حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر 22 Haya By Fakhira Waheed Episode No
حیا
از
فاخرہ وحید
حیا از فاخرہ وحید
22 قسط نمبر
Haya By Fakhira Waheed
Episode No 22
حیا
از
فاخرہ وحید
قسط 22
باہر رات اتر رہی تھی. عشاء کی آذان ہوئے آدھ گھنٹا گزرا تھا. وہ علی کے گھر کھانے کی میز پر بیٹھے تھے، علاقہ کلئیر کرتے اور واپس آ کر قانونی کاروائیاں نمٹاتے ان کو اگلا پورا دن بھی لگ گیا تھا. فریحہ مسلسل علی کو حمزہ کے بارے میں اپ ڈیٹ کر تی رہی تھی اور اب بھی وہ ڈاکٹر کی کہی باتیں دہرا رہی تھی. وہ حمزہ کو دیکھنے ہاسپٹل جانا چاہتے تھے مگر فریحہ نے زبردستی انکو رات کے کھانے کے لیے یہ کہہ کر روک لیا تھا کہ ' خود تندرست رہو گے تو اس کا خیال رکھو گے' اور بادل نخواستہ اب میز پر بیٹھے بے دلی سے وہ منہ میں نوالے ٹھونس رہے تھے. حمزہ چاہے کم بولتا تھا پر اس کے ہونے کا رعب اور احساس ہمیشہ رہتا تھا، اور آج وہ کمی سب کو کھل رہی تھی.
" پھر کیا ہوا وہاں؟ "ابھی وہ سب ساتھ بیٹھے تو فریحہ ان سے وہاں ہوئے تمام تر معاملے کی تفصیلات لے رہی تھی. پلیٹ میں مقصد چمچ چلاتے علی نے سر اٹھایا اور بتانے لگا.
" گولی کی آواز سن کر ہم اس گھر کی طرف بڑھے، گھر کا نقشہ حمزہ کو پہلے ہی دانی دے چکا تھا. " پلیٹ میں گھومتے چمچ کے دائرے وسیع ہو تے گئے اور یہ چھوٹا لاؤنج تحلیل ہوتا بڑے محل نما تہہ خانے میں بدل گیا۔
ایک طرف حمزہ ہوش اور بے ہو شی کے درمیان فرش پر پڑا تھا، اس کے جسم سے خون ابل ابل کر فرش کو سرخ کررہا تھا۔ آنکھیں بند تھیں مگر دور کہیں سے آتی آوازیں اس کے کانوں میں پڑ رہی تھیں۔ وہ اٹھنا چاہتا تھا، مگر جسم ساتھ نہیں دیتا تھا۔ بہت سے لوگ شیری پر جھپٹ رہے تھے، اور وہ گنگ آنکھیں پھاڑے حمزہ کے بے جان ہوتے وجودکو دیکھ رہا تھا۔ یہاں کچھ نہیں ہو سکتا تھا وہ بہت لوگ تھے۔ سینکڑوں! اور کرنے کی ہمت تھی بھی کس میں؟ شیری کا اپنا سر بھاری ہوتا جا رہا تھا.
" فلیش کہاں ہے، کدھر چھپائی ہے، واپس کر دو " جیسی آوازیں سنتا حمزہ اندھیری گھاٹیوں میں ڈوبتا جا رہا تھا۔ عجیب شور تھا۔ تالیوں کا، ہنسنے کا، حیرت اور جھنجھلاہٹ سے ہوتی سرگو شیوں کا۔ اور پھر بیسمنٹ کی سیڑھیوں پر بھاری قدموں کی آوازیں آنے لگی۔ اس سے قبل کہ وہ چو کنا ہوتے، ہر طرف دھواں پھیلنے لگا، یہ آنسو گیس تھی. شیروان نے جلدی سے اپنا منہ اپنی قمیص کے اندرونی حصے سے ڈھانپا اور شیری کو بھی پکڑتے ایک طرف لے گیا۔ اب وہاں کا ماحول مختلف تھا۔ مرد نما عورتیں گلا پھاڑ پھاڑ کر کھانستے, آنکھیں مسلتے, ادھر ادھر گرتے پڑ رہے تھے، پوری بیسمنٹ میں منہ پر ملٹری ماسک چڑھائے پولیس اہلکار پھیل چکے تھے اور گرفتاریاں ہو رہی تھیں، کچھ منٹوں کی تگ و دو کے بعد علی شیری اور شیروان تک پہنچ گیا تھا۔ اور خاموش نشاندہی پر وہ حمزہ کی طرف بھاگے جو اب اپنے حواس مکمل طور پر کھو چکا تھا۔ بیسمنٹ میں پھیلا دھواں علی کی پلیٹ میں گھومتی چمچ میں آ سمویا۔ اس ہولناک حادثے کا تذکرہ کرتے ماحول دوبارہ وحشت ذدہ ہو گیا تھا۔ کھانے سے دل اچاٹ تھا۔ دوسروں کو مار کر جسم گھسیٹنے اور اپنوں کا خون آلود جسم اٹھانے میں بہت فرق ہوتا ہے اور پھر ایسے اپنے کا جو ان سب کے ملنے اور جڑنے کی وجہ ہو تو سوگواری بجا تھی.
" میں اور زویان حمزہ, کو لے کر باہر چلے آئے، شیری اور شیروان کو بھی ریسکیو کرلیا گیا, شیری بضد تھا حمزہ کے ساتھ گاڑی میں آنے کو. ہاسپٹل تک اس کو لے کر جانا اذیت ناک تھا۔ خون بہہ بہہ کر جمنے کو تھا۔"
" شیری کا تمہیں بتا چکا حمزہ کو دیکھ کر اس کی اپنی طبیعت بگڑنے لگ گئی تھی." علی نے جھرجھری لی اور خاموش ہو گیا۔
" دانی نے حمزہ کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ وہ تو اپنی مرضی سے گیا تھا نا؟" فریحہ اب تک الجھی تھی۔ پھر شیروان نے آگے جوڑا۔
" دانی پر ان کو شک ہو گیا تھا، انہوں نے اس کی بیوی اور بچے کو قید کر لیا تھا اور اسی کے بدلے حمزہ کو ٹریپ کرنے کو کہا۔ اور بھابھی! فیملی آلویز کمز فرسٹ۔ " بے دلی سے شانے اچکاتا وہ اپنی پلیٹ پر جھک گیا۔ دانی نے غلط کیا وہ سب جانتے تھے, وہ حمزہ سے مدد لے سکتا تھا مگر خیر اب اس کا فیصلہ انہوں نے حمزہ کے لیے ہی چھوڑ دیا تھا۔
" بھابھی شیری ابھی تک اٹھا نہیں؟ " سمایا نے فکر مندی سے پوچھا۔
" میں کھانے کا کہنے گئی تو وہ سو رہا تھا. شاید نیند کی دوا کا اثر ہے." اور سمایا بس سر ہلا کر رہ گئی.
*********************************************
کل رات اس کے کمرے سے آنے کے بعد حیا اب تک واپس نہیں گئی تھی. ہاں تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ آئی سی یو کے باہر چکر لگا لیتی یا نرس سے حال احوال لے لیتی. اس کے دل میں ایک ننھے سے احساس نے جنم لیا تھا. جس کو وہ بار بار اپنے ذہن سے جھٹک رہی تھی.
" حیا وہ خاموش لیٹا ہے تبھی تمہارا دل اس کی طرف جھک رہا ہے ورنہ اس کی انگارے برساتی آنکھیں اور زبان تم دیکھ چکی ہو. اس نکاح کو کوئی رئیل معنی دینے کی کوشش مت کرو." وہ اپنے آپ کو حمزہ سے دور رہنے کے لیے دلیلیں دے رہی تھی.
فجر ہونے میں ابھی وقت تھا اور وہ باہر ہسپتال کے لان میں پتھر کے بنے زمین سے ایک دو انچ اونچے بینچ پر بیٹھی گزرے دنوں کے بارے میں سوچنے لگی.
یہاں کیوں بیٹھی ہو؟ کافی کے دو مگ ہاتھ میں لیے جنت اس کے پاس آ بیٹھی. ایک مگ اس کی طرف بڑھایا اور دوسرے سے خود گھونٹ بھرنے لگی.
" جنت! تمہیں بھی لگتا ہے کہ میری بد دعاؤں کی وجہ سے اس کی زندگی خراب ہو رہی ہے؟" وہ افسردہ تھی.
" مجھے لگتا ہے تمہاری دعاؤں کی وجہ سے وہ ٹھیک ہو جائے گا." جنت نے پر جوش انداز میں کہا.
" میں اس کے لیے کوئی دعائیں نہیں کرتی. اور نہ کروں گی" حیا نے اسے گھورا. وہ اپنے اندر سر اٹھاتے احساس کو دبا رہی تھی.
" میں تمہیں حمزہ کی پچھلی زندگی کے بارے میں بتاؤں تب بھی نہیں؟ " جنت نے ابرو اٹھاتے پوچھا.
"مجھے کوئی دلچسپی نہیں." خفا سی وہ مگ سے گھونٹ بھرنے لگی.
" حیا! حمزہ بہت اچھا لڑکا ہے. " جنت اس کی بات نظر انداز کیے بتانے لگی. اور حیا نے اس کی بات اچک لی.
"مسز ہارون جب مجھ سے ملتی ہیں یہ ہی کہتی ہیں" اس نے بے نیازی سے کندھے اچکائے.
" اور کل تو ڈاکٹر ہارون بھی کہہ رہے تھے." وہ خود ہی ہنس دی.
" انسان تلخ نہیں ہوتے, زندگی تلخ بنا دیتی ہے. " جنت کافی کے مگ میں دیکھتے بولتی گئی.
" میری زندگی سے زیادہ اس کی زندگی تلخ ہے؟ جنت بی بی! یہاں ہر کوئی بری زندگی ہی گزار رہا ہے. پر اس کا یہ مطلب نہیں آپ ان کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھانے لگ جاؤ." وہ جنت کے حمزہ کی حمایت کرنے پر بھڑک اٹھی تھی. جنت نے اسے نظر انداز کیا.
" حمزہ شوخ سا خوش مزاج لڑکا تھا. میں اسکول کے زمانے سے اسے دیکھتی آ رہی ہوں. وہ میں اور رانیہ بہت اچھے دوست تھے. اور پوری کلاس ہم سے پناہ مانگتی تھی." اسکول کی یادیں دماغ کے کسی کونے میں سر اٹھانے لگیں. پھر وہ رکی اور حیا کو دیکھا جسے یہ کہانی سننے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی. وہ خالی لان اور رات کے اندھیرے سے کالے ہوتے گھاس کو دیکھ رہی تھی.
" رانیہ! حمزہ کی منگیتر ." جب حیا نے نہیں پوچھا تو اس نے خود ہی واضح کر دیا. اور اندھیروں نے دیکھا حیا کے ماتھے پر ہلکے بل پڑے تھے. مگر وہ کچھ نہیں بولی.
" حمزہ اور رانیہ کے نکاح کو ایک ہفتہ تھا جب رانیہ مر گئی. " حیا کی گردن میں گلٹی ڈوب کر ابھری. جنت کچھ دیر چپ بیٹھی رہی. تو حیا نے بے چینی سے گردن موڑی. جنت انگلی کے پوروں سے آنکھوں کے کونوں میں ابھرتے آنسو صاف کر رہی تھی.
" حمزہ سے بدلہ لینے کے لیے, ڈرگ ڈیلرز نے رانیہ کو اغواہ کر لیا اور اس پر حیوانیت کی انتہا کر دی." جنت نے مگ ایک طرف رکھ دیا. حیا اپنے مگ کے کناروں پر انگلی پھیرتے سنتی رہی.
" ان درندوں نے اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی, اس کے جسم میں ڈرگز کے انجیکشن لگائے, وڈیو بنائی, حمزہ کو بھیجی. " جنت نے ایک ہی سانس میں روداد سنائ. حیا کو اپنے رونگھٹے کھڑے ہوتے محسوس ہوئے. اپنی آنکھوں کی پتلیوں پر اسے گرم مائع کا احساس ہوا. مگر وہ پلکیں جھپکتے ان کو اندر اتار گئی. اسے لگتا تھا وہ جہنم کی سی زندگی گزار رہی ہے مگر دنیا میں عذاب تو رانیہ نے دیکھا تھا. کچھ دیر دونوں چپ بیٹھی رہیں. اور پھر حیا نے خود کو کہتے سنا. " حمزہ کو بہت صدمہ لگا ہو گا." جنت نے گردن موڑ کر اسے دیکھا.
"حیا! اس دن ہم نے اپنا شوخ, خوش مزاج حمزہ کھو دیا تھا. پھر ہم نے کبھی اسے پہلے کی طرح باتیں کرتے نہیں دیکھا."
" وہ چپ ہو گیا. بالکل چپ. وی رئیلی مس دیٹ اولڈ حمزہ. وہ پیارا سا لڑکا." وہ اداسی سے مسکرائی. یہ تیسری بار تھا جب حیا نے حمزہ کے لیے یہ لفظ سنا تھا. پیارا لڑکا! شاید اسکی خوبصورت شکل و صورت کی وجہ سے سب اسے پیارا بلاتے تھے. حیا نے سر جھٹکا اور دوبارہ اپنی توجہ جنت پر مرکوز کی. جو اب اسے آگے بتا رہی تھی.
" اس کے چند دنوں بعد حمزہ جب گھر آیا تو اس کو مارنے کے ارادے سے اس کی گاڑی میں بم فٹ تھا جو اتفاق سے اس کے والدین لے گئے." حیا نے بے یقینی سے اسے دیکھا جیسے غلط سنا ہو.
" پھر؟"
" اور وہ کبھی واپس نہیں آئے. " وہ چپ ہوئی اور دوبارہ بولی. "حمزہ ٹوٹ گیا. اور اس کے ٹوٹنے کے نشان اس کی شخصیت میں آج بھی دکھتے ہیں. " ماحول میں سو گواری چھا گئی تھی. حیا کو کافی کڑوی لگنے لگی. دل اسے ملامت کرنے لگا.
" وہ اچھا لڑکا ہے حیا. مسز ہارون کہتی ہیں کہ ان اموات نے اس کی شخصیت کو ڈیمج کیا ہے. وہ ان اموات کا ذمہ دار خود کو سمجھتا ہے اور اس 'گلٹ' نے اسے ایسا بنا دیا ہے. "
" گلٹ" حیا کا دل ڈوبا, وہ بھی تو ایک گلٹ سے بھاگ رہی ہے.
" بہتر یہ ہی ہوتا کہ وہ خود اس فیز سے نکل آتا, مگر بہت دیر بعد پتا چلا کہ اس کے رویے کی وجہ ان رشتوں کو کھونا نہیں بلکہ خود کو اس لاس کا ذمہ دار ٹھہرانا ہے. اسے کسی کی ضرورت ہے حیا. " وہ عکی حیا کی آنکھوں میں جھانکا اور آگے بولی.
"کسی ایسے کی جو اسے سنے اور جس سے وہ اپنے دل کی بات کہہ سکے. " کہتے منہ موڑ لیا.
" مگر اب یہ پرانا حمزہ نہیں رہا, کھلی کتاب جیسا, ہنستا, مسکراتا حمزہ. اب یہ پر اسرار سا بی ہیو کرتا ہے. دل کی سختی اس کے چہرے ہر نظر آتی ہے. کسی سے کام کے علاوہ بات نہیں کرتا, دل کی بات کرنا تو دور کی بات. " اس کی آواز میں مایوسی در آئی تھی.
" پتا نہیں کب تک خود کو نا کردہ گناہوں کی سزا دے گا یہ. " وہ خفت سے اپنا مگ اٹھاتے اندر راہداری میں غائب ہو گئی.
اور حیا کے گلے میں اٹکا آنسوؤں کا گولہ اب ابل ابل کر باہر آرہا تھا. وہ گلٹی ہو چکی تھی. دل اسے چھوڑ کر حمزہ کا ہو گیا تھا.
*********************************************
یہ ایک اونچا ، سترہ منزلہ ہوٹل تھا. رات کی تاریکی سے 9،10 بجے کا گمان ہوتا تھا. ہوٹل کے وسیع لاؤنج میں پڑے صوفوں میں سے ایک پر ڈاکٹر ہارون ہاتھ میں موباٰٰیئل لیے بیٹھے تھے. یہ ڈنر کے بعد کا وقت تھا وہ ابھی ردابہ اور انیقہ کو کھانے کے بعد اوپر کمرے میں چھوڑ کر آٰئے تھے. ردابہ کو بڑی مشکل سے وہ سنبھالے ہوئے تھے اور ابھی بہتر یہ ہی تھا کہ وہ سو جاتی. وہ اب تک خود کو مضبوط رکھے ہوئے تھے مگر اپنے خون کے لیے کون کب تک ظبط کرتا؟ وہ بھی اب فون پر پرانی تصویریں کھولے بیٹھے تھے. جس میں وہی پرانا شوخ سا حمزہ نظر آ رہا تھا. ہر تصویر میں اس کا کام انیقہ اور رانیہ کی تصویروں کو بگاڑنا ہی ہوتا تھا. اور اب جو تصویر ڈاکٹر ہارون کھولے بیٹھے تھے وہ اس دن کی تھی جب حمزہ کا سی ایس ایس کا رزلٹ آیا تھا اور تصویر میں ڈاکٹرہارون اس سے گلے مل رہے تھے. " یو میڈ اس پراؤڈ بوائے." تصویر ہلنے لگی. گلے ملتے انہوں نے سرگوشی کی تھی جس پر حمزہ کھلے دل سے مسکرا رہا تھا۔ یہ شاید تب ہی تھا جب آخری بار انہوں نے حمزہ کو گلے لگایا۔ اس کے بعد وہ ملائشیا چلے گئے اور جب آئے تو ہانیہ والے حادثے نے حمزہ کو بہت بدل دیا تھا۔ وہ گھر کم ہی آتا تھا۔ اور پھر ڈاکٹر ہارون کے بھائی اور بھابھی کی موت۔ ماضی کی یادوں میں گم ڈاکٹر ہارون نے جھر جھری لی۔سرد آہ ان کے لبوں سے خارج ہوئی۔ انگلی سے اسکرین کو ایک طرف کرتے وہ اگلی تصویر پر رکے۔ چھوٹا سا چھ سات سال کا حمزہ ڈاکٹر ہارون کی پیٹھ پر بیٹھا اپنے گھوڑے کو آگے بڑھنے کا حکم دے رہا تھا۔ اور نیچے ڈاکٹر ہارون سر ہلاتے اسے تنبیہ کر رہے تھے کہ ہاتھ اوپر رکھے ورنہ اس کی گد گدی سے وہ اسے نیچے گرا دیں گے۔ اداس مسکراہٹ لبوں پر پھیلی۔ اگلی تصویر حمزہ کی منگنی کی تھی۔ وہ رانیہ کے ساتھ بیٹھا شرارت سے کیمرے کے لینز میں دیکھ رہا تھا۔ " پیارا لڑکا۔ " وہ اب بھی مسکرا رہے تھے اور پھر فون کی اسکرین پر دائرے بنتے چلے گئے اور انہوں نے خود کو حمزہ کے گھر اس کے کمرے کے باہر کھڑے پایا۔ دروازہ کھولا تو سامنے حمزہ ردابہ کی گود میں سر رکھے چھت کو گھور رہا تھا۔ ردابہ اس کے بال سہلاتے اسے کچھ بتا رہی تھی۔ ڈاکٹر ہارون کو دیکھ کر وہ سیدھا ہو گیا۔
" آ جائیں چاچو! " وہ اداسی سے مسکراتے کہہ رہا تھا۔ " ہمارا بیٹا کیسا ہے؟ ؟" ڈاکٹر ہارون وہیں صوفے پر بیٹھ گئے۔ " ٹھیک ہوں۔" ہونٹ بھینچے پھر اس نے ہلکا سا کہا۔" گڈ۔" ٹانگ پر ٹانگ رکھتے حمزہ کے کمرے کا جائزہ لیتے وہ کہہ رہے تھے۔ "ردابہ اپنا سامان دیکھ لو، رات دس بجے کی فلائٹ ہے ہماری اسلام آباد کی۔" ردابہ نے ایک نظر حمزہ کو دیکھا پھر ڈاکٹر ہارون کو۔ حمزہ نے لب کاٹے۔ " میں سوچ رہی تھی کچھ دن یہیں رہوں حمزہ کے پاس، ویسے بھی یہ ایک ماہ چھٹی پر ہے۔" حمزہ نے امید بھری نظروں سے ڈاکٹر ہارون کو دیکھا۔ " ردابہ ہم یہاں نہیں رہ سکتے، ہمارا اپنا گھر ہے، بیٹی ہے جس کے اسکول کا حرج ہو گا۔ پھر انسٹیٹیوٹ میں بہت سا کام پڑا ہے۔ " وہ چپ ہوئے اور حمزہ نے لب کاٹتے ہوئے آنکھیں سکیڑی۔ بھوری آنکھیں اور چھوٹی ہو گئیں۔ " چاچو! آپ اور انیقہ چلے جائیں، ماسی کو میرے ساتھ رہنے دیں۔ یہاں مجھے اب وحشت ہوتی ہے۔ اکیلے بیٹھے سب یاد آتے ہیں۔" وہ ریکویسٹ کر رہا تھا۔ ردابہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے گال تک چھوا۔ وہ اس کو ہمیشہ بہت پیارا تھا۔ شاید انیقہ سے بھی زیادہ مگر وہ کسی کے سامنے کہتی نہیں تھی۔ اب بھی وہ خود بھی اس کے پاس رکنا چاہتی تھی۔ کہنے کو لب کھولے مگر ڈاکٹر ہارون اٹھ کر بیڈ تک آئے حمزہ کے قریب ہوئے۔ " جینٹل مین۔ آئی نو یو آر ویری بریو۔ اس سب سے تمہیں خود لڑنا ہے۔ تم ہمارا فخر ہو۔ بی اسٹرونگ۔" اس کے کندھے کو مضبوطی سے تھامے انہوں نے حمزہ کو ہلایا۔ حمزہ نے زبردستی مسکراتے سر ہلایا۔ "ماسی کو رہنے دیں" دوبارہ منت کی۔ ماسی نے بے بسی سے ڈاکٹر ہارون کو دیکھا۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں اجازت چاہی۔ وہاں انکار تھا.
" چاچو پلیز. چند دن کی تو بات ہے."
" اور چند دن پھر اگلے چند اور دن میں بدل جائیں گے." انہوں نے سر جھٹکا اور اس سے پہلے حمزہ کچھ کہتا ڈاکٹر ہارون کھڑے ہو گئے. " حمزہ یو ہیو ٹو فائٹ فار یور سیلف. " پھر افسردہ سی ردابہ کی طرف دیکھا. " آپ چلنے کی تیاری کریں. میں اپنے انسٹیٹیوٹ کا حرج نہیں کروا سکتا. " وہ کہہ کر باہر نکل گئے. لہجہ سرد سا تھا. ردابہ نے حمزہ کو کچھ کہنے کو منہ کھولا مگر وہ بھی کہے سنے بغیر چلا گیا اور پھر تب آیا جب ڈاکٹر ہارون اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ اسلام آباد پہنچ چکے تھے. اس دن چاچو بھتیجے کا رشتہ ہمیشہ کے لیے کٹ گیا تھا. اس نے کہا کچھ نہیں تھا مگر ہارون کے ساتھ اس کا رویہ سرد ہو گیا تھا.
