حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر 21 Haya By Fakhira Waheed Episode No
حیا
از
فاخرہ وحید
حیا از فاخرہ وحید
21 قسط نمبر
Haya By Fakhira Waheed
Episode No 21
حیا
از
فاخرہ وحید
(قسط 21)
(حمزہ کو گولیاں لگنے سے ایک دن پہلے)
یہ ایک بڑی سفید سی عمارت تھی جس پر سبز ہلالی پرچم لہرا رہا تھا. عمارت کے بیچ میں تختی لگی تھی.
"نفرت انسان نہیں, جرم سے ہے" اور اس کے نیچے لکھا تھا. " سنٹرل جیل, راولپنڈی, 1986"
یہ اڈیالہ جیل تھی. اندر کو جاؤ تو آج اس بڑے میدان میں قیدی ادھر ادھر پھرتے نظر نہیں آ رہے تھے. بلکہ اونچے ٹینٹ میں بچھائے قالینوں پر بیٹھے تھے. ایک طرف مرد اور دوسری طرف خواتین تھیں جن کو پردے سے الگ کیا گیا تھا. سامنے اسٹیج تھا. جس پر انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے دو ٹرینر میز کے پیچھے بیٹھے نظر آرہے تھے اور ساتھ ڈی آئی جی اسلام آباد اور پولیس کے چند سینئیر افسر.
وہیں خواتین کے پورشن میں آگے حیا, جنت کے ساتھ موجود تھی. بیچ پردے والی سرحد کے اطراف پولیس اہلکار بھی موجود تھے. دونوں ٹرینر اپنی بات کہہ چکے تھے اب وہ ڈاکٹر ہارون سے رابطہ کر رہے تھے جنہوں نے بطور خاص حکم دیا تھا کہ وہ قیددیوں سے چند ایک بات کرنا چاہتے ہیں. یہ اسکائپ کال تھی, سامنے بڑی ایل ای ڈی اسکرین لگی تھی. یکا یک اسکرین پر ڈاکٹر ہارون کی تصویر ابھری. سب کو خاموش ہونے کا کہا اور کال کا والیم بڑھا دیا. رسمی علیک سلیک کے بعد وہ گویا ہوئے.
" مجھے بتایا گیا کہ یہاں وہ قیدی موجود ہیں جو کسی قسم کی چوری, ڈاکا, نا حق قبضہ اور دیگر ایسے جرائم میں ملوث پائے گئے. یا ہو سکتا ہے کوئی بے قصور بھی ہو. " کہہ کر اداسی سے مسکرائے.
" میرے بھائی! میری بہن! اللہ نے ہر انسان کی قسمت میں رزق لکھ دیا ہے اور رزق انسان کو ایسے ڈھونڈتا ہے جیسے موت. "
" مگر شاید ہم صبر نہیں کرتے. جو رزق ہم رشوت, چوری چکاری اور دیگر غلط کام کر کے حاصل کرتے ہیں میرا یقین کریں وہ اللہ نے ہمارے لیے لکھا ہوتا ہے. مگر ہم حلال کا نتظار نہین کرتے اور جلد از جلد حاصل کرنے کی تمنا میں حرام کھانے لگ جاتے ہیں."
وہاں بیٹھے قیدیوں میں بے زاری تھی. اے سی, اور کشادہ کمروں میں بیٹھ کر بڑی بڑی باتیں کرنے والوں کو کیا پتا پیٹ کا جہنم کیا ہوتا ہے, بچوں کو بھوکا دیکھنا کیا ہوتا ہے. سب اکتائے ہوئے تھے.
" حضرت علی کرم اللہ وجہہ اونٹ کی مہار لیے کہیں جا رہے تھے. راستے میں حاجت ہوئی تو وہاں ایک بدو کو مہار پکڑائی کہ میں آتا ہوں. جب وہ واپس آئے تو اونٹ وہیں تھا مگر مہار نہیں تھی. اور بدو بھی غائب تھا. وہ اونٹ کو ہانکتے بازار تک لائے, مہار خریدنا چاہی اور اپنی ہی اونٹ کی کھوئی مہار مل گئی. بیچنے والے سے پوچھا کہاں سے ملی تو کہنے لگا ایک عربی بدو آیا تھا. دو درہم کی بیچ گیا ہے. حضرے علی نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا واہ میرے اللہ! میں اسے حلال کے دو درہم دینا چاہتا تھا مگر اس نے حرام کے دو درہم چنے" وہ خاموش ہوئے. اور قیدیوں کی آنکھوں میں عجیب سی بے چینی نظر آئی.
" میرے بھائی اللہ پر توکل کر کے تو دیکھو. وہ تمہیں نہ نوازے تو کہنا. جیل میں ہو یہ مت سمجھنا کہ زندگی رک گئی. زندگی کو آپ نے دھکیلنا ہے. جب تک جیل میں ہو کچھ سیکھ لو, ہاتھ میں کوئی ہنر لے آؤ. قرآن کو ترجمے سے پڑھ لو. اللہ سے توبہ کرو اور جن سے شکوے ہیں ان کو معاف کر دو. کہ اگر تم چاہتے ہو اللہ تم پر رحم کرے تو تم زمین والوں پر رحم کرو. " قیدیوں نے اپنے دلوں میں پشیمانی دیکھی.
" اور پولیس کے اہلکاروں سے کہوں گا, قیدیوں کے حقوق پورے کرو. " مسکرائے پھر بولے. "نفرت انسان سے نہیں جرم سے کرو." اسکرین بجھ گئی.
ہاں کچھ تھا جو یہاں بیٹھے لوگوں کے دلوں کو چھوا تھا. اللہ پر توکل اور رزق تمہیں خود ڈھونڈ لے گا.
قیدی قطار بنائے اپنی اپنی جیلوں کی طرف بڑھ رہے تھے. مالٹی شرٹ اور ٹراؤزر اور سر پر دوپٹہ اور آنکھوں پر سیاہ چشمہ جمائے وہ جنت کے ساتھ اپنی جگہ سے کھڑی ہو رہی تھی جب ایک درمیانے سے عمر کی عورت اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی.
" تم تو وہی ہو نا جو لاہور جیل میں تھی؟" چھوٹتے ہی اس نے کہا تو حیا گڑ بڑائی. جنت کو دیکھا جو حیرت سے ان کو دیکھ رہی تھی. ٹرینر بھی اتر کر اسی طرف آرہے تھے. اس سے پہلے کہ حیا کوئی رد عمل دیتی وہ دوبارہ بولی.
" اور اب یہاں ان کے ساتھ" اسٹیج کی طرف اشارہ کیا. " قیدیوں کو سبق دینے آئی ہو؟ واہ! " ہاتھ ہوا میں اٹھایا.
"ویسے یہ ٹی وی والا بندہ صحیح کہہ رہا تھا. جیل میں ہمیں بھی کچھ سیکھنا چاہئیے. تمہاری طرح" وہ اپنے دھیان کہے جا رہی تھی اور ادھر حیا کو اپنے پیروں نیچے سے زمین سرکتی محسوس ہوئی. اب وہ دونوں ٹرینر بھی وہیں کھڑے تھے. حیا کا خون سمٹ کر چہرے میں آگیا تھا.
یہ کس بارے میں بات کر رہی ہے حیا؟ دونوں ٹرینرز میں سے ایک نے پوچھا تو حیا تلملا کر رہ گئی. جواب دیے بغیر پرس کی لمبی اسٹریپ کو مضبوطی سے تھاما اور گاڑی کی طرف بڑھ گئی. جنت اس کے پیچھے تیز تیز چلتی گئی. آواز دی مگر وہ کچھ نہیں بولی تو جنت چیزوں کو سمیٹنے واپس چلی گئی. حیا نے گاڑی میں بیٹھ کر پرس پھینکنے کے انداز میں پرے مارا.
" نفرت ہے مجھے, نفرت ہے تم سے." آنسوؤں کو اپنے ہاتھوں کی پشت سے پونچھتے وہ ہانپ رہی تھی.
" پہلے کم تھا جو جیل کا دھبہ بھی تم نے میری زندگی پر لگا دیا. " دونوں ہاتھ منہ ہر رکھے اس کا دماغ ماضی سے حال اور حال سے ماضی کے چکر کاٹ رہا تھا.
" تم جیسوں کو تو موت بھی جلدی نہیں آتی." ہتک اور بے عزتی کے احساس تلے وہ کیا کہتی جا رہی تھی وہ خود نہیں جانتی تھی.
*********************************************
ہجوم! شور! قہقے! گولیاں! خون اور شیری پر جھپٹتے ہاتھ!
اس کا دماغ ایک ہی دائرے میں گھوم رہا تھا. شیری کے نام پر دل میں سخت ٹیس اٹھتی اور وہ دوبارہ ہجوم, شور اور گولیوں سے ہوتا شیری تک پہنچ جاتا. آپریشن تھیٹر میں دو ڈاکٹر اس پر جھکے کھڑے تھے. ایک لمحے کو اسے ہوش آیا. آنکھیں جھپکی. چند ہیولے دکھائی دیے. "شیری" وہ بڑبڑایا. آواز اتنی مدھم تھی کہ اس کے اپنے کانوں تک نہیں پہنچی. اور وہ دوبارہ اپنے جسم میں جاتے اوزاروں, سوئیوں سے بے خبر ہو گیا.
پھر وہی شور, گولیاں اور شیری پر جھپٹتے ہاتھ!
تھیٹر سے باہر آؤ تو ذرا فاصلے پر ایک لڑکی سبز دھاریوں والی سفید قمیص, ٹراؤزر اور سر پر سفید شفون کا دوپٹہ ٹکائے, دیوار سے ٹیک لگائے کھڑی نظر آتی. وہ ابھی پندرہ منٹ پہلے یہاں آئی تھی. وہ سو رہی تھی جب ڈاکٹر ہارون کی کال آئی.
"حیا! میرے بیٹے کو گولیاں لگی ہیں. یہاں ایک چرچ میں کل صبح بلاسٹ ہوا تھا جس کی وجہ سے تمام فلائٹس ملتوی کر دی گئی ہیں. پلیز اس کا خیال رکھنا. جیسے ہی فلائٹس بحال ہوتی ہیں ہم آجائیں گے. " وہ بمشکل ضبط کیے ہوئے تھے.
" آپکا بیٹا؟ " وہ تو بس انیقہ کو ہی جانتی تھی. " ہاں حمزہ کو گولیاں لگی ہیں" وہ بے بس سے بولے. اس ایک ماہ کے عرصے میں وہ پہلی بار حیا سے حمزہ کے بارے میں بات کر رہے تھے. تبھی فون پر نسوانی آواز ابھری.
" حیا! میرے بچے کے پاس چلی جاؤ. وہ اکیلا ہے. اسے کہنا اسکی ماسی جلدی اس کے پاس آجائے گی. میری طرف سے اسے بہت پیار کرنا. اس کا بہت خیال رکھنا. وہ بہت لاپرواہ ہے. " ردابہ ہچکیاں لیتے رو رہی تھی. حیا نے سختی سے آنکھیں بھنچیں. حمزہ کے نام سے اسے کیا کچھ یاد نہیں آگیا تھا. وہ گھر, نکاح, تصویریں, چیخنا چلانا اور حمزہ کا اس پر ہاتھ اٹھانا. اس نے جھرجھری لی. " جی مسز ہارون! آئی ول ٹیک آ گڈ کئیر آف ہم." تسلی دیتے اس نے فون بند کیا تھا.
اور اب وہ ہسپتال میں آپریشن تھیٹر کے باہر کھڑی, دیوار سے ٹیک لگائے فرش کو گھورے جا رہی تھی. آئی تو وہ دل میں بہت کچھ لے کر تھی مگر ہسپتال کی وحشت سے اس کا دل مرجھا گیا تھا. نرس ایک دو بار باہر آئی, اس نے امید سے اسے دیکھا, شاید وہ کوئی خبر دے مگر نرس اسے نظر انداز کرتی آگے بڑھ جاتی.
اسے آپریشن تھیٹر میں پڑے لڑکے سے زیادہ اپنے گلٹی ہو جانے کی فکر تھی. اگر حمزہ کو کچھ ہو گیا تو؟ وہ ساری عمر خود کو معاف نہیں کر سکے گی. ہائے یہ پچھتاوے!
" حیا! حمزہ بالکل ٹھیک ہو جائے گا." جنت اس کے پاس کھڑی کہہ رہی تھی. وہ کچھ نہیں بولی. نظریں بدستور فرش پر جمی تھیں.
آپریشن تھیٹر کی سرخ بتی بجھی اور دروازے سے ڈاکٹر باہر نکلتے نظر آئے.
"مسز حمزہ؟" وہ ان دونوں کے پاس رکے تو حیا سیدھی ہو کر کھڑی ہوئی. مگر بولی کچھ نہیں.
"حمزہ کو تین گولیاں لگی تھیں, جو الحمدللہ ہم نے نکال لی ہیں." دل نے ٹھنڈی آہ بھری. شکر!
" پر. " ڈاکٹر نے باری باری دونوں کو دیکھا اور حیا کا ابھرتا دل دوبارہ ڈوبنے لگا. مطلب مجھے ہی گلٹی ہونا ہے؟
"گولیاں لگنے کے بعد گرنے کے باعث جو ہیڈ انجری ان کو آئی ہے اس سے ان کے برین میں سویلنگ ہو گئی ہے. جس سے برین اسٹیم پر پریشر بڑھ رہا ہے. اگر ان کو اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں ہوش نہیں آتا تو یہ کوما میں چلے جائیں گے." جنت نے حیا کا بازو مضبوطی سے پکڑا گویا حوصلہ دے رہی ہو. "اور کوما سے باہر آنے پر ہو سکتا ہے ان کو چیزیں دوبارہ سیکھنی پڑیں. ہی مے فیس پرابلمز ان سپیکنگ, واکنگ آر رمیمبرنگ ادھر تھنگز. یو نو کائینڈ آف میموری لاس." ذرا توقف کے بعد وہ دوبارہ بولے. "یا پھر وہ اپنا ذہنی توازن کھو دیں. " ڈاکٹر نے آخری خدشہ ظاہر کیا. حیا کو لگا کسی نے اس کا دل مٹھی میں بھینچ کر چھوڑا ہے. کیسے اپنی بد دعائیں واپس لے وہ!
" لیکن آپ دعا کریں. اللہ شفا دے گا آپ کے ہسبنڈ کو." ڈاکٹر کہہ کر چلا گیا اور حیا کو لگا کوریڈور میں کھڑا ہر شخص اسے ملامتی نظروں سے دیکھ رہا ہے. اسی ہی کی تو بد دعائیں ہیں یہ!
وہ کتنے ہی لمحے وہاں بت بنے کھڑی رہی. اس کے سامنے حمزہ کو او ٹی سے آئی سی یو میں شفٹ کیا گیا. وہ نالیوں سے جکڑا جسم اس نے ایک بار بھی نہیں دیکھا تھا. وہ خود کو گلٹی ہونے کی اذیت نہیں دینا چاہتی تھی. یہ پچھتاوے ہی تو ہیں جو انسان کو زہر کی طرح کھا جاتے ہیں. وہ بھی اس پچھتاوے سے بھاگنا چاہتی تھی.
*********************************************
آئی سی یو کے باہر پولیس موجود تھی. رات اترے لگی تو فریحہ ہاسپٹل آئی. اس کی یہاں حمزہ کے ساتھ ڈیوٹی تھی. اس نے حیا اور جنت کو ڈرائیور کے ساتھ گھر بھجوا دیا تھا. ہاں حمزہ کے گھر. اس گھر کے ساتھ حیا کی کئی تلخ یادیں جڑی تھیں. وہ تھکے سے قدم اٹھاتی اوپر حمزہ کے کمرے کی طرف بڑھی. دروازہ کھولتے ہی وہ ہی مسکراتا بھوری آنکھوں والا حمزہ. فریم کے پاس گئی. اس میں اپنا عکس برا لگنے لگا تو پیچھے ہٹ گئی. سب ویسا ہی تھا جیسا وہ چھوڑ کر گئی تھی. سیف کھولی سامنے حمزہ کے کپڑے لٹکے تھے. اسے اچنبھا ہوا اس کے کپڑے کہاں تھے؟ اوہ. پھر ہونٹ سکیڑے. اسی تصویروں والے ڈبے میں اب حیا کے کپڑے بھی تھے. ڈیش آدمی! اپنے کپڑوں کو یوں رلتا دیکھ وہ بس اتنا کہہ سکی. اس نے کپڑے نکال کر بیڈ پر رکھے تا کہ لانڈری بھجوا سکے. تبھی اس کا فون بجا.
" مسز ہارون " فون پر جگمگا رہا تھا. اس نے فون کان سے لگایا.
جی مسز ہارون؟
تم ایسا کیسے کر سکتی ہو حیا. وہ غصے سے بولی اور حیا گڑبڑائی.
" می. میں نے ..." ردابہ نے اس کی بات کاٹ دی.
" تم میرے بچے کو یوں لا وارثوں کی طرح اکیلا چھوڑ کر کیسے آسکتی ہو؟ " پیچھے اسے ڈاکٹر ہارون کی آواز آرہی تھی جو شاید ردابہ کو تسلی دے رہے تھے.
" میں نے پہلے دن کہا تھا تم میرے بچے کے قابل نہیں ہو. وہ اتنا پیارا پیار کرنے والا لڑکا ہے. پر تم تو چاہتی ہو وہ مر جائے. تم اس وقت بھی اس سے اپنا انتقام لے رہی ہو." وہ غصے سے بولے جا رہی تھیں. ڈاکٹر ہارون اور انیقہ اس کو ہمت کرنے اور صبر کرنے کا کہہ رہے تھے. حیا کا دل چاہا وہ بھی چلائے پر اس سے پہلے وہ کچھ کہتی اسے ردابہ کے پھوٹ پھوٹ کر رونے کی آواز آنے لگی.
" اگر میں وہاں ہوتی... کبھی تمہارے رحم و.. رحم و کرم پر اسے نہ چھوڑتی... پر میں مجبور ہوں... میں نہیں آسکتی.. پلیز میرے بچے کے پاس چلی جاؤ... حیا.. اسے ہماری ضرورت ہے. پلیز." وہ روتی رہی. اور فون بند ہو گیا.
حیا نے کپڑے وہیں چھوڑے, اپنا لانگ اسٹریپ والا بیگ کندھے پر ڈالا اور ڈرائیور کے ساتھ دوبارہ ہاسپٹل آگئی. ردابہ کے الفاظ اب تک سنائی دے رہے تھے.
" تم تو چاہتی ہو وہ مر جائے. "
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی آئی سی یو کے سامنے آکر رکی.
" تم آ کیوں... " اس سے پہلے فریحہ اس کی طرف آتی وہ کھٹ سے دروازہ کھول کر اندر چلی گئی. فریحہ اندر آئی کچھ کہنا چاہا مگر حیا نے انتہائی بے رخی سے کہہ دیا کہ وہ اپنے ہسبنڈ کے ساتھ کچھ وقت چاہتی ہے. جب وہ باہر چلی گئی تو وہ حمزہ کی طرف مڑی.
" تم آج اگر اس بیڈ پر ہو تو تمہاری اپنی وجہ سے. میری بد دعاؤں کی وجہ سے نہیں." وہ اس کے سر پر کھڑی دبا دبا غرا رہی تھی.
" حیا تم نے یہ کیا. وہ کیا."
" میرے بچے کے قابل نہیں ہو تم. زندگی خراب کر دی اس کی. پریشان کیا اس کو. مسز ہارون تمہاری وجہ سے ہر بار مجھے ذلیل کرتی ہیں. "
" اگر ان کو لگتا ہے کہ میں چاہتی ہوں تم مر جاؤ. تو ہاں میں چاہتی ہوں تم مر جاؤ. " وہ غراتی کبھی کمرے میں ٹہلنے لگتی اور کبھی اس کے بیڈ پر ہاتھ جمائے اس کے منہ پر جھک جاتی.
" ہاں میں نے اپنی ہر نماز میں کہا تم مر جاؤ. وہ اب اس کے منہ پر جھکی تھی. کیوں نہیں مرتے تم؟ کیوں میری زندگی سے چلے نہیں جاتے. "
"کیوں مجھے کہیں چین نہیں لینے دیتے. " اب کہ آواز رندھ گئی. وہ وہیں بیڈکے پاس رکھے اسٹول پر بیٹھ گئی. آنکھوں سے آنسو گرتے جا رہے تھے. لتنی دیر بعد آواز آئی جو اسے خود بمشکل سنائی دی.
" آئی ایم سوری حمزہ. آئی ایم سوری." حمزہ کے چادر سے نکلے بازو پر دونوں ہاتھ رکھے وہ روئے جا رہی تھی. غصہ ٹھنڈا ہو گیا تھا. اسے تو حمزہ کے خود پر چلانے کی عادت تھی. مگر اب وہ چلا رہی تھی وہ چپ لیٹا تھا. نہ پہلے کی طرح اسے گھورا, نہ پکڑ کر دیوار سے لگا کر دھمکیاں دیں. اب کے حمزہ کی اپنے بازؤوں میں دھنستی انگلیوں کے بجائے درد دل میں ہوا تھا.
"میں نے کبھی تمہارے مرنے کی دعا نہیں کی. مسز ہارون کو لگتا ہے میں تمہیں مرتا دیکھنا چاہتی ہوں. میں صرف تمہیں اس تکلیف سے گزرتا دیکھنا چاہتی تھی جس سے میں گزری. بے بس ہونے کی." پہلے کہی اپنی باتوں کو وہ خود ہی رد کر رہی تھی. سر اب حمزہ کے بازو پر رکھے اپنے ہاتھوں پر تھا. اور آنسو بد ستور گر رہے تھے. کئی ساعتیں یوں ہی گزر گئیں. آنکھیں رگڑتے اس نے اپنا سر اٹھایا. کچھ لمحے یوں ہی وینٹیلیٹر پر پڑے حمزہ کو دیکھتی رہی پھر جانے دل میں کیا خیال آیا حمزہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھاما اور اپنے ہونٹ اس کے ہاتھ پر رکھ دیے. اسے لگا اے سی کی خنکی میں بھی اس کے ماتھے پر پسینہ تھا. کومہ تک پہنچے انسان کو کیا پتا اس پر کیا گزری. اس نے سر جھٹکا, حمزہ کا ہاتھ دوبارہ سلیقے سے اپنی جگہ رکھا اور باہر آگئی.
اور بیڈ پر لیٹا شخص شور, گولیوں سے ہوتا شیری پر آ ٹکتا!
*********************************************

No comments: