Ads Top

حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر 15 Haya By Fakhira Waheed Episode No

 حیا
  از 
فاخرہ وحید


 حیا  از فاخرہ وحید
15 قسط نمبر  
Haya By Fakhira Waheed 
Episode No 15
"حیا"
از
فاخرہ وحید (فری)

قسط 15
ردابہ جا چکی تھی.
حمزہ نے حیا کو ڈھونڈا تھا. وہ اپنے سر سے یہ بوجھ اتار دینا چاہتا تھا. لیکن وہ اسے کہیں نہیں ملی تھی.
اس کے دل میں کہیں کسک تھی کہ اس کی وجہ سے ایک اور زندگی خراب ہو جائے گی. وہ بس اس ایک اور پچھتاوے سے بچنا چاہتا تھا.
جب حیا نہیں ملی تو وہ تھک ہار کر بیٹھ گیا تھا.
🌸🌸🌸🌸🌸🌸
فریحہ کو شیری کا آئیڈیا اچھا لگا تھا. وہ چھٹی لے کر کوئٹہ اور وہاں سے زیارت جانے کی پلاننگ کر رہی تھی. علی کے لیے جانا مشکل تھا. لیکن فریحہ کے اصرار پر حمزہ نے علی کا سب کام خود سنبھال کر اسے جانے کے لیے فورس کیا تھا.
شیری کوآئے کافی دن ہو گئے تھے وہ بھی واپس لڑکیاں اغوا کرنے والے گروہ سے جا ملا تھا. اب کہ اس کے ساتھ شیروان بھی تھا.

"بلبل آگئی ہے تو. " چنبیلی نے لہراتے ہوئے کہا. وہ بڑے صحن میں لکڑی والے چولہے پر بیٹھی روٹی سینک رہی تھی
"ہاں آگئی ہوں. " شیری نے تالی بجائی تھی.
شیروان پہلی بار یوں اس کے ساتھ آیا تھا. شیری کی حرکت دیکھ کر اس کا دل چاہا وہ زور زور سے ہنسے. اور وہ ہنس بھی گیا تھا.
"یہ کون ہے. " چنبیلی خفا ہوئی تھی. شیری نے غصے سے شیروان کو دیکھا.
"یہ میری سہیلی ہے. اپنے علاقے سے لائی ہوں."
شیروان کو اپنی جنس بدل جانے کا افسوس ہوا تھا. وہ دونوں اب نیچے پیڑی پر چنبیلی کے ساتھ ہی بیٹھ گئے تھے.

"تجھے پتا نہیں ہے یہاں کوئی بھی بی بی حاجن کی مرضی کے بغیر نہیں آتا. " چنبیلی نے شیری کے کان میں کہا.
"اری تو کیوں فکر کرتی ہے. بی بی حاجن سے میں بات کر لوں گی. بڑا کرارا ٹھمکا لگاتی ہے یہ. " شیری نے چنبیلی کے کان میں آہستہ سے کہا. شیروان یہ سن چکا تھا.

"کتا." یہ اس نے دل میں کہا تھا.
"کیا نام ہے تیرا." چنبیلی اپنے ہی انداز میں گویا تھی.
"پنکی پنبیری." نام بتانے والا شیری تھا.
"پنکی تو ٹھیک ہے پر یہ پنبیری کیا ہے." چنبیلی کو سمجھ نہیں آیا تھا.
"اری. وہ ہی پنبیری جو اڑتی پھرتی ہے. بس اس کا ناچ دیکھے گی تو تو بھی مان جائے گی. پنبیری ہے یہ. " شیری نے شیروان کے کندھے پر ہاتھ مارا. اور شیروان کا دل چاہا وہ اس کا گلہ دبا دے.

"تو ہی بولتی رہے گی یا یہ بھی کچھ بولے گی." چنبیلی اب روٹیاں کپڑے میں لپیٹ رہی تھی.
"بول میری پنکی پنبیری. " شیری نے اس کا مزاق اڑایا تھا.
"ہاں جی بڑا اچھا ناچتی ہوں. " شیروان نے ادا سے کہا تھا. شیری اسے اچھے خاصی ٹریننگ کروا کر لایا تھا. اور اس میں کوئی شک نہیں کہ شیروان, شیری سے زیادہ لچک دکھا رہا تھا.
🌸🌸🌸🌸🌸🌸
"اللہ کی اس کائنات میں ہر چیز کسی خاص مقصد سے ہے."
حضرت موسیٰ نے دیوار پر چھپکلی دیکھی تو اللہ سے پوچھا.
"اے اللہ. تو نے چھپکلی کو کیوں بنایا. "
تو اللہ نے فرمایا.
"اے موسیٰ ابھی تیرے سے پہلے یہ چھپکلی بھی مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ اے اللہ تو نے موسیٰ کو کیوں بنایا. "

ڈاکٹر ہارون کرسی پر بیٹھے اپنے الفاظ سامنے والوں کی سماعتوں کی نذر کر رہے تھے. چھوٹے سے اس کمرے میں نو دس لوگ بیٹھے تھے.
" اس کائنات میں کچھ ایسا نہیں ہے جو بغیر حکمت بغیر مقصد کے پیدا کیا گیا ہو. "
"آپ میں سے کتنے لوگ سوشل میڈیااستمعال کرتے ہیں. "
سب نے ہاتھ کھڑا کیا تھا.

"سوشل میڈیا پر بلیوں کی تصویریں بہت شیئیر ہوتی ہیں. "
"از اٹ سو؟؟ " وہ روکے.

"یس." ہلکی آوازیں آئی.
"میں نے کہا ہر مخلوق کا مقصد ہے تو بلیوں کا کیا مقصد ہے؟ "
"چوہے پکڑنا." وہ آہستہ سے بولی.
کمرے میں کھلکھلاہٹ ہوئی تھی.
"اونچا بولیں. " ڈاکٹر ہارون نے دائیں دیوار کے ساتھ تیسری کرسی پر بیٹھی حیا سے کہا. وہ کنفیوز تھی.

"چوہے پکڑنے کے لیے. " وہ دوبارہ لیکن قدرے اونچا بولی تھی.
"دیٹس دی رائٹ آنسر.؟ انہوں نے حیا کو سراہا. اس کا اعتماد بڑھا تھا.
"آسٹریلیا کا ایک آئی لینڈ ہے میکیوری آئی لینڈ. "
"وہاں بلیاں بہت ہو گئی تھیں. اور وہاں کے جو سمندری پرندے تھے وہ بلیوں کے شکار کی وجہ سے کم ہوتے جا رہے تھے.فیصلہ کیا گیا کہ بلیوں کو اس آئی لینڈ سے ختم کر دیا جائے. اور ایسا کیا بھی گیا. تو ہوا کہ کہ آئی لینڈ پر خرگوش اور چوہے بہت زیادہ ہو گئے. خرگوشوں نے فصلیں تباہ کرنا شروع کر دی. "
"تو بیٹا. اگر بلیاں نہ ہوتی تو زمین پر چوہے, خرگوش اور دوسرے چھوٹے mammals کی آبادی بڑھ جاتی. خرگوش فصلیں تباہ کر دیتے. چوہے اناج کھا جاتے.
آپ کو پتا ہے ایک خرگوش ایک سیزن میں 100 بچے پیدا کرتا ہے. اور ایک چوہوں کے جوڑے سے ایک سال میں دو ہزار چوہے پیدا ہوتے ہیں. اور یہ ہی دو ہزار چوہے اگر تین سال اور رہیں تو ہاف بلین چوہے اور پیدا ہوں. "

سب کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھی.
"غرض اگر بلیاں نہ ہوں تو ایک دو سال میں ہی پوری زمین چوہوں سے بھر جائے. " وہ ان کو اور حیران کر رہے تھے.
"چوہے چونکہ گندگی میں رہتے ہیں تو ان کے آس پاس ہونے سے ہی مہلک بیماری پھیلتی ہیں. طاعون سر فہرست ہے. اور اگر ان کی آبادی یوں ہی بڑھتی رہے تو انسانوں کے لیے اناج نہیں بچے گا اور ہم سب بھوک سے مر جائیں گے. "
وہ سانس لینے کو روکے تھے.
"سر اگر ہر چیز کا کوئی مقصد ہے تو چوہوں کا کیا مقصد ہے پھر. " حیا اب پر اعتماد تھی.
"آئی واز ایکسپیکٹنگ دس کویسچن. " وہ مسکرائے.
"بیٹا پہلا تو یہ کہ چوہے scavangers یعنی مردار خور ہیں. اور دوسرا یہ سورس ہیں دوسرے جانوروں کی خوراک کا. سانپ اور مختلف پرندے وغیرہ. " وہ خاموش ہو گئے.
"اچھا چلیں اس سے بھی چھوٹی مثال لے لیتے ہیں. "
"آپ نے شہد کی مکھی دیکھی ہے؟ "
"کتنی چھوٹی سی ادنیٰ سی مخلوق ہے. ہمارے گھروں میں اس کا شہد بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے. شفا ہے اس کے شہد میں. کیا اس شہد کی مکھی کا مقصد شہد بنانا ہی ہے؟ " ڈاکٹر ہارون نے پہلو بدلا.

دائیں طرف تیسری کرسی پر ہاتھ میں کاپی پنسل پکڑے وہ پوری طرح ان کی طرف متوجہ تھی.
"بیٹا. آپ کسی سپر مارکیٹ میں جائیں. وہاں موجود ون تھرڈ فوڈ اس شہد کی مکھی کی وجہ سے ہے. اگر یہ مکھی نہیں ہوتی تو پولینیشن نہیں ہوتی اور پولینیشن نہیں ہوتی تو 33 فیصد فصلیں اور نوے فیصد پودے نہ اگتے. "
"اگر یہ شہد کی مکھیاں نہ ہوں یا کم ہو جائیں تو ہمارا ایکو سسٹم تو ختم ہو جائے گا. "
" بتانا یہ مطلوب ہے کہ ہر مخلوق کے اس دنیا میں ہونے کا مقصد ہے. "
" انسان ساری زندگی اس دنیا میں گزار لیتا ہے لیکن اپنے اس دنیا میں آنے کا مقصد پہچاننا تو دور کی بات وہ خود کو بھی نہیں پہچان پاتا. "
وہ کھڑے ہو گئے تھے.
"میں آپ سے ہوچھتا ہوں. ہو آر یو؟" آپ کہ ممکنہ جوابات کیا ہوں گے؟
"مائی نیم از دس. "
"آئی ڈو دس جاب."
" آئی لیو ان اسلام آباد. "
وغیرہ.

"یس اور نو؟" انہوں نے حمایت چاہی.
"یس.. " دوبارہ ہلکی آوازیں آئی تھیں.
"سو یور نیم از ایس وائی زی."
" دیئر از این ادھر پرسن ود دی سیم نیم."
"لونگ ان دی سیم سٹی. "

"ناؤ واٹ ول یو ڈو؟ "
"آپ میں اور اس انسان میں کیا فرق ہے؟" اب کہ ان کی آواز قدرے بلند تھی.
شکل کا کسی نے ہلکے سے کہا تھا. کمرہ چھوٹا تھا آواز ڈاکٹر ہارون کو پہنچ گئی تھی.
"شکل کا؟ "
"کون دیکھ رہا آپ کا چہرہ؟ "
"میں.؟"
" آپ کے ساتھ بیٹھا انسان. ؟"
"آپ کی فیملی, دوست. بس؟ "

"کوئی اجنبی آئے. آپکا چہرہ دیکھے تو کیا یہ آپکا تعارف ہو گا؟ اگر یہ آپکا تعارف ہے تو وہ آپ سے کیوں پوچھتا ہے ہو آر یو. کون ہیں آپ؟"
"اور اگر آپ کی شکل جواب ہے اس سوال کا تو جب آپ پیدا ہوتے ہیں تو آپ کا نام کیوں رکھا جاتا ہے؟" توہ سانس روکے بولے جارہے تھے.
کمرے میں خاموشی تھی. اتنے سوالوں کا جواب کوئی نہیں دے سکا تھا.
کون ہیں وہ. وہاں موجود سب لوگ اس سوال کا جواب جاننا چاہتے تھے.
حیا کو لگا وہ واقعی خود کو نہیں جانتی. وہ اس وقت اپنے آپ کو اجنبی لگی تھی.

(جاری ہے)

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.