ایک ٹھنڈی آہ ڈاکٹر ہارون کے ہونٹوں سے نکلی. وہ دوبارہ موہاٹل کے لاؤنج میں بیٹھے تھے. انہوں نے تر ہوتی آنکھ کے کونے پر انگلی رکھی.
"بابا جب حمزہ بھائی کو پتا چلے گا نا کہ آپ نے ان کے لیے ہی ماما کو ان سے دور کیا تھا تو وہ سارے شکوے بھلا کر پہلے کی طرح آپ کے کلوز ہو جائیں گے. " ڈاکٹر ہارون کو پتا ہی نہیں چلا انیقہ کب نیچے آئی. وہ اب ان کے کندھے پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی. "میں بس چاہتا تھا وہ ردابہ یا کسی کا بھی سہارا نہ ڈھونڈے ، وہ خود اپنے ٹکڑوں کو واپس جوڑے. انیقہ ہم انتظار کرتے ہیں کہ کوئی آئے گا اور ہمیں ہماری ٹف فیز سے نکالے گا بٹ ہمیں خود اپنا بازو پکڑ کر خود کو تکلیفوں سے نکالنا پڑتا ہے, وہ ردابہ کے پیچھے چھپ کر حقیقت سے بھاگنا چاہتا تھا. " آواز میں تکلیف در آئی تھی. "ارے بابا! وی آل نو آپ حمزہ بھائی سے کتنا پیار کرتے ہیں. " باپ کی گردن کے گرد بازو ڈالے وہ اب ان کا گال چوم رہی تھی.
" کاش حمزہ کو بھی اس بات کا احساس ہو جائے. " انیقہ کے گال کو تھپتھپاتے انہوں نے سوچا.
*********************************************
صبح کب کی روشن ہو چکی تھی. زویان, شیروان, عنایا اور سمایا کو پک کرتا ابھی علی کے گھر کے باہر کھڑا تھا.
وہ شیری کا انتظار کر رہے تھے. جسے اس کی طبیعت کی نا سازی کے باعث فریحہ نے یہیں روک رکھا تھا. بلیو جینز اور آدھے بازوؤں والی نیلی ٹی شرٹ پہنے, گیلے بال پیچھے کو بنائے وہ گیٹ سے باہر نکل رہا تھا. گاڑی کے قریب آیا, دروازہ کھولا اور رسمی سلام کرتے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لی.
" تیری طبیعت ٹھیک ہے؟" آگے بیٹھے شیروان نے اسے مخاطب کیا.
" تجھے افسوس ہو رہا ہو گا کہ میں بچ گیا." بند آنکھوں سے ہی اس نے کہا. سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی. وہ اب بھی شیروان کو تپا رہا تھا.
" ہماری اتنی قسمت کہاں!" شیروان نے کہہ کر آہ بھری اور سب محفوظ ہوتے رہے.
پچھلے دو دن سے شیری کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی. کھسروں میں سے تو وہ بحافظت آ گیا تھا مگر حمزہ کی ابتر حالت, خون آلود جسم بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آتا. ایسا نہیں کہ اس نے پہلے کبھی لوگوں کو گولیاں لگتے نہیں دیکھی, مگر اپنے بھائی کو پہلی بار لگتے دیکھی تھی. واپسی پر راستے میں ہی اس نے الٹیاں کرنا شروع کر دی تھیں. ڈاکٹر کی دوائیوں کے زیر اثر وہ غنودگی میں ہی رہا. حقیقت سے بھاگنے کا آسان طریقہ ہے کہ آپ سو جائیں. وہ بھی سوتا رہا.
" حمزہ سر ٹھیک ہو جائیں گے نا؟" آنکھیں کھول کر وہ آگے کو جھکا. سب کی مسکراہٹ غائب ہو گئی. اور پھر زرا سنبھلے انداز میں سمایا نے اسے تسلی دی.
" انشاءاللہ, وہ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے." اور شیری نے اثبات میں سر ہلاتے دوبارہ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاتے آنکھیں بند کر لی. وہ کھویا ہوا, ویران سا لگتا تھا.
*********************************************

No comments: