Ads Top

حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر 5 Haya By Fakhira Waheed Episode No

 حیا
  از 
فاخرہ وحید

 حیا  از فاخرہ وحید
5 قسط نمبر   
Haya By Fakhira Waheed 
Episode No 5
"حیا"
(قسط 5)

علی کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا یہ شادی کن حالات میں ہوئی. علی اور حمزہ کیڈٹ کالج کے زمانے سے دوست تھے. دونوں نے ایک ساتھ بہت سے مشنز پر کام کیا تھا. اور کامیاب رہے تھے. وہ زیادہ تر حمزہ کے ساتھ اسی گھر میں رہتا تھا. علی حمزہ کی زندگی کے ہر اتار چڑھاؤ سے واقف تھا. حمزہ نے اسے دوست سے زیادہ بھائی سمجھا تھا. اور ایسے ہی حمزہ علی کے لیے تھا.
ریسیپشن کے تمام تر ارینجمینٹ علی ہی کے سپرد تھے.
لان کو رنگ برنگے قمقموں سے سجایا گیا تھا. ایک طرف میز اور کرسیاں لگی تھیں. اور اسٹیج کو گلابی اور کالے رنگ کے بڑے بڑے مصنوعی پھولوں سے سجایا گیا تھا.
"سر! ایک بات پوچھوں؟" اسٹیج پر دلہا دلہن کے لیے قد آور کرسیاں لگاتے ہوئے شیری نے علی کو مخاطب کیا.
"تم کب سے پوچھ کر بات کرنے لگے. تمہیں تو عادت ہے کہیں بھی کچھ بھی بولنے کی. " فوٹو بوتھ پر فریم سیٹ کرتے شیروان نے اس پر آواز کسی. سب کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی. ان کی نوک جھونک معمول تھا اور ان سب کے انٹرٹینمنٹ کا سبب بھی.
"تم چپ رہو. " شیری نے شیروان کو مصنوعی غصے سے ڈانٹا.
"سر آپکو کیا لگتا ہے. حمزہ سر کی یہ ارینج میرج ہے یا لو میرج؟ "
ہلکے قہقہے ابھرے. علی نے شیری کو یوں دیکھا جیسے وہ کوئی عجوبہ ہو. سب کے کان کھڑے ہو گئے تھے.
علی نے ایک نظر آس پاس مختلف کام نمٹاتے لڑکوں کو دیکھا.

"ارینج.." علی کو معلوم تھا سب یہ جاننا چاہتے ہیں. تبھی اس نے قدرے اونچا کہا.
"ویسے سر سوچیں اگر یہ لو میرج ہوتی تو حمزہ سر کو بھابھی نے کہاں دیکھا ہو تا؟ کسی فٹ پاتھ پر بھیک مانگتے ہوئے. یا پھر کچرہ کنڈی سے کچرہ چنتے . یا کھسروں کے ساتھ ناچتے ہوئے.؟ " شیری نے معصومیت سے گیسٹ لسٹ چیک کرتے علی کو دیکھا.
قہقہے بلند ہوئے. لیکن شیری ہمیشہ کی طرح معصوم شکل لیے کھڑا رہا.
"ہو گیا؟" علی نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے مصنوعی خفگی دکھائی. بات شیری کی سو فیصد سچ ہی تھی. زیادہ تر وہ اپنے اصل حلیہ کے بجائے دوسروں کا روپ ہی دھارے ہوتے تھے.
"سر جو بھی ہے. ہم سب حمزہ سر کے لیے بہت خوش ہیں."
تقریباً سب کام نمٹ چکا تھا. سارے لڑکے وہیں علی کے گرد جمع ہو گئے تھے.
"ہاں یار. بات تو خوشی کی ہی ہے. بس دعا کرنا اللہ اس فیصلے کو حمزہ کے حق میں بہتر کرے."
آمین .سب نے یکے بعد دیگرے کہا.
علی کو حمزہ کا یہ فیصلہ بھایا نہیں تھا. لیکن وہ خاموش تھا. حمزہ پہلے ہی اس فیصلے کو لیکر کنفیوز تھا اور اب علی اسے اور اپ سیٹ نہیں کر نا چاہتا تھا.
فادی , ہمایوں, سعد اور تراب نے علی سے اجازت چاہی. ان کو آج کچھ کام نمٹانے تھے.
"اندر چلتے ہیں. حمزہ اور حیا بھی آتے ہی ہوں گے. "
علی نے شیروان, زویان اور شیری کو آج کے لیے کام روک دینے کا عندیہ دیا.

🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
رات کے سات بج رہے تھے. جب حمزہ کی کار کا ہارن سنائی دیا. سب لوگ لاؤنج میں بیٹھے گپیں لگا رہے تھا.
"جا دیکھ. نیولی ویڈ کپل آیا ہے باہر." شیری نے زویان کو اشارہ کیا.
"یار میرا پاؤں سو یا ہوا ہے. تو کھول آ پلیز.."

"مجھے بھابھی سے شرم آتی ہے. " شیری نے نا قابل یقین بہانہ پیش کیا.
" چلا جا بھائی نہیں ہے." زویان نے منت کی.
" نہیں. میں اپنے ماں باپ کا اکلوتا ہوں." شیری دوبارہ اپنے سیل پر مصروف ہو گیا.
دوبارہ ہارن بجا. بی اماں کچن سے نمودار ہوئیں. وہ سب کے لیے ڈنر کا انتظام کر رہی تھیں.
"رکیں بی اماں. میں ہی دیکھتا ہوں. پورے گھر کی ذمہ داری شیری کے کندھوں پر ہے یہاں." اپنے کندھے جھاڑتا سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ چھوڑتا شیری مین گیٹ کی طرف لپکا.
"جی آیا نوں. " حمزہ کے لاؤنج میں قدم رکھتے ہی سب نے کھڑے ہو کر بھابھی کو خوش آمدید کہا.
حمزہ اندر آیا. لیکن حیا ساتھ نہیں تھی.
"کیا بات ہے باس. بھابھی کو مارکیٹ ہی چھوڑ آئے ہیں کیا." شیری نے اپنے مخصوص سنجیدہ انداز میں غیر سنجیدہ بات کی.
"تھوڑی دیر تک آ رہی ہے. ."حمزہ نے اطمینان سے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا. علی اس کے ساتھ آکر بیٹھ گیا.

"حیا کہاں ہے. " علی نے سر گوشی کی.
"جہاں اسے ہونا چاہئے. "
"کہاں؟ اس کے گھر؟ " علی نے اندازہ لگایا.
"نہیں. اپنے سسرال. " حمزہ کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا.
"اور زویان کیسا چل رہا ہے سب. " علی کچھ کہنے ہی والا تھا کہ حمزہ زویان سے مخاطب ہوا.

"الحمدللہ سر. آل ویل. "
"بی اماں.بھوک لگی ہے. کھانا لگا دیں پلیز. " حمزہ نے لاؤنج سے ہی آواز لگائی.
تینوں کی نظریں حمزہ پر تھی. وہ کبھی یوں سب کے ساتھ نہں بیٹھتا تھا. لیکن آج اس کا رویہ کچھ مختلف تھا.
کھانا لگ گیا تو سب اٹھ کر ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھ گئے. علی مسلسل حمزہ کی حرکتیں نوٹ کر رہا تھا. حمزہ کچھ زیادہ ہی فرینڈلی بی ہیو کر رہا تھا. اس نے حمزہ کے ساتھ والی کرسی سنبھالی. وہ اس سے حیا کے بارے میں جاننا چاہتا تھا.

"بی اماں. کھانا بہت اچھا ہے. " حمزہ نے پہلی بار کھانے کی تعریف کی. . آواز کچن میں کھڑی بی اماں تک نہیں پہنچی تھی.
"اب آپ زیادہ ہی کہہ رہے ہیں حمزہ سر. یہ پھیکا کھانا آپ کو کیسے اچھا لگ سکتا ہے. " شیری نے منہ بنایا. اور یہ سچ بھی تھا. بی اماں کا تعلق پشاور کے ایک قصبے سے تھے. وہ ہلکا مصالحہ استمعال کرتی تھیں. تبھی کھانا باہر سے ہی آتا تھا.
حمزہ نے کندھے اچکائے اور دوبارہ پلیٹ پر جھک گیا.
"حیا کہاں ہے؟ " علی نے چبا کر کہا.
"بتایا تو سسرال. " حمزہ نے لا پرواہی سے کہا.

"سسرال مطلب ہمارے والا سسرال تو نہیں سر؟" شیری کہاں چپ رہتا. سب ہنس دیے. لیکن علی کے چہرہ بے تاثر تھا.
"ہاں. یو آر انٹیلیجینٹ شیری.. " حمزہ نے ہائی فائیو کے لیے ہاتھ بلند کیا. اور دور سے ہی شیری نے ہاتھ مارا.
"ایک منٹ." میز پر سکتا چھا گیا.
"وہ جیل میں ہے؟ " علی کی آنکھوں میں بے یقینی تھی. زویان اور شیری خاموش رہے.
" نہیں بس پولیس اسٹیشن. " وہ ہی اطمینان.

"حمزہ تیرا دماغ تو خراب نہیں ہے. " علی نے بے یقینی سے اسے دیکھا.
"مجھے نیند آرہی ہے. " وہ کھانا چھوڑ کر کھڑا ہو گیا.
"حمزہ." علی نے کچھ کہنا چاہا. مگر جب وہ نہیں رکا. تو علی خاموش ہو گیا.
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
رات کے گیارہ بج رہے تھے.. حمزہ جاگ رہا تھا. وہ حیا کو یوں چھوڑ کر آنا نہیں چاہتا تھا. لیکن اس کے لاکھ سمجھانے پر بھی حیا نے ہوشیاری دکھانے کی کوشش کی تھی.
حمزہ علی سے فون پر مہمانوں کے نام فائنل کر رہا تھا جب اچانک وہاں پولیس آگئی.
حمزہ کے خلاف شکایت تھی کہ اس نے حیا کو زبردستی حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے. اور اس سے زبردستی نکاح کیا ہے.

حمزہ کو حیا سے یہ ہی امید تھی. تبھی وہ خود اس کے ساتھ آیا تھا. اور جس شاپ میں وہ کھڑے تھے یہ زویان کے بہنوئی کی تھی. یہاں سب سیلز مین حمزہ کو نہ صرف پہچانتے تھے بلکہ اس کی شخصیت اور اچیومنٹس سے کافی متاثر بھی تھے.
حیا نے جب سیلز مین کو بتایا کہ حمزہ نے اسے زبردستی اپنے گھر رکھا ہوا ہے تو وہ قدرے حیران ہوا. لیکن اس نے کسی قسم کا ری ایکشن نہیں دیا بلکہ حیا کے کہنے پر پولیس کو کال بھی کر دی.
تھوڑی دیر میں پولیس وہاں موجود تھی. حیا نے وہاں شور ڈال دیا.
انسپکٹر شجاع نے جب حمزہ کو وہاں دیکھا تو فوراً ہاتھ ماتھے پر رکھ کر سلیوٹ کیا. اور حال احوال دریافت کرنے لگا. حیا کے لیے یہ نا قابل یقین تھا.

حیا نے پولیس کو سارا ماجرا سنایا. تو حمزہ نے حیا کو پہچاننے سے بھی انکار کر دیا.
"آپ اس کو تھانے لیکر جائیں. اور پوچھیں کس کے کہنے پر اس نے یہ کہانی گھڑی ہے. "
حمزہ نے دونوں بازو سینے پر باندھتے ہوئے لاپرواہی سے کہا.
حیا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی. اس سے پہلے وہ کچھ کہتی. فی میل کانسٹیبل نے حیا کا بازو پکڑا اور اسے لے گئی.

"سنو! حیا آرہی ہے. زرا خیال رکھنا." اس نے کسی کو کال ملا کر ہدایت دی.
سات بجے تک حمزہ یوں ہی سڑکوں پر گاڑی دوڑاتا رہا. وہ حیا کو یوں چھوڑ کر نہیں آنا چاہتا تھا. لیکن وہ چاہتا تھا ایک بار حیا کو اندازہ ہو کہ وہ اسے کس دلدل سے بچا کر لایا تھا.
اسے اب گھٹن ہو رہی تھی. وہ بالکونی میں جا کھڑا ہوا.
"حمزہ.. " وہ چونکا.
یہ علی تھا.
"سویا نہیں تو ابھی تک. " حمزہ نے باہر آسمان پر دیکھتے ہوئے کہا.

"حمزہ کیوں کر رہا ہے تو یوں. اگر پولیس اسٹیشن ہی اسے بھجوانا تھا تو اسی دن بھجوا دیتا. یوں گھر میں رکھنا. نکاح کرنا اور اب ریسیپشن یہ سب کیا ہے. " وہ واقعی جاننا چاہتا تھا کہ حمزہ کے دماغ میں کیا چل رہا تھا.
" تجھے بھی لگتا ہے میں اس پر ظلم کر رہا ہوں؟ " وہ اب تک جو لا پرواہ بنا ہوا تھا اب ہرٹ تھا.
"یار دیکھ میں پہلے ہی اس نکاح کے حق میں نہیں تھا. تو نے نکاح کرنے میں جلدی کی. تجھے اگر پہلے اس کی فیملی کا پتا کرنا تھا تو یوں ہی رہنے دیتا اسے. نکاح کرنے کی کیا ضرورت تھی. " علی کو ابھی بھی یہ نکاح والی بات ہضم نہیں ہو رہی تھی.
"نکاح کے بغیر اسے گھر میں نہیں رکھ سکتا تھا یار. سو بات نکلتی. "
"تو ہم اسے کسی شیلٹر ہوم بھیج دیتے. "
حمزہ خاموش رہا. یہ ممکن تھا کہ اسے کسی شیلٹر ہوم بھیج دیا جاتا. لیکن وہ ڈرتا تھا. ڈرتا تھا کسی لڑکی کے پھر دھتکارے جانے سے.
" جب میں نے حیا کو وہاں چیختے چلاتے دیکھا مجھے میری رانیہ کی چیخیں سنائی دے رہی تھی. کیسے وہ اپنی پاک دامنی کا یقین دلاتی رہی تھی. کسی نے اس کی بات نہیں سنی تھی. سب نے ہی تو آنکھیں پھیر لی تھیں. میں اس کا خیال نہیں رکھ سکا. " حمزہ نے بالکونی پر کہنیاں ٹکائی اور اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گرا لیا.
"میں نے. میں نے اسے مار دیا میں نے اپنی رانیہ کو مار دیا."
وہ مضبوط اعصاب کا مالک تھا لیکن اس وقت وہ ہارا ہوا شخص تھا. ماضی سے ہارا ہوا. خود کے فیصلوں سے ہارا ہوا.

" نہ کر یار. بہت ٹائم لگا ہے تجھے اس سب سے نکلنے میں. دوبارہ وہ سب کیوں یاد کر رہا ہے. " علی نے حمزہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا. وہ ہانپ رہا تھا. اس کا سانس اٹک رہا تھا.
علی حمزہ کو اندر کمرے میں لے آیا.
"حیا کی فیملی کے بارے میں کچھ پتا چلا ہے. " علی نے توقف سے کہا. حمزہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا.
"حیا کی والدہ کا دو سال پہلے انتقال ہو گیا تھا. اب اس کی فیملی میں اس کے والد اور دو بھائی ہیں. بھائی دونوں باہر ہوتے ہیں. اور.. "
"اور. " علی کی خاموشی پر حمزہ نے آخری لفظ دوہرایا. .
"اور یہ کہ حیا کے یوں اچانک غائب ہونے کا صدمہ اس کے والد برداشت نہیں کر سکے اور ہارٹ اٹیک سے ان کا اگلے دن انتقال ہو گیا. "
آخری خبر واقعی تکلیف دہ تھی. حمزہ حیا کے لیے بہت برا محسوس کر رہا تھا.
"میں حیا کو لے کر آتا ہوں. تم خیال کرنا اس کے والد کے انتقال کا اسے ابھی پتا نہ چلے. " اس نے علی کو ہدایت کی اور گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر نکل گیا.

(جاری ہے)

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.