کے پار دکھائی دے رہی تھی۔
حیا! کیا تم مجھ سے ناراض ہو؟ ساتھ لیٹی بہارے تھوڑی دیر بعد ذرا قریب کھسک آئی۔ حیا نے گردن ذرا سی ترچھی کر کے اسے دیکھا۔ 
کیوں پوچھ رہی ہو؟ 
کیوں کہ عائشے گل کہتی ہے کسی کو ناراض کر کے نہیں سوتے۔ کیا پتا ہم صبح اٹھ ہی نہ سکیں۔ 
نہیں! میں ناراض نہیں ہوں۔ وہ گردن سیدھی کر کے دوبارہ غار کی چھت کو دیکھنے لگی۔ میں بس پریشان ہوں- 
تم پریشانی میں یوں ہی غصہ کرتی ہو؟
ہاں اور تم کیا کرتی ہو؟ 
میں؟ بہارے ایک دم جوش سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ میں آسمان میں اڑتی ہوں۔ ادالار کے بگلوں اور سلطان احمت مسجد کے کبوتروں کے ساتھ۔ کیا تمہیں یہ کرنا آتا ہے؟
‏ حیا نے چند لمحے اس کے معصوم شفاف چہرے کو دیکھنے کے بعد نفی میں سر ہلایا۔ بچپن بھی کتنا پیارا ہوتا ہے نا۔ کندھے اور دل بہت سارے بوجھ سے خالی ہوتے ہیں۔ 
میں تمہیں سکھاتی ہوں۔ آنکھیں بند کرو۔ 
حیا نے آنکھیں بند کیں۔ وہی ایک شخص ہر جگہ نظر آنے لگا تھا۔ تکلیف کا احساس جیسے سوا ہو گیا تھا۔ 
اب تم آہستہ اہستہ ہوا میں اڑ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوپر، بہت اوپر دیکھو! تم اڑ رہی ہو۔ ساتھ ہی وہ دبے قدموں بستر سے اتری۔ حیا نے پلکوں کی جھری سے دیکھا۔ وہ احتیاط سے بلی کی چال چلتی سوئچ بورڈ تک گئی اور پنکھا فل چلا دیا۔ اور پھر اسی طرح واپس آ گئی۔ دیکھو! اب تم اوپر ہوا میں اڑ رہی ہو۔ دیکھو! ہوا چل رہی ہے۔ آنکھیں مت کھولنا ورنہ نیچے گر جاؤ گی۔
ہوں! اس نے بند آنکھوں سے اثبات میں سر ہلایا۔ اگر زندگی کا وہ فیز کوئی خواب تو واقعی وہ نیچے گرنے کے خوف سے آنکھیں کھولنا نہیں چاہتی تھی۔ مگر حقیقت تو ہمیشہ نیچے گرا دیا کرتی ہے۔ اس نے ایک دم سے آنکھیں کھول دیں۔
ہا! یہ کیا کیا؟ دیکھا! نیچے گر گئیں۔ بہارے نے بوکھلا کر احتجاج کیا پھر پھرتی سے اٹھ کر پنکھا بند کیا۔ ہوا سے گلابی پردہ پھڑپھڑانے لگا تھا
اللہ تمہیں سمجھے۔ وہ خفگی سے کہتی واپس آ کر لیٹ گئی۔
کیا تم نے نماز پڑھی؟ وہ نماز پڑھنے کے لیے اٹھنے لگی تو بہارے سے پوچھا۔ بہارے نے جھٹ خود پہ بیڈ کور تان لیا۔
ہاں! میں ابھی پڑھتی ہوں۔ اوہ! میری آنکھیں بند ہو رہی ہیں۔ کھل ہی نہیں رہی۔ اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر وہ لمحے بھر میں ہوش و خرد سے بیگانہ سو چکی تھی۔ حیا سر جھٹک کر رہ گئی۔ پھر وضو کرنے اٹھی تو فون بجنے لگا۔ روحیل کالنگ اس نے کال پک کی۔
کب آ رہی ہو تم واپس؟ 
یہ مت کہنا کہ تم مجھے مس کر رہے ہو۔ وہ کھڑکی کے آگے رکھے صوفے پہ بیٹھی مسکرا کر فون کان سے لگاۓ کہہ رہی تھی۔
وہ تو خیر نہیں کر رہا۔ مگر ابا چاہتے ہیں کہ میری شادی اناؤنس کریں۔ ایک ولیمہ ریسیپشن دے کر۔ لیکن جب تم اور جہان آؤ گے تب ہی فنکشن ہو پاۓ گا۔
ہوں! گڈ فار یو۔ بس کچھ دن تک آ جاؤں گی۔ اس نے بہت سے آنسو اندر اتارے۔ کتنے دعوے سے کہہ کر آئی تھی کہ وہ اور جہان ساتھ واپس آئیں گے مگر وہ تو کہیں نہیں تھا۔
فون بند کر کے اس نے وضو کیا۔ پھر وہی جاۓ نماز ڈال کر نماز پڑھی۔ سلام پھیر کر دعا کے لیے اٹھے ہاتھوں کو یوں ہی دیکھنے لگی۔ 
دعا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنا عرصہ ہوا جب اس نے دعا مانگنی چھوڑ دی تھی۔ جیسے ڈی جے کے لیے مانگی ویسے پھر کبھی نہ مانگ سکی۔ کچھ تھا جو ڈی جے کہ ساتھ ہی مر گیا تھا۔ پھر معافی مانگی، استقامت مانگی، مگر دنیا مانگنا چھوڑ دی۔ لوگ، رشتے، ناتے، یہ سب دنیا ہی تو ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہی سب کو چاہیے ہوتا ہے۔ اسے بھی چاہیے تھا۔ پھر لبوں پہ آ کر ساری دعائیں دم کیوں توڑ جاتی ہیں؟ ایسا کیوں لگتا تھا کہ معافی ابھی تک نہیں ملی؟
وہ گم صم سی ہاتھوں کی لکیریں دیکھنے لگی۔ اللہ تعالی کے ساتھ تعلق بھی کتنا مبہم سا تھا۔ یہ خواہش تھی کہ میں اسے اچھی لگوں، میں اس کی مانوں، مگر اس پہ مجھے کتنا بھروسہ ہے۔ کتنا اعتبار ہے، یہاں آ کر زندگی جیسے خالی جگہ کا سوال بن جاتی تھی۔ پورے فقرے کے درمیان ایک خالی جگہ تھی۔ ادھر کون سا لفظ لکھنا تھا۔ اس جگہ پہنچ کر وہ لکھنا بھول جاتی تھی۔
کوئی دعا مانگے بنا وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور میز پہ رکھے موبائل کی اسکرین کو انگلی سے چھوا۔ وال پیپر جگمگا رہا تھا۔ کتنا زہر لگتا ہے یہ وال پیپر۔ بالخصوص تب جب کسی خاص ٹیکسٹ کی توقع ہو۔ پھر جاۓ نماز رکھی ۔ دوپٹا اتار کر بالوں کو انگلیوں سے سنوارا اور ڈریسنگ روم کا پردہ ہٹا کر ادھر آئی۔ ہیر برش ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھا تھا۔ وہی رات سونے سے قبل سو دفعہ برش کرنے کی عادت۔ اپنے بالوں جلد اور خوبصورتی کی حفاظت پہ اسے کوئی سمجھوتا نہ تھا۔
برش کے ساتھ نقلی پھولوں کا گلدان رکھا تھا جس کے اندر شیشے کی ایک ڈبی تھی جو سنہری افشاں سے بھری تھی۔ اس نے یوں ہی وہ ڈبی نکالی اور کھولی۔ سنہری چم چم چمکتی افشاں۔ اس کی پشت کی طرف سے آتی روشنی میں مزید چمک رہی تھی۔
پھر ایک دم سے دمکتی افشاں پہ چھایا سی بن گئی۔ جیسے اس کے اور بلب کے درمیان کوئی آڑ آ گئی تھی۔ کسی خیال کے تحت اس نے سر اٹھا کہ آئینے میں دیکھا۔ اس کے عکس کے پیچھے کوئی کھڑا تھا۔
افشاں کی ڈبی اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ ایک زور دار شاکڈ سی چیخ حلق سے نکلنے ہی لگی تھی کہ پیچھے کھڑے شخص نے سختی سے اپنا ہاتھ اس کے لبوں پہ جما دیا۔
شش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چیخنا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساری فیملی بھاگتی ہوئی آ جاۓ گی۔ وہ چہرہ اس کے قریب کیے دھیمی سرگوشی میں بولا تھا۔
*****
حیا کی آواز ہی نہیں سانس بھی جیسے رک گیا۔ وہ پھٹی پھٹی بے یقین نگاہوں سے دم سادھے آئینے کو دیکھ رہی تھی۔ چند لمحے لگے اس کے اعصاب کو ڈھیلا پڑنے میں اور پھر اس نے ایک نڈھال سے احساس کے تحت آنکھیں بند کر کے کھولیں۔
جہان نے آہستہ سے اپنا ہاتھ ہٹایا۔
سنہری افشاں اس کے ہاتھوں سے ہوتی ہوئی قدموں میں جا گری تھی۔ اس کی انگلیاں، فرش، پیر کا انگوٹھا، ہر جگہ سونے کے زرات چپکے تھے۔ ایک لمحے کو اس نے دونوں ہاتھ جھاڑ کر افشاں اتارنی چاہی مگر وہ پورے ہاتھ پہ پھیلتی گئی۔ وہ دھیرے سے اس کی طرف پلٹی۔ وہ ابھی تک شاکڈ اور شل تھی۔
تم تم ادھر کیا کر رہے ہو؟خالی خالی نگاہوں سے جہان کا چہرا دیکھتے ہوئے وہ بدقت کہہ پائی۔
یہی سوال میں تم سے پوچھنے آیا ہوں۔ تم ادھر کیا کر رہی ہو؟ وہ جیسے ڈھیروں غصہ ضبط کر کے سختی سے بولا۔
تم اندر کیسے آئے؟ حیا کا دماغ ابھی تک سن تھا۔ وہ جواب دیے بنا آگے بڑھا اور ڈریسنگ روم کا پردہ برابر کر دیا۔ بیڈ روم کا منظر چھپ گیا۔ پھر وہ حیا کے مقابل دیوار سے ذرا ٹیک لگا کر جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر منتظر سا کھڑا تھا۔ وہ جیسے علیحدہ جگہ تفصیل سے بات کرنا چاہتا تھا۔
اس کے حواس دھیرے ھیرے بحال ہونے لگے۔ وہ اپنے سنہری ذرات والے ہاتھ اضطرابی انداز میں ایک دوسرے سے ملتی ڈریسنگ ٹیبل پہ جا ٹکی پھر اپنے کھلے بال کانوں کے پیچھے اڑسے۔ سنہری ذرات سیاہ بالوں میں بھی ٹھہر گئے مگر اسے پتا نہیں چلا۔
اگر مجھے ذرا سا بھی اندازہ ہوتا کہ تم میرے پیچھے ادھر آ جاؤ گی تو میں تمہیں کبھی نہ بتاتا کہ میں کہاں جا رہا ہوں۔
تمہارے پیچھے؟ اس نے جیسے تلملا کر سر اٹھایا۔ بس ایک پل لگا تھا۔ اسے اپنے ازلی انداز میں واپس آنے میں۔ تم نے مجھے کب بتایا کہ تم کہاں جا رہے ہو؟ تم بھول گئے ہو شاید، تم بغیر کچھ کہے سنے آ گئے تھے۔
اچھا، تمہیں نہیں پتا تھا کہ میں کپادوکیہ میں ہوں؟ وہ اسی طرح جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا بغور اسے دیکھ رہا تھا۔
مجھے کیسے پتا ہو سکتا ہے؟تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہارے لیے اتنا ٹریول کر کے آؤں گی؟ اس نے جیسے افسوس بھری حیرت سے سر جھٹکا۔ میں تو خود تمہیں ادھر دیکھ کر حیران ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور تم نے مجھے کیسے ڈھونڈا؟ بلکہ ایک منٹ۔ وہ جیسے رکی۔ ڈی جے اور مجھے کپادوکیہ آنا تھا اسپرنگ بریک میں۔ اوہ، تم یہ بات جانتےتھے شاید، تم میرے پیچھے آئے ہو ۔ کیا ایسا ہی ہے؟ اس نے لاء ٹیچرز سے سن رکھا تھا کہ جب اپنا دفاع کمزور ہو تو مخالف پہ چڑھائی کر دینی چاہئے۔ وہ اپنے دفاع کے چکر میں پسپائی اختیار کر لیتے ہیں۔
نہیں! میں اتنا فارغ نہیں ہوں کہ تمہارے لیے ادھر آؤں گا۔
میں بھی اتنی فارغ نہیں ہوں۔ حد ہے۔ جہان نے ایک گہری نظر اس پہ ڈالی۔ اس کے بال ویسے ہی ماتھے پہ ذرا بکھرے سے تھے۔ شیو ہلکی سی بڑھی ہوئی تھی۔ اور سفید رف سی پوری آستین کی شرٹ کو کہنیوں سے موڑا ہوا تھا۔
اور اس کو کیوں لائی ہو؟ اس نے ابرو سے پردے کی جانب اشارہ کیا جس کے پار بیڈ روم تھا۔ حیا نے بظاہر لاپروائی سے شانے اچکائے۔
اس کے پاسپورٹ کا مسئلہ تھا کوئی۔ وہ بےکار ادھر رہ رہی تھی اور پھر ابا نے کہا تھا کہ میں اکیلی نہ جاؤں تو میں نے سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہ باڈی گاڈ ساتھ لے جاؤں۔ ہے نا؟
کیا ہے جہان! میں کپادوکیہ گھوم پھر بھی نہیں سکتی اپنی دوستوں کے ساتھ؟ وہ تنک کر کہتی اپنی انگلی مینج پلاٹینیم بینڈ گھمانے لگی۔ سنہری افشاں سے انگھوٹی بھر چکی تھی۔ جہان تھوڑی دیر جانچتی نظروں سے بغور اسے دیکھتا رہا۔
ٹھیک ہے! میں نے مان لیا کہ تم میرے لیے ادھر نہیں آئیں اور تمہیں بالکل علم نہیں تھا کہ میں ادھر ہوں۔ بہر حال کل صبح قیصری سے ایک فلیٹ اتا ترک کے لئے نکل رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ایک صبیحہ گورچن کے لئے۔ تم کون سی لو گی؟ بہت سنجیدگی سے اس نے استبول کے دونوں ائیر پورٹس کے نام لیے۔
کیا مطلب؟ میں واپس نہیں جا رہی۔ میں نے تو ابھی کپادوکیہ دیکھا بھی نہیں۔
ہرگز نہیں! میں نہیں چاہتا کہ تم ادھر رہو۔ تم ادھر یوں اکیلے کیسے رہ سکتی ہو بھلا؟
یہ میرا مسئلہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میں اکیلی نہیں ہوں۔ ہم دو ہیں۔ تم میری فکر نہ کرو۔ وہ کرو، جس کے لئے تم ادھر آئے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ویسے، مجھے ڈھونڈنے کے علاوہ تم ادھر کس مقصد کے تحت آئے ہو؟
مجھے بہت سے کام ہیں زمانے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہتے کہتے وہ ایک دم رکا۔ حیا کا دل زور سے دھڑکا۔ جہان نے کلائی میں بندھی گھڑی دیکھی پھر نفی میں سر ہلایا۔
میں اتنی دیر یہاں نہیں رک سکتا۔ تم کل واپس جا رہی ہو حیا!
میں نہیں جا رہی، تمہیں کیا پرابلم ہے میرے ادھر رہنے سے؟ اسی پل کمرے میں رکھے اس کے موبائل کی میسج ٹون بجی وہ بات روک کر ڈریسنگ ٹیبل کے کنارے سے اٹھی اور پردہ ہٹا کر میز تک گئی۔ جہان نے گردن موڑ کر اس کے قدموں کو دیکھا۔
پاؤں کو کیا ہوا ہے؟
میز سے موبائل اٹھاتے ہوۓ اس کا دل لمحے بھر کو تھما۔ اللہ اللہ، اس آدمی کی نظریں؟ اس سے کوئی بات مخفی کیوں نہیں رہتی؟ اس نے تو پاؤں پہ پٹی بھی نہیں باندھی تھی۔ چل بھی ٹھیک رہی تھی، پھر بھی اف! 
میرے پاؤں کو؟ موبائل لے کر واپس مڑتے اس نے حیرت سے گردن جھکا کر اپنے پاؤں کو دیکھا۔
اوہ! یہ افشاں گر گئی تھی۔ وہ ہی لگ گئی ہے۔ ساتھ ہی اس نے انگوٹھا قالین سے رگڑا۔ سرخ قالین کا وہ حصہ فورا چم چم کرنے لگا مگر پاؤں سے افشاں نہیں اتری۔
ٹخنے، ایڑی کو کچھ ہوا ہے۔ موچ آئی ہے یا پاؤں مڑ گیا؟ وہ گردن ترچھی کر کے اس کے پاؤں کو دیکھتا کہہ رہا تھا۔
نہیں! میرا پاؤں تو بالکل ٹھیک ہے۔ مگر وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب میں سمجھی۔ موبائل پہ ہالے کا فارورڈ میسج چیک کر کے وہ سر ہلاتی اس کی طرف آئی۔ تم مجھے واپس بھیجنے کے لیے بہانہ ڈھونڈ رہے ہو۔
جہان نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔ ایک تو جب بھی وہ یوں دیکھتا لگتا تھا اندر تک دل کا سارا حال جان لے گا۔
ٹھیک ہے! تم ادھر میری وجہ سے نہیں آئیں اور تمہارے پاؤں کو بھی کچھ نہیں ہوا۔ مجھے ابھی جانا ہے۔ ہم اس بارے میں بعد میں بات کریں گے۔
پھر کب ملو گے؟ وہ دروازے 
کی طرف بڑھا ہی تھا کہ وہ بے اختیار کہہ اٹھی۔ جہان نے رک کر اسے اسی طرح دیکھا۔
جب تم میرے لیے آئی ہی نہیں ہو تو پھر دوبارہ ملنا؟
ابھی خود ہی تو تم نے کہا کہ بعد میں بات کریں گے ورنہ مجھے کیا۔ اس نے خفگی سے شانے اچکاۓ۔ جہان نے ذرا مسکرا کر سر جھٹکا۔
کل دوپہر ایک بجے شارپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے کنویں پہ ملنا۔
کون سا کنواں؟
مادام! آپ میرے لیے نہیں، کپادوکیہ کی سیاحت کے لیے آئی ہیں تو آپ کو یہاں کی تمام ٹورسٹ اٹریکشن کا پتہ تو ہو گا۔ کل ہم کنویں پہ ملیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور دھیان رکھنا کنواں کافی گہرا ہے۔ تمہیں کلاسٹرو فوبیا تو نہیں ہے؟ وہ جیسے یاد آنے پہ جاتے جاتے پلٹا۔ حیا نے نفی میں گردن ہلائی۔
اوکے۔ اس نے دروازہ کھولا۔ احتیاط سے اطراف میں جھانکا پھر باہر نکل گیا۔ بہارے اسی طرح سو رہی تھی۔ حیا نے دروازہ بند کیا اور پھر بے اختیار دل پہ ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کر کے گہرا سانس لیا۔ ایک دبی دبی مسکراہٹ اس کے لبوں پہ بکھر گئی۔
بہت اسمارٹ بنتا تھا جہان۔ شاید وہ اس سے ذیادہ اسمارٹ تھی کہ اس نے اسے ڈھونڈ ہی نکالا تھا۔ ہاں اس کے سامنے یہ نہیں مانے گی کہ وہ اس کے لیے آئی ہے۔ جس بندے نے اسے خوار کیا اس کو تھوڑا بہت خوار کرنے کا حق تو اسے بھی تھا۔
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے واپس آئی اور ہیئر برش اٹھاتے ہوۓ آئینے میں دیکھا۔
اجرک کے کرتے پہ سامنے، بالوں پہ، کانوں کے قریب اور دونوں ہاتھوں پہ افشاں لگی تھی۔ ازبیلی اسٹون کے فرش پہ ڈبی ابھی تک الٹی پڑی تھی۔ وہ ڈبی اٹھانے کے لیے نہیں جھکی۔ افشاں کی سب سے پیاری بات یہ تھی کہ اسے جتنا خود سے اتارنے کی کوشش کرو یہ پھیلتی چلی جاتی ہے اور جس کو چھوتی ہے اس کو چمک عنایت کر دیتی ہے۔
دوپہر ایک بجے شارپ۔ اس نے زیر لب مسکراتے ہوۓ اپنے عکس کو دیکھتے برش بالوں میں اوپر نیچے چلانا شروع کیا۔ ابھی اسے سو دفعہ برش کرنا تھا۔
***
صبح آشیانہ کے اطراف کے پہاڑوں پہ بہت سہانی اتری تھی۔ کپادوکیہ کو جیسے اس کا حسن واپس مل گیا تھا۔
اس نے بہارے کو تیار ہونے کو کہا۔ پھر مزید کچھ نہیں بتایا۔ بہارے ابھی بال بنا رہی تھی۔ وہ اسے وہاں چھوڑ کر اپنے عبایا اور اسکارف کو پن لگاتے ہوۓ نیچے آئی۔ آج اس کا موڈ بہت خوش گوار تھا۔
فاتح استقبالیہ کاونٹر پہ تھاوہ لابی بھی چھوٹے سے پتھریلے کمرے کی مانند بنی تھی غاروں میں غار
صبح بخیر آپا جلدج سے سب کام چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوا
شکریہ فاتح!وہ اسکےسامنےآکھڑی ہوئی ایک بات پوچھنی تھی یہاں آس پاس کوئی کنواں ہے؟
کنواں؟فاتح نے اچھنبے سے دوہرایا پتا نہیں کنویں ہیں بہت سے مگر آپ کس کنویں کی بات کررہی ہیں؟
کوئی ایسا کنواں جو ٹورسٹ اٹریکشن ہو اور بہت گہر ہو
فاتح کو بات سمجھانے کیلئے اسے آہستہ سے الداظ دوہرانے پڑ رہے تھے فاتح نے تزبزب سے نفی میں سر ہلایا
نہیں آپا!میں ایسے کنویں کو نہیں جانتا ویران کنویں مل جائیں گے مطر سیاحتی مرکز مشکل ہے
سوچوفاتح!کوئی بہت گہرا کنواں ہو گا ادھر سوچونا اس کے دل میں بےچینی سی انگڑائی لینے لگی اللہ سمجھے جہان سکندر کو کبھی انسانوں کی زبان میں بات نہی کریگا پھر ایک پہیلی؟
مجھے واقعی کسی گہرے کنویں کا نہیں پتا وہ زرا دیر کو رکا
آپ گہرے کنویں کا تو نہی پوچھ رہیں؟
تو اتنی دیر سے می اور کیا پوچھ رہی ہوں فاتح؟
نہی،نہیں آپ کسی کنویں کا پوچھ رہیں ہیں؟اصلی کنویں کا جو گہرا ہو یا آپ'گہرے'کنویں کا پوچھ رہی ہیں؟
دونوں میں کیا فرق ہے؟ اس نے سوالیہ آبرو اٹھائی شائد وہ کسی منزل کے قریب تھی
دیکھیں آپا!فاتح دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے ٹوٹی پھوٹی انگلش میں کہنے لگا ایک تو ہوتا ہے کنواں جس سے لوگ پانی نکالتے ہیں جس کے بارے میں،میں زیادہ نہیں جانتا اور ایک ہے 'گہرا کنواں' وہ کنواں نہیں ہے وہ..یلنار شہری ہے
یلنار شہری..مطلب؟اس نے نا سمجھی سے پوچھا فاتح نے بے بسی سے اسے دیکھا اورنفی میں سر ہلایا اسی پل مسز سونا لانڈری باسکٹ اٹھائے وہاں داخل ہوئیں فاتح نے فورا انہیں پکارا
سوناخانم یلتار شہری کو انگلش میں کیا کہے گے؟
انڈرگراونڈسٹی انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
ایک منٹ مسز سونا وہ مجھ سے کمرے میں افشاں گر گئی تھی وہ صاف ہو جائے گی نا؟
ہاں،فکرنہ کرو پنار کر لے گی اسے مطمئین کر کے وہ باہر نکل گئی انڈرگراونڈسٹی آپا!وہ زیرے زمین شہر ہے جس کا نام "ویرین کیو"یعنی گہرا کنواں ہے آپ اسکا پوچھ رہی تھیں
حیاپریقین نہیں تھی
شائد!میں نے کپادوکیہ کے زیرزمین شہروں کا سناتو ہے مگر وہ تو بہت سے ہوں گے کیا یہ"ویرن کیو"کوئی مشہور سپاٹ ہے؟
یہ کپادوکیہ سب سے بڑا یلتار شہر ہے آپا!مگر آپ کو کلیسٹر فوبیا تو نہیں ہے؟
وہ جیسے چونکی اسکے دل کی دھڑکن ایکدم سے بڑھ گئی
نہیں!اورہاں مجھے یہی جانا ہے بلکل یہی جگہ ہے وہ جیسے پر جوش ہو گئی
پھر آپ پنار کیساتھ چلی جائیں وہ آج شہرجا رہی ہے گارفیلڈ کی دوا لینے
ٹھیک ہے وہ ایک دم سے اتنی خوش ہوئی کہ اسکی آنکھیں چمکنے لگیں فاتح نے زرا اچھنبے سے اسے مڑکرجاتے دیکھا آشیانہ کے کسی مہمان کو اس نے کلاسٹر فوبیا نہ ہونے پہ اتنا پرجوش ہوتے ہوئے پہلی بار دیکھا تھا۔
***
ترقی کے صوبہ'نوشہر'کا وہی معنی تھا جو پاکستان کے شہر"نو شہرہ" کا ہے ویرین کیو یہاں کا سب سے بڑا زیر زنین شہرتھا ایسے سینکڑوں شہر کپادوکیہ میں موجود تھےجو کم سے کم بھی دو منزلہ تھے جیسے تہہ خانے ہی تہہ خانے ہوں- گئے زمانے میں کپادوکیہ کے باسیوں (عیسائی آبادیوں) نے یہ شہر بنائے تھے تاکہ جنگ کے دنوں میں یہاں پناہ لی جا سکے انکے پاس شہر کے دہانوں کو مکمل طور پہ بند کرنے کا نظام بھی موجود تھا پانی خوراک، روشن دان نکاسی اور اخراج کا نظام غرض یہ تمام انتظامات سے آراستہ مکمل شہر تھےبس ان سے آسمان نظر نہیں آتا بیسویں صدی کے آغاز میں عیسائی یہاں سے چلے گئے تھے اب برسوں سے یہ شہر ویران تھے چند سال پہلے انکو سیاحوں کیلئے کھول دیا گیا تھا
ویرین کیو'کی آٹھ منزکیں سیاحوں کیلئے کھولی تھی ویرن کا مطلب گہرا اور کیو یعنی کنواں اردو میں گہری دوستی اور دشمنی کیلئے استعمال ہونے والا لفظ'دیرینہ کا ماخز بھی یہی ویرین تھا
مولوت بے،اسےبہارے اورپنارکو ایک لمبی ڈرائیو کے بعد ویری کیو لے آئے تھے وہ گارفیلڈ کو لیکر خود شہر سے چلے گئے اور وہ تینوں شہر کی داخلی سرنگ کیطرف آ گئی جہاں سیاحوں کی لمبی قطار لگی تھی ویرین کیو باہر سے یوں لگتا جیسے کوئی چھوٹی پہاڑی ہو جسکی دیواروں میں بہت سے سوراخ تھے یوں جیسے کوئی جادو گرنی خاکی چغہ اوڑھ کر جھکی بیٹھی ہو اور اسکے چغے سے بہت سی آنکھیں جھانک رہی ہوں داخلی سرنگ غار کے دہانے پہ وہ چھوٹا سا راستہ تھا جس سے اندر جانا تھا باہر دھوپ نکلی تھی لیکن سرنگ دور سے ہی اندھیری لگ رہی تھی
یہ سویٹر رکھ لو شائد ضرورت پڑ جائے پنارنے خود بھی سویٹر پہن لیا تھااوراب دوسرا اسکی طرف پڑھا رہی تھی حیا نے حیرت سے اسے دیکھا پھر چلچلاتے سورج کو
اتنی گرمی میں؟
رکھ لو پنار کے دوبارہ کہنے پہ اس نے سویٹر طے کر کے بازو پہ ڈال لیا سیاہ پرس دوسرے کندھے پہ تھا بہارے بے پنار کی انگلی پکڑ رکھی تھی بالوں کو پونی میں باندھے وہ دھوپ کے باعث آنکھیں سکیڑے کھڑی تھی
آپنی باری پہ وہ ٹکٹ دکھا کر وہ آگے پیچھے سرنگوں میں داخل ہوئی باہر دھوپ تھی اندر اندھیرا سا پھیلا تھا کپادوکیہ کے غاروں اور پہاڑو کی مہیب پراسرار خوشبو ہرسو پھیلی تھی گایئڈ ان سب کی رہنمائی کرتا جا رہا تھا رش کافی تھا اور راہ داری تنگ بعض جگہ گو اتنی تنگ ہوتی کہ دونوں کندھے اطراف کی دیوار سے تکراتے اور بعض جگہ گردن جھکا کر آگے ہونا پڑتا
چند راہداریاں اور سیڑھیاں گزر کر وہ سب سیاہ ایک بڑے کمرے میں جمع تھے جہاں شورسا مچا تھا سیاحوں کے سوال اور اونچی آواز میں بولتا گائیڈ عجی مچھلی بازار سا بنا ہوا تھاوہ بور ہونےلگی جہان کا کوئی آتاپتا نہیں تھا اور فی الوقت اسے یہ جاننے میں دلچسپی نہیں تھی کہ شہر کا روشن دان اور پانی کسطرح کام کرتا تھا سو وہ پنار کیطرف مڑی
تم بہارے کا خیال رکھنا..میں بس آرہی ہوں
تم کہاں جا رہی ہو؟ بہارے پریشانی سے کہہ اٹھی
میں اپنے طورپہ اندر سے یہ شہر دیکھنا چاہتی ہوں تم پنار کو تنگ تو نہیں کرو گی؟
بہارےنے نفی میں سرہلا دیا مگر وہ اسکے جانے پہ خوش نہیں تھی
تم جاو میں چھوڑی بلی کا خیال رکھوں گی
وہ اس کمرے سے آگے کھسک آئی کمرے ہی کمرے راہداریاں، محرابی چوکھٹیں جیسے دی ممی کا سیٹ ہو دیواروں پہ دوور دور ،شعلوں کی مانند بلب لگے تھے جو اندھیر گلیو کو مدھم زرد روشنی بخش رہے تھے پراسرار مگر خوبصورت
وہ سیاحوں کے جھمگٹوں سے زرا آگے ہوئی تو ٹھنڈ کا آھساس ہو پنار ٹھیک کہتی گھی اس نے گرے سویٹر عبایا کے اوپر پہن لیااور بٹن سامنے سے کھولے رہنے دیے وہاں آس پاس کوئی نہ تھااور گٹھن والی جگہ تھی سو نقاب ٹھوڑی تک نیچے کر دیا-

جاری ھے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.