Ads Top

حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر 23 Haya By Fakhira Waheed Episode No

 حیا
  از 
فاخرہ وحید


 حیا  از فاخرہ وحید
23 قسط نمبر  
Haya By Fakhira Waheed 
Episode No 23
حیا
از
فاخرہ وحید

(قسط 23)
لاہور کی سڑکوں پر وہی بے ہنگم ٹریفک اور گاڑیوں کا شور تھا. ہسپتال میں مریض اپنی اپنی تکلیفیں لیے پڑے تھے. اور اسی ہسپتال کے ایک پرائیویٹ کمرے میں وہ دنیا جہاں سے بے خبر پچھلے دو دن سے اندھیروں کا سفر کر رہا تھا. رنگت پھیکی پڑی ہوئی, چہرہ بے تاثر اور وینٹیلیٹر ماسک سے ڈھکا ہوا!
دماغ جہاں کل تھا آج بھی وہیں ہلکورے لے رہا تھا. شیری اور اس پر جھپٹتے ہاتھ!
کمرے کا دروازہ بے آواز کھلا اور بند ہو گیا. چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ اب اس کے سر پر کھڑی تھی.

"ڈاکٹر کہہ رہا تھا تم میں بہتری آ رہی ہے, بہتری آ رہی ہے تو تم اٹھتے کیوں نہیں ہو؟" وہ خفا سی بول رہی تھی. آنکھوں میں رات کی سرخی اب تک تھی اور وہ سوجی ہوئی لگتی تھیں.
" بہتری آ رہی ہے تو وہ اٹھ بھی جائیں گے." آواز پر حیا پیچھے مڑی شیری سپاٹ سا چہرہ لیے بیڈ کے بائیں طرف پڑے اسٹول پر آ بیٹھا. حیا جو حمزہ کو ڈانٹنے کا اور ارادہ رکھتی تھی (ظاہر ہے کیوں کہ وہ سن نہیں سکتا تھا) ڈھیلی سی پیچھے صوفے پر جا بیٹھی. اور پھر سر تب اٹھایا جب شیری کو حمزہ سے بات کرتے سنا.
" آپ کیوں آئے تھے وہاں؟ آپ کو مجھ پر بھروسہ نہیں تھا؟ " وہ بے بس سا شکوہ کر رہا تھا. " اگر آپ کو کچھ ہو گیا نا تو میں خود کو کبھی معاف نہیں کروں گا." لو بھئی! پچھتاوے والوں کی قطار میں کھڑا ہوتا ایک اور شخص.
"ماسی, چاچو, میں ہم سب آپ کے لیے بہت پریشان ہیں." وہ چپ ہوا اور ادھر حیا کے چہرے پر نا گواری آئی. ' ہاں میں تو یہاں لڈیاں ڈال رہی ہوں. ' وہ شیری کی پشت کو گھور رہی تھی.

" اور ماسی نے آپ کے لیے بہت سارا پیار بھیجا ہے." وہ اب حمزہ کے ماتھے پر جھکا پیار کر رہا تھا. اور ادھر حیا نے ہونٹ سکیڑے. اوہ! مسز ہارون کا پیار یوں دینا ہوتا ہے. اور پھر اپنی سوچ پر اس نے خود ہی لعنت بھیجی.
" شیری! تم لوگ مجھے نا پسند کرتے ہو؟ " وہ فرش کو گھورتے آہستہ سے بولی. اور حمزہ پر جھکے شیری نے سر اٹھایا.
" نا پسند کرتے تو آپ کو اب تک اپنے ساتھ نہ رکھا ہوتا." وہ بے تاثر سا کہہ رہا تھا.
" نہیں میرا مطلب حمزہ .... " اس نے جملہ ادھورا چھوڑا اور شیری اسٹول پر پیچھے گھوما.
" بھابھی! حمزہ بھائی پوری دنیا میں صرف ایک انسان سے نفرت کرتے ہیں." حیا کا دل دھڑکا. شاید اسی سے.
" اور وہ انسان وہ خود ہیں. ہی ہیٹ ہم سیلف." وہ واپس حمزہ کی طرف مڑ گیا. حیا کے اعصاب ڈھیلے پڑے. اسے آج سمجھ آیا حمزہ کی تصویر کے نیچے انگریزی میں لکھا وہ فقرہ. " ہیٹ می بکز آئی ہیٹ مائی سیلف." اس نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا لی.
" اور وہ آپ سے نف.." جملہ ادھورا رہ گیا. حیا نے دیکھا وہ کمرے سے ملحق باتھ روم کی طرف بڑھ رہا تھا, حیا اس کے پیچھے لپکی اور اب وہ سنک پر جھکا قہ کر رہا تھا.
" تم ٹھیک ہو." وہ متفکر نظر آنے لگی. وہ اب بھی منہ کھولے جھکا ہوا تھا.
" ڈاکٹر کے پاس چلیں؟" وہ اب نل کھولے منہ پر پانی مار رہا تھا.
" نہیں. میں ٹھیک ہوں, شاید میں زیادہ ٹینشن لے رہا ہوں." ٹشو کھینچتے وہ باہر آرہا تھا. حیا نے اسے راستہ دیا. " بھائی کا خیال رکھیے گا." آہستہ سے کہتے وہ دروازے تک گیا اور پھر واپس مڑا. " وہ آپ کو نا پسند نہیں کرتے." پھر دروازہ کھلا اور بند ہو گیا.
" اب تم بھی اٹھ جاؤ مسٹر حمزہ. ہم سب کو آپ سے بہت شکایتیں ہیں" وہ جو پہلے اس پر غصہ کرنے آئی تھی اب ہلکا محسوس کر رہی تھی.
" آپ کی ماسی, چاچو اور شیری سب آپ سے بہت پیار کرتے ہیں اور میں. " اس نے ڈرامائی پاز دیا. " اور میں بھی." اپنے الفاظ سے محفوظ ہوتے وہ دل کھول کر مسکرائی. " لیکن بتانا مت کسی کو." وہ مسکراہٹ دباتے اسے گھور رہی تھی. اور تبھی دوبارہ دروازہ کھلا مسکراہٹ غائب ہوئی اور ماتھے پر بل پڑے. یہ سب کو اسی وقت آنا ہوتا ہے. خفگی سے پیچھے مڑی تو سفید شلوار قمیص زیب تن کیے حمزہ کی نرس ٹرے اٹھائے بیڈ کی طرف آ رہی تھی. اسے خاص حمزہ کے لیے رکھا گیا تھا. حیا کو دیکھ کر وہ مسکرائی مگر حیا بے تاثر رہی.
" آپ ان سے بیٹھ کر یہ جو باتیں کرتی ہیں. کیا یہ آپ کو سنتے ہیں؟" وہ مگن سی ٹرے سے وائپس اٹھاتے کہہ رہی تھی.
" نہیں" حیا نے کندھے اچکائے.
" شاید ہاں." نرس نے ایک گیلا ٹشو حمزہ کے چہرے پر رکھتے ہوئے کہا. حیا گڑبڑا گئی. اور ابھی جو اس نرس کے آنے پر وہ خفگی تھی وہ ہوا ہو گئی.
" اکثر جب کومہ کے پیشنٹس ہوش میں آتے ہیں تو وہ بتاتے ہیں ان کو اپنے آس پاس ہوتی باتیں سنائی دیتی تھیں. اور یہ تو بس بے ہوش ہیں. تو ہو سکتا ہے یہ آپ کو سن رہے ہوں. "
حیا کی گردن میں گلٹی ڈوب کر ابھری. وہ تو پتا نہیں کیا اناپ شناپ بول رہی تھی. اس نے گھور کر سر جھکائے کام کرتی نرس کو دیکھا.
"بس یہ ہی کرنے آئی ہو" حمزہ کے منہ کی طرف آنکھوں سے اشارہ کیا." یا کچھ اور کام بھی ہے؟ "
"ابھی تو فیس واش کرنا تھا اور..."
" ٹھیک ہے میں کر دوں گی. اس کی بیوی ابھی زندہ ہے " وہ آگے کو جھکی اور اس کی ٹرے سے وائپس اٹھالیے. نرس ہکا بکا سی اسے دیکھتی رہی. " تم جاؤ." اوپر دیکھے بغیر اس نے کہا اور نرس اپنی ٹرے اٹھا کر باہر نکل گئی. وہ اب حمزہ کے منہ کو نرم ٹشو سے رگڑ رہی تھی.
" اگر سن بھی لیا ہے تو کیا؟ ڈرتی نہیں ہوں میں تم سے." اور یہ کہتے ہوئے بھی اس کا ہاتھ کانپا تھا.
*********************************************
اندھیرے چھٹنے لگے, پتلیاں بند آنکھوں کے نیچے ہلنے لگیں. دماغ سفر کر کر کے تھک گیا تھا. آنکھیں کھلیں. بند ہو گئیں. دوبارہ کھلیں, روشنی تیز لگی دوبارہ بند کر لی گئیں. اور پھر یہ اندھیرا اجالا کتنی دیر چلتا رہا. یہاں تک کہ روشنی آنکھوں میں چبھنا بند ہو گئی.سامنے دیوار پر پینٹنگ لگی تھی. یہ کون سی جگہ ہے وہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا. جسم میں درد سے ٹیسیں اٹھ رہی تھیں. کہنیوں کے بل اٹھنے کی کوشش کی مگر کندھوں کے زخم ابھی بھرے نہیں تھے اٹھتا اٹھتا وہ دوبارہ بیڈ پر ڈھے گیا. آنکھیں سختی سے بند کر لیں. پھر کئی لمحے یوں ہی گزر گئے. دماغ بیدار ہوتا گیا. آنکھیں کھول کر وہ سیدھا کمر کے بل لیٹا کمرے کا جائزہ لیتا رہا. تبھی دروازہ کھلا اور اس نے نیم وا آنکھیں دوبارہ بند کر لیں. کیوں یہ اسے بھی نہیں پتا تھا. وہ دیکھ نہیں پایا اندر آنے والا کون ہے. کوئی آکر اس کے پاس اسٹول پر بیٹھا, ہاتھ تھاما اور اس کے ماتھے پر جھک گیا. " بہت مس کر رہا ہوں میں آپ کو." آنے والا بولا تو حمزہ کو اپنی روح میں سکون اترتا محسوس ہوا. اس کی آنکھوں کے کونے گیلے ہونے لگے یہاں تک کہ ایک آنسو لڑھک کر باہر آ گیا. شیری جو اب اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں دبا رہا تھا چونکا. اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کے نیچے گرتے آنسو کو انگلیوں کے پوروں پر اٹھایا. " بھائی؟" کانپتی آواز کے ساتھ اسے پکارا. اور بھائی نے آنکھیں کھولیں, جن میں سرخ دھاریاں, , گزرے دنوں کی کہانی, زخموں کی تکلیف اور شیری کو سلامت دیکھ کر سکون تھا. " آپ کو ہوش آ گیا؟" وہ حیرت اور خوشی کی سی کیفیت میں کچھ دیر خود کو یقین دلاتا رہا اور جب حمزہ کی آنکھیں کھلی رہیں تو وہ اس پر گر گیا اور بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا. حمزہ نے ہاتھ بڑھانا چاہا مگر کندھے اکڑے ہوئے تھے وہ نہیں اٹھا سکا. کچھ منٹ یوں ہی گزر گئے. وہ روتا رہا اور حمزہ آنکھیں بند کیے گزری قیامت کو سوچتا رہا. جب کافی دیر شیری نہیں اٹھا تو حمزہ نے بند آنکھیں کھولیں.
" بس کر.... یار! میرا سانس... رک... رہا ہے." وہ بمشکل بول پایا. اس کی زبان خشک تھی. شیری اس سے الگ ہوا. اس کا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں لیا.

" آپ کو اندازہ نہیں میں نے یہ دن آپ کے بغیر کیسے گزارے. میں اب تک گھر نہیں گیا. " کافی دیر شیری اس سے باتیں کرتا رہا, کیسے اسے لے کر آئے, ردابہ کہاں ہے, کیوں نہیں آئی, کب آئے گی, دانی نے غداری کیوں کی اور یہ کہ اب وہ جیل میں ہے اور حمزہ کو اس کا فیصلہ کرنا ہے. وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اسے سنتا رہا یہاں تک کہ شیری چپ ہو گیا.
" میں بیٹھنا چاہتا ہوں." حمزہ نے اپنے بے جان پڑے بازؤوں اور پھر بیڈ کو دیکھا. تب شیری کو احساس ہوا اسے ڈاکٹر کو بلانا چاہئے تھا. وہ سر کھجاتا معذرت کرتا ڈاکٹر کو بلانے باہر گیا. اور حمزہ پر سکون سا چھت کو دیکھتا رہا.
*********************************************
حیا کو اپنے کپڑوں میں سے دوائیوں کی بو آنے لگی تھی, وہ کپڑے بدلنے حمزہ کے گھر چلی گئی تھی اور ابھی تھوڑی دیر پہلے واپس آئی تھی جب اسے پتا چلا حمزہ کو ہوش آ گیا ہے. وہ خوش ہوئی تھی یا پریشان ہو گئی تھی وہ نہیں جانتی تھی. حمزہ ٹھیک ہو جائے گا یہ خوشی اور حیا کو واپس جانا پڑے گا یہ پریشانی کی بات تھی.
کمرے کا دروازہ بند تھا باہر بہت سے سادہ کپڑوں والے سیکیورٹی اہلکار تھے. وہ اچنبھے میں تھی کہ حمزہ کو ملنے کون آیا ہے جو اتنی بھگدڑ مچی ہے.
" منسٹر پنجاب حمزہ سے ملنے آئے ہیں. " جنت نے سر گوشی کی تھی.
'" کیوں؟" وہ حیران ہوئی تھی.
" حمزہ ان کے قریبی پولیس آفیسرز میں سے ہے. " آواز اب بھی سرگوشی سے اونچی نہیں تھی. تبھی کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک لمبا چوڑا گھنی مونچھوں والا آدمی, کلف لگی سفید شلوار قمیص اور سیاہ جیکٹ میں ملبوس باہر آیا. اس کے پیچھےفریحہ, علی اور زویان بھی تھے. آدمی ان دونوں کے پاس رکا. بغور حیا کو دیکھا.
" مسز حمزہ؟"
" جی. " اس نے اعتماد سے کہا. اور آدمی کی سنجیدگی مسکراہٹ میں ڈھل گئی. " مجھے ثقلین کہتے ہیں. حمزہ کا دوست ہوں. خوش رہو." اپنا تعارف اور حیا کو خوش رہنے کی دعا ایک ساتھ دے کر, اس کے سر پر ہاتھ رکھتا وہ آدمی اپنی شاہانہ سیکیورٹی کے ساتھ باہر نکل گیا.
" عجیب آدمی ہے. " وہ بڑبڑاتے ہوئے مڑی مگر جنت وہاں نہیں تھی. دروازہ کھل کر بند ہوا تھا. اور وہ یقیناً حمزہ سے ملنے گئ تھی. حیا گہرا سانس لیتے وہیں کرسی پر ڈھے جانے کے سے انداز میں بیٹھی اور آنکھیں موند لی.
جاگتے حمزہ کے سامنے جا کر کھڑے ہو جانا آسان نہیں تھا.
"آپ یہاں کیوں بیٹھی ہیں؟" شیری باہر سے آ رہا تھا اس کو وہاں دیکھ کر رکا. " ویسے ہی" اس نے گود میں رکھی انگلیوں کو مروڑتے ہوئے ایک نظر اس پر ڈالی اور دوبارہ انگلیوں کو دیکھنے لگی. وہ سیاہ عینک کے پیچھے سے اسے دیکھتا رہا یہاں تک کہ وہ دوبارہ بولی.
" وہ مجھ سے ناراض ہو گا. "
" وہ آپ کا پوچھ رہے تھے." لا پرواہی سے کہتا وہ دروازے میں گم ہو گیا. اور حیا مشکوک نظروں سے دروازے کو گھورتی رہی.

*********************************************
ردابہ اور ہارون رات گئے لاہور پہنچے تھے اور اب وہ حمزہ کے کمرے میں اس کے ساتھ موجود تھے. حمزہ کا بیڈ زرا اوپر کو اٹھا دیا گیا تھا. ردابہ اس کے پاس اسٹول پر بیٹھی تھی اور ڈاکٹر ہارون حمزہ سے رسمی حال احوال پوچھنے کے بعد پیچھے صوفے پر بیٹھے شیری سے باتیں کر رہے تھے. گزرے دنوں کی بابت سن کر ردابہ نے دوبارہ رونا شروع کر دیا تھا اور اب وہ حمزہ کو ڈانٹ رہی تھی. جب وہ چپ نہیں ہوئی تو حمزہ نے نقاہت زدہ سی آواز شیری کو دی.
" شیری! لاہور میں پانی کا مسئلہ حل ہوا کہ نہیں؟" ڈاکٹر ہارون سے باتیں کرتا شیری چونکا.
" نہیں بھائی. "
" تو ٹنکیاں بھر لو, ماسی از ان ایکشن." وہ سنجیدہ سا بولا. آنسوؤں کے ساتھ ہنستے ردابہ نے ایک تھپڑ اس کے بازو پر جڑا اور وہ درد سے کراہا.

" آپ لوگوں کی اپنی مصروفیات بھی ہیں, میں پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا." وہ اب سنجیدہ اپنے اوپر پڑی چادر کو دیکھتے کہہ رہا تھا. ڈاکٹر ہارون نے پہلو بدلہ, ردابہ کی مسراہٹ بھی غائب ہو گئی تھی. کمرے میں تناؤ سا در آیا تھا. " ایسا کیوں سوچتے ہو حمزہ. تم ہمارے بچے ہو. " وہ دوبارہ جذباتی ہو گئی تھی.
" جی جانتا ہوں." اس نے مسکراتے ہوئے کہا. شکوہ جہاں تھا وہاں پہنچ گیا تھا.
" ہیلو! حمزہ بھائی." انیقہ پرجوش سی اندر داخل ہوئی. حمزہ کے چہرے کا تناؤ ختم ہو گیا تھا.
" ہائے. کیسے آنا ہوا آپکا؟" حمزہ نے اسے مصنوعی خفگی سے گھورا.
" میرا بھائی ہے نا, بڑا ہیرو بنتا ہے, گولیاں مروا کر ہسپتال میں پڑا ہے. اسے ہی دیکھنے آئی ہوں " وہ بھی اسی کے لہجے میں بولی. حمزہ نے اپنی عزت افزائی پر سر کو خم دیا.
" میرا بھائی ہیرو بنتا نہیں, ہیرو ہے." شیری نے حتمی انداز میں ناگواری سے کہا.
" تم تو رہنے دو, بھائی کے چمچے." وہ اسٹول سنبھالتے ہوئے بولی. شیری تلملا اٹھا.
"بد تمیز" وہ منہ میں بڑبڑایا.

اور سب اس امر سے بے خبر کہ حیا گھر واپس جا چکی ہے دوبارہ حمزہ کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہو گئے.
*********************************************
باہر رات تاریک اور گہری ہوتی جا رہی تھی. پرندے کب کے گھروں کو لوٹ چکے تھے. مغرب کی نماز پڑھ کر حمزہ کے کمرے میں آ گئی تھی. دایاں ہاتھ بائیں گال کے نیچے رکھے, کروٹ لیے وہ ڈریسنگ کے شیشے میں اپنے عکس کو دیکھ رہی تھی. اور دوسرے ہاتھ سے بیڈ پر بے ترتیب لکیریں کھینچ رہی تھی. وہ چند لمحے یوں ہی دیکھتی رہتی پھر جب آنکھوں پر ہوا کا دباؤ بڑھتا تو جھپک کر دوبارہ شیشے کو گھورنے لگتی. دماغ الجھی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کر رہا تھا. کیسے وہ خوش باش اپنے گھر تھی, اغوا کر کے کسی کوٹھے پر لے جائی گئی, وہاں سے ایک آدمی اسے اپنے گھر لے آیا, نکاح کیا, اور دوبارہ اسے بے گھر کر دیا. اب دوبارہ وہ آدمی اس کی زندگی میں آ گیا تھا مگر ایسے کہ اب وہ اسے چھوڑ کر کبھی جانے نہیں دینا چاہتی تھی. کیونکہ وہ سمجھ گئی تھی یہ قسمت تھی جس نے اسے حمزہ کے گھر لا پٹخا تھا.
اس کا فون وائبریٹ ہوا تو وہ اٹھ کر بیٹھی. ڈاکٹر ہارون کالنگ. اس نے بجھے دل سے فون کان پر لگایا.
" اسلام علیکم سر! "
" گھر پر ہوں." دوسری طرف کی بات سن کر وہ دوبارہ بولی.
"اسلام آباد؟ صبح جانا ہے؟" وہ یک دم غیر آرام دہ نظر آنے لگی تھی.
" پر سر! میں...یہیں رہنا.. چاہتی ہوں.." اس نے اٹکتے ہوئے کہا.
ڈاکٹر ہارون نے کان سے فون ہٹایا اور دوبارہ کان سے لگایا. " مگر آپ کہاں رہیں گی؟" وہ حیران تھے.
" اپنے شوہر کے ساتھ." اس نے خود کو کہتے سنا. اور ادھر ڈاکٹر ہارون کے چہرے پر خوشگوار حیرت پھیلی..
" یو مین حمزہ کے ساتھ؟"
" جی" وہ آہستہ سے بولی.
" مگر ردابہ اور پھر حمزہ؟" ان کی خوشی ہوا ہوئی.
" میں نے فیصلہ لے لیا ہے سر, میں سب کو کنوینس کر لوں گی." وہ گردن اٹھاتے اعتماد سے بولی اور ڈاکٹر ہارون کے اعصاب ڈھیلے پڑگئے.

اور جب تم چاہو کچھ کرنا پھر ساری دنیا کہتی رہے تم نہیں کر سکتے مگر تم کر کے دکھاتے ہو.
*********************************************
اگلی صبح حیا کی زندگی میں ایک نئی کرن کی مانند تھی جو اگلی کئی کرنوں کے ساتھ اجالا بننے والی تھی. ردابہ کو وہ منا چکی تھی. آخر کو ردابہ نے بھی یہ ہی سوچاتھا مگر یہ فیصلہ حیا خود لے لے گی اس پر اسے حیرت ہوئی تھی. سو یہ معرکہ سر ہوا. پر اگر معرکہ زیادہ خوفناک تھا اور حیا کے لیے جان لیوا. وہ جو حمزہ کے ہوش میں آنے کے بعد ایک بار بھی اس کے کمرے میں نہیں گئ تھی اب اسے ' منانے' یہاں آئی تھی.
اس کے کمرے کے باہر کھڑی وہ گہرے سانس لے رہی تھی. جب پریشانی بڑھ جائے تو اپنا اعتماد بحال کرنے کو یہ طریقہ ڈاکٹر ہارون نے اسے سکھایا تھا. وہ ہر زاویے سے سوچ کر آئی تھی. میکسیمم کیا ہو جائے گا یہ بھی اس نے لکھا تھا. اس نے ایک نظر سیل کے نوٹ پیڈ میں لکھے پوائنٹس پر ڈالی.
دروازے سے بیڈ تک کا فاصلہ عبور کرنا مشکل تھا. مگر وہ اعتماد سے کرے گی. اس نے گردن اکڑائی. وہ اسے دیکھ کر حیران ہو گا. وہ اس کی حالت سے محفوظ ہو گی. حیرت غصے میں بدل جائے گی, وہ بھی سپاٹ چہرہ لیے اسٹول پر بیٹھ جائے گی. غصے میں وہ چلانے لگے گا.
میں اسے بازو سے پکڑ کر چپ کرواؤں گی جیاے وہ مجھے کروا دیتا تھا اور اسے بتاؤں گی کہ میں اس کے ساتھ رہوں گی.

ہاں بس! اس نے بالوں کو ہاتھ سے پیچھے جھٹکا. اور بنا کچھ سوچے سمجھے دروازے کے ہینڈل پر رکھا ہاتھ گھمایا, دروازہ اندر کو دھکیلا اور منظر واضح ہوتا گیا. وہ اسی طرح سرہانے سے اٹھے بیڈ پر ٹیک لگائے بیٹھا تھا, درمیانی سی عمر کی وہی نرس اس کے کندھے کی بینڈ ایج کر رہی تھی. حیا کا ایک ایک قدم بھاری ہوتا گیا. وہ جو اتنی پلاننگ کر کے آئی تھی ہوا ہو گئی. دل پھٹ کر باہر آنے کو تھا وہ آدمی اپنے ہوش و حواس میں اس کے سامنے بیٹھا تھا. ایک لمحے کو اس نے سوچا دروازہ کھولے اور بھاگ جائے. مگر وہ اب سر اٹھا کر اسے ہی دیکھ رہا تھا. حیا کو اپنے کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہوا, وہ جل رہے تھے, پیروں کی لغزش اسے محسوس ہو رہی تھی مگر وہ چلتی رہی یہاں تک کہ اس کے بیڈ کے قریب پہنچ گئی. وہ اب بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا. پلکیں جھپکے بغیر یک ٹک!

(جاری ہے)

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.