حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر 16 Haya By Fakhira Waheed Episode No
حیا
از
فاخرہ وحید
حیا از فاخرہ وحید
16 قسط نمبر
Haya By Fakhira Waheed
Episode No 16
حیا
از فاخرہ وحید
قسط 16
کلاس میں کافی دیر خاموشی رہی۔ وہ اپنے نوٹس پر جھکی ہوئی تھی. خاموشی کو ڈاکٹر ہارون کے فون پر آنے والی کال نے توڑا تھا. وہ کلاس سے باہر چلے گئے تھے. اب کلاس میں ہلکی سرگوشیاں ہو رہی تھی. وہ اکیلی بیٹھی تھی. اس کلاس میں کوئی کسی کو نہیں جانتا تھا. یہاں جو لوگ موجود تھے وہ اپنے شعبوں کو جوائن کرنے والے نئے لوگ تھے. جن کو ان کی قابلیت کی بنا پر مزید کامپیٹنٹ بنانے کے لیے یہاں بھیجا گیا تھا. ہر ادارہ اس کے بدلے ڈاکٹر ہارون کو بھری فیس دے رہا تھا. جو ان کا حق تھا. یہی لوگ آگے چل کر اپنے اداروں میں بہتری لانے والے تھے.
حیا ان میں انوکھی تھی. ان دس بارہ لوگوں میں سے ہر ایک کے پیچھے کوئی ادارہ, کوئی پوسٹ تھی. جب کہ حیا کے پیچھے ڈاکٹر ہارون خود تھے.ڈاکٹر ہارون واپس کلاس میں آگئے تھے. سرگوشیاں ختم ہو گئی تھیں. وہ روسٹرم کے پیچھے کھڑے ان کنفیوز چہروں کو دیکھ رہے تھے. یہ سب اپنی قابلیت پر فخر کرتے تھے اور آج ایک سوال, ان کے اپنے بارے میں کیے گئے سوال نے ان کو شش و پنج میں ڈال دیا تھا.
” آئی ہوپ وی کین گو اہیڈ ناؤ.” تمام لوگ جو پہلے ان کی طرف دیکھ رہے تھے اب اور متوجہ ہو گئے تھے.
” آپ کون ہیں؟ اور اس دنیا میں کیوں ہیں؟ سوال بہت سادہ ہے. مگر جواب سادہ نہیں ہے.”
“سر! ہم اللہ کی عبادت کرنے کے لیے یہاں ہیں. ” چوبیس پچیس سالہ لڑکے نے فوراً کہا. ڈاکٹر ہارون کے تاثرات کچھ ڈھیلے پڑے.
“اگر ہم اللہ کی عبادت کے لیے یہاں ہیں تو ہم کاروبار یا نوکری کیوں کرتے ہیں؟ کھانا کیوں کھاتے ہیں؟ سوتے کیوں ہیں؟ یا کچھ بھی. عبادت کے علاوہ کچھ بھی اور کیوں کرتے ہیں؟” انہوں نے انتہائی پرسکون لہجے میں لڑکے سے پوچھا. وہ لاجواب تھا.
” اور جینٹلمین بتایا یہ ہی گیا ہے کہ عبادت کرو. مگر آپکو لگتا ہے عبادت صرف نماز روزہ ہے؟” ان کی نظر سب سے ہوتی ہوئی آخری کرسی تک گئی.
“بھئی انسانیت کی مدد کر کے خدا کی رضا حاصل کرنا بھی عبادت ہے. اور رزق کی تلاش میں نکلنا بھی عبادت ہے.” ان کی آواز میں اب کہ جوش تھا.
“مجھے معلوم ہے کہ یہاں موجود ہر لڑکا یا لڑکی اپنے شعبے کے قابل لوگوں میں سے ہیں. میرے اس سوال کا مقصد کسی کو یہ محسوس کروانا نہیں کہ وہ کم ہے یا قابل نہیں ہے. بلکہ اس اہم سوال کی طرف متوجہ کروانا ہے جو ہے تو آپ کے بارے میں مگر اس کا صحیح جواب آپ کے اپنے ہی پاس نہیں ہے.” وہ سانس لینے کو رکے.
” امام مالک کہتے ہیں انسان کی دو پیدائشیں ہیں. پہلی جب اسے اس کی ماں جنم دیتی ہے اور دوسری جب وہ اس دنیا میں آنے کا اپنا مقصد پہچان لیتا ہے. کئی لوگ اس دوسری پیدائش سے پہلے ہی مر جاتے ہیں اور کئی یہ جاننے کی جستجو ہی نہیں کرتے.”
“کیا زیادہ تر لوگ اس دوسری کیٹیگری میں نہیں آتے؟ ہم جاگتے ہیں, کھاتے ہیں, پیتے ہیں اور سو جاتے ہیں. بھئی یہ کھانا پینا جس کو ہم نے مقصد حیات بنا لیا ہے یہ تو محض بنیادی ضرورتیں ہیں. جو جانور کے پاس بھی ویسی ہی ہیں جیسی آپ کے پاس ہیں. ” انہوں نے آخری جملے پر زور دیا.
کلاس میں بیٹھے دل بے ترتیب ہوئے تھی. ماحول اور جملے کی سنگینی سے جسم میں سنسنی پھیلی تھی. ان کو لگا وہ جانوروں کی سی زندگی گزار رہے ہیں. میرے خدایا.
ڈاکٹر ہارون نے لیپ ٹاپ کی اسکرین کو چھوا تو وائٹ بورڈ پر ایک تصویر ظاہر ہوئی.
“میزلوز ہیرارکی آف نیڈز.” سب سے اوپر لکھا تھا اور نیچے تکون کی طرح کی تصویر تھی. جس میں خانے بنے ہوئے تھے. ڈاکٹر ہارون نے سب سے نیچے والے خانے کے گرد دائرہ لگایا.
” یہ ہے بنیادی ضروریات والے لوگ. ان کا زندگی گزارنے کا اصول ہے بس روٹی, کپڑا, مکان. آپ کو جان کر شاید حیرت ہو کہ زیادہ تر دنیا میں لوگ یہیں پر رکے ہوئے ہیں. تبھی اس ٹرائینگل میں یہ جو آخری خانہ ہے یہ بڑا ہے.”
انہوں نے پہلے سے لگے داأرے پر دوبارہ دائرہ لگایا.
” اوپر آتے جائیں خانے چھوٹے ہوتے جائیں گے. جو ظاہر کرتے ہیں کہ زیادہ تر انسان ان بنیادی ضروریات کے چکر سے ہی نہیں نکل پاتے. اس فیزیکل نیڈز کے لیول سے اوپر جانے والے لوگ کم ہیں.”
“اب سب سے اوپر آجائیں۔ یہاں۔” ایک اور دائرہ لگایا۔
” سیلف ایکچلائیزیشن۔ جناب یہ وہ لوگ ہیں جو خود کو پہچان جاتے ہیں. اپنا مقصد پہچان جاتے ہیں. اور یہ باکس اس ٹرائنگل کے نیچے کے سب باکسز سے چھوٹا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ یہاں پہنچنے والے بہت کم لوگ ہوتے ہیں. اور جو پہنچ جاتا ہے وہ نیچے والی ہر ضرورت پیچھے چھوڑ آتا ہے. “
“ساغر صدیقی. ” وہ دوبارہ روسٹرم کی طرف آئے.
“مرے تو کچرے کے ڈھیر پر پڑے تھے. کھانے پینے کا ہوش نہیں تھا،نشہ کرتے تھے اور اس حالت میں بھی ایسا شعر کہتے کہ صدرایوب جیسا جرنیل انڈیا میں ہونے والے ایک مشاعرے میں ان کا کلام سنتا ہے، پوچھتا ہے یہ کس کا کلام ہے،کہنے والا کہتا ہے آپ کے ہی ملک کا شاعر ہے.،واپس پاکستان آتا ہے،ملنا چاہتا ہے،تحفے تحائف دے کر وزیر بھیجتا ہے اور ساغر ملنے سے انکار کر دیتا ہے،تحفے بھی لٹا دیتا ہے،ساغر کو ان کی ضرورت نہیں۔”
“پھر جرنیل صاحب خود تشریف لاتے ہیں اور جناب نشئیوں کے بیچ گھرے ایک دربار پر ان سے ملتے ہیں. “
“یہ خود شناسی تھی. دھن دولت کچھ نہیں بس شاعری اندر تھی۔” ڈاکٹر ہارون نے شہادت کی انگلی دل پر رکھی.
کلاس مبہوت ان کو سن رہی تھی. سما ایسا بندھ گیا تھا کہ ڈاکٹر ہارون سانس لینے کو بھی رکتے تو کان آگے سننے کو بے چین ہو جاتے۔
” اچھا ایک اور مزے کی بات انہوں نے پہلو بدلا. جو عام لوگ ہوتے ہیں نا وہ خود کو منوانا چاہتے ہیں. چاہتے ہیں لوگ سراہیں پر یہ جو لوگ سیلف ایکچلائزیشن کے درجے پر پہنچتے ہیں ان میں یہ طلب بھی نہیں ہوتی۔” ہونٹ فاتحانہ سے انداز میں کھینچے.
“ان کو پرواہ ہی نہیں کہ کوئی ان کا کام دیکھتا ہے ,،سراہتا ہے کہ نہیں۔” یہ خود مطمئن ہوتے ہیں. اپنے کام سے اور خود سے. ” وہ ٹھہر ٹھہر کر کہہ رہے تھے۔
” ان کو پیسہ دولت نہیں چاہئیے ہوتا. یہ خود کو پہچانتے ہیں اپنا مقصد پہچانتے ہیں اور اس کام کو عبادت کی طرح کرنے لگ جاتے ہیں. پیسہ، وقت,،حال بے حال ہر چیز سے بے گانہ.”
“اسی سیلف ایکچلائزیشن کی اسٹیج پر پہنچنے والا مائیکل اینجلیو۔ ” وہ روسٹرم سے کرسی تک آئے،بات کو آگے بڑھایا۔
“یار پندرہ دن وہ بندہ کھڑا ہو کر پینٹنگ بناتا رہا. ہوش ہی نہیں. پندرہ دن بعد جوتا اتارتا ہے تو پاؤں کی کھال بھی ساتھ ہی اتر آتی ہے۔” حیا نے جھر جھری لی.
“جو آپ کا کام ہوتا ہے نا بیٹا! وہ آپ کو تھکنے نہیں دیتا اور اٹھنے بھی نہیں دیتا. پھر کیا کھانا,،کیا پینا، کیا دن اور کیا رات.”
“ہم زندگی میں چھوٹے جھگڑوں میں پڑے رہتے ہیں بڑی جنگ لڑتے ہی نہیں ہیں.” انہوں نے تاسف سے کہا.
“میرا پیسہ،میرا دوست،میرا گھر،میری زمین،میری گاڑی.”
“پھر؟ “
“پھر اس نے مجھ سے صحیح سے بات نہیں کی. وہ مجھے دیکھ کر مڑ گیا. اس نے مجھے دیکھ کر منہ بنا لیا. اس نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا.، بدلہ، لڑائی، جھگڑے۔” تاسف برقرار تھا۔
” یہاں ہمارے پاس تقریباً ہر بڑے محکمے کے لوگ موجود ہیں. بتائیں کتنی برداشت ہے ہم میں؟”
“دس روپے کے پیچھے قتل کے کیسز آئے ہیں سامنے.”
” وہ ممانی نے بچے کو مار دیا کہ سب کہتے ہیں یہ میرے بیٹے سے پیارا ہے. مطلب واقعی؟ ” اپنے الفاظ پر انہوں نے خود ہی تصدیق چاہی۔
” ایک دوسرے کو نیچے کھینچ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں وہ بھی بس اتنا آگے کہ اس پیچھے چھوٹنے والے کا مزاق بنا سکیں. اس سے آگے نکل جانے کا گھمنڈ دکھا سکیں. ” اب آواز میں سختی در آئی تھی.
“واٹ یار؟ ” تاسف بر قرار تھا.
“بیٹا! یہ چھوٹے جھگڑے ہیں. ” انگوٹھے اور شہادت کی انگلی جوڑ کر بتایا.
“بڑے میدان میں نکلیں،بڑی جنگ لڑیں،بڑی منزل کے مسافر بنیں.۔” ہاتھ ہوا میں پھیل گئے تھے.
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ بڑا مگر قدرے تاریک سا ہال تھا،ہال میں سرخ رنگ کی لائٹ کے ساتھ دوسری رنگ برنگی روشنیاں گھوم رہی تھیں،سامنے کاؤنٹر تھا جس کے آگے چار اونچی نشستیں تھیں،جن میں سے دو پر تھیں، ان کے آگے کچھ میز لگے تھے، پیچھے ڈانس فلور تھا،کچھ نوجون جوڑے میزوں کے آس پاس لگی کرسیوں پر براجمان شراب اور دوسری نشہ آور اشیا حلق میں انڈیل رہے تھے اور باقی ڈانس فلور پر ناچتے فحاشی کے جھنڈے گاڑ رہے تھے. میوزک لاؤڈ تھا مگر اتنا نہیں کہ آواز سنائی نہ دے۔وہ ابھی پیچھے کوریڈور سے ہوتا اندر آیا تھا۔ جینز, اس پر ہاف وائٹ شرٹ،بازو کلائیوں تک مڑے ہوئے،چہرے پر ہلکی داڑھی اور وہی بھوری آنکھیں جن کو سکیڑتا تو سامنے والے کے لیے نظر ہٹانا مشکل ہو جاتا۔ اس کا رخ کاؤنٹر کی طرف تھا،وہ ایک نشست پر جا کر ٹک گیا،ویٹر کو اشارہ کیا اور جوس کا گلاس ہاتھ میں پکڑے کرسی کو گھما کر پب کا جائزہ لیا،سب اپنی دھن میں مگن تھے۔جوس کا گلاس ہونٹوں سے لگاتے اس کی آنکھیں مسلسل آس پاس لوگوں پر تھی۔
” کس کا انتظار کر رہے ہو ہینڈسم۔” نسوانی آواز پر وہ پلٹا۔اس کے ساتھ والی ہائی چیئر پر ایک لڑکی کالی ساڑھی،سرخ لپ اسٹک،آنکھوں پر لائنر غرض لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے تمام آلات سے لیس تھی۔
حمزہ نے ایک نظر اسے دیکھااور جواب دیے بغیر کرسی گھما کر دوبارہ کاؤنٹر کی طرف مڑ گیا۔ اب گلاس کاؤنٹر پر تھا اور وہ گلاس میں بچے جوس کو گھور رہا تھا۔ انگلیاں مسلسل گلاس کو گھما رہی تھیں۔
” پب میں آکر جوس کون پیتا ہے،پینا ہے تو کچھ ایسا پیو کہ بس ہوش نہ رہے۔” لڑکی نے ہاتھ بڑھا کر گھومتے گلاس کو پکڑا،دونوں کی انگلیاں ٹکرائی تھیں۔ وہ فوراً ری ایکٹ کرنے والوں میں سے نہیں تھا،اس نے گلاس چھوڑ دیا تھا،اب کہ وہ دونوں بازو کاؤنٹر پر ٹکائے فون پر انگوٹھے سے ادھر ادھر سلائڈ کر رہا تھا۔
” اوہ تو تم سخت لونڈے ہو؟” لڑکی نے بے تکلفی سے کاؤنٹر پر دھرے اس کے بازو میں اپنا بازو ڈالا،حمزہ منہ بند کیے اپنے دانتوں کو زبان سے رگڑ رہا تھا۔ یہ اس کا سوچنے کا انداز تھا. مختلف اور منفرد۔
وہ مسکرا کر لڑکی کی طرف مڑا۔مسکراتے ہوئے اس کی چھوٹی آنکھیں اور چھوٹی ہو گئیں تھیں، لڑکی کے ہاتھ پر اس نے اپنا دوسرا ہاتھ رکھا۔ ذہن میں کوئی چہرہ ابھرا تھا۔
“میں شادی شدہ ہوں۔” وہ مسکرایااور اس کا ہاتھ اپنے بازو سے الگ کیا۔
“میں بھی۔” لڑکی نے فخریہ انداز میں بتایا۔
“اہاں۔” حمزہ نے بھنویں اٹھائیں۔ ” آئی وش میں کہہ سکتا جان کر خوشی ہوئی۔”
“اینڈ آئی وش تمہاری بیوی اچھی ہوتی. “
“وہ اچھی تھی یا بری؟ ” حمزہ نے سوچا،اتنا جاننے کا وقت ہی کہاں ملا تھا اس نے سر جھٹکا۔
” تمہاری بیوی روایتی بیویوں کی طرح گھر میں فساد ڈال کر رکھتی ہو گی،کوئی کام نہیں کرتی ہو گی،خرچہ مانگتی رہتی ہو گی۔۔ پور سول۔۔ ” یقیناوہ اپنے کرتوت گنوا رہی تھی۔
حمزہ دو ہفتے پیچھے چلا گیا تھا۔ ” اس نے تو عزت کے سوا کچھ بھی نہیں مانگا تھا” وہ بڑبڑایا۔
“پر خیر،میں ہوں نا۔” لڑکی نے ہاتھ بڑھا کر اس کے گال پر رکھا. حمزہ نے دانت بھینچے تھے.
“مست نظروں سے اللہ بچائے. “
“ماہ جمالوں سے اللہ بچائے.”
حمزہ چونک کر پیچھے مڑا،وہ اپنی جگہ کھڑا ہو گیا تھا، لڑکی نے نا گواری سے اس لڑکے نما لڑکی کو دیکھا،بڑے بڑے پھولوں والا کرتا،لمبے بال جن پر تیل لگا تھا، آنکھوں پر کاجل سے لمبے لمبے ڈورے کھینچے ہوئے تھے۔
” جاؤ معاف کرو، ایسے لوگوں کو پتا نہیں کیوں یہاں آنے دیتے ہیں۔” لڑکی نے اسے دھتکارا۔ حمزہ اٹھ کر جانے والا تھا جب لڑکی نے اس کا بازو پکڑا۔”مجھے تمہارا انتظار رہے گا “اسنے ادا سے کہا۔
“تم جلد مجھے دیکھو گی۔” اس نے بھی کمال اداکاری سے لہجے میں پیار بھرااور وہاں سے ہٹ گیا۔ جب وہ واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا جسے سب کی نظروں سے بچاتا وہ اپنی جینز کی پچھلی جیب میں ڈال رہا تھا. اس نے کاؤنٹر پر ایک نظر ڈالی. لڑکی گلاس سے گھونٹ اپنے اندر انڈیل رہی تھی. حمزہ نے ایک طرف سے اپنے ہونٹ طنزیہ طور پر مسکراتے ہوئے کھینچے. اور اسے وہیں چھوڑ کر باہر نکل گیا.
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ وہی مٹی کا گھر تھا جہاں شیری شیروان کو لے کر آیا تھا. ان کو یہاں آئے ہفتہ بھر ہو چکا تھا. شیروان کا یہاں یوں آنا حاجن بی بی کو کچھ خاص بھایا نہیں تھا. مگر چونکہ وہ شیری کے توسط سے آیا تھا اور تین ماہ پورا کرنے پر اس کا شمار قابل اعتبار لوگوں میں تھا. تو وہ پی گئی. سیکریٹ گروپ میں اسے ایڈ کر دیا گیا تھا. وہ کافی قریب سے ان لوگوں کی حرکات وسکنات دیکھ رہاتھا۔
اب کہ وہ صحن کے بجائے اندر چکور ہال نما کمرے میں تھے،ہر طرف رنگ بکھرے تھے،کہیں رنگ برنگے پرد، کہیں میک اپ کرتی،لچکتی،سر بکھیرتی مرد نما عورتیں اور ایک کونے میں کچھ لوگ نیچے چادر بچھا کر بیٹھے تھے۔ وہ اپنے اپنے کمزور شعبوں کو بہتر بنانے کے لیے پریکٹس کر رہے تھے،کوئی ڈانس سیکھ رہا تھا،کسی کو کھسروں کے سے انداز میں تالی بجانا نہیں آتا تھاکیونکہ بیشتر اپنے مطلب کو بھیس بدلے ہوئے تھےاور کوئی ریاض کر رہا تھا۔کمرے کے درمیان میں ایک چھوٹا پلنگ تھا جس پر ایک مرد نما عورت لہنگا اور کرتی پہنے سامنے حقہ جمائے گھاؤ تکیے سے ٹیک لگائے پڑی تھی، اس کے دونوں طرف دو اسی طرح کے پر قدرے کم میک اپ سے آراستہ مرد نما عورتیں کھڑی تھیں۔ یہ ان کھسروں کی سردار تھی۔
پلنگ کے دوسری طرف قد آور شیشہ تھا، جس پر شیری اپنے لمبے مصنوعی بال اور منہ پر بہت سا میک اپ لگائے بیٹھا تھا،اس کے ساتھ بنٹی کھڑی اس کا میک اپ سیٹ کر رہی تھی اور ساتھ ساتھ اسے میک اپ ٹیوٹوریل کے انداز میں مختلف چیزیں سمجھا رہی تھی. شیری کو اس کے نام پر اعتراض تھا اپنے قد و قامت کی بنا پر اسے بنٹی نہیں بنٹا ہونا چاہئیے تھا۔وہیں اس کے پاس نیچے فرش پر شیروان بیٹھا تھا، شیری کو اس ماحول کی عادت تھی جبکہ شیروان کا یوں تھرڈ جینڈر میں پہلا تجربہ تھا،اسے یہاں سب سے زیادہ جو چیز محفوظ کر رہی تھی وہ شیری کا میک اپ،ڈانس اور ہاں تقریبا نہ ہلنے والا ‘ ٹھمکہ’ تھا۔
“بلبل کیا کر رہی تو؟ یہ تیسری دفع تجھے لپ اسٹک لگا رہی ہوں.” شیری کو میک اپ تھوپتی بنٹی عرف بنٹا نے اسے ناگواری سے دیکھا۔ شیروان جو پچھلے آدھے گھنٹے سے یہ میک اپ دیکھ دیکھ کر بور ہو رہا تھا چونکااور اس کے لبوں پر ہلکی مسکراہٹ بکھری۔ یہ خفگی تیسری بار شیری اور بنٹی کے بیچ آئی تھی،شیری ہونٹوں پر زبان پھیر پھیر کر ساری لپ اسٹک چٹ کر جاتا اور بنٹی غصے سے تلملا اٹھتی، ہر بار وہ دوبارہ نہ کرنے کا وعدہ کرتا اور اگلی بار پھر لپ اسٹک کے بس ہلکے نشان رہ جاتے۔
“اچھا اب نہیں کرتی.” شیری نے ہاتھ کو اپنے بالوں پر جو کہ لمبی چوٹی کی طرح اس کے کندھے سے آگے ڈھلکے ہوئے تھے ہاتھ پھیرا۔
“بنٹی چھڈ دے اس نوں،میک اپ یہ فیر سیکھ لے گی،ابھی اسے کمو کے پاس بھیج اس کو ٹھمکے کی پریکٹس کروا دے گی۔” پلنگ پر تقریبا لیٹی بی بی حاجن نے ہاتھ اٹھا کر آواز لگائی۔ وہ پچھلے سال حج کر کے آئی تھی اور اسی کی خواہش پر اب اسے بی بی حاجن کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ بنٹی نے ناک منہ چڑایا اور ایک طرف ہو لی۔
“نی کمو!! اے ببلی دے ٹھمکے تے وی کم کر۔” اس نے فرش پر بیٹھی پریکٹس کرتی عورتوں میں سے ایک کو مخاطب کیا،جو سب کے ناچ کو بغور دیکھ کر ریمارکس دے رہی تھی۔
“ہاں تو حاجن بی بی،آجائے یہ بھی۔” اس نے کھسروں کی سی طرز پر ہاتھ ہوا میں اٹھا کر دوبارہ نیچے کو مارا۔اب یہ شیروان کے لیے مزیدار تھا، شیری اٹھ کر دوسرے کونے میں پڑی چٹائی کی طرف چل دیااورشیروان اس کے ساتھ ہو لیا ۔
“بلو ٹھمکا لگا. بلوووو..” دوسری طرف کوئی مردانہ کم زنانہ آواز میں گا رہا تھا۔
“لو جی اب بلو ٹھمکا لگانے لگی ہے۔” شیروان نے شیری کے پیچھے سرگوشی کی،شیری نے اسے گھورا۔ وہ جب تک یہاں اکیلا تھا وہ سکون میں تھا اب ہر الٹی حرکت کا شیروان گواہ بنتا جا رہا تھا۔
“بلو ٹھمکا لگا.. ” آواز تیز ہو گئی، وہ چٹائی کے پاس پہنچ گئے تھے۔
“سانوں سب نو نچا۔” یہ کمو تھی اور بلا شک و شبہ وہ کمال آواز کی مالک تھی یا تھا۔ شیری اور شیروان ہمیشہ اپنے آس پاس اس کم دکھنے والی مخلوق کی جنس کا فیصلہ نہیں کر پاتے تھے۔
“بلو و و و.” ” آجا ببلی. ادھر آ.” شیری کو دیکھ کر گاتے گاتے وہ رکی. کھسروں کے گول دائرے کے بیچ میں ٹھمکے لگاتی تھرکتی کملا کے قدم رک گئے۔ شیری سڑتا کڑتا زبردستی مسکراتا آگے بڑھا۔
” دیکھ ببلی! ٹھمکا لگانے کے لیے دو چیزیں چاہئیے ہوتی ہیں.”
” یہ اور یہ۔” اس نے پہلے شیری کے ٹھمکے اور پھر دل پر ہاتھ مارا اور اس ناگہانی ہاتھ مارنے پر وہ تڑپ کر رہ گیا۔
“لماؤ۔ ” کسی نے دل میں کہا تھا اور اس ‘کسی’ کو شیری نے بے بسی سے دیکھا تھا۔ خیر شیری سنبھل چکا تھا اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ٹھمکا نامہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔کمو دوبارہ اسے سمجھانے لگی۔
” کام عبادت ہوتا ہے، ہمارا کام ناچنا ہے اور اسے عبادت سمجھ کے کر۔”
“لا حولا ولا قوت.” اب کے دو دلوں نے بیک وقت کہا۔
“چل اب کر کے دکھا۔” تھیوری کے بعد پریکٹکل کی باری تھی،شیری دائرے میں جا کر کھڑا ہوا۔ ادھر کمو نے اپنے سر بکھیرے۔ “بلو ٹھمکا لگا. بل و و. و..” اورادھر شیری کا ٹھمکا ، نہیں بلکہ ٹھمکی ہلی۔ اور وہیں کہیں دل میں کوئی ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گیا۔
“یہ بھی جان کو عذاب پڑ گیا ہے۔” شیری نے خفگی سے شیروان کو دیکھ کر سوچا۔
“بےچاری بلو ٹچ۔” دوسرے دل نے بھی سرگوشی کی تھی۔
“میں کدھر پھنس گیا۔” شیری کا دل رویا۔
“اب یہ اچھا پھنسا ہے۔” دوسرا دل پر جوش تھا۔
“کتا۔” اپنی ٹھمکی کو شیری نے شیروان کے منہ کے آگے لہرایا۔ وہاں ہنسی تھی، واپس جا کر سب کچھ حرف بہ حرف بتانے کا جوش تھا۔
“سانوں سب نوں نچا. بلو و و ..” کمو بے نیاز گاتی رہی۔
اور دو مردانہ دل آپس میں سر گوشیاں کرتے رہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

No comments: